وزیراعظم عمران خان کے بھانجے کے گھر ڈکیتی

لاہور: ڈاکوؤں نے وزیراعظم عمران خان کے بھانجے کے گھر کا صفایا کردیا۔لاہور پولیس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے بھانجے شیر شاہ کے گھر ڈکیتی کی واردات ہوئی جس میں تین مسلح ڈاکو رات 4 بجے کے قریب گھر میں داخل ہوئے۔پولیس نے بتایاکہ ڈاکو 8 طلائی چوڑیاں اور ایک پرانی پستول لے گئے جب کہ عمران خان کے بھانجے نے بھی زیورات اور پستول چوری ہونے کی تصدیق کی ہے۔پولیس کا کہناہےکہ گھر کا درواز کھلا رہنے کی وجہ سے ڈاکو گھر میں داخل ہوئے، اہل خانہ کو واردات میں مالی کے بیٹے کے ملوث ہونے کا شبہ ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائے گا

فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کرنیوالے کرکٹر ز پر جرمانے کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ نے فٹنس ٹیسٹ میں فیل ہونے والے کرکٹرز پر جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قومی کرکٹرز کے فٹنس ٹیسٹ 6 اور 7 جنوری کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہوں گے، فٹنس ٹیسٹ سینٹرل کنٹر یکٹ یافتہ کرکٹرز کے ہوں گے اور پہلے مرحلے میں فٹنس ٹیسٹ دستیاب کرکٹرز دیں گے جب کہ دیگر کرکٹرز کا فٹنس ٹیسٹ بعد میں ہو گا۔بی پی ایل کھیلنے والے وہاب ریاض، شاداب خان اور محمد عامر کے فٹنس ٹیسٹ 20 اور 21 جنوری کو ہوں گے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو فٹ رکھنے کے لیے سخت اقدام اٹھاتے ہوئے فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کرنے والے کھلاڑیوں پر جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔فٹنس ٹیسٹ میں فیل ہونے والے کرکٹرز پر اس وقت تک جرمانہ عائد رہے گا جب تک وہ فٹنس ٹیسٹ پاس نہیں کر لیتا۔‏کرکٹرز کا فٹنس ٹیسٹ پانچ حصوں پر مشتمل ہوگا جن میں فیٹ اینالسز، اسٹرینتھ، اینڈیورنس، اسپیڈ اینڈیورنس اور کراس فٹ شامل ہیں۔فٹنس ٹیس کا پاس کرنا سینٹرل کنٹریکٹ کی شق میں شامل ہے لیکن پی سی بی نے اس طرح اس کا اعلان پہلے کم ہی کیا ہے۔اب اس حوالے کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر بتا دیا گیا ہے کہ فیل ہونے کی صورت میں 15 فیصد جرمانہ عئد کیا جائے گا، چھ برس قبل کچھ کھلاڑیوں کو جرمانے کا سامنا رہا ہے۔پی سی بی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ فٹنس ٹیسٹ میں مسلسل ناکامی کی صورت میں اس کرکٹر کا سینٹرل کنٹریکٹ برقرار رکھنا بھی خطرے میں پڑ جائے گا کیونکہ مقرر کردہ معیار حاصل کرنے میں مسلسل ناکامی پر مذکورہ کھلاڑی کو سینٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری میں تنزلی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔‏ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی ذاکر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ قومی کھلاڑیوں کی فٹنس کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔پی سی بی نے اس مرتبہ فٹنس کا مطلوبہ معیار حاصل نہ کرنے والے کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد قومی کھلاڑیوں میں فٹنس کے بہترین معیار میں تسلسل برقرار رکھنا ہے۔‏ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل تمام کھلاڑیوں کو گزشتہ ماہ فٹنس کے مطلوبہ معیار کے بارے میں بتا دیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ تمام کھلاڑیوں کو مطلوبہ معیار کے حصول میں ناکامی کی صورت میں جرمانوں کے بارے میں بھی آگاہ کرچکا ہے

آرمی ایکٹ میں ترمیم آئین کے ساتھ کھلواڑ ،مخالفت کرینگے ،جے یو آئی ،جماعت اسلامی ،نیشنل پارٹی ،پختونخوا ملی پارٹی

اسلام آباد(آئی این پی) جماعت اسلامی ،جمعیت علماءاسلام (ف)،نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے آرمی ایکٹ پر قانون سازی سے لاتعلق رہنے کا علان کردیا۔جمعہ کو پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان خان کاکڑ اور نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹرمیر حاصل بزنجو نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ ہم نے پوری تاریخ نکالی،دنیا میں جنگیں ہوئی پر کبھی کسی آرمی چیف کو توسیع نہیں ملی۔پارلیمنٹ، نیشنل اسمبلی اور سینیٹ کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ جو آج کر رہے ہیں یہ تاریخ کے مجرم ہیں،ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے پختونوں ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی اس قانونی جرم کا حصہ نہیں بنے گی۔اس موقع پر سینیٹرعثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ہم ایک بار پھر جو ہم مسلسل کہے رہے تھے یہ ایک کنٹرول جمہوریت ہے،میڈیا پہ پابندی ہے،الیکشن کمیشن کے خلاف اقدامات ہو رہے ہیںآٹھ گھنٹے کے نوٹس پہ اجلاس بلا رہے ہیں جن کو ایکسٹینشن دے رہیں ہیں اس کے لئے راتوں رات اجلاس بلایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہآئین کی پامال کی جا رہاہے ہم اسکے خلاف ہیں ووٹر کے ساتھ ظلم ہورہا ہے جمہوریت کا مذاق اڑا رہے ہیں دونوں ایوانوں میں اس بل کی مخالفت کریں گے۔سنیٹر عثمان نے کہا کہ95% پارلیمان اسکے خلاف ہے،ہم اس این آر او کی مذمت کرتے ہیں۔دوسری جانب جے یو آئی(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی مخالفت اور بھرپور مزاحمت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بل لایا جا رہا ہے، یہ مسئلہ اہم نوعیت کا ہے جس میں عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے بنائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق نہیں دے سکتے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ (ن)لیگ کا فرض تھا تمام جماعتوں کو اکٹھا کرتی، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں کیا جا سکا، بہت عجلت کے ساتھ سب کچھ کیا جارہا ہے، جے یو آئی(ف)اس قانون سازی سے لاتعلق رہے گی، ووٹنگ میں حصہ لینا جعلی اسمبلی کی کارروائی کا حصہ بننا ہوگا، ایسی قانون سازی کیلئے جمہوری ماحول چاہیے، فوج ہمارا دفاعی ادارہ ہے، فوج کا ادارہ اور اس کا سربراہ غیرمتنازع ہیں، انہیں متنازع نہیں بنانا چاہتے۔بعد ازاں جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بل سے لاتعلق رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے اس بل کی حمایت نہیں کریں گے، قانون سازی میں جلد بازی کرنا ملک وقوم کے مفاد میں نہیں، جماعت اسلامی جمہوری جماعت ہے تمام امور میں اپنی جماعت میں مشاورت کرتے ہیں۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ ہرقانون میں ذات اور پارٹی مفادت کے بجائے عوام اور ملک کے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے، کسی بھی مشکل آزمائش کے لمحے پوری قوم فوج کے شانہ بشانہ ہو گی، ہمیں پہلے سے بھی زیادہ طاقتور اور باصلاحیت فوج کی ضرورت ہے، پڑوس میں ہم سے 8 گنا بڑی طاقت ہے، حکومت ہند روز دھمکیاں دے رہی ہے۔

