سرفراز احمد کی فٹنس میں نمایاں بہتری

لاہور: قومی کرکٹرز کے فٹنس ٹیسٹ دوسرے روز بھی جاری ہیں سابق کپتان سرفراز احمد کی فٹنس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں جاری فٹنس ٹیسٹ کےدوران  ہیڈکوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقاریونس نے بھی کھلاڑیوں کی فٹنس کا جائزہ لیا۔ سابق کپتان سرفراز احمد کے فٹنس میں نمایاں بہتری کی اطلاعات ہیں۔پہلے روز ہونے والے ورک آوٹ میں اوپنر عابدعلی،شان مسعود،بابر اعظم بھی کافی حدتک بہتر پرفارم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ حارث سہیل،محمد عباس، شاہین شاہ آفریدی،امام الحق کا فٹنس لیول بھی بہتر دکھائی دیا۔پہلے مرحلے میں عماد وسیم اور یاسرشاہ بھی فٹنس دینے والوں میں شامل ہیں۔ٹرینر یاسر ملک دودن میں لیے گئے مختلف جسمانی مشقوں  کی رپورٹ تیار کرکے اس بات کا تعین کریں گے کہ کون سا کھلاڑی مطلوبہ لیول تک رسائی پانے میں سرخرو ہواہے اورکس کا فٹنس لیول نیچے گرا ہے۔پی سی بی نے پہلےہی یہ اعلان کررکھاہے کہ جس کرکٹرز کی فٹنس تسلی بخش نہیں ہوگی، اس کی ماہانہ تنخواہ میں سے 15 فی صد کٹوتی ہوگی اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ فٹنس کا مطلوبہ معیار نہیں پالیتا۔ چند دن بعد دوسرا مرحلہ رکھاگیاہے جس میں باقی رہ جانے والے 9 کرکٹرز کی فٹنس کو جانچاجائے گا۔ شام تک رپورٹ تیار کرکے ٹیم انتظامیہ کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے

ماہرہ خان کے انسٹاگرام پر 53 لاکھ فالورز ، پہلے نمبر پر آگئیں ایمن خان51 لاکھ کےساتھ دوسرے، ماورا حسین 49 لاکھ کےساتھ تیسرے نمبر پر ہیں

لاہور(شوبز ڈیسک) اداکارہ ماہرہ خان انسٹاگرام پر 5.3 ملین فالورز کے ساتھ پہلے نمبر پر آگئیں۔ ماہرہ خان پاکستان کی بہترین اداکارہ تصور کی جاتی ہیں، اس لیے وہ انسٹاگرام پر 5.3ملین فالورز کے ساتھ پہلے، ایمن خان5.1 ملین کے ساتھ دوسرے، ماورا حسین 4.9 ملین کے ساتھ تیسرے، عاطف اسلم4.7 ملین کے ساتھ چوتھے،عائزہ خان4.6 ملین کے ساتھ پانچویں اور اداکارہ سجل علی4.5 ملین کے ساتھ چھٹے پر ہیں۔

قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

 اسلام آباد: قومی اسمبلی میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سروسز ایکٹ ترمیمی بلز کثرت رائے سے منظور کرلیے گئے۔اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ چیئرمین دفاعی کمیٹی امجد علی خان نےآرمی ایکٹ ترمیمی بل پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اسپیکر کی ہدایت پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ،ائیرفورس ایکٹ اورنیوی آرڈیننس میں ترامیم کی علیحدہ علیحدہ تحاریک پیش کیں ایوان نے فوجی سربراہان کے بارے میں قانون سازی کی علیحدہ علیحدہ منظوری دی۔ن لیگ، پی پی کی حمایتبل کی منظوری میں تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) اور بی اے پی کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بھی حصہ لیا۔پی پی کی سفارشات واپسپرویز خٹک کے کہنے پر پی پی پی نے بل میں ترامیم کی سفارشات واپس لے لیں۔ نوید قمر نے کہا کہ خود کو الگ ہونے سے بچنے کیلئے ہم ترامیمواپس لیتے ہیں، ہم نے ملک اور خطے کی نئی صورتحال کے مدنظرفیصلہ کیاکہ ترامیم پراصرار نہیں کریں گے۔واک آؤٹجےیوآئی (ف)، جماعت اسلامی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے ارکان نے بل کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کردیا اور شدید نعرے بازی بھی کی۔بلز منظورہونے کے بعد اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 4 بجے تک ملتوی کردیا۔پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کے پارلیمانی پارٹی اجلاسقومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے الگ الگ جلاس ہوئے۔ ن لیگ نے بل کی غیر مشروط حمایت کا فیصلہ کیا۔تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان نے کی اور پی ٹی آئی کے پارلیمانی اجلاس نے پیپلز پارٹی کی تمام ترامیم مسترد کردیں۔

