2543غریب سرکاری افسر ،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے وظیفہ لیتے رہے

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں میں گریڈ 17 سے گریڈ 1 کے 2 ہزار 543 اعلیٰ سرکاری افسران بھی شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے غیر مستحق افراد سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔ فہرست سے نکالے جانے والوں میں گریڈ 17 سے گریڈ 21 کے اعلی سرکاری افسران بھی شامل ہیں، چاروں صوبوں اور وفاق سے اعلی سرکاری افسران یا ان کے اہلخانہ بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وظیفہ وصول کرتے رہے۔8 لاکھ سے زائد غیر مستحق افراد میں اعلی سرکاری عہدوں پر فائز افسران بھی شامل ہیں، جو غریبوں کے نام پر جاری کی گئی رقم پر ہاتھ صاف کرتے رہے ینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالے جانے والے افراد میں گریڈ 17 سے گریڈ 21 کے 2 ہزار 543 افسران شامل ہیں۔لا تعدد اعلی سرکاری افسران اپنی بیویوں کے نام پر پیسے وصول کرتے رہے، اس پروگرام سے مستفید ہونے والوں میں گریڈ 21 کے تین افسران جبکہ ملک بھر سے گریڈ 20 کے 59 افسران سہہ ماہی وظیفہ وصول کرتے رہے۔لسٹ سے نکالے گئے گریڈ 19 کے افسران کی تعداد 429 ہے صرف صوبہ سندھ میں گریڈ 18 کے 342 افسران نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھایا جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 6 افسران نے بھی اسکیم سے فائدہ اٹھایا۔گریڈ 17 کے ایک ہزار 240 افسران نے بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھایا، بلوچستان میں سب سے زیادہ سرکاری افسران اس پروگرام سے مستفید ہوئے، بلوچستان سے 741 سرکاری افسران نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے سب سے کم پنجا ب میں افسران نے اس سے فائدہ اٹھا یا ہیں پنجا ب میں گریڈ 17کے 88گریڈ 18کے 45اور گریڈ کے 19کے 4افسران نے اس سکیم سے فائدہ اٹھا یا ہے۔

کشمیر کو آزاد کرو نئی دہلی میں پوسٹر آویزاں ،عمرالہان لاک ڈاﺅن پر برہم

نئی دہلی (نیٹ نیوز) مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی پولیس نے چار افراد کو گھر گھر تلاشی کے دوران گرفتار کر لیا۔ وادی میں جاری مظالم اور مسلسل لاک ڈان پر رکن امریکی ایوان نمائندگان الہان عمر بھی برس پڑیں جبکہ کشمیر کو آزاد کرو کی آوازیں نئی دہلی تک پہنچ گئیں، نئی دلی میں طلبہ نے بھی کشمیر کو آزاد کرو کے پوسٹر لہرا دیئے۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی میں عوام 157 دنوں سے گھروں میں محصور ہیں، خوراک اور ادویات کا بحران نگین ہو گیا ہے۔ بربریت کے باوجود قابض فورسز کے مظالم میں کمی نہ آسکی۔ بھارتی پولیس نے ضلع کشتواڑ میں گھر گھر تلاشی کے دوران ولیج ڈیفنس کمیٹی کے ممبر سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے الزام لگایا کہ کمیٹی ممبر دیوی داس مجاہدین کو اسلحہ سپلائی کرنے میں ملوث ہیں۔ ادھر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر رکن امریکی کانگریس الہان عمر نے ٹویٹ کیا کہ کشمیر میں جاری بلیک آﺅٹ جمہوریت کی تاریخ کا سب سے طویل انٹرنیٹ شٹ ڈاﺅن ہے۔ انہوں نے نریندر مودی کے اقدامات کو خوف ناک رحجان قراردیتے ہوئے بھارتی شہریوں سے مودی کے مسلم مخالف اقدامات کے خلاف احتجاج کی اپیل کی۔دوسری طرف کشمیر کو آزاد کرو کی آوازیں نئی دہلی تک پہنچ گئیں، نئی دلی میں طلباءنے بھی کشمیر کو آزاد کرو کے پوسٹر لہرا دیئے۔