سوات ،گردو نواح میں زلزلے میدان ،پہاڑ لرز اٹھے ،فوج کا امدادی مشن شروع

راولپنڈی (آئی این پی) پاک فوج کی استور میں زلزلہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری، سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریلیف ریسکیو آپریشن کیا جا رہا ے ، پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز، انجینئرز اور ڈاکٹر امدادی کاموں میں مصروف ہیں ، زلزلہ متاثرین کو امدادی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں ،استور کو جانے والی شاہراہ ٹریفک کے لئے کھول دی گئی ہے ،ایس سی او کی جانب سے موصلاتی رابطے بھی بحال کر دیئے گئے ہیں۔جمعہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کی استور میں زلزلہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ،سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریلیف ریسکیو آپریشن کیا جا رہا ہے ۔ پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز، انجینئرز اور ڈاکٹر امدادی کاموں میں مصروف ہیں ۔ زلزلہ متاثرین کو امدادی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق استور کو جانے والی شاہراہ ٹریفک کے لئے کھول دی گئی ہے ۔ ایس سی او کی جانب سے موصلاتی رابطے بھی بحال کر دیئے گئے ہیں۔ سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، لوگ کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے گھروں سے نکل آئے، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی۔ جمعہ کوخیبرپختونخوا کے سوات سمیت مختلف علاقے زلزلے سے لرز اٹھے، 4.2 کی شدت سے آنے والے زلزلے کا مرکز پاک، افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا جبکہ اس کی گہرائی 20کلومیٹر تھی۔ زلزلے سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پنجاب ترقی کے لیے اُڑان بھر چکا ،2020غربت کے خاتمہ کا سال ہے،عثمان بزدار

لاہور(خصوصی رپورٹر) وزےراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پنجاب معاشی ترقی کی دوڑ مےںلےڈلے گا۔2020ءغربت کے خاتمے کا سال ہے۔ فےصل آباد مےں سی پےک کے تحت پاکستان کے پہلے اورسب سے بڑے علامہ اقبال انڈسٹرےل سٹی کے سنگ بنےاد کی تقرےب سے خطاب کرتے ہوئے وزےراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ معاشی ترقی کے ثمرات پنجاب کے ہر شہری تک پہنچےںگے۔علامہ اقبال انڈسٹرےل سٹی کا پراجےکٹ صوبے مےں معاشی خوشحالی لائے گا۔ ےہ خوشحال پاکستان کی جانب پہلا قدم ثابت ہوگا۔وزےراعلیٰ نے بتاےا کہ پنجاب ترقی کے لانچنگ پےڈ سے ٹےک آف کرچکا ہے ۔ 3217اےکڑ پر مشتمل علامہ اقبال انڈسٹرےل سٹی کے لئے ابتدائی طورپر 5ارب روپے مختص کےے گئے ہےں۔جس کےلئے 12چےنی کمپنیاں تقرےباً 1ارب ڈالر سرماےہ کاری پر رضا مندی ظاہر کرچکی ہےں۔انڈسٹرےل سٹی کےلئے چار دےواری ہوٹل،رےسکےو 1122اوردےگرسہولتوں کی فراہمی کا کام جلد ازجلد مکمل کےا جائے گا۔ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی کےلئے ٹےوٹا کے انسٹی ٹےوٹ بھی بنائے جائےںگے۔ وےلےو اےڈےشن سٹی ساہےوالہ انٹرچےنج پر فےصل آباد انڈسٹرےل سٹی قائم ہوچکا ہے جہاں25چائےنز کمپنےاں صنعتےں لگارہی ہے اور ڈےڑھ ارب ڈالرکی سرماےہ کاری آچکی ہے ۔صوبہ مےں 10 سپےشل اکنامک زون بنائے جارہے ہےں۔ ان مےں سے 6کی وفاقی حکومت منظوری دے چکی ہے جبکہ چار کی اجازت جلد دے دی جائے گی۔3ٹےکنےکل ےونےورسٹےاں بھی قائم ہوںگی،وہاڑی، مظفر گڑھ ،لےہ،رحےم ےار خان،ملتان اوردےگر شہروں مےں انڈسٹرےل سٹےٹ قائم کی جارہی ہےں۔مارچ مےں قائد اعظم اپےرل پارک کا افتتاح وزےراعظم پاکستان کرےںگے۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ ڈےڑھ ارب کی لاگت سے ہنر مند پروگرام شروع ہوچکا ہے۔ ہر سال ڈےڑھ لاکھ نوجوانوں کو فنی تربےت دی جائے گی جسے بتدرےج بڑھا کر10لاکھ سالانہ تک لے جاےا جائے گا۔سمال انڈسٹرےز کے تحت کاروبار کےلئے 6ارب کے قرضے دےئے جارہے ہےں ۔کاروبار مےں آسانےاں پےدا کرنے کے پراجےکٹ کی کامےابی کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کی رےنکنگ مےں بہتری آرہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ تعاون، رہنمائی اورمدد پر وزےراعظم اوران کی ٹےم کا شکرےہ ادا کرتا ہوں ۔سردار عثمان بزدار نے کہا کہ حکومت کے اقدامات سے معےشت کا پہےہ گھومے گا تو غرےب کا چولہا جلے گا۔اکانومی بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ بہتری کے اثرات جلد عوام تک پہنچنا شروع ہوجائے گا۔وزےراعلیٰ عثمان بزدار نے وزےراعظم کے ہمراہ علامہ اقبال انڈسٹرےل سٹی کے پراجےکٹ کاسنگ بنےاد رکھا۔اس موقع پر فےڈمک کے سربراہ کی طرف سے برےفنگ دی گئی۔ قبل ازےں وزےراعلیٰ عثمان بزدار نے وزےراعظم کے ہمراہ فےصل آباد مےں پناہ گاہ کا افتتاح کےا۔انہوںنے پناہ گاہ کے مختلف حصوں کا دور ہ کےا اور مقےم افراد کےساتھ ملکر دوپہر کا کھانا بھی کھاےا۔

