اپوزیشن کا مطالبہ منظور ،حکومت نیب آرڈنینس واپس لینے کو تیار

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نیب قوانین آرڈیننسز کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہے اور حکومت اپوزیشن کے مطالبے پر نیب سے متعلق پہلا ترمیمی آرڈیننس واپس لینے پر تیار ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق پہلے آرڈیننس میں 5 کروڑ سے زائد کرپشن کے ملزمان کے لیے جیل میں بی کے بجائے سی کلاس کر دی گئی تھی جبکہ دوسرے ترمیمی آرڈیننس میں تاجروں اور سرکاری افسران کو چھوٹ دی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے حکومتنیب کے دوسرے ترمیمی آرڈیننس میں اپوزیشن کی تجاویز کو بھی شامل کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کا 9 آرڈیننسز کو قومی اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے واپس لینے پر اصرار ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ 9 آرڈیننسز کو صدر مملکت سے سمری کی منظوری کے ذریعے واپس لے لیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومتی اراکین کی رائے ہے کہ اگر قانون سازی کے ذریعے آرڈیننسز واپس لئے گئے تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قانون سازی سے متعلق 9 آرڈیننس کا فارمولہ طے پا گیا۔ پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں سپیکر اسد قیصر کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قانون سازی سے متعلق اجلاس ہوا۔ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 9 آرڈیننس پر معاملات طے پا گئے۔ ذرائع کے مطابق 9 میں سے 3 آرڈیننس منظور تصور ہونگے جبکہ 6 میں سے4 دوبارہ ایوان سے اتفاق رائے سے منظور کرائے جائیں گے ۔ 2 بل قائمہ کمیٹی میں بھجوا کر ترامیم کے ساتھ ایوان سے منظور کرایا جائے گا۔

