امریکہ ،ایران جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ،حکومت کا دوٹوک اعلان

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور نہ ہی پاکستان خطے کے کسی تنازع میں حصے دار بنے گا،موجودہ حالات نے نئے تناو¿ کو جنم دیا جو اسامہ بن لادن اور ابوبکر الغدادی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہوسکتا ہے،ہمیں استحکام کو خطرہ دکھائی دے رہا جس پر حکومت پاکستان کو شدید تشویش ہے،منفی اثرات افغانستان پر بھی ہوسکتے ہیں ،لبنان کی حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کرکے اسے راکٹ سے نشانہ بناسکتے ہیں، خطے میں شدید قتل و غارت گری بڑھے گی،اقوام متحدہ اس خطہ کو آگ اور عدم استحکام سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔پیر کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرِ صدارت ایوان بالا کے اجلاس میں امریکہ ایران کشیدگی سے متعلق بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 27 دسمبر کو ایک راکٹ حملے کے ذریعے عراق میں امریکی قافلے پر حملہ ہوا اور اس میں ایک امریکی کانٹریکٹر مارا گیا اور دیگر زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ 29 دسمبر کو اس حملے کے ردعمل کے نتیجے میں امریکا نے کارروائی کی اور اس ملیشیا کے 25 افراد ہلاک ہوئے اور 50 زخمی ہوئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی حملے کے جواب میں احتجاج کا فیصلہ کیا اور 31 دسمبر کو بغداد میں امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے جس میں جلاو¿ گھیراو¿ بھی کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خوش قسمتی سے امریکی سفارت خانے کو بروقت خالی کروالیا گیا تھا تو کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے یکم جنوری 2020 کو اس احتجاج کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا بلکہ ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی، جنہیں بعد میں نشانہ بنایا گیا، انہیں اس کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ حالات نے نئے تناو¿ کو جنم دیا جو اسامہ بن لادن اور ابوبکر الغدادی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہوسکتا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ حکومت نے پاکستان کی خودمختاری پر نہ سودا کیا ہے اور نہ کرے گی،خارجہ پالیسی کی واضح سمت ہے ، ہمسائیوں پر ہمارا فوکس ہے ،، سی پیک پرچین کی قیادت کو اطمینان ہے ، اپوزیشن کو ہو یا نہ ہو ، ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے ، اسلامو فوبیو کی نئی وبا دنیا میں پھیل رہی ہے ، اس کے تدارک کی ضرورت ہے ، امریکی ڈرون حملے کے بعد جس کشیدگی نے جنم لیا ہے ہ بڑی خطرناک ہے ، صورتحال ابھی بدل رہی ہے ، ایران کے شہر میں لاکھوں لوگوں جنازہ میں آئے ،صورتحال ست ہم متاثر ہوسکتے ہیں چنگاریوں سے ملک کو بچانا ہے ، ایران ہمارا تاریخی دوست ہے ، کشمیرپر کھل پر حمایت کی ، میں نے اس سے پہلے فون امریکہ کے وزیر خارجہ کو کیا اور اپنا موقف اور عوام کے جذبات پہنچائے ، ہندوستان غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے ، اس کا تدارک کیا ، اقوام متحدہ کے چارٹر اور قوانین کا احترام ہونا چاہیے ،، بھارت اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کےلئے حماقت میں ایڈونچر کرسکتا ہے ، ایوان کو یقین دلاتا ہوں حکومت کنفیویژن کا شکار نہیں ہے ، ڈرون حملے اور عدم استحکام پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ، ہم ممالک کی خودمختاری کی عزت کرتے ہیں ، سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی کی جائے ، مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کئے جائیں ، عالمی برادری سے زوردیتے ہیں کہ وہ اپنا کردارادا کرے ، سلامتی کونسل امن کےلئے کردارادا کرے ،صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں اور وزار خارجہ میں صورتحال کی مانیٹرنگ کےلئے ٹاسک فورس بنائی ہے ، اگر اپوزیشن کے پاس تجاویز ہیں تو وہ ان کو خوش آمدید کہتے ہیں ، پاکستان پہلی ترجیح ہے اور رہے گا۔