بھارت ،مظاہرے ،ہنگامے جاری،ممتا بینر جی نے مودی کو پاکستان کا سفیر قرار دیدیا

نئی دہلی (نیٹ نیوز) بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اہم رہنما اور مرکزی وزیر برائے داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ شہریت سےمتعلق ترمیمی قانون کسی اقلیت کے خلاف نہیں ہے۔ یہ قانون کسی صورت واپس نہیں لیا جائے گا۔خیال رہے کہ بھارت میں 11 دسمبر کو دونوں ایوانوں سے منظور ہونے والے متنازع شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔متعدد شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اب تک دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 1500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔نئے قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے نقل مکانی کر کے بھارت آنے والے ہندو، سکھ، بدھ مت، جین ازم، پارسی اور مسیحی مذاہب کے ان افراد کو شہریت دی جائے گی جو 2014 سے قبل بھارت آئے ہوں یا وہ چھ برس تک بھارت میں مقیم رہے ہوں۔ اس قانون میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اسے مسلمانوں کے خلاف سمجھا جا رہا ہے۔بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے یہ بل 2016 میں بھی لوک سبھا ایوانِ زیریں میں پیش کیا تھا۔ تاہم، اس وقت بل راجیہ سبھا ایوانِ بالا میں منظور نہیں ہو سکا تھا۔بھارت میں20کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں جب کہ شمالی مشُؑرقی علاقوں میں بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں مسلمان ریاست آسام میں آ کر آباد ہوئے ہیں۔رواں سال اگست میں بھی یہ تنازع سامنے آیا تھا کہ جب این آر سی کا اجرا ہوا تو اس میں 20 لاکھ افراد کے نام شامل نہیں تھے، یعنی یہ افراد بھارت کے شہری تسلیم نہیں کیے گئے تھے۔ ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور ان میں لاکھوں ہندو بھی شامل تھے۔بھارت کی حکومت کا موقف رہا ہے کہ وہ مسلمان جو اپنے خاندان کے ساتھ بنگلہ دیش سے آئے تھے، انہیں بھارت میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے۔واضح رہے کہ لوک سبھا (ایوان زیریں) میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے متنازع شہریت ترمیمی بل پیش کیا تھا جس پر تقریبا 12 گھنٹے تک بحث ہوئی۔بھارت کی لوک سبھا میں بل کے حق میں 311 اور مخالفت میں 80 ارکان نے ووٹ دیا جب کہ ایوان بالا میں یہ بل 105 ووٹوں کے مقابلے میں 125 ووٹوں سے منظور ہوا تھا۔بھارت کے اخبار ‘ہندوستان ٹائمز’ جمعے کو ریاست راجستھان کے شہر جودھ پور میں بی جے پی نے ایک ریلی کا انعقاد کیا جس کی قیادت بی جے پی کے رہنما امیت شاہ نے کی۔بھارتی اخبار ‘ٹائمز آف انڈیا’ کی رپورٹ کے مطابق ریلی سے قبل امیت شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت اس قانون سے متعلق آگاہی کے حوالے سے ایک مہم کا آغاز کر رہی ہے۔انہوں نے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس پر عوام میں غلط معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا۔حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پر الزام عائد کرتے ہوئے امیت شاہ کا کہنا تھا کہ کانگریس اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے لیے عوام میں غلط معلومات پھیلانے میں مصروف ہے۔’ہندوستان ٹائمز’ کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی نے شہریت ترمیمی قانون سے متعلق 30 ریلیاں نکالنے کی منصوبہ بندی کی ہے جس میں پہلی ریلی جودھ پور میں نکالی گئی۔نشریاتی ادارے ‘ڈی این اے’ کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی نئے سال کے پہلے مہینے کی پانچ سے 15 تاریخ تک تیزی سے مہم چلانے کی خواہاں ہے۔جودھ پور میں جلسے سے خطاب میں کانگریس پر الزام لگاتے ہوئے امیت شاہ کا کہنا تھا کہ شہریت سے متعلق قانون میں احتجاج میں نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا۔کانگریس کے رہنما کو مخاطب کرتے انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کو کہتا ہوں کہ وہ پہلے قانون پڑھ لیں، اگر وہ نہیں پڑھ سکتے تو اطالوی زبان میں اس کا ترجمہ کرکے ارسال کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد جہاں چاہیں وہ اس پر مجھ سے بحث کر لیں۔امیت شاہ نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ کسی کی شہریت ختم کی جا سکتی ہے۔ اس میں صرف شہریت دینے کا ذکر ہے۔ دلت ہندوں کی چار ذاتوں میں سب سے کم تر ذات کو کہا جاتا ہے۔ ان کو اچھوت بھی سمجھا جاتا ہے۔امیت شاہ نے کہا کہ کانگریس کو شرم کرنی چاہیے کہ ان کے رہنماں نے عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ بی جے پی پورے کر رہی ہے۔امیت شاہ نے کہا کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں نعرے لگائے جاتے ہیں کہ بھارت کے ایک ہزار ٹکڑے ہوں۔ جس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ انشااللہ انشااللہ۔ اب عوام بتائے جو لوگ بھارت کے ٹکڑے کرنے کے نعرے لگائیں تو کیا ان کو جیل میں نہیں ڈالنا چاہیے۔بی جے پی رہنما کے سوال پر جلسے کے شرکا نے جوابی نعرے لگانا شروع کیے کہ ان کو جیل میں ڈالا جائے۔ بالی وڈ فلموں ”بجرنگی بھائی جان“اور ”ایک تھا ٹائیگر“ کے ڈائریکٹر کبیر خان کا کہنا ہے کہ ان کی مسلم شناخت کو چھلنی کیا جارہا ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنے ایک مضمون میں کہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مضمون انہوں نے بھارت میں جاری سماجی و سیاسی بحران کے حوالے سے اپنے خیالات بیان کرنے کی غرض سے لکھا ہے۔انہوں نے متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے کہا کہ انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنائے جانے پر مایوسی ہوئی۔انہوں نے اپنے مضمون میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور پولیس کارروائی پر افسوس کا اظہار کیا۔کبیر کا کہنا ہے کہ جامعہ ملیہ کا واقعہ بہت سی ان غلطیوں کا شاخسانہ ہے۔ جس کے ہم سب گواہ ہیں۔کبیر نے لکھا ہے کہ ہمیں طلبہ کو کسی گینگ کا حصہ بنے سے روکنے یا انہیں جیلوں میں ڈالنے کے بجائے ایسا ماحول پیدا کرنا ہو گا کہ دوبارہ ایسے واقعات ہی نہ ہوں۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے نریندر مودی کو پاکستان کا سفیر قرار دے دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف نکالی جانے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بینر جی نے کہا کہ وزیراعظم مودی بھارت کے بارے میں بات کرنے کے بجائے پورا دن پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کیوں ہمیشہ اپنی قوم کا پاکستان کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں؟ آپ (مودی) کو بھارت کے لیے بولنا چاہیے، ہم پاکستان نہیں بننا چاہتے، ہم ہندوستان سے پیار کرتے ہیں لیکن وزیراعظم مودی پورا دن پاکستان کی بات کرتے ہیں جیسے وہ پاکستان کے سفیر ہیں۔