دوسروں کی لڑائی لڑنا غلطی تھی ،ایران کی سعودیہ ،امریکہ سے دوستی کرائیں گے،عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی)وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب کبھی بھی کسی کی جنگ میں شرکت نہیں کریگا ، دوسرے ممالک میں امن قائم کرینگے پوری کوشش کریں گے کہ سعودی عرب اور ایران کے بیچ میں دوستی کروائیں، ہم امریکا اور ایران کی دوستی کروانے کو تیار ہیں، پاکستان مشکل وقت سے نکل کر استحکام کی جانب گامزن ہے ،زندگی اونچ نیچ کا نام ہے،سسٹم کی وجہ سے لوگ ترقی نہیں کرسکے، ماضی میں ہم نے نوجوانوں پر توجہ نہیں دی،500 تربیتی سینٹر کھولیں گے، پہلے فیز میں 70 سینٹر مدارس میں کھلیں گے،صحت کارڈ کے ذریعے پاکستان کے تمام غریب گھرانوں کو کور کریں گے۔جمعرات کو وزیراعظم عمران خان نے ہنر فراہم کرنے کےلئے ملک کے سب سے بڑے پروگرام ہنر مند جوان کا افتتاح کردیا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوںنے کہاکہ زندگی اونچ نیچ کا نام ہے، اچھا وقت صرف کہانیوں میں ہی ہوتا ہے اور جو اسے سمجھ جائے وہ ہمیشہ برے وقت میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔نوجوانوں کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں دوسری سب سے بڑی نوجوان آبادی ہماری ہے، اگر ہم انہیں نوجوانوں کو صحیح تعلیم اور ہنر دے سکیں تو یہی اس ملک کو سپر پاور بنا سکتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اب تک ہم دوسروں کی لڑائیاں لڑنے کی غلطیاں کرتے رہے ، اب کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، ہماری سب سے بڑی کوشش ہوگی کہ ایران اور سعودی عرب میں دوستی کرا دیں، ڈونلڈ ٹرمپ سے کہہ دیا ہے کہ ہم واشنگٹن اور تہران کو بھی قریب لانا چاہتے ہیں،پاکستان دنیا میں امن کا داعی بنے گا،نوجوان ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں ، ہم ان کو طاقت دے دیں تو یہی پاکستان کو اٹھا سکتے ہیں،ہنرمند جوان پروگرام کے تحت 30 ارب روپے خرچ ہوں گے ،پہلے فیز میں 10 ارب روپے جاری کیے جائیں گے اور ایک لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی،حکومت کتنی نوکریاں دے سکتی ؟صرف نوکریوں کیلئے فضاء ہی پیدا کرسکتی ہے ،2020ءمیں ہم نے لوگوں کو روزگار دینا ہے جبکہ آئندہ 4 برسوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کرنی ہے،پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین معدنیات ہیں ،ہمارے پاس سونے اور تانبوں کی کانیںہیں، ان 14 کانوں میں سے صرف 2 میں اتنا نفع ہے کہ اس سے ہم بیرون ملک قرضہ ادا کرسکتے ہیں۔جمعرات کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میںملک کے سب سے بڑے”اسکلڈ ڈیولپمنٹ پروگرام ہنرمند جوان“کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زندگی اونچ نیچ کا نام ہے، اچھا وقت صرف کہانیوں میں ہی ہوتا ہے اور جو اسے سمجھ جائے وہ ہمیشہ برے وقت میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔اپنے خطاب میں انہوں نے مدینہ کی ریاست کا حوالہ دیا اور بتایا کہ وہ ریاست 2 بنیادی اصولوں پر کھڑی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم ابھی 4 پوائنٹس پر جارہے ہیں، جس میں پہلا اپنے کمزور طبقے کو اوپر لانا ہے اور سب سے پہلا ہمارا ‘احساس پروگرام’ ہے اور ہم نے مشکل حالات میں اس پروگرام پر پیسہ خرچ کیا ہے، جس کا مقصد صرف غریب طبقے کو اوپر لانا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لوگوں کو مشکل حالات سے گزرنا پڑ رہا ہے، مجھے اس کا احساس ہے، اسی کو دیکھتے ہوئے ہم نے سب سے پہلے سڑکوں پر سونے والوں کے لیے پناہ گاہ بنانا شروع کیں اور ایک سال کے دوران پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 170 پناہ گاہیں بن چکی ہیں۔یوٹیلیٹی اسٹورز کے پیکجز کے لیے فنڈز جاری کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم رکھنا ہے۔دوران خطاب عمران خان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ہمارا ایک اور پروگرام صحت کارڈ ہے، جس کے ذریعے لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے اور پورے ملک میں کہیں بھی اس سے 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کی امداد حاصل کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صحت کارڈ کے ذریعے پاکستان کے تمام غریب گھرانوں کو کور کریں گے، اس کے علاوہ ہم غریب بستیوں میں لنگر کھول رہے ہیں۔لوگوں کو روزگار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سال 2020 میں ہم نے لوگوں کو روزگار دینا ہے جبکہ آئندہ 4 برسوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس گھر بنانے کے پروگرام سے 40 صنعتیں کھل جائیں گی اس کے علاوہ ہم بند صنعتوں کے لیے پروگرام لارہے ہیں تاکہ روزگار ہو اور لوگوں کو نوکریاں مل سکیں۔