ایران امریکہ کشیدگی پاکستان کی امن کے لیے کوششیں تیز ،آرمی چیف کو امریکی وزیر دفاع کا فون ،ایرانی اور چینی سفیر کی الگ الگ ملاقاتیں

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ اور ایران کے مابین پیدا ہونے والے کشیدہ حالات کے پیش نظر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سعود رب، ایران اور امریکہ کے دوروں کی ہدایت کر دی۔ عمران خان نے سماجی رابطے کے ویب سائٹ پر ٹویٹ میں کہا ہے کہ میں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ریاض، تہران اور واشنگٹن کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ان ممالک کے فوجی رہنماﺅں سے ملاقات کریں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وزیر خارجہ اور آرمی چیف ان ممالک کو واضح پیغام دینگے کہ پاکستان امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے لیکن اسلام آباد کسی جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں،ایران اور سعودی عرب کے تنازعات ختم کرنے کےلئے بھی کوششیں کیں، پاکستان ہمیشہ امن کا پارٹنر بنے گا،عالمی برادری کو صورتحال سے نمٹنے کےلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔بدھ کو وزیراعظم عمران خان سے اومان کے وزیرمذہبی امور عبداللہ بن محمد بن عبداللہ السلمی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری بھی موجود تھے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمرن خان اور عمانی وزیر امور امور کی ملاقات میں مشرق وسطی کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اظہار تشویش کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کےلئے اقدامات کرنا ہوں گے، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں تنازعہ سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا ہے، ایران امریکہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، ایران اور سعودی عرب کے تنازعات ختم کرنے کےلئے بھی کوششیں کیں، پاکستان ہمیشہ امن کا پارٹنر بنے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور تنازعات کے خاتمے کےلئے کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے عمانی سلطان قابوس بن سعید ال سعید کےلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور عمان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مقبوض کشمیر میں بدترین انسانی صورتحال سے عمانی وزیرکو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 5ماہ سے بدترین لاک ڈاﺅن جاری ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عمانی وزیرکو مسلمانوں سمیت اقلیتوں سے امتیازی سلوک کی بی جے پی پالیسیوں سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عالمی برادری کو صورتحال سے نمٹنے کےلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے آئی جی پولیس پنجاب شعیب دستگیر اور پنجاب پولیس کو مبارکباد دی اور کہا کہ نئے کلچر میں مجرمانہ سرگرمیوں کی گنجائش نہیں۔ صوبے میں بڑے مجرموں کے کامیاب تعاقب پر میں آئی جی پنجاب شعیب دستگیر اور پنجاب پولیس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اس سے صوبے میں جرائم کی دنیا آباد کرنے والوں کو واضح پیغام ملا ہے کہ نئے کلچر میں مجرمانہ سرگرمیوں کی کوئی گنجائش نہیں اور جرائم سے ہاتھ رنگنے والوں سے پولیس بلا رعایت نمٹے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبے میں بڑے مجرموں کے کامیاب تعاقب پر میں آئی جی پنجاب شعیب دستگیر اور پنجاب پولیس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے لئے پہلی کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی 10 نجی بینکوں کے باہمی اشتراک سے قائم کی جائے گی۔ بند صنعتی یونٹس اور تباہ حال کمپنیوں کی بحالی ترجیح ہو گی۔ اس اقدام کا مقصد بیماری یونٹس کی بحالی سے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم کے اس اقدام سے ملکی معاشی شرح نمو میں بھی اضافہ ہو گا۔ کمپنی بیمار یونٹس کی بحالی اور تعمیر نو کے لئے مکمل لائحہ عمل بھی ترتیب دے گی۔ حکومت اداروں کے تعاون سے بینکنگ نظام کو بہتر اور مزید مﺅثر بنائے گی۔ تمام 10بینک بیمارصنعتی یونٹس کو مدد دیں گے۔ سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان بھی اس سلسلہ میں تعاون کرے گا۔

