ابوظہبی ولی عہد کا دورہ پاکستان ،200ملین ڈالر امداد کا اعلان ،تجارت سرمایہ کاری بڑھانے روز گار کے مواقع پیدا کرنیکا فیصلہ ،اعلامیہ

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان کی ون آن ون ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیاگیا، مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ یواے ای نے0 20ملین ڈالر کا اعلان کیا ہے ، رقم چھوٹے کاروبار کیلئے خرچ ہوگی، تفصیلات کے مطابقوزیراعظم عمران خان سے ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیاگیاہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے پاک یواے ای تعلقات کی اسٹریٹیجک اہمیت پر روشنی ڈالی، اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ ملک میں معیشت کی بحالی کے بعد سرمایہ کاری کے مواقع بڑھے ہیں، پاکستان اپنے شراکت دار ممالک سے تجارت سرامیہ کاری جاری رکھنا چاہتا ہے، یو اے ای کی مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا خیر مقدم کرتے ہیں، اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان میں توانائی سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے شاندار مواقع ہیں، وزیراعظم عمران خان نے ولی عہد کو پاکستان کی امن کوششوں سے آگاہ کیا، اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پرامن مستحکم اور خوشحال افغانستان پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے، وزیراعظم نے ولی عہد کو مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی لاک ڈاو¿ن سے متعلق بھی آگاہ کیا، اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ یو اے ای میں 16لاکھ سے زائد پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار پر روشنی ڈالی، پاکستانی کمیونٹی متحدہ عرب امارات کو اپنا دوسرا گھر سمجھتی ہے، اعلامیے میں کہا گیا کہ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان نے پاک یو اے ای تعلقات کی اسٹریٹیجک اہمیت پر زور دیا، ولی عہد نے او آئی سی میں پاکستان کے اہم کردار کو بھی سراہا،ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی فوج کے نائب سپریم کمانڈر محمد بن زید النہیان نے پاکستان کا ایک روزہ دورہ کیا۔ ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زید النہیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے۔ وزیراعظم عمران خان نے نور خان ایئربیس پر ولی عہد کا استقبال کیا۔ عمران خان خود گاڑی چلا کر معزز مہمان کو وزیراعظم ہاﺅس لے کر پہنچے۔ محمد بن زید النہیان نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ اس دوران تجارتی اور برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے علاوہ علاقائی امن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محمد بن زید النہیان کو وزیراعظم کی جانب سے ظہرانہ بھی دیا۔ ولی عہد محمدبن زیدالنہیان دورہ مکمل کرنے کے بعد اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے۔اس سے قبل ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر شیخ محمدبن زاید النہیان جمعرات کو ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے نورخان ایئر بیس پر معزز مہمان کا استقبال کیا۔ روایتی لباس میں ملبوس دو بچوں نے معزز مہمان کو گلدستہ پیش کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی و پٹرولیم عمر ایوب خان بھی موجود تھے۔ بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان ابوظہبی کے ولی عہد کی گاڑی خود ڈرائیو کرتے ہوئے ایئر پورٹ سے روانہ ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کا اعلیٰ سطح کا وفد بھی ولی عہد کے ہمراہ تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زیدالنہیان اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ ایک روزہ دورہ کررہے ہیں۔ ابوظہبی کے ولی عہد وزیراعظم عمران خان سے ون آن ون ملاقات کریں گے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات میں دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ ‘ علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائےگا۔ ولی عہد کے دورے سے پاک امارات تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