لوگوں کو روزگار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سال 2020 میں ہم نے لوگوں کو روزگار دینا ہے جبکہ آئندہ 4 برسوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس گھر بنانے کے پروگرام سے 40 صنعتیں کھل جائیں گی اس کے علاوہ ہم بند صنعتوں کے لیے پروگرام لارہے ہیں تاکہ روزگار ہو اور لوگوں کو نوکریاں مل سکیں۔اپنے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس سب سے بڑا اثاثہ زرخیز زمین ہے لیکن ہمارا نظام پرانا ہے جسے ٹھیک کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین معدنیات ہیں اور ہمارے پاس سونے اور تانبوں کی کانے ہیں اور ان 14 کانوں میں سے ریکوڈک کی صرف 2 میں اتنا نفع ہے کہ اس سے ہم بیرون ملک قرضہ ادا کرسکتے ہیں۔مگر بدقسمتی سے پاکستان کرپشن کی وجہ سے تانبے اور سونے کے خزانے استعمال نہیں کرسکا ۔نوجوانوں کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ان نوجوانوں کو طاقت دے دیں تو یہی پاکستان کو اٹھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سال 2019 ملک کے استحکام کا سال تھا جبکہ 2020 ملک کے اٹھنے کا سال ہے۔ہنرمند جوان پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس پر 30 ارب روپے خرچ ہوں گے جس کے پہلے فیز میں 10 ارب روپے جاری کیے جائیں گے اور پہلے فیز میں ایک لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں پہلی دفعہ ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اگر ہم نے نوجوانوں کو ہنرمند بنا دیا تو یہی پاکستان کو سپر پاور بنا سکتے ہیں۔ ماضی میں پاکستانی نوجوانوں کی تعلیم اور ہنر پر توجہ نہیں دی گئی۔ ہنرمند نوجوان پروگرام پر عثمان ڈار اور شفقت محمود کو مبارکباد دیتا ہوں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ہنرمند پروگرام پہلا قدم ہے جو اپنے اثاثے کو اثاثہ بنائیں جو اس ملک کو اٹھا سکتا ہے اور سال 2019 ملک کے استحکام کا سال تھا جبکہ 2020 ملک کے اٹھنے کا سال ہے۔دوران خطاب ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے پیسہ آئے گا وہ تعلیم، صحت اور تکنیکی تعلیم پر خرچ ہوگا۔اس موقع پر انہوں نے ہنرمند پاکستان پروگرام کے 5 اہم نکات بھی بیان کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام کے لیے 30 ارب مختص کیے ہیں، پہلے مرحلے میں 10 ارب روپے استعمال ہوں گے۔5 لاکھ نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے گا، جس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، روبوٹکس، کلاڈ کمپیوٹنگ کے ہنر سکھائیں گے جبکہ پہلے فیز میں ایک لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو تربیت دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ 500 تربیتی سینٹر کھولیں گے، پہلے فیز میں 70 سینٹر مدارس میں کھلیں گے کیونکہ آج تک ہم نے مدرسوں کے بچوں کو اپنا نہیں سمجھا۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ 300 اسمارٹ ٹیکنکل سینٹر ہوں گے، جن کی وابستگی انٹرنیشنل کوالٹی ٹیکنکل انسٹیٹوٹ کے ساتھ ہوگی اور پہلے فیز میں 75 سینٹرز ہوں گے۔عمران خان نے بتایا کہ اس کے علاوہ نیشنل ایکریڈیشن کانٹر کھولا جائے گا، جس کا مطلب پاکستان کے تمام سینٹرز کی کٹیگری پر سرٹیفکیشن کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی حکومت پر اس لیے فخر ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی حکومت ہے جس نے مدارس کے 25 لاکھ بچوں کو اپنا سمجھا اور قومی دھارے میں لائے ہیں اور مدارس کے لیے وہ مضمون لائے جس سے وہ کسی بھی شعبے میں جاسکیں۔آخر میں انہوں نے ملک کی خارجہ پالیسی واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک ہم یہ غلطیاں کرتے رہے کہ ہم کسی اور کی جنگ کا حصہ بنتے رہے لیکن اب پاکستان کبھی کسی اور کی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا بلکہ وہ ملک بنے گا جو دوسرے ملکوں میں امن قائم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم پوری کوشش کریں گے کہ سعودی عرب اور ایران کے بیچ میں دوستی کروائیں، ہماری سب سے بڑی یہی کوشش ہوگی جبکہ ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی یہی کہا تھا کہ ہم امریکا اور ایران کی دوستی کروانے کو تیار ہیں کیونکہ جنگ کوئی نہیں جیتتا بلکہ جو جیتتا ہے وہ بھی ہار جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت کی تھی، اس کی کتنی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی تھی یہ سب جانتے ہیں، لہذا اب یہ وہ ملک ہوگا جو جنگیں نہیں لڑے گا بلکہ لوگوں کو اکٹھا کرکے امن والا ملک بنے گا۔