مشرق وسطی کو بڑی جنگ سے بچانا ہے تو بڑے ممالک غیر جانبدار رہیں،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اپنی سرزمین کو کسی کیخلاف استعمال نہ ہونے کی بات ایک کمزور بیان ہے‘ حکومتی نکتہ نظر سے اختلاف کرتا ہوں۔ ایسی صورتحال میں لیڈر شپ کو صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ پاکستان کو موجودہ صورتحال میں اچھے ثالث کے طور پر سامنے آنا چاہئے تھا۔ خطے کی صورتحال دنوں میں ایسی نہیں بنی بلکہ اس کے پیچھے ایک لمبی تاریخ ہے۔ جنرل سلیمانی اچھے سپاہی تھے تاہم یہ وہی تھے جنہوں نے امریکہ سے ملکر عراق کیخلاف جنگ چھیڑی کل کا دوست آج دشمن ہو گیا۔ 2012ءمیں مشرق وسطیٰ میں ایسی ہی صورتحال تھی پاکستان نے کردار ادا کیا اور سعودیہ ایران تنازع ختم کرایا۔ اس وقت جنگ ایران اور عرب ممالک کے درمیان ہے۔ امریکہ دنیا بھر میں واحد طاقتور بننا چاہتا ہے تاہم روس‘ چین اور یورپ اسے پسند نہیں کرتا۔ مسلم اُمہ بکھری ہوئی ہے ایران شاید امریکہ کیخلاف کچھ نہ کرے تاہم کوئی تیسری قوت بیچ میں کود کر صورتحال خراب کرا سکتی ہے۔ اسرائیل کو طاقتور بنایا جا رہا ہے پاکستان موجودہ صورتحال میں آگے بڑھے‘ ثالث کا کردار ادا کرے یہ مسلم اُمہ کیلئے بہتر ہو گا باقی مسلم ممالک کو بھی آگے آنا چاہئے۔ ہنری کسنجر نے بیان دیا ہے کہ آنے والے وقت میں اسرائیل آدھے مشرق وسطیٰ پر قابض ہو گا۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورت میں اثرات پاکستان پر بھی آئے گے کیونکہ ایران پر حملہ کی صورت میں مجاہدین پاکستان آئیں گے۔ میرے نزدیک امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کا رسمی اعلان نہیں کیا۔ امریکہ میں بھی ایشو اٹھ گیا ہے‘ کانگریس نے کہا ہے کہ اگر جنگ نہیں تو وہاں جاکر حملہ کیوں کیا‘ صدر ٹرمپ کا احتساب بھی جاری ہے چین اور روس نے بھی ایران کے حق میں بیان دیا ہے۔ مشرقی اور مغربی بلاک میں لڑائی دکھائی دے رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورت میں جنوبی ایشیا بھی لپیٹ میں آئے گا۔

شیخ رشید کا حریم شاہ سے بات کرنیکا اعتراف‘ نکاح کی تردید

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ سے فون پر بات کرنے کے معاملے پر اپنا موقف جاری کردیا۔ پیر کوپارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے حریم سے فون پر بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فون پر بات کر لی تو کیا ہوا؟کوئی غلط بات نہیں کی ہے۔شیخ رشید نے اپنے نکاح سے متعلق حریم شاہ کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کوئی نکاح نہیں کیا اور نہ ہی متعہ کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے تو متعہ کا مطلب ہی نہیں پتہ یہ ہوتا کیا ہے؟ جو کر رہے ہیں کرتے رہیں مجھے فرق نہیں پڑتا۔

