کوئٹہ : مسجد کے اندر دھماکا، ڈی ایس پی امان اللہ سمیت 15 افراد شہید

کوئٹہ (ویب ڈیسک)کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاون میں ہونے والے دھماکے میں ڈی ایس پی امان اللہ سمیت 13 افراد شہید اور 21 زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق دھماکا سیٹلائٹ ٹاو¿ن کے علاقے غوث آباد کی مسجد میں ہوا جس میں ڈی ایس پی امان اللہ اور دیگر 12 افراد جاں بحق ہوئے۔اطلاعات کے مطابق دھماکا نماز مغرب کے دوران ہوا۔ زخمیوں اور جاں بحق ہونے والے افراد کو سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے۔ڈی ایس پی امان اللہ کون تھے؟ڈی ایس پی امان اللہ اسحاق زئی یکم اپریل 1963کو پیدا ہوئے اور یکم دسمبر 1988میں بطور اے ایس آئی پولیس کیریئر کا آغاز کیا۔پانچ اکتوبر 2012 کو ڈی ایس پی کے عہدے پر ترقی پائی اور اس وقت پولیس ٹریننگ کالج سریاب روڈ میں تعینات تھے۔پولیس کیریئر میں وہ مختلف تھانوں و دفاتر میں فرائض انجام دے چکے ہیں۔ ان کے بیٹے کو ایک ماہ قبل فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا تھا اور ان کے کیریئر کا زیادہ تر وقت پولیس ٹریننگ میں گزرا۔دھماکے کی مذمت وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے غوث آباد بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ڈی ایس پی حاجی امان اللہ اور دیگر افراد کی شہادت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے شہر میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قائم مقام گورنر بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے بھی کوئٹہ دھماکے کی مذمت کی ہے۔
اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی کوئٹہ دھماکے کی مذمت کی ہے۔خیال رہے کہ 7 جنوری کو بھی کوئٹہ کے میکانگی روڈ پر فرنٹیئر کور (ایف سی) کی گاڑی کے قریب دھماکے میں 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ دھماکے میں ایف سی کی گاڑی کو رش والے علاقے میں نشانہ بنایا گیا اور دھماکے کی جگہ بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔

شین وارن کی ٹیسٹ کیپ 10 لاکھ 7 ہزار 5 سو ڈالرز میں نیلام

آسٹریلیا کے سابق اسپنر شین وارن کی ٹیسٹ کیپ 10 لاکھ 7 ہزار 5 سو ڈالرز میں نیلام ہو گئی۔آسٹریلیا کی جانب سے 145 ٹیسٹ میچوں میں 708 وکٹیں حاصل کرنے والے شین وارن کی ٹیسٹ کیپ کو بش فائر فنڈ کے لیے نیلام کیا گیا۔شین وارن کی ٹیسٹ کیپ 10 لاکھ 7 ہزار 5 سو ڈالرز میں نیلام ہوئی، نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم براہ راست بش فائر فنڈ میں دی جائے گی۔سابق آسٹریلوی کرکٹر کا کہنا ہے یہ نیلامی میری توقعات سے کہیں بڑھ کر ہے۔خیال رہے کہ آسٹریلیا کے جنگلات میں بڑے پیمانے پر لگی آتشزدگی کے باعث اب تک 27 افراد اور ایکارب کے قریب چرند پرند ہلاک ہو چکے ہیں۔س کے علاوہ جنگلات میں آتشزدگی کے نتیجے میں 2000 گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جب کہ ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر نقل مکانی کر چکے ہیں

منشیات برآمدگی کیس: حکومتی اراکین بھی رانا ثناء اللہ کے حمایتی بن گئے

قومی اسمبلی میں حکومتی اراکین نے بھی منشیات برآمدگی کیس میں رانا ثناء اللہ کی حمایت کا اعلان کر دیا۔اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں رانا ثناء اللہ نے منشیات برآمدگی کیس میں اپنی گرفتاری اور کیس کی تفتیش پر اظہار خیال کیا۔رانا ثناء اللہ نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس میں قرآن پاک اٹھایا اور کہا کہ اگر اس کیس میں انصاف نہ ہوا تو آج میرا ٹرائل ہو رہا ہے کل دوسروں کا بھی ہو سکتا ہے۔ومی اسمبلی اجلاس کے دوران تین حکومتی اراکین نے بھی مسلم لیگ ن کے رہنما کی حمایت کا اعلان یا۔حکومتی اراکین اسمبلی خالد مگسی، سائرہ بانو اور ثناء اللہ مستی خیل نے ایوان میں کھڑے ہو کر رانا ثنا اللہ کی حمایت کا اعلان کیا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 144 کو غیر قانونی قرار دیدیا

مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں سے متعلق کیس میں بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اظہار رائے کو دبانے کے لیے دفعہ 144 نافذ نہیں کی جا سکتی۔بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں اور کرفیو کے خلاف دائر متعلق درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ھارتی عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کوئی شک نہیں کہ جمہوری نظام میں اظہار رائے کی آزادی اہم ہوتی ہے، اظہار رائے کی آزادی کے تحت انٹرنیٹ تک رسائی بنیادی حقوق میں شامل ہے۔پریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اختلاف رائےکو دبانےکیلئے دفعہ 144 کو استعمال نہیں کیا جا سکتا، انٹرنیٹ کو محدود یا معطل کرنے کے احکامات کی عدالتی جانچ ہو گی۔شمیر کی صورتحال کا پس منظریال رہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 270 اور 35 اے ختم کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کر دیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جب کہ دوسرا جموں و کشمیر پر مشتمل ہو گا۔رٹیکل 370 کیا ہے؟بھارتی آئی کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کر دیئے تھے کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ کشمیری اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

زیادتی کے بعد قتل معصوم پری زینب کی آج دوسری برسی

قصور(بیورورپورٹ)قصور میں جنسی درندے عمران علی کی حوس کا نشانہ بننے کے بعد قتل کر دی جانیوالی معصوم پری زینب کی آج 10جنوری کو دوسری برسی منائی جارہی ہے اس موقع پر زینب کے والد محمد امین انصاری جنہیں موجودہ حکومت نے چائلڈ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ میں اہم ذمے داری دی ہے نے چائلڈ پروٹیکشن کے اہم رہنماءقیصر ایوب شیخ کے ہمراہ روزنامہ خبریںسے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم مطمئن ہیں کہ ہمیں انصاف مل گیا او رزینب سمیت دیگر آٹھ بچیوںکو اغواءاور زیادتی کے بعد قتل کرنیوالے عمران علی کو پھانسی دیدی گئی محمدامین انصاری نے کہاکہ ہماری اور شہر قصور کے لوگوںکی خواہش تھی کہ مجرم کو سرعام لٹکایاجاتا تاکہ دیگر منفی خیالات رکھنے والے افراد کو سبق حاصل ہوجاتا مگر ایسا نہیں کیا گیا محمدامین انصاری نے کہاکہ زینب شہید کے نام سے منسوب زینب الرٹ بل عرصہ پہلے قومی اسمبلی میں پیش ہوچکا ہے مگر اسے ابھی تک منظور نہیںکیا گیا معصوم بچوںکو تحفظ دینے والا یہ بل چھ ماہ سے زائد عرصے سے التواءکا شکار ہے معصوم بچوںکے والدین کی حکومت اور اپوزیشن کی جماعتوںسے یہ اپیل ہے کہ زینب الرٹ بل کو بچوں کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے اسے منظور کریں انہوںنے کہاکہ آرمی ایکٹ بل اگر اتنی عجلت میں منظور ہوسکتا ہے تو ملک بھر کے بچوںکو تحفظ دینے والا بل کیوںمنظور نہیں کیاجاسکتا ۔