ٹرمپ نے گھٹنے ٹیک دئیے،ایران سے غیر مشروط مذاکرات پر آمادہ،سلامتی کونسل کو خط لکھ دیا

واشنگٹن، لندن (آئی این پی، نیٹ نیوز) امریکا نےایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے غیر مشروط مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے،اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کیلی کرافٹ نے سلامتی کونسل میں لکھے خط میں کہا کہ امریکا خطے میں امن و استحکام کے لیے ایران کے ساتھ غیر مشروط سنجیدہ مذاکرات پر راضی ہے، جنرل سلیمانی کو دفاع میں مارا اور اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو امریکی فوجیوں اور اثاثوں کی حفاظت کے لیے مزید کارروائی بھی کی جائے گی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے غیر مشروط مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔امریکا کی جانب سے 3 جنوری کو عراقی دارالحکومت بغداد میں القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت اور ایران کے امریکی ہوائی اڈوں پر جوابی حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دیئے جا رہے ہیں جب کہ اقوام متحدہ اور پاکستان سمیت بیشتر ممالک دونوں ممالک پر بات چیت کے لیے زور ڈال رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران عراق میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیا لگانے کا اعلان کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ایرانی حملے میں امریکی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ایران پسپائی حاصل کر رہا ہے جو دنیا کے لیے اچھی بات ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو امن چاہتا ہے امریکا اس کے ساتھ امن کے قیام کے لیے تیار ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کیلی کرافٹ کی جانب سے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ جنرل سلیمانی کو دفاع میں مارا اور اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو امریکی فوجیوں اور اثاثوں کی حفاظت کے لیے مزید کارروائی بھی کی جائے گی۔کیلی کرافٹ نے مزید کہا کہ امریکا خطے میں امن و استحکام کے لیے ایران کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات سنجیدہ مذاکرات پر راضی ہے۔دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون دان اور کچھ ریپبلکنز اراکین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کلاسیفائیڈ بریفنگ کے دوران ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کیے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ جنرل سلیمانی امریکا کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا۔ امریکا نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے نتیجے میں ایران سے ہونے والی کشیدگی کے خاتمے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے ایران کو مذاکرات کی غیرمشروط پیشکش کردی۔امریکی سفیر کیلی کرافٹ کی جانب سے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو خط تحریر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا، ایران کے ساتھ غیرمشروط سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ عالمی امن اور سیکیورٹی کو مزید خطرہ نہ ہو اور ایرانی حکومت مزید جارحیت نہ کرے۔تاہم امریکا کی جانب سے لکھے گئے اس خط میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا دفاع کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سلیمانی کا قتل امریکا نے اپنے دفاع میں کیا۔خط میں مزید کہا گیا کہ امریکا خطے میں اپنی فوج اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کے مطابق کسی بھی ملک پر اپنے دفاع میں کوئی بھی کارروائی کرتے ہوئے یہ لازم ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی 15رکنی سیکیورٹی کونسل میں فوری طور پر رپورٹ کرے۔یاد رہے کہ 2014 میں امریکا نے شام میں داعش کے خلاف کارروائی کو جائز قرار دینے کے لیے بھی آرٹیکل 51 کا استعمال کیا تھا۔کیلی کرافٹ کی جانب سے تحریر کیے گئے خط میں کہا گیا کہ سلیمانی کی موت اور 29 دسمبر کو شام اور عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا گروپوں پر امریکی فضائی حملے حالیہ عرصے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کی جانب سے مشرق وسطی میں امریکی فوج اور اس کے مفادات کو نشانہ بنانے کے ردعمل کے طور پر کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کا مقصد ایران کو حملے کرنے یا اس کی سپورٹ کرنے سے روکنا اور حملے کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔دوسری جانب ایران نے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خط لکھ کر عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر کارروائی کا آرٹیکل 51 کے تحت ہی دفاع کیا ہے۔تاہم سفارتی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ایران کا خط امریکا سے پہلے پہنچا۔اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر مجید تخت روانچی نے کہا کہ ایران کشیدگی میں اضافہ یا جنگ نہیں چاہتا، ایران نے ایک مناسب فوجی کارروائی کے دوران عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر اپنے دفاعی حق کا استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن انتہائی محدود اور اس میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں علاقے میں کسی شہری یا شہری اثاثوں کو نقصان نہیں پہنچا۔انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ وہ مزید کسی فوجی محاذ آرائی سے گریز کرے اور کہا کہ ایران عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے کسی بھی جارحیت کی صورت میں اپنے عوام کے دفاع، خود مختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی بقا کی خاطر جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔خط میں واضح طور پر کہا گیا کہ ایران، عراق کی خودمختاری مکمل احترام کرتا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورسن جانسن نے ایرانی صدر حسن روحانی پر زور دیا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی ختم کرے اور جوہری معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائے ۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے جمعرات کے روز حسن روحانی پر زور دیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی ختم کرے اور جوہری معاہدے عملدرآمد کرتے ہوئے یورینیم افزودگی بند کرے۔جانسن نے دشمنیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی ختم کرے کیونکہ کشیدگی کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

میرا جی نے اپنی بے وقوفی سے خود اپنا مذاق بنوالیا

مقبول ترین لالی وڈ اداکارہ میرا نے حال ہی میں فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر  اپنے ماضی کی کئی تصاویر شیئر کیں لیکن ایک ہی تصویر بار بار شیئر کرنے پر انہیں تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اداکارہ نے مداحوں کے ساتھ ایسی بے شمار  پرانی تصاویر شیئر کیں جو اس سے پہلے کسی نے بھی نہیں دیکھی ہوں گی۔میرا نے پرانے اداکار اور اداکاراؤں کے ساتھ اپنی تعدد تصاویر بھی شیئر کی ہیں جنہیں دیکھنے کے بعد کئی سوشل میڈیا صارفین نے ان کا مذاق اُڑایا اور تنقید بھی کی۔میرا پر تنقید کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے ایک تصویر کو 10 10 بار اپ لوڈ کیا۔ یہ بات ابھی واضح نہیں کہ یہ میرا نے غلطی یا بے وقوفی سے کیا یا ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوا؟

امریکا ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلئے غیر مشروط مذاکرات پر آمادہ

امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے غیر مشروط مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔امریکا کی جانب سے 3 جنوری کو عراقی دارالحکومت بغداد میں القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت اور ایران کے امریکی ہوائی اڈوں پر جوابی حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دیئے جا رہے ہیں جب کہ اقوام متحدہ اور پاکستان سمیت بیشتر ممالک دونوں ممالک پر بات چیت کے لیے زور ڈال رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران عراق میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیا لگانے کا اعلان کیا۔ونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ایرانی حملے میں امریکی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ایران پسپائی حاصل کر رہا ہے جو دنیا کے لیے اچھی بات ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو امن چاہتا ہے امریکا اس کے ساتھ امن کے قیام کے لیے تیار ہے۔قوام متحدہ میں امریکی مندوب کیلی کرافٹ کی جانب سے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ جنرل سلیمانی کو دفاع میں مارا اور اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو امریکی فوجیوں اور اثاثوں کی حفاظت کے لیے مزید کارروائی بھی کی جائے گی۔کیلی کرافٹ نے مزید کہا کہ امریکا خطے میں امن و استحکام کے لیے ایران کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات سنجیدہ مذاکرات پر راضی ہے۔دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون دان اور کچھ ریپبلکنز اراکین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کلاسیفائیڈ بریفنگ کے دوران ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کیے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ جنرل سلیمانی امریکا کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا۔