آرمی چیف کی توسیع کے معاملہ پر عدلیہ نے انتظامی اختیار میں مداخلت کی ،عمران خان

اسلام آباد‘ فیصل آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع خوب سوچ سمجھ کر کی ہے۔ہم نہیں چاہتے تھے کہ معاملہ عدالت میں جائے لیکنہم پھر بھی قانون سازی کر رہے ہیں۔ ہم عدلیہ کاا حترام کرتے ہیں۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع وزیر اعظم کی صوابدید ہوتی ہے تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق فیصلہ سنایا گیا ، حکومت نے عدالت کا فیصلہ من و عن تسلیم کیا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں قانون سازی پر کام مکمل کیا گیا اور اب حکومت اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد بل کو ایوان میں لائے گی، بیوروکریٹس اور کاروباری طبقہ کو نیب سے متعلق تحفظات تھے جس کی وجہ سے ملکی مفاد میں نیب ترمیمی آرڈیننس 2019لانا پڑا۔ جمعہ کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف اوردیگر اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان کی جانب سے اجلاس کے شرکاءکو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالہ سے بریفنگ دی ۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام ارکان پارلیمنٹ اور اتحادیوں نے آرمی ترمیمی ایکٹ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم عدلیہ کے ساتھ ٹکراﺅ نہیں چاہتے ، ہم نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا ہے اور آگے بھی ہم عدلیہ کے تمام فیصلوں کو من و عن تسلیم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریٹس اور کاروباری طبقہ کو نیب سے متعلق تحفظات تھے جس کی وجہ سے ملکی ترقی رک چکی تھی جس کی وجہ سے ملکی مفاد میں نیب ترمیمی آرڈیننس 2019لانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ حکومتی کمیٹی نیب آرڈیننس پر مشاورت کر رہی ہے۔ اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ نے بل کے علاوہ اپنی شکایات بھی کیں اور خاص طور پر اپنے حلقوں میں درجہ ایک سے پانچ تک نوکریاں نہ ملنے کی شکایات کیں۔ اس پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے اس کا پہلے ہی ایک طریقہ طے کر لیا ہے کہ قرعہ اندازی ہو ۔اس پر ارکان کا کہنا تھا کہ قرعہ اندازی نہیں ہونی چاہیئے بلکہ یہ رکن پارلیمنٹ کی صوابدید ہونی چاہیئے ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں کو پھنسانا نہیں چاہتا۔ ارکان پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ جہاں بیوروکریٹس کو نیب قانون میں ریلیف دیا جارہا ہے وہاں ہمیں بھی ریلیف ملنا چاہیئے ۔اس پر وزیر اعظم کا کہنا تھا میرے اور میری اہلیہ کے اکاﺅنٹس تک چیک ہوئے ، میں نے پوری منی ٹریل دی ، میں نے عدالت کی ہر چیز کا سامنا کیا اس لئے آپ لوگ بھی اپنے آپ کو احتساب کا پابند بنائیں۔ارکان قومی اسمبلی نے شکوہ کیا کہ نہ ہمارے پاس ترقیاتی فنڈز ہیں اور نہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں کو منظور کیا جارہا ہے ، ہم جب اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تو ہمارے لئے عوام کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے۔اجلاس کے دوران وزیر دفاع پرویز خان خٹک نے سینیٹ اجلاس میں وزراءکی عدم حاضری کی شکایت کی ۔ اس پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ کوئی وزیر سینیٹ میں اپنی حاضری یقینی نہیں بنائے گا تو اس کی فہرست بنائی جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر عدلیہ نے انتظامیہ کے اختیار میں مداخلت کی۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان اپنی زیرصدارت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا، اجلاس میں پارلیمانی پارٹی کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے متعلق اعتماد میں لیا گیا جبکہ پارلیمانی پارٹی کو نیب ترمیمی آرڈیننس سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی نے سوالات بھی کیے، رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے سوال کیا کہ قانونی سازی کرنا تھی تو حکومت نے نظر ثانی اپیل کیوں کی جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے خیال میں عدلیہ نے انتظامیہ کے اختیار میں مداخلت کی، اہم عہدوں پر تقرری حکومت کا اختیار ہے لہذا نظرثانی اپیل میں اختیارات کے تعین سے متعلق نکات اٹھائے ہیں۔ اجلاس کے شرکا کو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نظرثانی اپیل میں اختیارات کے تعین سے متعلق نکات اٹھائے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل نے شرکا ءکو نیب آرڈیننس کے خدوخال پر بھی بریفنگ دی۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ بیوروکریٹ اور کاروباری طبقے کو نیب سے متعلق تحفظات تھے جس کی وجہ سے ملکی ترقی رک گئی تھی، ملکی مفاد میں نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 لانا پڑا، اپوزیشن کے ساتھ حکومتی کمیٹی نیب آرڈیننس پر مشاورت کر رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کا فیصلہ من و عن تسلیم کیا، حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قانون سازی مکمل کی تاہم اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کے بعد ترمیمی بل پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کا پہیہ چلانے کےلئے نیب آرڈیننس میں ترمیم کی، پاکستان مشکل حالات سے گزر رہا ہے جلد اچھا وقت آئے گا حکومت کمزور طبقے کو آگے لا نا چا ہتی ہے کمزوروں کو تحفظ دینا چا ہتا ہو ں حکومت ترقیاتی منصوبوں میںپرا ئیویٹ سیکٹر کو شراقت دار بنانا چا ہتی ہے غربت میں کمی اس وقت ہو گی جب ملک میں سرما یہ کاری ہو گئی طویل جدو جہد کا مقصدغریب کی خدمت اور تحفظ فرا ہم کر نا ہے کاروباری طبقہ معا شی ترقی میں اہم ستون کا درجہ رکھتی ہے ملک کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے حقیقی ترقی پرا ئیویٹ سیکٹر میں سرما یہ کاری سے ممکن ہے چا ئنا پاکستان میں بہت بڑی سرما یہ کاری کر نا چاہتا ہے ہم اس سنہری موقہ موقہ سے فا ئدہ اٹھا نا چا ہتے ہیں پاکستان چا ئنا سے ٹیکنا لوجی حاصل کر یگا ملک میں سرما یہ کاری ہو گی تو غربت کا خا تمہ ہوگا بے روزگار ختم ہو گی۔ وزیر اعظم عمران خان نے ٹیکسٹا ئل سٹی میں بنائے گئے سیلٹر ہوم کا افتتاح کر دیا جنرل بس سٹینڈ میں ساڑھے 3کروڑ روپے کی لاگت سے 4کینال 3مرلے پر مشتمل سا ڑھے 3سو بیڈ لگا ئے گئے ہیں 700نفوس کی رہائش کے لیے بنائے گئے شیلٹر ہوم میں مرد خواتین خواجہ سراﺅں کے لیے الگ الگ بیرک بنا ئی گئی ہیں سڑکوں پر سونے والے سیلٹر ہوم میں رہنے والوں کو صبح ناشتہ اور رات کا کھا نا دیا جا ئے گا بے سہارا لوگوں کو سنبھالنا ریاست کی ذمہ کی ذمہ داری ہے حکومت اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا ئے گی انہوں نے مخیر حضرات سے کہا کہ وہ بھی نیکی اور فلاح کے کاموں میں آگے آئیں ا تفصیل کے مطا بق وزیراعظم پاکستان عمران خان نے فیصل آباد میں مدینہ فا ﺅنڈیشن کے تعاون سے بنا ئے گئے شیلٹر ہوم کا افتتاح کر دیا اس موقہ پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار پنجاب کا بینہ فیصل آباد ریجن پی ٹی آئی کے منتخب ایم اینایز اور ایم پی ایز کی کثیر تعداد موجود تھی ساڑھے 3کروڑ روپے کی لاگت سے بنا ئے گئے اس شیلٹر ہوم میں 350بیڈ لگا ئے گئے ہیں 7 سونفوس کے رہنے کی گنجائش ہے مرد ،خواتین اور خواجہ سراﺅں کے لیے الگ الگ جگہ مخصوص کی گئی ہے نماز کی ادائیگی کے لیے بھی الگ الگ جگہ مخصوس کی گئی ہے شیلٹر ہوم مین ڈسپنسری بنائی گئی یہان ہر قسم کی ادویات اور کوالیفا ئیڈ ڈاکٹر ہما وقت موجود ہو نگے شیلٹر ہوم رہائش پذیر افراد کے لیے 2ڈائننگ ہال تعمیر کیے گئے ہیںشیلٹر ہوم کی سکیورٹی اور دیکھ بھال کے لیے رکھے گئے سٹاف کے لیے وسیع دفتر بھی تعمیر کیا گیا شیلٹر ہوم میں رہائش پذیر مرد ،خواتین اور خواجہ سروﺅں کو صبح ناشتہ اور سارا دن محنت مزدوری کے واپس شیلٹر ہوم آنے والوں کو کھا نا دیا جا ئے گا افتتاح کے موقہ پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے میڈ یا سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ بے سہارا لوگوں کو سنبھالنا ریاست کی ذمہ کی ذمہ داری ہے حکومت اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا ئے گی انہوں نے مخیر حضرات سے کہا کہ وہ بھی نیکی اور فلاح کے کاموں میں آگے آئیں اور حکومت کا ساتھ دیں وزیر اعظم عمران خان نے سیلٹر ہوم مین رہنے والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھا نا کھا یا ان کے ہمراہ چیئرمین مدینہ فاﺅنڈیشن میاں محمد حنیف وزیر اعلی پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی موجود تھے انہوں نے شیلٹر ہوم کے مختلف حصوں کا بھی دورہ کیا سیلٹر ہوم بناتے وقت انٹر نیشنل معیار کو نظر رکھا گیا ہے ۔