بارش سے مو سم ٹھنڈا ٹھار ،پہاڑی علاقوں نے سفید چادر اوڑھ لی ،آج بوندا باندھی

لاہور( جنرل رپورٹر ) لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش نے سردی کی شدت میں اضافہ کر دیا، مری، گلیات سمیت بالائی علاقوں میں بھی آسمان سےسفید موتیوں کی برسات ہوئی، برفباری اور بارش کا سلسلہ کل تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔ملک کے بیشتر علاقوں میں بادل برسنے سے موسم ٹھنڈا ٹھار ہو گیا۔ لاہور میں رم جھم کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جس سے سردی کی شدت بڑھ گئی، ہر چیز نکھر گئی۔ قصور، میاں چنوں، اوکاڑہ، ساہیوال، خانیوال، لودھراں، بہاولپور، دریا خان سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کی جھڑی سے موسم سرد ہوگیا۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان میں بھی مختلف مقامات پر بوندا باندی ہوئی جس نے ٹھنڈ میں اضافہ کر دیا۔ سندھ میں بھی کہیں کہیں ہلکی بارش ہوئی۔پہاڑوں پر برفباری سے ہر طرف سفیدی چھا گئی۔ مری میں آسمان سے برستے سفید موتیوں نے ملکہ کوہسار کا حسن دوبالا کر دیا۔ ویک اینڈ پر سیاحوں کی بڑی تعداد نے سرد موسم کو انجوائے کیا۔ گلیات میں بھی سیاح حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوئے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور کشمیر میں اکثر مقامات پر بارش کا امکان ہے۔ بالائی سندھ اور شمالی بلوچستان میں بھی چند مقامات پر بادل برسیں گے، پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد، گلگت بلتستان، کشمیر میں اکثر مقامات پرجبکہ بالائی سندھ میں چند مقامات پر بارش اور پہاڑوں پر بر فباری متوقع ہے۔میڈیا ر پورٹ کے مطابق بلوچستان کے تمام اضلاع میں اکثر مقامات پر بار ش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔ شدید بارش اور برفباری کے باعث بلوچستان کے شمالی اضلاع کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے،شمالی بلوچستان میں موسلادھار بارش اور برفباری کا بھی امکان ہے۔صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں اکثر مقامات پر بارش اور پہاڑوں پر برفباری متوقع ہے۔ جنوبی/وسطی پنجاب ملتان، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، لیہ، بھکر، سرگودھا، خوشاب، لاہور، جھنگ اور فیصل آباد میں اکثر مقامات پر جبکہ راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، گوجرانوالہ ، گجرات ،منڈی بہاﺅالدین اورخافظ آباد میں کہیں کہیں بارش متوقع ہے۔بالائی سند ھ کے اضلاع سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، شہید بینظیرآباد اور روہڑی میں چند مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں بارش اوربرفباری کا امکان ہے جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا۔گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے میدانی علاقوں میں چند مقامات پر دھند چھائی رہی جب کہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ میں چند مقامات پر بارش ہوئی۔سب سے زیادہ بارش میں قلات17 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی اور سب سے زیادہ سردی کالام میں پڑی جہاں کا درجہ حرارت منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

متنازعہ شہریت بل،بھارتی فنکاروں کا مودی کے اجلاس میں شرکت سے انکار آر ایس ایس کے غنڈوں کا نہرو یونیورسٹی پر حملہ ،20زخمی

نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی حکومت کی جانب سے متنازع شہریت قانون پر بریفنگ کے لیے بلائے گئے ایک اہم ترین اجلاس میں بولی وڈ کے کسی بھی بڑے اداکار یا اداکارہ نے شرکت سے انکار کرکے حکومت کو پریشانی میں ڈال دیا۔ نریندر مودی کی ہدایات پر سابق موسیقار اور یونین وزیر پیوش گویل نے ممبئی میں ایک اہم اجلاس بلایا تھا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا تھا کہ اہم ترین اجلاس میں شرکت کے لیے بولی وڈ ی 25 نامور شخصیات کو شرکت کے دعوت نامے بھجوائے گئے اور انہیں بتایا گیا کہ متنازع شہریت قانون کے حوالے سے بہت ساری غلط معلومات پھیل رہی ہیں اس لیے درست معلومات کے لیے ان کا حکومتی اجلاس میں آنا لازمی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ اجلاس 5 جنوری کی شب ممبئی کے ایک نجی ہوٹل میں ہونا تھا جس میں متعدد شخصیات کی شرکت کا امکان تھا۔ تاہم اب بھارتی ٹی وی این ڈی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حکومت کے اجلاس میں کسی بھی معروف بولی وڈ شخصیت نے شرکت نہیں کی۔ ٹی وی کے مطابق متنازع شہریت قانون پر بولی وڈ شخصیات کو حکومتی معلومات فراہم کرنے والے اجلاس میں ان بولی وڈ شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا جو متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومتی اجلاس میں کسی بھی بڑے اور نامور بولی وڈ اداکار یا اداکارہ نے شرکت نہیں کی تاہم چند جانی پہچانی شخصیات پروگرام میں شریک ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق موسیقار انو ملک، گلوکار شان، کیلاش کھیر اور اروشی روتیلا حکومتی اجلاس میں شریک ہوئیں، ان کے علاوہ ٹی سیریز کے مالک بشن کمار، فلم ساز رتیش سدھوانی، رنویر شورے، کنال کوہلی اور رمیش تارانی بھی اجلاس میں دکھائی دیے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ حکومتی اجلاس میں جاوید اختر، وکی کشال، آیوشمن کھرانہ، روینہ ٹنڈن، بونی کپور، کنگنا رناوٹ اور مدھر بھنڈارکر سمیت دیگر معروف شخصیات شرکت کریں گی تاہم ان میں سے کوئی بھی شخصیت اجلاس میں شریک نہیں ہوئی۔ رہورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ متنازع شہریت قانون کے مظاہروں میں دکھائی دینے والی اداکارہ ریچا چڈا اور فلم ساز کبیر خان کو بھی اجلاس میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی تھی تاہم انہوں نے اجلاس میں نہ جانا ہی بہتر سمجھا۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق متنازع شہریت قانون پر ہونے والے مظاہروں میں شریک ہونے والی سوارا بھاسکر، فلم ساز انوراگ کشیپ، سوشانت سنگھ اور نکھل آڈوانی کو حکومتی اجلاس میں شریک ہونے کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔ حکومتی اجلاس میں دعوت ملنے کے باوجود بولی وڈ شخصیات کی جانب سے شرکت نہ کرنے کو سمجھا جا رہا ہے کہ بولی وڈ انڈسٹری بھی حکومت کی جانب سے بنائے گئے متنازع شہریت قانون کے خلاف ہے۔ جہاں بولی وڈ شخصیات نے حکومتی اجلاس میں شرکت نہ کرکے حکومت کو ناراضی کا پیغام دیا ہے وہیں بولی وڈ شخصیات قانون بنائے جانے سے اب تک سوشل میڈیا پر متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرتی دکھائی دیتی ہیں جب کہ سوارا بھاسکر، ریچا چڈا اور سوشانت سنگھ جیسے اداکار تو مظاہروں میں شریک بھی ہوتے رہے ہیں۔ مبینہ طور پر سوشانت سنگھ کو ان کے ٹی وی شو سے بھی متنازع قانون کی حمایت کرنے پر نکالا گیا تھافوٹو: فیس بک مذکورہ متنازع قانون بھارتی حکومت نے گزشتہ ماہ دسمبر کے آغاز میں بنایا تھا، متنازع بل کو لوک سبھا اور راجیا سبھا سے پاس کرائے جانے کے بعد بھارتی صدر نے 12 دسمبر کو اس پر دستخط کیے تھے جس کے بعد بل قانون بن گیا تھا۔ مذکورہ متنازع قانون کے تحت 6 مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستان، افغانستان یا بنگلہ دیش سے 31 دسمبر 2014 سے قبل بھارت منتقل ہونے والے تمام افراد کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔ مذکورہ قانون میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے افراد کو شہریت دینے اور مسلمانوں کو نظر انداز کیے جانے کے خلاف نہ صرف بھارت کے 22 کروڑ مسلمان بلکہ ہندو، عیسائی اور سکھ بھی احتجاج کررہے ہیں۔ بھارت میں انتہا پسندآر ایس ایس کے غنڈوں نے تعلیمی اداروں کوبھی نہ چھوڑا، دلی کی جامعہ ملیہ کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ بھی نشانے پر آ گئے۔ آر ایس ایس کے شدت پسندوں نے اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کا سر پھاڑ دیا، واقعہ میں 20 افراد زخمی ہو گئے۔ بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر صورتحال بیان کرتے ہوئے رو پڑیں۔اندھیر نگری چوپٹ راج، جامعہ ملیہ کے بعد جواہر نہرو یونیورسٹی بھی تاراج، مودی کی آشیر باد سے آر ایس ایس کے نقاب پوشوں نے جے این یو پر دھاوا بول دیا۔ فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے طلبہ اور اساتذہ کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ڈنڈوں سے لیس غنڈوں کا تعلق آر ایس ایس کی طلبہ ونگ سے تھا جنہوں نے جواہر لعل یونیورسٹی میں گھس کر کالے قانون کے خلاف مظاہرہ کرتے طلبہ کو بری طرح مارا۔ اسٹوڈنٹس یونین کے صدر ایشے گھوش کا سر پھاڑ دیا، بالی وڈ اداکار ذیشان ایوب نے ویڈیو پیغام میں عوام سے جلد از جلد جے این یو پہنچنے کی اپیل کر دی۔بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر جواہر نہرو یونیورسٹی کی صورتحال بیان کرتے ہوئے رو پڑیں، دہلی پولیس کی موجودگی میں طلبہ پر ظلم ہوتا رہا جس کے بعد نقاب پوش افراد بغیر رکاوٹ کے واپس بھی چلے گئے۔

کیا سیاستدان عزت چوک پر رکھ کر آئیں،ہر کوئی چھتر مارے،فواد چودھری جو بویا وہی کاٹ رہے ہیں ،خواجہ آصف