وہ پیر کو قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دے رہے تھے۔اس سے قبل خواجہ ا ٓصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ چند روز قبل امریکہ نے ڈرون حملے میں ایرانی لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کیا، ایران کے ساتھ تعلق ہزاروں سال پرانا ہے ، امریکہ نے گزشتہ دو ماہ میں لیبیا، عراق، شام اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو روندا، یہ ممالک مالی لحاظ سے مستحکم تھے ، محض بہانوں اور مفروضوں کی بنیاد پر بڑاحادثہ ہے ، یہ واقعہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک آبشار ہوگا ، ایرانی جنرل کا بہت بڑا جنازہ ہوا، امریکہ نے عالمی پولیس مین کا کردار لیا ہوا ہے ، یہ دنیا کو جنگ میں دھکیلے گا ، جمہوریت کی آڑ میں مشرق وسطیٰ کے ممالک لیبیا، عراق اور شام میں زندہ رہنے کے حقوق بھی چھین لیے جائیں ، یہ پاکستان کےلئے بھی خطرہ کی گھنٹی ہے ، ہمارے ہمسایہ میں آگ لگتی ہے تو ہم بھی محفوظ نہیں ہیں ، عمران خان نے کہا تھا کہ صلح کرا رہا ہوں ، اگر یہ صلح تھی تو لڑائی کیسے ہوگی ، وزارت خارجہ کی پالیسی کا قبل کا تعین نہیں ہے ، آج ہم کہاں کھڑے ہیں ، پاکستان کا او آئی سی اور مسلم امہ میں ایک مقام ختم ہوگیا، کشمیر پر جو کچھ ہوا وہ کشمیریوں کی کوششوں سے ہوا ، امریکہ افغانستان میں بھی جہاں ام کے امکانات دور دور تک نہیں آرہے ہیں ، پاکستان کے مستقبل میں کسی نے اگر سرمایہ کاری کی ہے تو وہ چین ہے ، ہندوستان کو بار بار خوش کرنے کی پالیسی کے باوجود بھی بھارت نے جارحانہ رویہ اختیار کیا، ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیں ، ایران کے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے ، ایران سرحد پر فوج تعینات نہیں ہے جہاں دیگر سرحدوں پر ہے ، ایران کے ساتھ تعلقات دیگر ممالک کے مفادات کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہےے، امریکہ کے ساتھ تعلقات کا مخالف نہیں لیکن اگر ہو ہمسایہ ممالک میں آگ لگائے گا تو پاکستان کو خطرہ ہوگا ، کوالالمپور میں اعلان کر کے نہیں گئے ، پاکستان ایٹمی قوت ہے ، کسی کے سامنے بلیک میل میں نہ ہوں ، ایک دوست کے لئے دوسرے دوست کو ذبح مت کریں ، ریاست کے مفادات کا تحفظ کیا جائے ، ہمیں جرات نہیں کے قاسم سلیمانی کو شہید کہہ سکیں ، خارجہ پالیسی چند ارب ڈالر کے لئے بیچ دی ہے ، خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی جائے ، پاکستان کی خودمختاری کےلئے یمن میں غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کی جائے ۔ جبکہ قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خواجہ آصف کی باتوں پر تعجب ہوا، جو شخص وزیر خارجہ رہا ہو اور لغو باتیں کرے اس پر تعجب ہوا، حکومت نے پاکستان کی خودمختاری پر نہ سودا کیا ہے اور نہ کرے گی ، خارجہ پالیسی کی واضح سمت ہے ، ہمسائیوں پر ہمارا فوکس ہے ، سیاسی پوائنٹ سکورننگ ضرور کریں ، آپ کی یہ ضرورت ہے ، کشمیر پر پانچ سال حکومت کے دوران چوں تک نہیں کی، ہم نے کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، 12دسمبر کو سلامتی کونسل کو ایک اور خط لکھا اور مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے مبصرین سے صورتحال سے آگاہ ہیں ، بھارت حقائق کو چھپا رہا ہے ،عنقریب سلامتی کونسل میں دوبارہ بریفنگ متوقع ہے ، چین نے حمایت کی ہے ، حکومت نے دنیا کو قائل کیا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل عسکری نہیں ہے ، اپنے مفادات کےلئے اعتراضات نہیں کرنے چاہئیں، سی پیک کا آغاز ان کی حکومت نے نہیں کیا، سی پیک کے حوالے سے چین کی خواہش پرانی ہے ، سی پیک پرچین کی قیادت کو اطمینان ہے ، اپوزیشن کو ہو یا نہ ہو ، ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے ، اسلامو فوبیو کی نئی وبا دنیا میں پھیل رہی ہے ، اس کے تدارک کی ضرورت ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ کوالالمپور کی وجہ سے امہ تقسیم نہ ہو، شک وشبہ دور کرنے کےلئے پاکستان نے کردارادا کیا ، ترکی اور مہاتیر کی سوچ سے آگاہ کیا، پاکستان نے کچھ وجوہات کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کی،ترکی کے صدر آئندہ ماہ وفد لے کر آئیں گے ، اسکے حوالے سے اس وقت کی اپوزیشن نے کردارادا کیا اور ملک کو دلدل میں پھنسانے سے بچایا۔ چین اور روس کے درمیان تعلقات میں بہتری سے ہمارے فاصلے کم ہوئے ہیں ، ایران کے جنرل کی ہلاکت کے واقعے کے نتائج خطے اور اس سے بھی دورس ہوں گے ، مشرق وسطیٰ میں تناﺅ کی ایک تاریخ ہے ، برصغیر دہائیوں سے ہلچل میں ہے ، ترقی اور خوشحالی سے محروم رہا ، خطے میں کشیدگی میں اضافہ کا ایک پس منظر ہے ، امریکی ڈرون حملے کے بعد جس کشیدگی نے جنم لیا ہے ہ بڑی خطرناک ہے ، صورتحال ابھی بدل رہی ہے ، ایران کے شہر میں لاکھوں لوگوں جنازہ میں آئے ،صورتحال ست ہم متاثر ہوسکتے ہیں چنگاریوں سے ملک کو بچانا ہے ، اپوزیشن پاکستان کی بنے اور پاکستان کے مفادات کے سامنے رکھے ہوئے تجاویز دیں خوش آمدید کہیں گے ، ایران ہمارا تاریخی دوست ہے ، کشمیرپر کھل پر حمایت کی ، میں نے اس سے پہلے فون امریکہ کے وزیر خارجہ کو کیا اور اپنا موقف اور عوام کے جذبات پہنچائے ، ہندوستان غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے ، اس کا تدارک کیا، ایران نے ہماری پالیسی پر کوئی اعتراض نہیں کیا، پاکستان نے نہ کوئی سودا کیا اور غلط کام نہیں کیا،گلف ممالک بھی کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے ، ترکی لیبیاپر قرارداد پاس کی ہے اس کے نتائج آئیں گے ، پاکستان تنہا حکمت عملی اختیار نہیں کرسکتا۔پورے خطے کو مل کر حکمت عملی بنانا ہوگی ، اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ فریقین صبر وتحمل کا مظاہرہ نہیں کرتے تو نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے ، عراق میں بھی احتجاج ہے ، غیر ملکی افواج کے انخلاءکا مطالبہ کیا ہے ، تمام واقعات کا نتائج ہے ، پاکستان مثبت کردارادا کرے گا ، آگ بجھانے کےلئے کردارادا کرے گا،اپنی سرزمین کو کسی صورت کسی دوست یا ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ، ہم یکطرفہ کارروائی اور قوت کے استعمال کے خلاف ہیں ، اقوام متحدہ کے چارٹر اور قوانین کا احترام ہونا چاہیے ، امریکہ نے کہا کہ کشیدگی کم کرنے کے لئے اور مذاکرات کےلئے تیار ہیں ، اگر ایران نے کچھ کارروائی کی ہو تو 52سائٹ ہمارے نشانہ پر ہیں، آئل کی قیمت پر نتائج اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات ہوں گے ، صورتحال کا جائزہ ہے ، حملہ کے سنجیدہ نتائج ہوں گے ، صورتحال میں مزید عدم استحکام آئے گا ، افغانستان کاامن عملی متاثر ہوسکتا ہے ، یمن میں حوثی باغی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، حزب اللہ کی قیادت جذباتی باتیں کر رہے ہیں ، اسرائیل پر راکٹ حملہ ہوا تو وہ بھی کارروائی کرے گا، خطے میں اعلیٰ سطح کے قتل کے واقعات ہوسکتے ہیں ، ایران نے نیوکلیئر ڈیل سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ، صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہیں ، کوشش کر رہے ہیں کہ او آئی سی کو یکجا کر کے کشمیر پر واضح موقف حاصل کریں لیکن واقعہ سے امہ تقسیم ہوتی ہے ، کشمیر پر ہماری پوزیشن متاثر ہوسکتی ہے ، بھارت لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کر رہا ہے ، ہندوستان میں اندرونی حالات خراب ہیں ، متنازعہ قانون سازی نے آگ لگائی ہے ، بھارت اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کےلئے حماقت میں ایڈونچر کرسکتا ہے، ایوان کو یقین دلاتا ہوں حکومت کنفیویژن کا شکار نہیں ہے ، ڈرون حملے اور عدم استحکام پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ، ہم ممالک کی خودمختاری کی عزت کرتے ہیں ، سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی کی جائے ، مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کئے جائیں ، عالمی برادری سے زوردیتے ہیں کہ وہ اپنا کردارادا کرے ، سلامتی کونسل امن کےلئے کردارادا کرے ،صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں اور وزار خارجہ میں صورتحال کی مانیٹرنگ کےلئے ٹاسک فورس بنائی ہے ، اگر اپوزیشن کے پاس تجاویز ہیں تو وہ ان کو خوش آمدید کہتے ہیں ، پاکستان پہلی ترجیح ہے اور رہے گا ۔