امریکی وزیر خارجہ کا فون ،مشرق وسطی بارے مشاورت امن ضروری ،فریقین مذاکرات کا راستہ اختیار ،کشیدگی ختم کریں،آرمی چیف

راولپنڈی، اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹیلی فونک رابطہ یا جس میں علاقائی صورت حال بالخصوص مشرق وسطی میں کشیدگی پر بات چیت کی گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے رابطہ کیا، آرمی چیف نے کہا کہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے بامقصد رابطے کیے جانے چاہئیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہر ممکن طور پر تحمل کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے، خطے میں امن و استحکام کے لیے سب تعمیری کردار ادا کریں۔پاک فوج کے سپہ سالار کا کہنا تھا کہ افغان مفاہمتی عمل کی کامیابی پر بھی توجہ دی جانی چاہئے۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں صورت حال کو کشیدہ کررہا ہے، خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کررہے ہیں، امریکی مفادات، اہلکاروں، تنصیبات اور شراکت داروں کا تحفظ کریں گے۔واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد دنیا بھر میں رابطے شروع کردئیے ہیں، مائیک پومپیو نے افغان صدر اشرف غنی سے امریکی صدر کے اقدام سے متعلق گفتگو کی۔مائیک پومپیو نے فرنچ اور برطانوی ہم منصب کو بھی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے لوگوں اور مفاد کا تحفظ کرے گا، ایران کے اقدامات خطے میں عدم استحکام کا باعث ہیں۔اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر فریقین مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں جب کہ آرمی چیف نے افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے کوششوں کی ضرورت پر زوردیا۔ پاکستان نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال خطے کے امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے، خودمختاری کا احترام اور علاقائی سالمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصول ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر شدیدتشویش پائی جاتی ہے، خودمختاری کااحترام اور سالمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصول ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ان اصولوں کی پاسداری کرنی چاہئے اور یکطرفہ اقدامات اورطاقت کے استعمال سے گریز کیاجائے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں تناﺅ کو کم کرنے کے لئے مثبت رابطوں کی ضرورت ہے اور تمام مسائل کو یو این چارٹر اور عالمی قوانین کے مطابق سفارتی ذرائع سے حل کیاجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریقین کو موجودہ صورتحال پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ خطہ مزید کسی خطرناک صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ پہلے ہی اس خطے کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