فیصل آباد ٹیکسٹائل ملز نے لیڈیز سوٹ پر بسم اللہ اور کلمہ پرنٹ کر دیا

فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر )فیصل آباد اتحاد ٹیکسٹائل ملز کی شرمناک حرکت، لیڈیز سوٹ پر بسم اللہ اور کلمہ پرنٹ کر دیا۔ لیڈیز کپڑے کے سوٹ پر مقدس الفاظ کی بےحرمتی کرنے اور مذہب اسلام کا مذاق اڑانےوالے ملزمالکان ان کی انتظامیہ آزاد، توہین کرنےوالوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ لیڈیز سوٹ پر مقدس الفاظ لکھنے کی شکایت کرنےوالے سوٹ خریدار پر سیل پوائنٹ کے مینجر کا تشدد اور بدتمیزی اور دھمکیاں ، شہری کی سی پی او فیصل آباد اور ایس پی کمپلینٹ سیل میں درخواستیں، مگر فیصل آباد کے اعلیٰ ترین پولیس افسران اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں نے چپ سادھ لی۔ مقدمہ درج ہوا اور نہ کوئی گرفتاری ہوئی۔ معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں پہنچ گیا۔ اتحاد ٹیکسٹائل ملز کے ایڈمن مینجر کا غلطی کا اعتراف، تفصیل کے مطابق چک نمبر 204ر۔ب فیصل آباد کے رہائشی محمد جہانزیب خاں ولد رانا محمد انور خاں نے سی پی او فیصل آباد اور ایس پی کمپلینٹ سیل میں دی گئی درخواستوں میں الزام عائد کیا کہ وہ چن ون روڈ پر واقع سٹی امپوریم گیا جہاں سے اس نے لیڈیز سوٹ خریدا، سوٹ کے ڈیزائن میں بسم اللہ شریف اور کلمہ تحریر تھا جو کہ مقامی مل اتحاد ٹیکسٹائل کا تیار کیا ہوا تھا۔ جس کے بارے میں اس نے عملے سے شکایت کی تو عملے نے جواب دیا کہ ہم مال کمیشن پر بیچتے ہیں ملز والوں سے بات کریں گے جس پر وہ اتحاد ٹیکسٹائل ملز کے سنٹر پوائنٹ جڑانوالہ روڈ گیا اس بارے میں مینجر سے بات کی اسے بتایا کہ لیڈیز سوٹ پر بسم اللہ شریف اور کلمہ مبارک لکھنا سراسر غلط، خلاف شریعت اور خلاف قانون ہے۔ شکایت کرنے پر مینجر سیخ پا ہو گیا۔ اسے زدوکوب کیا اور بدتمیزی کرتے ہوئے دھمکیاں دیں آنےوالی پولیس اسے اور سیل پوائنٹ سنٹر کے مینجر کو اس پی مدینہ ٹاﺅن ڈویژن کے پاس لے گئی۔ ایس پی مدینہ ڈویژن نے سوٹ متذکرہ بالا اس سے لےکر اپنے قبضہ میں لے لئے اور معاملہ کو رفع دفع کرنے کو کہا جس پر سائل نے انکار کر دیا جس پر ایس پی طاہر مقصود چھینہ نے درخواست طلب کرتے ہوئے کہا کہ کاروائی کی جائے گی۔ درخواست دینے پر کوئی ڈائری نمبر نہ دیا گیا۔ اگلے روز ایس پی کے پاس گیا تو ایس پی مدینہ ڈویژن نے ملنے سے انکار کرتے ہوئے سوٹ واپس کرنے سے بھی انکار کر دیا اور سی پی او کو دی جانےوالی درخواست پر بھی کوئی عملدرآمد نہ ہونے پر سائل نے مقامی عدالت سے انصاف فراہمی کےلئے رجوع کیا۔ مقامی عدالت سے فیصلہ خلاف آنے پر ٹیکسٹائل ملز مالکان اور ان کی انتظامیہ نے لاہور ہائی کورٹ میں رجوع کرلیا اس امر پر پر شہری نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب، وفاقی و صوبائی وزرائ، آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر، آر پی او، سی پی او اور ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس لےکر لیڈیز سوٹ پر مقدس الفاظ ڈیزائن میں چھاپ کر مذہب اسلام کی توہین، مذہب اسلام کا مذاق اور توہین کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج اور گرفتار کر کے قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرا¿ت نہ کر سکے۔