عراقی وزیر اعظم کی تقریر کا اثر، امریکی فوج عراق سے بھاگنے کے لیے تیار

واشنگٹن (نیٹ نیوز) امریکی فوج کے حکام نے بغداد میں اپنے عراقی ہم منصبوں کوآگاہ کیا ہے کہ وہ عراق سے نکلنے کی تیاری کر رہے ہیں قبل ازیں عراقی پارلیمنمیں حکومت پر زور دیا تھا کہ غیرملکی فورسز کو ملک سے نکالا جائے امریکی فوج کے ٹاسک فورس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ولیم سیلی نے عراق کی جائنٹ آپریشن کمانڈ کے سربرہ کو ایک خط بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جمہوریہ عراق کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے آئندہ دنوں ہفتوں فوج کے انخلاءکی تیاری کی جائے گی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ انخلاءکے عمل کو یقینی بنانے کیلئے اتحادی فورسز کو بعض اقدامات کرنا ہونگے جن کا مقصد عراق سے فوج کے محفوظ کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس مقصد کیلئے ہیلی کاپٹر کی پروازوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ سی ایچ 47 یو ایچ۔60 اور اے ایچ 64 سکیورٹی ہیلی کاپٹرز کی پروازیں آئندہ ہفتوں میں ہونگی۔ اتحادی فورسز عوام کی پریشانی کو کم کرنے کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے اس کے علاوہ تمام آپریشنز فوج کے انخلاءکا آپریشن اندھیرے کے اوقات میں عمل میں لایا جائے گا۔ تاکہ اس تاثر کو زائل کیا جا سکے کہ امریکی فوج کہیں مزید فوجیوں کو عراق میں نہیں لا رہی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ہم عراق کے ساتھ دوستی اور شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور عراق کی پارلیمنٹ کے امریکی فوج کے انخلاءکے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں۔

آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ، پاکستان بدستور تیسرے نمبر پر