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی)وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ یہ الیکشن لڑ کر اسمبلی میں آنے کی شرط یہ ہے کہ ہم اپنی عزت چوک پر رکھ کر آئیں کہ آتا جاتا آدمی ہمیں چھتر مارے۔اسپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا تو وزیر مملکت پارلیمانی \مور علی محمد خان نے رولز معطل کرنے کی تحریک پیش کی جو منظور کرلی گئی۔فواد چوہدری نے ایک ٹی وی اینکر کو تھپڑ رسید کرنے کے معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ٹی وی چینلز کے درمیان ریٹنگ کی دوڑ لگی ہوئی تھی، اب ہم پر یو ٹیوب چینلز کی بلا نازل ہوگئی ہے، دو دن پہلے ایک اینکر نے اپنے یو ٹیوب چینل پر پروگرام کیا اور میرے اور دیگر کے بارے میں الزامات لگائے، میں نے پوچھا کہ آپ ویڈیو دکھائیں تو اینکر نے کہا کہ ویڈیو میرے پاس نہیں کسی اور کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے، میں نے اس اینکر سے کہا کہ شاید آپ کے اپنے گھر میں آپ کی ماں، بہنوں کا احترام نہ ہو لیکن ہمارے گھروں میں ہے، جب آپ ریٹنگز کے لیے کسی کی پگڑی اچھا لیں گے اور اس کا کوئی مداوا نہیں ہوگا تو کیا یہ الیکشن لڑنے کی شرط ہے کہ ہم اپنی عزت چوک پر رکھ کر آئیں کہ آتا جاتا آدمی ہمیں چھتر مارے۔فواد چوہدری نے اسپیکر سے درخواست کی کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے، ایوان کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں اپوزیشن اراکین بھی شامل ہوں، کمیٹی یہ دیکھے کہ میڈیا سے متعلق قوانین پر عملدرامد کیوں نہیں ہو رہا، پی ٹی اے، ایف آئی اے کا سائبر کرائم وِنگ کیوں نوٹس نہیں لے رہا، عدالتیں اپنے معاملات میں فوری توہین کا نوٹس لیتی ہیں لیکن اراکین اسمبلیوں کی بھی عزت و وقار ہے۔’مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ گلہ ہمیں میڈیا یا کسی اور ادارے سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے کرنا چاہیے، ہم اپنی عزت کی نیلامی میں خود تلے ہوتے ہیں، یہاں ایوان میں جو ہوتا ہے ہم خود پگڑی اچھلواتے ہیں جبکہ ہم خود اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال میں بے دردی سے قوانین اور اداروں کا ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا گیا، ایک دوسرے کے خلاف قوانین سے پگڑی اچھالنے کا موقع ملتا ہے، کسی ادارے کے خلاف بات ہو تو پیمرا فوری حرکت میں آتا ہے لیکن سیاسی مخالفین کی بات ہو تو پیمرا بلکل حرکت میں نہیں آتا، ہم نے اپنے گریبان خود ان کے ہاتھوں میں دیے ہیں، حکومتی رکن کی تشویش میں ان کے ساتھ ہوں لیکن کوئی پارٹی ان کی زبان سے محفوظ نہیں رہی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فصل انہوں نے خود بوئی ہے جسے یہ کاٹ رہے ہیں، جب تک ایوان اور اس کے اراکین کی عزت نہیں ہوگی تو لوگ ہماری پگڑیاں اچھالیں گے اور گالیاں دیں گے۔خواجہ آصف نے کہا کہ فواد چوہدری خود اینکر رہے ہیں، رکارڈ نکالیں یہ خود لوگوں کے ساتھ کیا کرتے رہے ہیں، ایک دوسرے پر الزام لگاتے وقت بھول جاتے ہیں کہ کل ہم پر بھی الزام لگ سکتا ہے، ایک دوسرے کی عزت کرنے کی روایت ڈالے تاکہ کل یہاں کھڑے ہو کر خصوصی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ نہ کرنا پڑے، ایوان کے ہر رکن کی عزت و تکریم ہونی چاہیے جبکہ ہمیں اپنے رویے درست کرنے کے لیے کمیٹی بنانی چاہیے۔’انہوں نے اسپیکر سے درخواست کی کہ آپ ایسی روایات کو جنم دیں کہ آنے والا یاد کرے کہ اسد قیصر نے نئی روایات کو جنم دیا۔لیگی رہنما نے امریکا اور ایران کے مسئلے پر بریفنگ کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔وفاقی وزیر زرتاج گل کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‘جب آپ یہاں کھڑے ہو کر دوسروں کو نصیحتیں کرتے ہیں، خواتین کو گالیاں دیتے ہیں تب یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کس طرح خواتین انتخابات میں حصہ لے کر یہاں بات کرتی ہیں اور اپنے حلقے کی نمائندگی کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حقیقت میں کوئی ویڈیو ہے تو سامنے لائی جائے ورنہ ایف آئی اے الزام لگانے والوں کو پکڑے، آپ خواتین کی تذلیل پر خوش ہوتے ہیں، عزت سب کی برابر ہے۔اسپیکر نے زرتاج گل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تحریک لے کر آئیں ہم بحث کرائیں گے۔