80امریکی فوجی مار دئیے ،ایران کا دعوی،حملہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،ٹرمپ کا جواب

لندن ،واشنگٹن، تہران ( نیٹ نیوز ) برطانوی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے دبئی اور اسرائیل کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے۔تفصیلات کے مطابق مشرق وسطی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری سخت ترین کشیدگی میں فریقین میں ایک دوسرے کو دھمکیوں کا لسلہ جاری ہے، برطانوی میڈیا نے دعوی کر دیا ہے کہ ایران نے دبئی اور اسرائیل کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا نے کارروائی کی تو ایران دبئی اور اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ رات بغداد میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد پاسداران انقلاب نے بیان میں تنبیہہ کی تھی کہ امریکا خطے سے اپنی افواج نکالے، ورنہ اسرائیل اور امریکی اتحادیوں کو بھی نشانہ بنائیں گے، اگر امریکی اتحادی ممالک سے حملہ ہوا تو اس کا بھی بھرپور جواب دیں گے، آیندہ کسی امریکی حملے کی صورت میں مزید سخت جواب دیا جائے گا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا تھا کہ مغربی عراق میں عین الاسد میں واقع فوجی اڈے پر 9 راکٹ گرے، پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں 2 فوجی اڈے ایرانی حملوں کا نشانہ بنے، امریکی، اتحادی افواج پر درجن سے زائد بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے، ایرانی میزائلوں کا ہدف الاسد اور اربیل میں واقع فوجی اڈے تھے، حملوں میں نقصانات کا ابتدائی تخمینہ لگایا جا رہا ہے، امریکیوں اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ امریکی ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے ایران سے تشدد ترک کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اسپیکر امریکی ایوان نمایندگان نے ٹویٹ کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد کا سلسلہ روک دے، امریکا اور دنیا جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔نینسی پلوسی نے ٹرمپ کی جنگ پر مبنی پالیسی پر بھی تنقید کی، انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی غیر ضروری اشتعال انگیزی کا خاتمہ یقینی بنانا ہوگا، ہمیں امریکی اہل کاروں کی حفاظت کو بھی یقینی بنانا ہے۔اسپیکر کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کو ہدف بنا کر بم باری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، ایسے میں اپنے اہل کاروں کا تحفظ ضروری ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ بے مقصد اشتعال انگیزی کر رہی ہے، جسے روکنا بھی ضروری ہے۔دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع میں متناسب اقدام اٹھایا گیا ہے، ایران نے یو این چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع میں کارروائی کی ہے، اس فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں سے ایران کے سینئر حکام پر حملہ کیا گیا۔

ثنا جاوید اور عمیر جسوال شادی کے بندھن میں بندھنے کے لیے تیار

 کراچی: نامور اداکارہ ثنا جاوید اور گلوکار عمیر جسوال بہت جلد شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔پاکستان شوبز انڈسٹری ستاروں کی جانب سے مداحوں کو حیران کرنے کا سلسلہ جاری ہے، کبھی کسی کی علیحدگی کی خبریں سوشل میڈیا میں چھائی رہتی ہیں تو کبھی کسی کی شادی کی، پہلے حمزہ علی عباسی اور نیمل خاور نے مداحوں کو حیران کیا، پھر سجل علی اور احد رضا میر نے تاہم شوبز انڈسٹری کی ایک اور جوڑی بہت جلد شادی کے بندھن میں بندھنے جاری ہے۔مشہور اداکارہ ثنا جاوید اور گلوکار عمیر جسوال بہت جلد شادی کے بندھن میں بندھنے جارہے ہیں اور دونوں کی شادی کی خبروں نے مداحوں کو بھی حیران کردیا ہے۔ ایک ویب سائٹ کے مطابق اداکارہ ثنا جاوید اور گلوکار عمیر جسوال متعدد بار ایونٹ میں ایک ساتھ دکھائی دیے اور دونوں کے درمیان بڑھتی قربتوں کا بھی سوشل میڈیا پر چرچا رہا تاہم دونوں کی جانب سے شادی کی خبروں پر خاموشی اختیار کی گئی۔ویب سائٹ کے مطابق دونوں شوبز شخصیات سے جڑے قریبی افراد کا کہنا ہے کہ ثنا جاوید اور عمیر جسوال بہت جلد ایک پروقار تقریب میں شادی کے بندھن میں بندھیں گے، شادی کب ہوگی اس حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آسکیں تاہم ممکن ہے کہ دونوں شوبز ستاروں کی جانب سے اس حوالے سے جلد اعلان کیا جائے