دبئی(ویب ڈیسک) آئی سی سی نے ٹیسٹ رینکنگ جاری کردی ہے جس کے مطابق بھارت بدستور پہلے، آسٹریلیا دوسرے جب کہ پاکستان تیسرے نمبر پر موجود ہے۔آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے لئے ٹیموں کے درمیان پوائنٹس کی جنگ جاری ہے، بھارت 360 کے ساتھ بدستور پہلے نمبر پر ہے، بھارتی ٹیم نے 3 سیریز میں مجموعی طور پر7 میچز کھیلے اور سب میں کامیابی حاصل کی۔آسٹریلیا کو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں جیت کا صلہ مل گیا ہے اوروہ 296 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، کینگروز نے بھی 3 سیریز میں 10 میچز کھیلے، 7 میں کامیابی حاصل کی جب کہ ایک میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور 2 میچوں میں اسے شکست بھی ہوئی۔پاکستان کا 80 پوائنٹس کے ساتھ تیسرا نمبر ہے، گرین کیپس نے 2 سیریز میں 4 میچز کھیلے، سری لنکا کو کراچی ٹیسٹ میں زیر کیا، ایک مقابلہ ڈرا رہا جب کہ 2 میچوں میں اسے شکستوں کا سامنا رہا۔ سری لنکا کے بھی 80 پوائنٹس ہیں تاہم پاکستان سے ایوریج میں کمی کے باعث اس کا چوتھا نمبر ہے، آئی لینڈرز نے 2سیریز میں 4میچز کھیل کر ایک میں کامیابی حاصل کی، ایک ڈرا رہا جب کہ 2 مقابلوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔نیوزی لینڈ 60 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے، کیویز نے 2 سیریز کے دوران 5 میچز کھیل کر ایک میں کامیابی حاصل کی جب کہ 4 میچوں میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، انگلینڈ 56 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے، انگلش سائیڈ نے 2 سیریز میں 6 میچز میں حصہ لے کر 2 میچوں میں کامیابی حاصل کی، 3 میں شکست کا سامنا رہا جب کہ ایک میچ برابر رہا۔جنوبی افریقا 30 پوائنٹس کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے، سا?تھ افریقا نے 2 سیریز کے 4 میچوں میں سے ایک میں کامیابی حاصل کی، 3 میں اسے شکست کا سامنا رہا۔ ویسٹ انڈیز اور بنگلا دیش کی ٹیموں نے ایک، ایک میچز کھیلے ہیں، دونوں ٹیموں کو شکستوں کا سامنا رہا اور پوائنٹس ٹیبل میں بغیر کسی پوائنٹ کے بالترتیب آٹھویں اور نویں نمبر پر ہیں۔

پاکستان میں سونے کی قیمت میں 2600روپے فی تولہ اضافہ

لاہور (ویب ڈیسک)ایران امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور سونے کی قیمتیں 2600 روپے سے زائد کے اضافے کے ساتھ 93ہزار 400فی تولہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔عراق میں امریکی کارروائی کے دوران ایرانی جنرل سمیت 9افراد کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔اس غیریقینی صورتحال میں جہاں دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثر پرا وہیں تیل اور سونے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پیر کو عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 15ہزار 78ڈالر پر پہنچنے کے باعث مقامی سطح پر سونے کی قیمت 93ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔دن میں ایک موقع پر سونے کی قیمتیں 5ماہ کی بلند ترین سطح 15ہزار 87ڈالر تک پہنچ گئیں تاہم دن کے اختتام پر قیمتوں میں نسبتاً استحکام دیکھنے کو ملا اور پیر کو دن کے اختتام پر فی اونس قیمت 15ہزار 78ڈالر رہی۔عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے کا اثر مقامی مارکیٹ میں بھی دیکھنے کو ملا اور مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 26 سو روپے اضافہ ہوا جس کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 93ہزار 400 روہے تک پہنچ گئی۔صرافہ ایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید چاند نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے اور قیمت 1600ڈالر فی اونس تک پہنچنے کا امکان ہے۔انہوں نے سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ بتاتے ہوئے کہاکہ جب کبھی بھی دنیا میں بحرانی حالات ہوتے ہیں تو لوگ سونے کو سب سے محفوظ تصور کرتے ہیں اس میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔

نارووال اسپورٹس سٹی کیس: احسن اقبال کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع

اسلام آباد(ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے نارووال اسپورٹس سٹی کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر منصوبہ بندی و داخلہ احسن اقبال کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کردی۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی عدالت میں جج محمد بشیر کی عدالت میں احسن اقبال کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا گیا۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے جج محمد بشیر سے احسن اقبال کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز توسیع کی استدعا کی، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ مزید ریمانڈ کیوں چاہیے۔اس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ضلعی سطح کے گراو¿نڈ پر عالمی معیار کے اسٹیڈیم جتنی رقم خرچ کی گئی، منصوبے کی منظوری خلاف قانون ہوئی اور اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا، اس معاملے پر احسن اقبال اور خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کی جارہی ہے، جس کے لیے مزید ریمانڈ کی ضرورت ہے۔اس پر احسن اقبال کے وکیل نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی، جس پر عدالت نے بھی نیب کی 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کے ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کردی۔عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں احسن اقبال نے احتساب کو مذاق قرار دیا اور کہا کہ جب ہوائیں بدلنے کا وقت آیا تو حکومت نے قانون ہی بدل دیا اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے کو بھی مذاق بنا دیا۔خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ بدعنوانیوں کے معاملے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا 6 جنوری تک 13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔خیال رہے کہ 23 دسمبر کو قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو نارووال کے اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ بدعنوانیوں سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔نیب کے اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ نیب راولپنڈی نے نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس اسکینڈل میں رکن قومی اسمبلی احسن اقبال کو گرفتار کیا۔واضح رہے کہ احسن اقبال پر نارووال اسپورٹ سٹی منصوبے کے لیے وفاقی حکومت اور پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے فنڈز استعمال کرنے کا الزام ہے۔