امریکی حملہ نا قابل قبول ایران کا ساتھ دینگے ،روس ،فرانس

برسلز‘ بغداد‘ تہران‘ ماسکو‘ پیرس‘ بیجنگ (نیٹ نیوز) ایران کی سپاہ قدس کے کمانڈر اور خطے میں استقامتی محاذ کے روح رواں جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے نائب سربراہ کی امریکی فوج کے ہاتھوں شہادت کے خلاف دنیا کے مختلف ملکوں یں شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔بھارت کے زیرانتظام علاقے کرگل میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرنے کے امریکا کے دہشت گردانہ اور وحشیانہ اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ہزاروں کی تعداد میں کرگل کے شہریوں نے اس احتجاجی مظاہرے میں امریکا مخالف نعرے لگا کر شہید جنرل قاسم سلیمانی کو انتہائی جذباتی انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔مظاہرے میں شریک لوگ نعرے لگا رہے تھے کہ شہادت جنرل قاسم سلیمانی کا مقدر تھا لیکن امریکا کو اس وحشیانہ اقدام کا جواب دینا ہوگا ۔کرگل میں مظاہرے کے شرکا نے اسلامی جمہوری نظام کی حمایت میں بھی فلک شگاف نعرے لگائے اور کہا کہ سامراجی طاقتوں کے خلاف استقامتی محاذ کی جدو جہد جاری رہے گی۔اس درمیان علاقے کی سبھی مزاحمتی تنظیموں نے بھی جنرل قاسم سلیمانی پر امریکا کے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعلان کیا ہے کہ ہم سب مل کر اس دہشت گردی کا جواب دیں گے۔الحشد الشعبی عراق کے ترجمان احمد الاسدی نے کہا ہے کہ اس دہشت گردانہ کارروائی کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہے ۔فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی نے اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امریکا کے اس اقدام کا بھرپور جواب دیں گے اور بیت المقدس کی آزادی کی راہ میں شکست و ناکامی کا کوئی امکان نہیں ہے۔فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی اقدامات سے جنگ کے شعلے اور بھڑکیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات علاقے کی اقوام کے مفادات اور خطے کے لوگوں کی آزادی و استحکام کے منافی ہیں۔یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک بدرالدین الحوثی نے بھی جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے امریکی دہشت گردی کی مذمت کی ہے ۔انصاراللہ یمن کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکا نے یہ دہشت گردی کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ عراق میں صدر دھڑے کے سربراہ مقتدی صدر نے بھی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر مراجع کرام، رہبرانقلاب اسلامی اور ایران کے عوام اور حکومت کو تعزیت پیش کی ہے – مقتدی صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے جیش المہدی کے جوانوں کو پوری طرح الرٹ کردیا ہے۔ یورپی کونسل کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے میں اعلی ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق کے اندر صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ یورپی کونسل کے صدر برسلز میں یورپی یونین کے رہنماں کی نمائندگی کرتے ہیں۔بیلجیئم کے سابق وزیر اعظم چارلز مائیکل کا کہنا تھا کہ عراق میں جاری تشدد، اشتعال انگیزیوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے۔امریکی ایوان نمائندگان نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ حملے سے خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ڈیموکریٹک سیاستدان اور سابق نائب صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی جنرل کو ہلاک کرنے کے اس فیصلے سے امریکا مشرق وسطی میں ایک بڑے اور سنگین تنازعے کی دہلیز پر پہنچ گیا ہے۔ ری پبلکن سینیٹر لنزی گراہم اور ایوانِ نمائندگان کے سینیئر ری پبلکن رکن کیون میکارتھی نے تاہم اس امریکی اقدام کی حمایت کی ہے۔لبنانی سیاسی و عسکری تحریک حزب اللہ کا کہنا تھا کہ سلیمانی کو ہلاک کرنے والوں سے انتقام لینا دنیا بھر کی مزاحمتی قوتوں کا ٹاسک ہونا چاہیے۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے کہا کہ وہ سلیمانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تمام ادھورے مقاصد کی تکمیل کریں گے۔عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے امریکی حملے کو جارحیت قرار دیا اور تازہ صورتحال کے تناظر میں ملکی پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ادھر عراقی سیاستدان اور ملیشیا لیڈر مقتدی الصدر نے مہدی آرمی دوبارہ فعال کرنے کااعلان کر دیا ہے۔عراق میں امریکی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے فوری عراق چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔شامی حکومت نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ جنرل سلیمانی کو قتل کر کے واشنگٹن حکومت نے مشرق وسطی کے تنازعے کی آگ پر تیل چھڑکا ہے۔ دمشق نے اس امریکی اقدام کو ایک بزدلانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں مزاحمتی عمل کو مزید تقویت فراہم کرے گا۔روسی وزارت خارجہ کے بیان میں جنرل سلیمان کی کی ہلاکت کو ایک مہم جوئی قرار دیا گیا اور کہا ہے کہ یہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کا سبب بنے گی۔ ماسکو سے جاری ہونے والے اس بیان میں سلیمانی کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے ایرانی مفادات کو تحفظ دینے کی بھرپور کوششیں کی اور ان کی ہلاکت پر ایرانی عوام سے تعزیت کی جاتی ہے۔فرانسیسی وزیر برائے یورپ ایمیلی ڈی موں چلاں کا کہنا تھا کہ وہ صبح جب اٹھیں تو دنیا مزید خطرناک ہو چکی تھی۔ صدر ایمانوئل ماکروں خطے کے رہنماں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کرنے والے ہیں۔ ایسے آپریشن کے نتیجے میں مجموعی صورتحال میں کشیدگی بڑھتی ہے اور دنیا کی کوشش ہونی چاہیے کہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جائے۔چینی وزارت خارجہ کاکہنا تھا کہ چین بین الاقوامی معاملات میں طاقت کے استعمال کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہے اور اس صورت حال میں متعلقہ فریق صبر اور برداشت کا مظاہرہ کریں تا کہ علاقائی صورت حال خراب سے خراب تر نہ ہو۔ چینی وزارت خارجہ نے عراق کی آزادی اور حاکمیت اعلی کے احترام پر زور دیا ہے۔”ری پبلکن سینیٹر نے مزید کہا کہ انہوں نے پہلے بھی ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی جارحیت پر مبنی پالیسی سے امریکہ کے صبر کا امتحان نہ لے۔انہوں نے کہا کہ “وہ امریکی فوجی اور شہری جو عراق میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں اور راکٹ حملوں میں ہلاک ہوئے، آج انہیں انصاف مل گیا۔”سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اس اقدام سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ امریکی عوام اور خطے کے حلیف ممالک کو وضاحت دیں کہ امریکہ کی حکمت عملی ہے کیا۔جو بائیڈن نے کہا کہ “خطے میں تعینات ہمارے فوجی، سفارت خانے اور عوام کے تحفظ کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کو یہ بتانا ہو گا۔”ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ “سلیمانی امریکیوں کا دشمن تھا۔ لیکن اس کی ہلاکت سے امریکیوں کو مزید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔”آئندہ سال امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کے ٹکٹ کی امیدوار سینیٹر الزبتھ وارن نے اپنے ردِ عمل میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو مشرقِ وسطی میں مزید کشیدگی کا پیش خیمہ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ قاسم سلیمانی ہزاروں امریکیوں کے قتل کے ذمہ دار تھے۔ لیکن عجلت میں کیے گئے اس اقدام سے کشیدگی مزید بڑھے گی اور مزید لوگوں کی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔عراق کے شیعہ رہنما مقتدی الصدر، جو عراق میں امریکی اور ایرانی مداخلت کے مخالف ہیں، نے فریقین کو تدبر کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ساتھ ہی مقتدی صدر نے عراق کی سالمیت کے لیے ‘مہدی آرمی’ کو دوبارہ فعال کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ عراق کی حکومت نے دارالحکومت بغداد میں امریکی حملے کے نتیجے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو اس کی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے وقار پر کھلا حملہ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ ایسے حملوں سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی ۔امریکا کی ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی فوج کے فضائی حملے میں ایرانی قدس بریگیڈ کے سربراہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو ایرانی رجیم پر کاری ضرب قرار دیا ہے اورکہاہے کہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت ایران کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے، اگر ایران باز نہ آیا تو اسے مزید سبق سکھائیں گے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے امریکی حملے میں ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر عراقی عوام سڑکوں پر رقص کررہے ہیں۔امریکی وزیر دفاع مارک ایسپرنے خبردار کیا ہے کہ انہیں پورا یقین ہے کہ عراقی حزب اللہ ملیشیا امریکی مفادات کے خلاف ایک اور اشتعال انگیز حرکت انجام دے سکتی ہے۔امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے اپنی فوج کو الرٹ کردیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کی جانب سے ممکنہ خطرے کے پیش نظر ہرمون پہاڑ کو بھی زائرین کیلئے بند کر دیا گیا ۔اسرائیلی دفاعی حکام نے ٹوئٹر پر فیصلے کی تصدیق کی ہے تاہم گولن کی پہاڑیوں کے متعلق فی الحال کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئیں۔