اب امریکہ اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ جس پر مرضی چڑھ دوڑے،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جنگ کے رکنے کی جہ یہ ہے کہ امریکہ پوری دنیا میں اکیلا رہ گیا ہے۔ امریکہ نے عراق پر غلط خبر کی بنیاد پرحملہ کر دیا تھا۔ امریکہ نے بڑے فخر سے کہا کہ ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو ختم کر دیا ہے لیکن اس خبر سے لوگ متفق نہیں ہوئے بڑے ممالک نے تو اس کی بھرپور انداز میں مخالفت کی۔ ایران کے ساتھ امریکہ کی موجودہ روش ہے کہ اس کی مخالفت میں زیادہ موافقت میں کم لوگ ہیں۔ خود امریکہ میں الیکشن کا سال چل رہا ہے کانگریس کی سپیکر نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کرنے کا اختیار کہاں سے حاصل کیا جس سے پوچھا۔ ایسے حالات میں امریکہ کافی نرم پڑا ہوا ہے۔ جیسے آج سے 5 دن پہلے وہ بھڑکیں لگا رہا تھا میرا خیال ہے کہ اب منظر نامہ اس کے حق میں نہیں ہے۔ سپر پاور سپر پاور ہے گرتے گرتے بھی پچاس سال ہے جاتی تھی اس کا جو خوف اور دبدبہ تھا اس کو چیلنج کرنے والے بہت سے ممالک میدان میں آ گئے ایران جیسے ملک نے جو ایک چھوٹا ملک ہے اس نے اس کو چیلنج کیا اس پر چین، روس، فرانس پھر نیٹو ممالک نے کہا جی ہم عراق میں لڑائی میں شامل ہونے کو تیار نہیں ہم وہاں سے اپنی فوجیں واپس نکال لیں گے۔ یہ ایک امریکہ کی بہت بڑی شکست ہو گی۔ اگر عراق میں امریکہ کے ساتھ نیٹو کی فوج جو کھڑی ہے اگر وہ وہاں سے چلامتی طور پر بھی اپنے دستے نکال لیتی ہے تو پھر سمجھا جائے گا کہ امریکہ اکیلا ہی لڑ رہا ہے۔ اس طرح بڑے ممالک کے گروپس کی حمایت سے محروم ہو جائے گا۔ میرا خیال ہے جب یہ پوزیشن نہیں رہے گی تو پھر امریکہ کی اخلاقی حیثیت کافی خراب ہو جائے گی۔ ایک نئی بات سامنے آئی ہے امریکہ کے جو اپنے حالات ہیں۔ ٹرمپ جو ایمریکہ کو لیڈ کر رہے ہیں ان کی اپنی پوزیشن بہت مشکوک ہے اور ان کو بلایا جا رہا ہے کہ وہ سوالات کا جواب دیں جو لیڈر اپنے ملک کے اندر بھی تنقید کی زد میں ہو۔ ایک بار ایران نے پہلے بھی اپنی اتنی بڑی قوت کے ساتھ پنجہ آزمائی کی ہے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بڑی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہے۔ اب شاید آج پوری دنیا کا چوکیدار، تھانیدار بننے کی اجازت نہیں دے سکتی اب اجتماعیت کا دور ہے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ کسی کو یہ اختیار دینا کہ جو اپنی مرضی سے جو جی چاہے چڑھ دوڑے، جس کو جی چاہے مار دے۔ امریکہ جتنا بڑا حکم ہے اپنے حجم کے اعتبار سے اپنے آپ کو مین ٹین کرتا اور اپنے عزت اور احترام کروا سکتا تھا لیکن جس طرح سے جس سطح پر نیچے اتر کر چھوٹے چھوٹے ملکوں سے لڑائی کا پنجہ آزمائی شروع کر دی ہے۔ چوتھا دن امریکہ بار بار کہہ رہا ہے کہ جب ہم ایران پر پابندیاں لگائیں گے ایک بار ان کو سمجھ لگ جائے گی۔ دنیا کو پابندیوں کو پسند نہیں کرتی۔ دنیا ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں لوگوں کو انڈیا میں اپنے ملک کے اندر اپنی من مانی کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس کو دنیا میں پسند نہیں کیا جا رہا ہے۔ اب عراق اور ایران کے بارے میں امریکہ کے رویے کو انڈیا نے بھی نہیں سراہا۔ 25 کروڑ لوگوں میں انڈیا کے اندر رہتے ہوئے مودی پالیسیوں کو سخت ناپسند کیا ہے۔ 3 دن پہلے سمجھا جا رہا تھا کہ امریکہ جیسا چاہے گا کر گزرے گا دھڑلے کے ساتھ اور پاکستان جیسے ملک کا جس کے بارے میں ماضی میں سمجھا جاتا تھا کہ وہ امریکہ کا ایسا جو ساتھی رہا ہمیشہ ساتھ رہا اس کا بھی یہ کہنا ہم ہر گز اپنی زمین کو کسی بھی طرح سے ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے پلی بار گین پر سوال اٹھنے لگے۔ اس پر ضیا شاہد نے کہا ہے نیب کے بارے میں جو بات اسلامی نقطہ نظر سے کہی جا رہی ہے میرا خیال ہے وہ بہت موثر ثابت ہو گی۔ نیب کے اس بارے میں سوچنا پڑے گا پاکستان میں سبھ کچھ ہو سکتا ہے لیکن اسلام کے بنیادی اصولوں اور نظریوں کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کر سکتے اور کوئی مستقل طرز عمل اختیار نہیں کر سکتے۔ اگر یہ بات اسلامی نظریاتی کونسل میں زیر بحث آتی ہے تو اس کی بڑی پذیرائی ہو گی اور یہ بھی ہو سکتا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس ایک بنیاد پر سپریم کورٹ آف پاکستان وہ شقیں جو بظاہر اسلامی نظریات کے خلاف ہیں وہ نیب کے آرڈی ننس سے اڑا دے۔ جنرل سلیمانی نے کہا کہ وہ خفیہ طور پر سعودی عرب سے مذاکرات کر رہے تھے۔ اور شاید سعودی عرب اور ایران میں صلح صفائی کی طرف بات بڑھا رہے تھے۔