ہمارا مقابلہ ترقی کے دشمنوں سے ہے،کرپشن ختم ،تعلیمی نظام بہتر ،مافیا کو انجام تک پہنچائیں گے ،عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان سے ورجینا یونیورسٹی کے طلباءکی ملاقات، وزیراعظم نے طلباءوفد کو خطے میں امن کی لئے کی جانے والی پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا وزیر اعظم نے کہا کہ میرا مقابلہ مافیا سے ہے جو ملک کی ترقی کی راہ میں حائل رہا ہے،22سالہ جدوجہد کے بعد ہماری جماعت نے دو بڑی سیاسی پارٹیوں کو شکست دی ہے،پاکستان اقلیتوں کے حقوق کے مکمل تحفظ اور ان کو برابر کا شہری تصور کرتا ہے بھارتی انتہاءپسندانہ پالیسیوں سے علاقائی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، بھارتی حکومت کی فسطائی پالیسیوں سے خود بھارتی عوام کی شناخت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ پیر کو وزیراعظم عمران خان سے ورجینا یونیورسٹی کے طلباءکے وفد نے ملاقات کی جبکہ طلباءکے دورے کا مقصد پاکستان میں بزنس اور سیاحت کے مواقع سے آگاہی حاصل کرنا ہے، وزیراعظم سے ملاقات میں طلباءنے پاکستان کو درپیش چیلنجز اور موجودہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر بھی بات چیت کی اور طلباءکی جانب سے مختلف موضوعات پر وزیراعظم سے سوالات کئے گئے ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے، لیکن کرپشن کے ناسور اور انسانی وسائل کو نظر انداز کئے جانے سے ملکی ترقی کا عمل جمود کا شکار ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عام آدمی کی حالت زار بہتر بنانے اور ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے سیاست میں قدم رکھا جبکہ بائیس سالہ جدوجہد کے بعد ہماری جماعت نے دو بڑی سیاسی جماعتوں کو شکست دی طلباءوفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میرا مقابلہ مافیا سے ہے، جو ملک کی ترقی کی راہ میں حائل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے تعلیم اور دیگر شعبوں میں اصلاحات پر بھی توجہ نہیں دی اور تین مختلف نظام تعلیم انسانی وسائل کے فروغ اور ترقی کی راہ میں بڑا چیلنج ہیں جبکہ موجودہ حکومت یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب کےلئے کوشاں ہے، موجودہ حکومت کی کاوشوں کی بدولت معاشی استحکام آیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم اقلیتوں کے حقوق کے مکمل تحفظ اور ان کو برابر کا شہری تصور کرتے ہیں بھارتی انتہاءپسند انہ پالیسیوں سے علاقائی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، بھارتی حکومت کی فسطائی پالیسیوں سے خود بھارتی عوام کی شناخت خطرے میں پڑ گئی ہے اور مودی حکومت کی آر ایس ایس کی پالیسیوں نے بھارت میں اقلیتوں کے تشخص اور جمود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 150روز سے زائد جاری محاصرے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاسی مظالم کیخلاف آواز اٹھانی چائیے،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی کی راہ میں حائل مافیا سے مقابلہ ہے۔وزیراعظم عمران خان سے امریکی ورجینیا یونیورسٹی کے طلبا کے وفد نے ملاقات کی جس میں حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور معیشت کو درپیش مسائل پربات چیت ہوئی۔وزیراعظم عمران خان نے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 1960 کی دہائی میں پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے تیزترقی کرنے والا ملک تھا،لیکن بدقسمتی سے معاشرے میں کرپشن کے ناسورسے ملکی ترقی کا عمل جمود کا شکار ہوا، ماضی کی حکومتوں نے انسانی وسائل کے فروغ کونظر انداز کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ عام آدمی کی حالت زار اورایوانوں میں کرپشن کے پیش نظرسیاست میں قدم رکھا، میرامقابلہ مافیا سے ہے جو ملک کی ترقی کی راہ میں حائل رہا ہے، بڑا چیلنج ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور تعلیمی نظام کو