امریکی حملہ ،ایرانی القدس کمانڈر جنرل قاسم سمیت 9جاں بحق،قتل کا بدلہ لیں گے،آیت اللہ خامنہ ای

بغداد، تہران، واشنگٹن (نیٹ نیوز) عراق کے دارلحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکی راکٹ حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی سمیت9 افراد جاں بحق ہو گئے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ بغداد کارگو ٹرمینل کے قریب سڑک پر 2گاڑیوں کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ جنرل سلیمانی کے بغداد ایئر پورٹ پر اترتے ہی امریکی فوج کی جانب سے راکٹ حملہ کر کے انہیں نشانہ بنایا گیا۔ عراقی حکام نے کہا کہ بغداد ایئرپورٹ پرداغے گئے 3راکٹ کارگوہال ے قریب گرے، راکٹ حملے سے 2کاروں کوآگ بھی لگی ۔ایرانی ٹی وی نے بغداد ایئر پورٹ پر امریکی حملے میں جنرل سلیمانی کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔ امریکا نے بغداد ایئر پورٹ کے قریب 2اہداف کو نشانہ بنایا تھا، عراق کی پاپولر موبائلائزیشن فورس نے حملے میں اپنے 6افراد کی موت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ راکٹ حملے میں 2مہمان بھی مارے گئے۔عراق کی پاپولر موبائلائزیشن فورس کا یہ بھی کہا کہ اس حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی کے علاوہ عراق کی پاپولرموبائلائزیشن فورس کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے بھی ایرانی جنرل سلیمانی کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کر دی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جنرل سلیمانی پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی پرچم ٹویٹ کیا ہے۔عراقی پاپولر موبائلائزیشن فورس نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ابومہدی المہندس اور قاسم سلیمانی پر حملے میں ملوث ہیں۔ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا اس متعلق کہا کہ امریکا کی جانب سے حملے میں جنرل سلیمانی شہادت ایک انتہائی خطرناک اوراحمقانہ حرکت ہے، امریکہ اپنی بدمعاش مہم جوئی کے تمام نتائج کی ذمہ داری خود برداشت کرے گا، جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکہ کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایران نے امریکی حملے میں ایرانی کمانڈر کے مارے جانے پر تہران میں امریکی مفادات کی نمائندگی کرنے والے سویئزرلینڈ کے سفارتکار کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔ یہ بات ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فورسز کی طرف سے جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کے باعث سوئٹزرلینڈ کے سفارتکار کو طلب کر کے امریکی اقدام کی شدید مذمت پر مبنی پیغام دیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ سوئس سفارتکار پر یہ بات واضح کی گئی کہ یہ حملہ امریکہ کی ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال ہے اور امریکی حکومت اس کے نتائج کی ذمہ دار ہو گی۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ بغداد ایئر پورٹ پر حملے کے بعد انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں قاسم سلیمانی کی موت پر 3 روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سخت انتقام ان مجرموں کا منتظر ہے جنہوں نے قاسم سلیمانی اور دیگر شہیدوں کے خون سے گزشتہ رات اپنے ہاتھ رنگے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو علی الاعلان کہا ہے کہ القدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ ہر صورت لیا جائے گا، جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر 3روزہ سوگ کا بھی اعلان کیا، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکا نے انتہائی احمقانہ حرکت کی ہے ،امریکا نے جنرل سلیمانی پر حملہ کر کے عالمی دہشتگرد ہونے کا ثبوت دیا ہے، جنرل سلیمانی کی فورس داعش، القاعدہ اور النصرہ کے خلاف لڑائی میں سب سے موثر طاقت تھی، اپنی سرکش مہم جوئی کے نتائج کی ذمہ داری امریکا خود اٹھائے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا۔ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر 3 روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر ردعمل میں کہا ہے کہ مارنے والے قاتل سنگین بدلے کا انتظارکریں۔انہوں نے کہا کہ سلیمانی جنت چلے گئے ہیں وہ ایک بہادر سپاہی تھے، سلیمانی کے قتل نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو مزید دگنا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل سلیمانی کا نہ ہونا تلخ ہے لیکن جدوجہد فتح تک جاری رہے گی اور مجرموں کی زندگی کو مزید تلخ بنا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر 3 روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف کہا ہے کہ امریکہ نے بغداد میں ایرانی جنرل سلیمانی پر حملہ کر کے عالمی دہشت گردی کی۔ امریکہ کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اپنی سرکش مہم جوئی کے نتائج کی ذمہ داری امریکہ خود اٹھائے گا۔ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ جنرل سلیمانی پر حملہ امریکہ کی احمقانہ اور خطرناک حرکت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملہ کے نتائج کی تمام تر ذ مہ داری امریکہ پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل سلیمانی اس ایرانی مﺅثر فورس کے سربراہ تھے جو داعش، القائدہ ، النصرہ اور دیگر گروپوں کے خلاف کارروائی کر رہی تھی۔