کراچی: دوران غسل زندہ ہونے والی خاتون کچھ گھنٹے بعد انتقال کر گئیں

کراچی: سرد خانے میں غسل کے دوران زندہ ہونے والی خاتون کچھ گھنٹے بعد انتقال کر گئی۔عباسی شہید اسپتال میں گزشتہ روز 75 سالہ رشیدہ بی بی کو مردہ قرار دیا گیا تھا جس کا باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔رائع کا بتانا تھا کہ فالج سے متاثرہ رشیدہ بی بی کو عباسی شہید اسپتال کے ڈاکٹرز نے بغیر معائنے کے ہی خاتون کو مردہ قرار دے دیا تھا۔رائع کا کہنا ہے کہ خاتون کا جسم تقریباً پون گھنٹے تک سردخانے پھر ایک گھنٹے غسل کے لیے باہر رکھا رہا اور جب خاتون کو غسل دینے کے لیے اٹھایا گیا تو بدن میں حرکت ہوئی جس پر اہلخانہ ے شور مچا دیا۔تاہم اب سینئر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کا کہنا ہے کہ 75 سال کی رشیدہ بی بی گزشتہ رات انتقال کر گئی ہی

شہزادہ ہیری کا اہلیہ سمیت شاہی عہدوں سے الگ ہونے کا اعلان

برطانوی شاہی خاندان کے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے شاہی عہدوں سے خود کو الگ کرنے کا اعلان کرکے ملکہ برطانیہ سمیت پوری دنیا کو حیران کردیا۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق شاہی جوڑے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اب شمالی امریکا میں گزاریں گے اور خودمختار ہونے کے لیے اقدامات کریں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال شہزادہ ہیری اور میگھن کے لیے کافی سخت ثابت ہوا کیوں کہ بڑے بھائی شہزادہ ولیم کے ساتھ اختلافات کے ساتھ ساتھ میڈیا میں کئی اور متنازع خبریں بھی سامنے آئیں اور یہی وجہ ہے کہ شہزادہ ہیری نے اعلان کیا کہ وہ کچھ شاہی فرائض جاری رکھیں گے البتہ مالی طور پر آزاد ہونے کے بعد نیا خیراتی ادارہ شروع کریں گے۔شاہی جوڑے نے اپنی ویب سائٹ اور انسٹاگرام پر جاری اپنے بیان میں اعلان کیا کہ ‘کئی ماہ تک غور و فکر اور باہمی تبادلے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم شاہی عہدوں سے دستبردار ہو رہے ہیں