بچوں کو جنسی استحصال اور منشیات سے بچانے کیلئے قوم کو مل کر کام کرنا ہو گا، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بچوں کو جنسی استحصال اور منشیات کی لعنت سے روکنے کے لیے کسی ادارے یا حکومت کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم نے ‘زندگی ایپ’ کا افتتاح کیا جس کے ذریعے بچوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کی کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں اسکولوں کے اساتذہ اور والدین کو آگاہی فراہم کی جائے گی۔حکومت نے انسداد منشیات کے حوالے سے ایک جامع پالیسی تیار کی ہے اور زندگی ایپ اس سلسلے میں ایک اہم اقدام ہے جس پر منشیات پر قابو پانے کے حوالے سے تمام معلومات دستیاب ہوں گی۔وزیر اعظم نے ایپ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پوری طاقت کے ساتھ اس منشیات کی عفریت کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ہمیں یہ بات ذہن سے نکال دینی چاہیے کہ ہم کسی محکمے، اینٹی نارکوٹکس فورس یا پولیس پر چھوڑ کر اس عفریت کو شکست دے سکتے ہیں بلکہ اس میں پوری قوم کو شامل ہونا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جب معاشرے میں کینسر کی طرح پھیلنے والی لعنت کے خلاف قومیں مل کر کھڑی ہو جاتی ہیں تو پھر اس معاشرے کی جیت ہوتی ہے اور صرف ایک محکمہ اس طرح کی جنگ نہیں جیت سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اس ایپ کے ذریعے ہم ماں باپ کو آگاہی فراہم کریں گے کیونکہ کئی مرتبہ والدین کو بھی سمجھ نہیں آتا کہ بچہ اگر منشیات کا عادی ہو جائے تو کیا کریں اور انہیں جب تک سمجھ آتی ہے، اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور بچے منشیات کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ اسکول کے اساتذہ، علما اور مساجد کے مولویوں کا بہت اہم کردار ہے اور جمعے کے خطبے میں بھی ہم اس حوالے سے آگاہی پیدا کر سکتے ہیں۔انہوں نے آئس نشے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا نشہ ان اسکولوں میں زیادہ پھیل رہا ہے جن میں اشرافیہ کے بچے جاتے ہیں اور ایک مرتبہ نشے کی لت لگنے کے بعد بچوں کے مستقبل تباہ ہو جاتے ہیں اور پھر وہ دیگر نشہ آور اشیا کی جانب بھی راغب ہوتے ہیں۔وزیر اعظم نے معاشرے میں تیزی سے پھیلتے بچوں سے زیادتی اور جنسی استحصال کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے بھی عوام خصوصاً والدین کو آگاہی کی فراہمی پر زور دیا۔زندگی ایپ کے اجرا کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسمارٹ فونز کے ذریعے اس ایپ کا اجرا کر رہے ہیں لیکن موبائل فون کے ذریعے ہی بچوں کے جنسی استحصال اور منشیات میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ دونوں موبائل فون سے منسلک ہیں جس سے بڑی تیزی سے تباہی پھیل رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں ابھی تک اس حوالے سے آگاہی نہیں ہے کہ یہ کس تیزی سے معاشرے میں پھیل رہی ہے، بچوں کے جنسی استحصال میں بھی ماں باپ شرم سے چپ ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ خاندان کی ساکھ مجروح ہو۔اس موقع پر انہوں نے حکومت کی جانب سے والدین اور اساتذہ کی آگاہی کے لیے مرتب کردہ ایک کتابچے کا ذکر کرتے ہوئے وزرائے تعلیم کو ہدایت کی وہ اسکولوں میں انہیں تقسیم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ خصوصاً اساتذہ اس کا ضرور مطالعہ کریں اور بچوں کو منشیات کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کریں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس اور اساتذہ کے ساتھ مل کر مہم چلائیں گے اور اس گھناو¿نے جرم میں ملوث مافیا کو قانون کی گرفت میں لا کر ان کی سپلائی لائن کو بند کریں گے۔’اس کام میں بے انتہا پیسہ ہے لہٰذا اس گھناو¿نے کام میں ملوث مافیا ہر کسی کو پیسہ کھلا دیتا ہے، ایک دو مرتبہ میں نے آئی جی خیبر پختونخوا کو ریڈ کرنے کو کہا تو پتہ چلا کہ پولیس کے اندر سے ہی وہاں پہلے سے چھاپے کی اطلاع پہنچ گئی تھی اور اسی لیے یہ بہت بڑا مسئلہ ہے’۔انہوں نے کہا کہ بچوں سے جنسی استحصال ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے اور مجھے ایک موقع پر یہ جان پر بہت شرمندگی ہوئی کہ چائلڈ پورنو گرافی کا شکار ملکوں میں ہم بھی سرفہرست ملکوں میں شامل ہیں لیکن ہمیں ان دونوں چیزوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب تک ہمارا معاشرہ اکٹھا ہو کر اس کا مقابلہ نہیں کرے گا، اس وقت ہم یہ جنگ نہیں جیت سکتے کیونکہ یہ دونوں خرابیاں بہت تیزی سے ہمارے معاشرے میں سرائیت کر رہی ہیں۔