”جو کرنا ہے کر لو کسی سے نہیں ڈرتی“حریم شاہ کی ایک اور وڈیو

لاہور(شوبزڈیسک)ٹک ٹاک سٹار اور متنازع وڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والی حریم شاہ نے آج کل کینیڈین شہریت حاصل کرنے کیلئے درخواست بھی جمع کرا دی ہے ۔ٹک ٹاک گرل حریم شاہ ان دنوں آدر بائجان کے دارلحکومت باکو میں مقیم ہیں۔ انہوںنے پاکستانی سیاست میں ہنگامہ برپا کیا ہوا ہے ان کا کہنا تھا کہ جو کوئی بھی نوٹس لے رہا ہے تو کیا ہوا جو کرنا ہے کر لو میں کسی سے نہیں ڈرتی۔تفصیلات کے مطابق حریم شاہ آج کل بیرون ملک باکو شہر میںموجود ہیں جہا ں انہوں نے کینیڈین شہریت حاصل کرنے کی درخواست جمع کروا دی ہے۔اس کے علاوہ حریم شاہ دبئی میں بھی موج مستیاں کرتے ہوئے نظر آ چکی ہیں جس میں کچھ بھارتی افراد کوبھی ان کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔حریم شاہ نے پاکستانی سیاست اور سیاستدانوں، دونوں میں ہنگامہ برپا کیا ہو ا ہے۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حریم شاہ کہہ رہی تھیں کہ حساس ادارے نے آپ کا نوٹس لے لیا ہے ممکنہ طور پر وہ کسی کے سوال کو دہرا رہی تھیں ،لیکن بعد میں جوابا ان کا کہنا تھا کہ جس نے بھی میرا نوٹس لینا ہے لے لے، میں کسی سے نہیں ڈرتی۔یاد رہے حریم شاہ کی کئی وڈیوز پاکستانی سیاستدانوں کیساتھ وائرل ہوئیں وہ ایسی وڈیوز جاری کر کے جلد شہرت چاہتی تھی جس میں وہ کامیاب رہیں۔

سلیمانی کے قتل کا بدلہ لیکر امریکا کے منہ پر تھپڑ مارا: آیت اللہ خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے ہم نے جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لیکر امریکا کے منہ پر تھپڑ مارا لیکن صرف فوجی آپریشن کافی نہیں ہے۔ایرانی قوم سے اپنے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کو ایران کا بہادر سپوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قاسم سلیمانی صرف فوجی نہیں، سیاسی میدان میں بھی جرات کا مظاہرہ کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ قاسم سلیمانی کو خطرات کا سامنا تھا لیکن خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود انہوں نے ہمیشہ دوسروں کی جان کی پروا کی، سلیمانی کی شہادت نے ایرانی قوم کو دنیا کے غنڈوں کے خلاف متحد کر دیا ہے۔آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے عراق بھی سعودی عرب کی طرح دودھ دینے والی گائے بن جائے، جنرل سلیمانی نے عراق اور شام میں امریکا کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔ان کا کہنا تھا سلیمانی کی شہادت نے ہمیں جگا دیا ہے، دنیا ہمارے جاہ و جلال کو دیکھ چکی ہے، گزشتہ رات ہم نے بدلہ لیکر امریکا کے منہ پر تھپڑ مارا لیکن صرف فوجی کارروائی کافی نہیں ہے۔ایران کے مذہبی پیشوا نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے دشمن اور اس کے منصوبوں کو پہنچانیں، ہمیں دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو سیاسی، سائنسی اور دفاعی میدان میں تیار کرنا چاہیے۔آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ہمارا دشمن امریکا اور یہودی ریاست ہے اور ہمیں انہیں پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ دشمن ہمارے اندر شکوک پیدا کر کے ہماری دفاعی طاقت کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔خیال رہے کہ 3 جنوری کو امریکا نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں ائیرپورٹ کے قریب راکٹ حملہ کر کے ایران کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا تھا