پاکستان غیر جانبدار رہ کر امریکہ ،ایران جنگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یران کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے 80 افراد امریکی مار دیئے ہیں یہ درست ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں پتہ چل گیا تھا اور ہم نے اس کا بندوبست کر لیا تھا۔ جنگ ایک ایسی چیز ہوتی ہے جس میں ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے جو قتل عام کا ہوتا ہے وہ جو سچ کا ہوتا ہے اور جھوٹ کا بول بالا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر فریق جھوٹ بولتا ہے۔ یہ کہا نہیں جا سکتا ہے کہ امریکہ یا ایران کس کا دعویٰ درست ہے۔ البتہ اگر امریکہ کے 80 آدمی مارے جا چکے ہوں تو گزشتہ 15 گھنٹے کے دوران طوفان آ جانا چاہئے تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات صحیح ہو اور اب اس کا اصل پس منظر ہے اب ٹرمپ کوئی ردعمل ظاہر کریں گے۔ امریکہ پھر بھی کہہ سکتا ہے امریکہ نے ایک عذر تو گھڑا ہے کہ اصل میں ایرانی حملے سے پہلے لوکل فورسز سے ان کو آگاہ کر دیا گیا تھا اورانہوں نے امریکنوں کو بتا دیا اور امریکنوں نے اپنا بندوبست کر لیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ تیسری عالمی جنگ کے خطرات تو کم ہیں کیونکہ امریکہ نے جو فوج جمع کی تھی افغانستان میں یٹو کے بعض ممالک نے انکار کر دیا تھا کہ وہ اب وہ مزید فوج یہاں نہیں رکھنا چاہتے اس طرح آج جو واقعہ پیش آیا ہے اس پر عراق میں بھی نیٹو کے بہت سے ممالک نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ وہ اپنی فوجیں واپس بلا لیں گے۔ گویا بہت سے ممالک اس کے لئے تیار نہیں کہ وہ اپنی فوج کو تختہ مشق بنانے کی اجازت دیں اور لگتا ہے کہ آخر میں شاید امریکہ اکیلا رہ جائے۔ایران ایک خود مختار ملک ہے اس نے ثابت کیا ہے کہ پاسداران انقلاب جو ہیں یہ اس کی فوج کے اس شعبے کا نام ہے جسکے سربراہ جو تھے وہ جنرل قاسم سلیمانی تھے اور پاسداران انقلاب ایرانی فوج کا پاورفل حصہ سمجھا جاتا ہے جس طرح سے ہمارے ملک میں بعض لوگ آئی ایس آئی کو مثال کے طور پر سمجھتے ہیں جب تک ایک بات واضح نہیں ہو جاتی کہ پاسداران انقلاب کے سربراہ کو چونکہ امریکہ مانتا ہے کہ اس نے ان پر حملہ کیا اور میزائل داغے اور انہوں نے دانستہ طور پر قتل کی لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ بدلے میں بھی کیا جائے گا اسے دنیا میں سمجھا جائے گا کہ یہ مکافات عمل ہے۔ ٹرمپ کو امریکی کانگریس سے اجازت لینی چاہئے تھی اگر انہوں نے نہیں لی تو پھر اس آئین کے اندر کیا باز پرس ہے اور ان کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے۔ حملوں کی دھمکیوں کے پیش نظر نیٹوافواج کردنی ہیں تو اس جنگ میں امریکہ اکیلا نہیں رہ جائے گا۔ یہ ضروری نہیں کہ پاکستان کی کوشش کامیاب ہوتی ہے یا ناکام ہوتی ہے صرف کوشش کرنا ہی ایک مثبت اقدام ہے جو کہ پاکستان اٹھا سکتا ہے۔ اس کے بہتر نتائج ہو سکتے ہیں۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا جو کردار ہے بالخصوص عمران خان انہوں نے ایران سے کشیدگی ختم کرنے میں کردار ادا کی وہ قابل تحسین ہے۔ پاکستان کے لئے بڑی مشکلات ہیں، پاکستان کو یکسر نظرانداز کرنا ایران کے لئے ممکن نہیں ہے لہٰذا ضروری بات ہے کہ پاکستان اس قسم کے عمل کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ جس سے جنگ کو ہوا ملے اور پاکستان کے پاس اسکے سوا چارہ کار نہیں کہ وہ اس جنگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے۔ پاکستان بھرپور کوشش کرے گا کامیابی ہو یا نہ ہو لیکن دنیا کو نظر آنا چاہئے کہ پاکستان کوشش کر رہا ہے۔ عمران خان نے وزیرخارجہ کو یہ ڈیوٹی سونپی ہے غالباً آرمی چیف بھی اس میں شامل ہیں کہ وہ دوسرے ملکوں میں جائیں بھرپور انداز میں کوشش کریں کہ اس جنگ کو رکوائیں اور امن کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ چار بڑے ملکوں میں جس میں چین بھی شامل ہے کہ اسے تیسری جنگ کا پیش خیمہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو ہر قیمت پر روکنا ہو گا روس اور فرانس نے بھی اسی نقطہ نظر کی حمایت کی ہے۔ ٹرمپاس جنگ میں اکیلے رہ گئے خود ان کے اپنے ملک میں بحث شروع ہو گئی ہے انہوں نے جنرل قاسم کے خلاف کارروائی کے وقت کسی قسم کی اجازت کانگریس سے نہیں لی۔ اس کے لئے اجازت مانگنا چاہئے تھی۔ مسلم ممالک اس جنگ کو روکنے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے کیونکہ وہ تو خود تقسیم ہیں سعودی عرب اور ان کے قریبی ساتھی ممالک ایران مخالف ہیں اور امریکہ کے حامی ہیں۔ دوسری طرف ایسے ممالک ہیں جو غیر جانبدار ہیں یا وہ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی سے متفق نہیں جو مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ وہ اس قسم کی کسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ گز شتہ دو روز میں پہلے آرمی چیف کی طرف سے اور پھر وزیرخارجہ کی طرف سے سینٹ میں کہہ چکی ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو کسی بھی سلسلے میں کسی بھی جنگ کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ہیں پاکستان کوشش کر رہا ہے کہ اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے میں تا کہ دونوں طرف بات چیت کر سکے۔ مہاتیر محمد کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مہاتیر محمد بھی مسلمان ہیں ان کا بھی ہم سے زیادہ ہی امتحان ہو گا۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے جو خطرے کا اظہار کیا ہے اس میں کسی حد تک صداقت موجود ہے جب مہاتیر محمد اور عمران خان اور طیب اردوان کے مل کر اسلامک نیوز ایجنسی کی بات کی اور اسلامک فنڈامنٹل ازم کے خلاف جو تحریک شروع ہوئی تھی اس کی بات کی تھی جب انہوں نے بہت سے نکات پر اتفاق کیا تو اس وقت یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ ان تین بڑے ممالک کے خلاف امریکہ اور یورپین کمیونٹی ان کے خلاف ہو جائے گی یہ الگ بات ہے کہ بعد میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مداخلت اور اثرات کی وجہ سے عمران خان مہاتیر محمد کی کانفرنس میں نہیں جا سکے لیکن اس بات کو پسند نہیں کیا گیا۔ لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ جو باتیں عمران خان نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہی تھیں اس پر ہم قائم نہیں رہ سکے۔