قاسم سلیمانی کی بیٹی کی والد کی موت پر امریکی صدر پر کاری ضرب

ایران (ویب ڈیسک) قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی کا کہنا ہے کہ والد کی موت پر امریکا اور اسرائیل کو سیاہ دن دیکھنا پڑے گا۔تفصیلات کے مطابق امریکی حملے میں قتل ہونے والے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی بیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ والد کی موت پر امریکا اور اسرائیل کو سیاہ دن دیکھنا پڑے گا۔جنرل قاسم سلیمانی کی نمازِ جنازہ کے موقع پر ان کی صاحبزادی زینب سلیمانی نے اپنے والد کی موت پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو واضح پیغام د یا۔زینب سلیمانی نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیونے ٹرمپ یہ مت سمجھنا کہ میرے والد کی موت کے ساتھ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔زینب سلیمانی نے لبنانی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو سلام پیش کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ سلیمانی کی موت کا انتقام لیا جائے۔زینب کا کہنا ہے معلوم ہوا کہ نصر اللہ کی جانب سے سلیمانی کی موت کا انتقام لیا جائے گا۔خیال رہے کہ ہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایئرپورٹ کے نزدیک امریکی فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔ پینٹاگون سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قاسم سلیمانی عراق اور مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ سازی میں متحرک تھے۔دوسری جانب لاکھوں ایرانیوں نے قاسم سلیمانی کی موت پرغم کا اظہار کرنے کے لیے ریلی نکالی۔خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد قاسم سلیمانی کو ملک کی دوسری طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔تہران میں ایرانی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور ساتھیوں کی نمازہ جنازہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امامت میں ادا کر دی گئی ہے

شدید سردی کے باعث اسکولوں کی چھٹیوں میں مزید اضافہ

 لاہور: پنجاب اور آزادکشمیر میں اسکول کھلنے کے ایک دن بعد شدید سردی کے باعث مزید ایک ہفتے کی چھٹیوں کا اعلان کردیا گیا۔پنجاب بھر میں تعطیلات ختم ہونے کے بعد آج اسکولز کھلے لیکن سردی کی وجہ سے بچوں کی حاضری متاثر رہی۔ موسم کی صورت حال کے پیش نظر محکمہ تعلیم پنجاب نے اسکولوں کی چھٹیاں 12 جنوری 2020 تک بڑھانے کا اعلان کردیا۔صوبائی وزیر مراد راس نے کہا کہ پنجاب بھر میں کل سے تمام نجی و سرکاری اسکولز بند رہیں گے اور 13 جنوری پیر سے کھلیں گے۔چھٹیوں میں اضافے کا نوٹیفیکشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ادھر آزادکشمیر میں بھی موسم سرما کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد اسکولز آج کھلناتھے لیکن اب 13 جنوری سے تدریسی عمل کا آغاز ہوگا۔ وزیراعظم آزادکشمیر کی ہدایات پر تمام سرکاری و غیر سرکاری اسکولزمیں تعطیلات بڑھا دی گئیں۔دوسری جانب کراچی سمیت سندھ بھر میں تعطیلات ختم ہونے کے بعد اسکول کھل گئے اور تدریسی عمل کا بھی آغاز ہوگیا جبکہ سردی بھی کم ہوگئی ہے