ایران میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، 176 افراد ہلاک

تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والا یوکرینی مسافر طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام ایک سو 76 افراد ہلاک ہوگئے۔یوکرینی وزیراعظم نے طیارے میں 176 افراد سوار ہونے کی تصدیق کی جس میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے ان افراد میں 147 افراد ایرانی جبکہ 32 مسافر غیر ملکی تھے۔امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ طیارہ ایرانی دارالحکومت کے باہر ذرعی زمین پر گر کر تباہ ہوا، امدادی کارکنان جائے وقوع سے لاشیں نکالنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔سول ایوی ایشن کے ترجمان رضا جعفرزادہ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے جائے حادثہ کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاہم ایئرپورٹ حکام نے حادثے کو تکنیکی خرابی کا نتیجہ قرار دیا

گڈز ٹرانسپوٹرز کی دوسرے روز بھی ہڑتال ،بندرگاہ،اڈوں پر ٹرکوں ،کنٹینروں کی قطاریں

کراچی‘لاہور‘ فیصل آباد(نمائندگان خبریں) حکومتی پالیسیوں سے نالاں گڈز ٹرانسپورٹرز کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا ،جہاں انہوں نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایکسل لوڈ قانون کے عدم نفاذ اور روڈ پرمٹ فیسوں میں اضافے کے خلاف گڈز ٹرانسپورٹرز کا احتجاج دوسرے روز میں داخل ہوگیا ۔ترجمان گڈز ٹرانسپورٹرز امداد حسین نقوی نے کہا ہ وفاقی سطح پر تاحال کسی نے رابطہ نہیں کیا، ہم احتجاج کر رہے ہیں اوروفاقی وزارت مواصلات خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق پورے ملک میں ایکسل لوڈ لمٹ فی الفور نافذ کیا جائے، ورنہ اپنے جائز مطالبات کی منظوری تک غیر معینہ مدت کے لیے مکمل ہڑتال کرینگے۔ کراچی بندرگاہ سے سامان کی اندرون ملک سپلائی ممکن نہ ہوسکی جبکہ فیصل آباد ‘ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ‘ گجرات سمیت صنعتی شہروں سے بھی سپلائی رکی ہے۔