ایران کی جوابی کاروائی ،تیل ،سونا ،مہنگا ،عالمی سٹاک مارکیٹ میں مندی

تہران (این این آئی)ایران کے عراق میں امریکی فورسز پر میزائل حملوں کے بعد ایشیا اور امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی اور تیل اور سونے کی قیمتوں میں ضافہ دیکھا گیا۔اسٹاک مارکیٹوں میں مندی اور سونے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ مشرق وسطیٰ میں کی صورتحال پر سرمایہ کاروں میں پیدا ہونے والی تشویش کو ٹھہرایا جارہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق پرتھ میں اسٹاک بروکر ہاو¿س آگوناٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیمز مک گلیو کا کہنا تھا کہ مبالغہ آمیز اقدامات سامنے آرہے ہیں جو اتار چڑھاو¿ کی وجہ سے ہے، مارکیٹس غیر یقینی صورتحال سے نفرت کرتی ہیں، یہ ایک پرانی کہاوت ہے لیکن موجودہ صورتحال میں یہ یقینی طور پر درست ہے،ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ خطرات کی قیمت اٹھا سکتی ہیں لیکن وہ غیر یقینی صورتحال کی قیمت نہیں اٹھا سکتی ہیں۔ایس ایس سی آئی کے انڈیکس برائے ایشیا پیسفک کے مطابق جاپان کے علاوہ شیئرز دن کے آغاز پر 1 فیصد گرنے کے بعد تاہم کچھ دیر کے بعد اس میں مزید 0.5 فیصد کمی آئی۔چین کی بلو چپ سی ایس آئی 300 انڈیکس میں بھی 0.48 فیصد کمی دیکھی گئی۔جاپان کے نکئی میں 1.29 فیصد کمی آئی، آسٹریلوی شیئر مارکیٹ میں 2 فیصد اور امریکا کے ایس اینڈ پی 500 ای منی اسٹاک فیوچرز میں 1.7 فیصد کمی آنے کے بعد مزید 0.28 فیصد کمی آئی ہے۔سنگاپور میں ایشیا پیسفک کے اکانومسٹ روب کارنیل کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے سے مارکیٹ میں منفی رجحان میں طویل ہوسکتا ہے۔دوسری جانب ڈالر انڈیکس پر یورو 0.04 فیصد کمزور ہوا۔عالمی منڈیوں کے بینچ مارک برینٹ کروڈ میں تیل کی قیمتوں میں 3 ڈالر فی بیرل تک اضافہ ہوا۔برینٹ کروڈ دن کے آغاز 0.73 ڈالر اضافے کے ساتھ 69.02 ڈالر پر ہوا تھا تاہم بعد ازاں اس میں 3.48 ڈالر اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے بعد اس کی قیمت 71.75 ڈالر ہوگیا۔دوسری جانب عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں سونے کی قیمت 1600 ڈالر فی اونس ہوگئی ہے۔حالیہ حملوں کے بعد سرمایہ کار اپنے اثاثوں کو محفوظ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