بہتر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت یکساں تعلیمی نصاب کے لئے کوشاں ہے، حکومت کی کاوشوں کی بدولت معیشت میں استحکام آیا ہے ، پاکستان اقلیتوں کے حقوق کے مکمل تحفظ پر یقین رکھتا ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت کی فسطائی پالیسیوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں اور بھارتی عوام کی شناخت خطرے میں پڑ گئی ہے، مودی سرکارنے پانچ سو ملین اقلیتوں کے تشخص اور وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے، وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی پالیسیوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، فسطائی پالیسیوں کی وجہ سے بھارتی عوام کی شناخت بھی خطرے میں پڑ گئی، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم نے جمہوریت کے بھارتی دعوو¿ں کی قلعی کھول دی ہے، ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور تعلیمی نظام کو بہتر کرنا بڑا چیلنج ہے، حکومت یکساں تعلیمی نصاب کے لئے کوشاں ہے، حکومتی پالیسیوں کی بدولت معیشت میں مزید بہتری آئے گی،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ منشیات اور بچوں سے زیادتی نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہیں ،انسداد منشیات کےلئے معاشرے میں آگاہی ضروری ہے، جب معاشرہ اکٹھا ہو گا تب ہی منشیات کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں،منشیات کی روک تھام کےلئے والدین، سکولوں کے اساتذہ اور مساجد کے مولانا حضرات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جبکہ وزیر مملکت برائے انسداد و منشیات شہریار آفریدی نے کہا کہ انسداد منشیات کےلئے مشترکہ کاوشیں درکار ہیں،مل کر اپنی نسل اور نوجوانوں کو اس ناسور سے بچانا ہے۔پیر کو انسداد منشیات کےلئے”زندگی“موبائل ایپلی کیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ منشیات کا استعمال نوجوان طبقے کو تباہ کر رہا ہے، دو چیزیں نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہیں جن میں منشیات اور بچوں سے زیادتی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات اور بچوں سے زیادتی کے واقعات معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں، بدقسمتی سے موبائل سے بچوں سے زیادتی اور منشیات کا پھیلاﺅ بھی ہورہا ہے، بچوں سے زیادتی کے واقعات پر لوگ بات نہیں کرتے، بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات تباہ کن ہیں، ایلیٹ اسکولوں میں بھی منشیات کا استعمال جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم پوری طاقت کے ساتھ ایسے چیلنجز کا مقابلہ کریں گے اور اس کا خاتمہ کریں گے، انسداد منشیات کےلئے معاشرے میں آگاہی ضروری ہے، منشیات کے استعمال سے بچوں کا مستقبل تباہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ انسداد منشیات کےلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اسکولوں میں منشیات کے پیچھے مافیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کسی بھی برائی کے خلاف جنگ قوم جیتتی ہے کوئی ادارہ نہیں، جس کےلئے پوری قوم کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، سب نے مل کر منشیات کی لعنت کے خلاف مہم چلانا ہے،جبکہ منشیات کی روک تھام کےلئے والدین، سکولوں کے اساتذہ اور مساجد کے مولانا حضرات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ جب معاشرہ اکٹھا ہو گا تب ہی منشیات کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں، منشیات کے خلاف ہر سطح پر آگاہی کی جائے گی۔وزیر مملکت برائے انسداد و منشیات شہریار آفریدی نے کہا کہ منشیات فروس سماج دشمن ہیں، نوجوان نسل میں منشیات سے متعلق آگاہی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تدریسی اداروں میں منشیات کا استعمال باعث تشویش ہے، ہم نے مل کر اپنی نسل اور نوجوانوں کو اس ناسور سے بچانا ہے،انسداد منشیات کےلئے مشترکہ کاوشیں درکار ہیں۔

خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ پڑھائی حسن روحانی سمیت لاکھوں شریک

تہران‘ بغداد (نیٹ نیوز) ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہونے والے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں ان کے ہمراہ ایران کے صدر حسن وحانی ، ، چیف جسٹس ابراہیم رئیسی، پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی، قدس فورس کے نئے کمانڈر اسماعیل قانی سمیت اعلی حکام بھی شریک ہوئے۔ ۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے دکھایا کہ ایرانی کمانڈر کی نمازِ جنازہ میں عوام کی بہت بڑی تعداد شریک تھی، اس موقع پر لاکھوں سوگواران قاسم سلیمانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سڑکوں پر موجود تھے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق تہران یونیورسٹی کے علاقے میں جمع ہونے والے افراد نے قاسم سلیمانی کی تصاویر تھامی ہوئی تھیں۔قاسم سلیمانی کی نمازِ جنازہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پر براہ راست نشر کی گئی۔اس موقع پر غیر معمولی خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے نشریاتی ادارے نے اسکرین پر بائیں جانب سیاہ پٹی چلائی۔سرکاری نشریاتی ادارے پر تہران میں ہونے والے قاسم سلیمانی کے جنازہ میں عوام کی بڑی تعداد کو دیکھا جاسکتا تھا۔ اتوار کو قاسم سلیمانی کا جسد خاکی بغداد سے مغربی ایران کے شہر احواز پہنچایا گیا، اس حوالے سے ایرانی نیوز ایجنسی نے ویڈیو جاری کی جس میں ان کے جسد خاکی کو ایرانی جھنڈے میں لپیٹے ایک تابوت میں دیکھا گیا تھا۔ایران کے سرکاری ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر کے مطابق تہران کی سڑکوں پر عوام بہت بڑی تعداد میں اپنے قومی ہیرو کے سفرِ آخرت میں شریک ہوئے۔قاسم سلیمان کی نمازِ جنازہ کے موقع پر آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ مقتدیوں کی بڑی تعداد بھی آبدیدہ نظر آئی۔ جنازے کے جلوس میں شریک افراد نے قاسم سلیمانی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ مرگ بر امریکہ یا امریکہ مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔تہران میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد جنرل سلیمانی کی میت قم لے جائی جائے گی جس کے بعد انھیں منگل کو ان کے آبائی شہر کرمان میں سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔۔اس سے قبل 1989 میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی نماز جنازہ میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔ایرانی فوجی کمانڈر کی بیٹی زینب سلیمانی نے کہا ہے کہ امریکا اور صیہونیت کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ میرے والد کی شہادت مزاحمت میں آگاہی کی وجہ بنے گی اور ان کے لیے سیاہ دن لائے گی۔زینب سلیمانی نے ایرانی نشریاتی ادارے پر نشر کیے گئے خطاب میں کہا کہ پاگل ٹرمپ یہ نہیں سوچو کہ میرے والد کی شہادت سے سب کچھ ختم ہوگیا۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق قدس فورس کے نئے سربراہ نے کہا ہے کہ بغداد میں امریکی حملے میں فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ان کا مقصد امریکا کو خطے سے بے دخل کرنا ہے۔سرکاری ریڈیو کے مطابق تہران میں قاسم سلیمانی کی نمازِ جنازہ سے قبل اسمعیل قاآنی نے کہا تھا کہ ہم اسی قوت کے ساتھ قاسم سلیمانی کے راستے پر چلنے کا عہد رکھتے ہیں اور ہمارے لیے واحد بدلہ خطے سے امریکا کو نکالنا ہوگا۔ایرانی فوجی کمانڈر کی نماز جنازہ میں خطے میں ایران کے کچھ اتحادی بھی شریک تھے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی کے جنازے کے منتظم کی جانب سے تمام ایرانی باشندوں سے اپیل کی گئی کہ وہ کم از کم ایک ڈالر عطیہ دیں۔جنازے کے منتظمین کی جانب سے مزید کہا گیا اس وقت ایران کی آبادی 8 کروڑ ہے اور اس حساب سے ٹرمپ کا قتل کرنے والے کو 80 ملین ڈالرز کی رقم بطور انعام دی جائے گی۔دوسری جانب ایران کے رکن اسمبلی ابو الفضل ابو ترابی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے 52 مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر ردعمل میں کہا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو جوابی کارروائی میں امریکی سرزمین پر حملہ کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس طاقت ہے اور ہم مناسب وقت پر ضرور جواب دیں گے، وائٹ ہاو¿س پر بھی حملہ کر سکتے ہیں۔ صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے امریکہ کے جارحانہ اور مداخلت پسندانہ اقدامات کا ڈٹ کا مقابلہ کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اپنے عراقی ہم منصب برھم صالح سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ایران اور عراق کو امریکہ کے جارحانہ اور مداخلت پسندانہ اقدامات کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔صدر حسن روحانی نے امریکی فوج کے انخلا سے متعلق عراقی پارلیمنٹ کی تازہ قرار داد کو اہم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ استقامتی محاذ کے کمانڈروں کا خون خطے میں ٹھوس تبدیلیوں کا باعث بنے گا۔ایران کے صدر نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران اور عراق کی حکومت اور عوام ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رہیں گے ۔ ا نہوں نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی نے ایران اور عراق نیز خطے کی سلامتی کے لیے بے پنا خدمات انجام دی ہیں۔صدر کا کہنا تھا کہ اگر جنرل قاسم سلیمانی نے داعش کے حملے کی رات ایثار و مجاہدت کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا تو یقینا اربیل سقوط کر جاتا۔ڈاکٹر حسن روحانی نے عراق کی اعلی دینی مرجعیت کے موقف نیز رہبر انقلاب اسلامی کے نام آیت اللہ العظمی سیستانی کے تعزیتی پیغام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس پیغام سے واضح ہوگیا ہے کہ عظیم رہنماﺅں کی حمایت کے سائے میں سخت اور دشوار مراحل کو آسانی کے ساتھ طے کیا جاسکتا ہے۔عراق کے صدر برھم صالح نے بھی اس موقع پر ایران کی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی عوامی رضاکار فورس کے سربراہ جنرل ابومہدی المہندس اور ان کے دیگر رفقا کی شہادت کو دونوں ملکوں کے عوام کے لیے انتہائی عظیم غم قرار قرار دیا۔انہوں نے امریکی اقدام کو مجرمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت خطہ دشوار صورتحال سے دوچار ہے اور ہمیں بڑے فتنے کا سامنا ہے۔برھم صالح نے ایران اور عراق کے عوام کے درمیان پائے جانے والے دیرینہ اور تاریخی رشتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان پائی جانے والی یہ دوستی خطے کی سلامتی اور استحکام میں اہم ثابت ہوگی۔