مودی کیخلاف مظاہرے پر دیپکا پڈکون کو انتہا پسند ہندووں کی دھمکیاں

دہلی (آن لائن) نامور بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈو کون کو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبا سے اظہار یکجہتی کرنا مہنگا پڑگیا سوشل میڈیا پر کے خلاف ایک بار پھر ”بائیکاٹ دپیکا“ مہم شروع ہوگئی۔5 جنوری کو دہلی کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں نقاب پوش ہندو انتہا پسندوں نے جامعہ کے طالب علموں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہوئے خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں طلبا یونین کی سربراہ ایشے گھوش سمیت 30 افراد شدید زخمی ہوگئے۔

افغانستان میں امریکی ڈرون حملہ ،35طالبان،40شہری ہلاک

ہرات(این این آئی) افغانستان کے شہر ہرات میں امریکی ڈرون حملے میں 35 طالبان اور 40 شہری ہلاکہوگئے ۔ ڈرون حملوں میں طالبان کمانڈر ملا ننگیالی بھی ہلاک ہوگئے ، ڈرون حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 10 زخمیوں کو حرات کے مقامی اسپتال لایا گیا، ڈرونز نے حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں رہائشی آبادی کو نشانہ بنایا تاہم حکومت کی جانب سے تاحال ہلاکتوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے،افغان خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے شہر ہرات میں امریکی ڈرون کی جانب سے گھروں پر چارمیزائل داغے جس کے نتیجے میں 75 افراد ہلاک ہوگئے ، ہلاک ہونے والوں میں 35 طالبان اور 40 شہری تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔افغانستان کے مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ڈرون حملوں میں طالبان کمانڈر ملا ننگیالی بھی ہلاک ہوگئے ۔رپورٹس کے مطابق ڈرونز نے حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں رہائشی آبادی کو نشانہ بنایا تاہم حکومت کی جانب سے تاحال ہلاکتوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ۔اسپتال ذرائع کے مطابق ڈرون حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 10 زخمیوں کو حرات کے مقامی اسپتال لایا گیا۔