آرمی چیف کو توسیع ،بالا آخر یہی ہونا تھا تو معاملہ اتنا لٹکایا کیوں گیا،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں اپنے اکثر پروگراموں میں کہہ چکا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کی آپس یں چپقلش ہو سکتی ہے لیکن آرمی سے بطور ادارہ سیاسی جماعتوں کی چپقلش نہیں ہو سکتی لہٰذا اگر آرمی ایکٹ میں ترمیم مقصود ہوئی تو سبھی ساتھ دیں گے اور آپ نے دیکھ لیا کہ بالآخر یہی سب کچھ ہوا۔ جب تک جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور سابق فاٹا اراکین کی طرف سے واک آﺅٹ کیا گیا تو ان جماعتوں کی اتنی اہمیت نہیں ہے۔ ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ ان کی عددی اکثریت اتنی حیثیت رکھتی ہی نہیں۔ جہاں تک اس معاملے کو جو بالآخر ہونا تھا اس کو اتنا لٹکایا کیوں گیا یہ سیاسی جماعت اس بہانے حکومت کو دباﺅ میں لانا چاہتی تھی اور ان کا خیال تھا کہ حکومت ان کے پریشر میں آ کر ان کی کچھ نہ کچھ باتیں مان لے۔ نظر آتا تھا کہ کس کو اپنے بندے چھڑوانے کی فکر ہے۔ کچھ کو کوئی کچھ سہولتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کچھ قوانین میں تبدیلی کا خواہش مند ہے لہٰدا یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ لیکن اس سب کے باوجود بنیادی طور پر آرمی سے بحیثیت ادارہ کسی سیاسی جماعت کو کوئی اختلاف نہیں۔ اور وہ بھی اسے ملک میں جس کی تاریخ میں اتنے طویل عرصہ مارشل لاءرہے ہوں اور میں سمجھ سکتا ہوں کہ جب کبھی یہ منظر سامنے آتا تھا کہ اچھا اگر بالفرض ان کی بات نہ مانی گئی اور فوج پر چھوڑ دیا گیا کہ فوج جو کرنا چاہتی ہے تو اس ملک سے جمہوریت کا بستر ہی گول ہو جائے یہ کوئی نہیں چاہتا تھا۔ سیاسی جماعتوں کی پاک آرمی سے کوئی جنگ نہیں تھی آپس میں جنگ تھی کہ اس بنیاد پر حکومتی پارٹی چاہتی ہے آرمی ایکٹ میں ترمیم کرنا چاہتی ہے اور خاص طور پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرنا لہٰدا اس بہانے سبھی سیاسی جماعتیں ان کو دبانے کی کوشش کر رہی تھیں ان کی مخالفت کی کوشش کر رہی ہے اور ان سب کے اپنے اپنے بارگیننگ پوائنٹس تھے لگتا ہے کہ وہ اپنے مطالبات منوانے کے لئے ایسا کر رہے ہیں اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کی جو سوچ تھی سب سے زیادہ ناکامی ہوئی اس لئے کہ پیپلزپارٹی کا قیام تھا کہ مجموعی طور پر جس طرح کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں بلکہ آزادی مارچ کے سلسلے میں انہوں نے غیر مشروط طور پر حمایت کی تھی اس طرح سے پیپلزپارٹی کا خیال تھا کہ ان سے کوئی مشورہ کرے گا لیکن ن لیگ نے عددی اکثریت کی بنیاد پر ان سے بات کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا یکطرفہ طور پر اعلان کر دیا کہ ہم تو اس سلسلے میں آرمی ایکٹ کے معاملے پر سپورٹ کریں گے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری سوچ رہے تھے کہ مسلم لیگ ن کی تو ساری باتیں مان لی گئیں۔ نوازشریف کو جیل سے نکال کر باہر بھیج دیا گیا۔ شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت مل گئی حالانکہ ان پر مقدمات تھے۔ ایک بات سمجھ نہیں آ رہی کہ جھگڑا تو صرف 3 سال کی توسیع کا تھا یعنی سال کی عمر کے آرمی چیف کو 3 سال مزید دینے کا جو کہ اس سے پہلے بھی ملتے رہے ہیں جس طرح جنرل کیانی کو ملے تھے۔ لیکن جو اب قانون منظور ہوا ہے اس کی عمر تو 64 برس تک لے گئے ہیں۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ جس طرح سے بھارت میں آرمی ایکٹ میں معمولی سی ترمیم کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کر لیا گیا اور 3 سال تک آرمی چیف کو توسیع بھی دے دی اور چیف آف ڈیفنس بنا کر سارے اختیارات ان کے سپرد کر دیئے گئے اس وقت سوچا جا رہا تھا کہ پاکستان میں س مسئلے پر اتنا زیادہ لٹکانے کی کیا وجہ ہے لیکن اب پھر اچانک یہ لگا کہ جس طرح سے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا فوراً ا سارا کچھ حل ہو گیا اس کی کیا وجہ ہے کیا انڈیا کے ایکٹ میں ترمیم نے پاکستان میں مجموعی طور پر اثر ڈالا جن پارٹیوں نے اس کے بارے میں رائے نہیں دی اس کی کیا وجہ ہے۔ عام طور پر پارٹیاں کسی بل کی حمایت کرتی ہیں یا مخالفت کرتی ہیں۔ اب یہ ٹنٹا ہی ختم ہو گیا کہ اس قانون کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے پہلی بات یہ محسوس ہوتی ہے کہ ایران اتنا بڑا ملک نہیں اس کے باوجود یہ ایرانی قوم کا یہ جذبہ ہے جس طرح سے آج 35 آدمی جو ہیں بھگدڑ میں ہی چل بسے ہیں اس سے جوش و خروش کا کتنا عالم ہے ایک شخص کے جنارے پر 35 لوگوں کا انتقال ازخود بہت بڑی خبر ہے۔ ایران کا جو عزم ہے اس کا اعتماد ہے جو خود انحصاری اور حوصلہ ہے اس کا ضرور اثر پڑے گا۔ امریکہ جیسی سپر پاور کو آنکھیں ایران ہی کا کام ہے۔ جس طرح روس اور فرانس نے ایران کا ساتھ دیا ہے اور واضح طور پر امریکہ کی سوچ کی مخالفت کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے دنیا میں اب ایسے ممالک موجود ہیں جو دنیا میں واحد سپر پاور بننے کا موقع دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ روس دوبارہ ابھر رہا ہے۔ پاکستان کے دو اخبارات نے یہ خبر چھاپی ہے کہ ایران معاملے میں ایران اور عراق کے درمیان کشیدگی ہے اس میں امریکہ تیار ہے کہ عراق کو خالی کر کے جانے کو عجیب بات ہے کہ امریکہ نے وضاحت بھی جاری کر دی ہے کہ یہ خط صحیح ہے البتہ غلطی سے آڈٹ ہو گیا۔ کیا امریکہ جیسے ملک میں بھی اتنا بڑا بلنڈر ہو سکتا ہے کہ امریکہ وہاں سے بھاگنے کے لئے تیار ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تیسری جنگ عظیم کا راستہ ہموار ہو رہا ہے۔ سب کو پتہ تھا کہ جب تک صدام حسین زندہ تھے اس نے انتہا کے نظریات کی بنیاد پر شیعہ فیکٹر کو قابو میں رکھنے کے لئے کافی حد تک کامیاب تھے اب جبکہ یہ فیکٹر نہیں رہا صدام بھی نہیں رہے تو اب یہ عراق ہی میں خود جانتا ہوں کہ شیخ رشید اور دوسرے اخبارات کے ایڈیٹروں کے ساتھ ہم ظفر اللہ جمالی صاحب کے ساتھ ہم گئے۔ جمالی صاحب نے وہاں سے خواہش ظاہر کی کہ وہ زیارتوں کے لئے جانا چاہتے ہیں ہم بھی گئے۔ یہ عجیب بات تھی کہ ایران سے ہم پہلے عراق گئے۔ عراق میں جو گڑھ ہیں اہل تشیع کے وہ وہاں موجود ہیں۔ ایران کا کسی آبادی کا ایک بڑا حصہ اہل تشیع پر مبنی ہے۔ساری دنیا سے اہل تشیع وہاں جاتے ہیں اب وہ حصہ دوبارہ تقویت پکڑرہا ہے۔ امریکہ ایران اور سعودی عرب کو قریب نہیں آنے دے گا ایران کی وجہ سے امریکی فوج سعودی عرب میں بیٹھی ہے اور اس دھندے میں پیسے کماتا ہے۔ لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ جنرل قاسم سلیمانی کی وفات سے ایران میں صف ماتم بچھی لیکن امریکہ نے خوشی سے بغلیں بچائیں۔ ایران نے ٹرمپ کو مارنے پر جو8 کروڑ ڈالر کا انعام رکھ دیا ہے۔ کیونکہ پہل امریکہ نے کی تھی۔ پتہ چلا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی ایریان کے بہت اہم جرنیل تھے اپنے طور پر سعودی عرب سے بات چیت کر رہے تھے۔ ظاہر ہے امریکہ کو یہ پسند نہیں تھا۔