بھارت مکمل بند ،25کروڑ ورکرز کی کام چھوڑ ہڑتال ،احتجاج ،شٹر ڈاﺅن ،پہیہ جام

نئی دہلی (این این آئی‘آن لائن‘مانیٹرنگ) بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کے حامی اور مخالف طلبہ گروپوں کے مابین تازہ جھڑپوں میں کم از کم 12 افراد زخمی ہوگئے۔ بھارت میں حالیہ چند ہفتوں میں متعدد امور پر طلبہ کی سیاست پر تشدد ہوگئی ہے جس میں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون سمیت تعلیمی اداروں میں پولیس کا تشدد اور یونیورسٹی کی فیسوں میں اضافہ شامل ہے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق دو روز قبل دہلی کی جواہر لال نہرو \ونیورسٹی میں آر ایس ایس کے حملہ آوروں نے 34 طلبہ کو زخمی کردیا تھا جس کے بعد تازہ ترین محاذ آرائی کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ملک گیر مظاہروں میں بدل گیا۔ ناقدین اور میڈیا رپورٹس نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اتوار کی شام ہونے والے تشدد کا الزام نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے منسلک ایک طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیا ارتھی پریشد (اے بی وی پی) پر لگایا تھا۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مبینہ طور پر پولیس نے انتہا پسند طلبہ تنظیم کا ساتھ دیا اور حملے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ پولیس نے بتایا کہ بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں اس وقت صورت حال سنگین صورت اختیار کرگئی جب کانگریس سے وابستہ قومی طلبہ یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے اراکین نے اے بی وی پی کے دفاتر کے باہر احتجاج کیا۔ احمد آباد پولیس کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس جھڑپ میں تقریباً 10 سے 12 افراد زخمی ہوئے۔ غیرتصدیق شدہ وائرل ہونے والی ویڈیو میں بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے اراکین کو این ایس یو آئی کے کارکنان کا پیچھا کرنے اور انہیں لاٹھیوں سے مارنے کا مشورہ دیا گیا۔ خیال رہے کہ جامعات سے ہٹ کر نئے شہریت کے قانون کے خلاف ملک بھر میں ایک ماہ کے پ±رتشدد مظاہروں میں کم از کم 25 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ماضی میں خود کو سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرنے والے بھارت میں حکومت نے حال ہی میں شہریت ترمیمی ایکٹ کا نفاذ کیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مظاہرین اسے بھارتی حکومت کی جانب سے ریاست کو ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کے قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مسلم مخالف متنازعہ قانون پر احتجاج کے پیش نظر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آسام کا دورہ ملتوی کردیا۔ مودی کو جمعے کو آسام (گوہاٹی) میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمز کا افتتاح کرنا تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ آسام کے موقع پر آل آسام اسٹوڈنٹس یونین نے شدید احتجاج کا پروگرام تھا۔ معروف گلوکار زوبین گارگ کا کہنا تھا کہ مودی کے آسام پہنچنے پر ہم ایئرپورٹ سے ہی احتجاج کرنا شروع کردیں گے، ہمارا احتجاج دیکھ کر مودی کو پتا چلے گا کہ ہم متنازعہ شہریت بل کے کتنے خلاف ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مسلم مخالف متنازعہ قانون پر احتجاج کے پیش نظر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آسام کا دورہ ملتوی کردیا۔ بھارت کی دس بڑی مزدور تنظیموں اور یونینوں نے مودی سرکار کی نج کاری کی پالیسی، سرمایہ کاری میں عدم دلچسپی اور مزدور دشمن اقدامات کے نتیجے میں ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز(سی آئی ٹی یو) کے مطابق اگست 2015 میں اپنے مطالبات کے لیے مرکزی حکومت کو 12 نکات پیش کئے تھے جس پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوسکا اور اس سے وابستہ دس بڑی تنظیموں کے کروڑوں ملازمین بدھ کو کام پر نہیں پہنچے ۔سی آئی ٹی یو کے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ حکومت بحران میں گھری معیشت کو درست کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ حکومت عوامی وسائل اور اداروں کی نجکاری کررہی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی مفاد کے قدرتی ذرائع بھی فروخت کئے جارہے ہیں۔یہ ہڑتال بدھ کو صبح 6 بجے سے شروع ہوچکی ہے اور مسلسل 24 گھنٹے تک جاری رہ کرآج (جمعرات کو) ختم ہوگی۔ پورے بھارت 25 کروڑ سے زائد مزدور، ملازمین اور کارکن اس ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس ہڑتال کو بھارت بند کا نام دیا گیا ہے۔ ٹریڈ یونین کے مطابق انہوں نے مسلسل پانچ برس تک 12 نکاتی مطالبات پر عمل درآمد کا انتظار کیا لیکن نتیجہ صفر رہا۔تمام تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ کا تعین کرکے اس پر عملدرآمد کرایا جائے، دوم تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، مزدور پیشہ طبقے کو سوشل سیکیورٹی اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہفتے میں کام کے صرف پانچ دن رکھے جائیں۔ اس کے علاوہ دیگر چھوٹے مطالبات بھی 12 نکاتی چارٹر کا حصہ ہیں۔دوسری جانب نئی دہلی نے تمام مزدور تنظیموں کو اس ہڑتال سے باز رکھنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہوئے انہیں بھارت بند ہڑتال کے نتیجے میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ بھارتی پولیس نے حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کی ترجمان اور سماجی کارکن صدف جعفر کو عدالتی احکامات کے بعد ضمانت پر رہا کردیا۔صدف جعفر کو ریاست اترپردیش کے دارالحکومت لکھن سے گزشتہ ماہ 19 دسمبر کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے فیس بک پر متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے مظاہرے کی براہ راست کوریج کر رہی تھیں۔صدف جعفر سمیت پولیس نے دیگر کئی افراد کو بھی لکھن سے گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا تھا جب کہ بھارت کے دیگر شہروں سے بھی 1500 کے قریب افراد کو متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ نامور بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون کو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبا سے اظہار یکجہتی کرنا مہنگا پڑگیا سوشل میڈیا پر دپیکا کے خلاف ایک بار پھر بائیکاٹ دپیکا مہم شروع ہوگئی۔5 جنوری کو دہلی کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں نقاب پوش ہندو انتہا پسندوں نے جامعہ کے طالب علموں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہوئے خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں طلبا یونین کی سربراہ ایشے گھوش سمیت 30 افراد شدید زخمی ہوگئے۔