بھارت ،سری لنکا کرکٹ میچ ،آسام سٹیڈیم مودی مخالف نعروں سے گونج اُٹھا

نئی دہلی ، آسام(نیٹ نیوز) بھارت بھر میں متنازع قانون اور نہرو یونیورسٹی کے طلبہ پر بد ترین تشددکیخلاف مظاہرے شدت اختیار کرنے لگے۔طلبا نے مظاہرےمیں کشمیرکی آزادی کا پوسٹر بھی لہرا دیا۔ آسام میں بھارت، سری لنکا ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران اسٹیڈیم شہریت قانون اور بی جے پی کے خلاف نعروں سے گونج اٹھا۔ بی جے پی رہنما اور وزیراعلی کو سبکی کا سامنا۔بھارت کے مختلف شہروں میں مسلم دشمن قانون اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا پر آر ایس ایس کے غنڈوں کے تشدد پر ہزاروں افراد کے مظاہرے جاری ہیں۔ دیگر ریاستوں میں خواتین مظاہرین کی بھی بڑی تعداد سڑکوں پرسراپااحتجاج ہے۔ آسام کےاسٹیڈیم میں بھارت اور سری لنکا کےٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران عوام نے ظالم مودی سرکار اور شہریت قانون کیخلاف پرجوش نعری بازی کی۔دہلی میں جے این یو میں طلبا اور اساتذہ یونین کا احتجاجی مارچ جاری ہے۔ دہلی میں طلبا آزاد کشمیرکے پوسٹرز بھی آوازیں کیے جانے لگے۔ مظاہرین کہتے ہیں کہ اگرہم خاموش رہےتومذہبی رسومات کا ادا کرنا بھی مشکل ہوجائےگا۔ مظاہرین دہلی پولس کے خلاف بھی نعرے لگارہے ہیں۔بالی ووڈ اداکارہ سوناکشی سنہا نے سپر اسٹار دپیکا پڈوکون کی بھارتی انتہا پسندوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کی بھرپور حمایت کردی۔گزشتہ دنوں بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں انتہا پسندوں نے طلبہ و اساتذہ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں طلبہ و اساتذہ زخمی بھی ہوئے تھے۔ انتہا پسندوں کے خلاف ہونے والے ایک احتجاج میں بھارتی سپر اسٹار دپیکا نے بھی طلبہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے احتجاج میں شرکت کی تھی جس پر انہیں بھارت میں تنقید کا سامنا ہے ۔ اس دوران بھارت میں دپیکا کی نئی فلم چھپاک کا بائیکاٹ کرنے کی بھی مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔ دپیکا کی حمایت میں ساتھی اداکارہ سوناکشی سنہا میدان میں آگئیں اور ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں ان کی بھرپور حمایت کردی۔ سوناکشی سنہا نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون سی سیاسی جماعت کو سپورٹ کر تے ہیں ، سوال یہ ہے کہ کیا آپ تشدد کی حمایت کرتے ہیں ؟کیا آپ کو طلبہ اور اساتذہ کے خون بہنے کے نظارے ہلا کر نہیں رکھ دیتے؟ سوناکشی نے دپیکا کی مظاہروں میں شرکت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہاب چپ رہنے کا وقت نہیں ہے۔نئی دہلی کی پولیس نے ایوان صدر کی طرف مارچ کی کوشش کرنے والے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے احتجاجی طلبہ پر لاٹھی چارج اور متعدد کو گرفتار کر لیا۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ڈنڈا بردار نقاب پوش افراد کی جانب سے طلبہ و اساتذہ پر تشدد کے خلاف احتجاج جاری ہے۔جمعرات کے روز احتجاج کے دوران یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے ارکان نے ایوان صدر (راشٹرپتی بھون) کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تو پولیس ان کے راستے کی رکاوٹ بن گئی۔پولیس نے مظاہرین کو ایوان صدر کی جانب جانے سے روکنے کے لیے نہ صرف متعدد طلبہ کو حراست میں لیا بلکہ مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا۔پولیس کی جانب سے لاڈ اسپیکر کے ذریعے مظاہرین سے پرامن رہنے کی درخواست کی گئی، تاہم ان کی جانب سے ایوان صدر جانے کی کوشش پر پولیس نے لاٹھی چارج اور گرفتاریاں کیں۔ایوان صدر کی طرف مارچ سے قبل جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طلبہ تنظیموں اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی ایسوسی ایشن نے وفد نے وزارت انسانی وسائل کے حکام سے ملاقات کی اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر جگدیش کمار کو عہدے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ 5 جنوری کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی مشہور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ڈنڈا بردار افراد کے حملے میں متعدد طلبہ و اساتذہ زخمی ہوئے تھے۔نقاب پوش ڈنڈا بردار افراد کے حملے میں زخمی ہونے والے طلبہ کی یونین نے دعوی کیا تھا کہ یونیورسٹی طلبہ و اساتذہ پر اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے حملہ کیا جو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارتی (بی جے پی) کی نظریاتی جماعت راشٹریہ سیوک سینگھ (آر ایس ایس) کی طلبہ تنظیم ہے۔واقعے کے بعد سے یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ کا احتجاج جاری ہے جبکہ حملے میں زخمی ہونے والے طلبہ و اساتذہ سے متعدد بولی وڈ شخصیات نے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے واقعے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔اب تک دپیکا پڈوکون، سونم کپور، سوارا بھاسکر، دیا مرزا، عالیہ بھٹ اور رچا جڈا جیسی اداکارائیں اس حملے کے خلاف آواز اٹھا چکی ہیں۔