ایران: ڈونلڈ ٹرمپ کے سر کی قیمت 8 کروڑ ڈالر مقرر

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے احکامات دینے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سر کی قیمت 8 کروڑ ڈالر مقرر کردی گئی۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ میں العربیہ نیوز کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایران کے اعلیٰ جنرل کی آخری رسومات کی نشریات دکھاتے ہوئے ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پر اعلان کیا گیا کہ ‘ایران میں 8 کروڑ لوگ آباد ہیں، اور ہم 8 کروڑ ڈالر اکھٹا کرنا چاہتے ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر کی قیمت ہوگی’۔نہوں نے کہا کہ ‘ایرانی عوام کو ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے والے کو ادا کرنے کے لیے ایک ایک ڈالر جمع کرنا چاہیے’ایرانی جنرل کی ہلاکتخیال رہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایئرپورٹ کے نزدیک امریکی فضائی حملے میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔بعدازاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ان کے نائب اسمٰعیل قاآنی کو پاسداران انقلاب کی قدس فورس کا سربراہ مقرر کردیا تھا۔امریکا-ایران کشیدگی میں اضافہقاسم سلیمانی کے ہلاکت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے قاسم سلیمانی کو مزاحمت کا عالمی چہرہ قرار دیا تھا اور ملک میں 3روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔اسی روز امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو بہت پہلے ہی قتل کر دینا چاہیے تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ قاسم سلیمانی سے ‘بہت سال پہلے ہی نمٹ لینا چاہیے تھا کیونکہ وہ بہت سے لوگوں کو مارنے کی سازش کر رہے تھے لیکن وہ پکڑے گئے’۔علاوہ ازیں امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ بغداد میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کا مقصد ایک ‘انتہائی حملے’ کو روکنا تھا جس سے مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کو خطرہ لاحق تھا۔دوسری جانب ایران نے گزشتہ روز عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے مکمل طور پر دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔اس سے قبل ایران میں امریکی حملے میں قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد جمکران مسجد کے گنبد پر سرخ پرچم لہرایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ قدیم ایرانی تہذیب میں سرخ پرچم لہرانے کا مقصد ‘جنگ یا جنگ کی تیاری’ سمجھا جاتا ہے

‘آئٹم گرل’ کہنے پر عامر لیاقت کو مہوش حیات کا کرارا جواب

تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی معروف پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے چند روز قبل ٹوئٹر پر ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہونے کی مذمت کی تھی، جس کے بعد ٹی وی میزبان عامر لیاقت نے انہیں تنقید کا نشانہ بنانے ہوئے ‘آئٹم گرل’ کہا تھا۔مہوش حیات نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ‘یقین نہیں آرہا ہے 2020 کو شروع ہوئے صرف 72 گھنٹے گزرے ہیں اور دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، میرا خیال ہے ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آزاد ملک کے رہنما بین الاقوامی قوانین کی پرواہ کیے بغیر یکطرفہ فیصلے کریں، یہ بات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں، خدا ہم سب کی حفاظت کرے’۔جس کے بعد عامر لیاقت نے اپنی ایک ٹوئٹ میں مہوش حیات پر تنقید کی اور لکھا کہ ‘تمغہ امتیاز کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آئٹم گرل امتیازی بیانات دیں، اُنہیں پاکستان کی پالیسی کے ساتھ چلنا چاہیے اور ویسے بھی قاسم سلیمانی اگر حیات ہوتے تو کیا ایران میں انہیں پرفارم کرنے کے لیے بلاتے؟’اس ٹوئٹ پر عامر لیاقت کو متعدد صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ خود مہوش حیات نے بھی انہیں کرارا جواب دے دیا۔اداکارہ نے عامر لیاقت کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ‘یہ آئٹم گرل اپنی رائے دینے کا جمہوری حق استعمال کررہی ہے جبکہ آپ صرف طعنہ بازی کرسکتے ہیں اور کچھ نہیں، مرد بنیں’