آرمی چیف توسیع،ن لیگ راضی ،بلاول نے وقت مانگ لیا

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مذاکرات ہوئے س میںمسلم لیگ (ن) نے حمایت کا فیصلہ کرلیا ۔حکومتی وفد نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرکے چیمبر میں مسلم لیگ (ن) کے وفد سے ملاقات کی۔ حکومت کی نمائندگی پرویز خٹک، قائد ایوان سینیٹ شبلی فراز اوراعظم سواتی نے کی جبکہ مسلم لیگ (ن )کی جانب سے خواجہ آصف، سردار ایاز صادق، رانا تنویر سمیت دیگر رہنما ملاقات میں شریک ہوئے۔حکومتی وفدنے مسلم لیگ ن سے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی پر حمایت کی درخواست کی۔نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ (ن)نے آرمی چیف کی مد ت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ترمیم کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ قیادت کی طرف سے پیغام میں ملنے کے بعد کیا گیا ۔بعدازاں پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پراپوزیشن سے رابطے جاری ہیں، ن لیگ کے بعد دیگر اپوزیشن سے بھی رابطے کریں گے، امید ہے شام تک مشاورت مکمل کرلیں گے جس کے بعد معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ پر ممکنہ قانون سازی کے تناظر میں پارلیمانی قواعد وضوابط پر عمل نہیں کیا جارہا، پیپلزپارٹی جمہوری قانون سازی کو مثبت طریقے سے کرنا چاہتی ہے ،کچھ سیاسی جماعتیں قانون سازی کے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھنا چاہتی ہیں۔جمعرات کو آرمی ایکٹ میں ترمیم کے معاملے پر تین رکنی حکومتی وفد پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سے ملاقات کےلئے زرداری ہاو¿س پہنچا، وفد کی سربراہی وفاقی وزیر پرویز خٹک کررہے تھے جبکہ وفد میں قاسم سوری اور علی محمد خان شامل تھے، حکومتی وفد نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو آرمی ایکٹ کے حوالے سے قانون سازی سمیت اس سے متعلقہ صورت حال پر بریفنگ دی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے ملاقات کرنے والوں میں راجہ پرویزاشرف، نیئر بخاری شیری رحمان، رضا ربانی، شازیہ مری اور نوید قمر بھی شامل تھے، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آرمی ایکٹ پر ممکنہ قانون سازی کے تناظر میں پارلیمانی قواعد وضوابط پر عمل نہیں کیا جارہا، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومتی وفد کے اراکین سے کہا کہ آرمی ایکٹ پر قانون سازی کے سلسلے میں پارلیمانی قواعد و ضوابط کو بروئے کار لایا جائے، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی جمہوری قانون سازی کو مثبت طریقے سے کرنا چاہتی ہے جبکہ کچھ سیاسی جماعتیں قانون سازی کے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھنا چاہتی ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ جتنی اہم قانون سازی ہے، اتنا ہی اہم ہمارے لئے جمہوری عمل کی پاسداری ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس معاملے پر دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے گی۔ حکومت نے پیپلز پارٹی سے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر حمایت مانگ لی۔حکومتی وفد نے پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرادری سے ملاقات کی اور آرمی ایکٹ کے حوالے سے قانون سازی سمیت اس سے متعلقہ صورت حال پر بریفنگ دی۔پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بل پاس کرانے کے حکومتی طریقہ کارپرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ پر ممکنہ قانون سازی کے تناظر میں پارلیمانی قواعد وضوابط پر عمل نہیں کیا جارہا، پیپلزپارٹی جمہوری قانون سازی کو مثبت طریقے سے کرنا چاہتی ہے، کچھ سیاسی جماعتیں قانون سازی کے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھنا چاہتی ہیں،جتنی اہم قانون سازی ہے، اتنا ہی اہم ہمارے لئے جمہوری عمل کی پاسداری ہے،پیپلزپارٹی اس معاملے پر دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے گی۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل (آج)جمعہ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی ،سینیٹ) میں پیش کیا جائیگا۔وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے،عمران خان پارلیمنٹ ہاﺅس میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی صدارت بھی کرینگے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان(آج)جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔وزیراعظم قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت سے پہلے پارلیمنٹ ہاﺅس میں صبح 10بجے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔، اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی پارلیمنٹ سے منظوری کی حکمت عملی طے ہوگی۔وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی میں شامل تمام ارکان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے حکومت کی جانب مسودہ پیشقومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا جائیگا۔آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حکومتی مسودے کو پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ 2020کا نام دیا گیا ہے۔مسودے کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت تین برس ہو گی جس میں مزید تین سال کی توسیع کی جا سکے گی۔پاک فوج کے سربراہ کی تعیناتی یا توسیع صدر پاکستان وزیراعظم کے مشورے پر کریں گے اور اسے عدالت میں کسی صورت چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ وفاقی وزیر برائے دفاع پریز خٹک نے اہم ورک مکمل کرلیا ہے اہم جماعتیں سرکاری بل کے تحت آرمی ایکٹ میں ترامیم پر آمادہ ہوگئی ہیں ۔ قانون سازی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی 33ارکان پر مشتمل ہے اہم نشست ہوئی ہے ۔کمیٹی ممبران میں وفاقی وزرا ، حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی و سینٹ شامل ہیں۔سینیٹ سے شبلی فراز ، راجہ محمد ظفر الحق ، مشاہد اللہ خان،شیری رحمان ، مولانا عبدالغور حیدری، سراج الحق، قومی اسمبلی سے رانا تنویر حسین، سردار ایاز صادق، مرتضی جاوید عباسی ، راجہ پرویز اشرف ، سیدنوید قمر،غوث بخش مہر، خالد مگسی ، شاہدہ اختر علی، امیرحیدر خان ہوتی ، محسن داوڑ وزیر دفاع پرویز خٹک کے علاوہ وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی ، اسد عمر، چوہدری طارق بشیر چیمہ ، ڈاکٹر محمد فروغ نسیم ، اعظم خان سواتی، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی شامل، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان ملک محمد عامر ڈوگر شامل ہیں۔اسی طرح سینیٹ سے ستارہ ایاز، بیرسٹر محمدعلی خان سیف، انوار الحق کاکڑ ، مظفر حسین شاہ، جہانزیب جمال الدینی ،اورنگزیب خان، میر قدیر احمد محمد ساہی بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔کمیٹی نے ایجنڈاطے کرلیا ہے اہم جماعتیں سرکاری بل کے تحت آرمی ایکٹ میں ترامیم پر آمادہ ہوگئی ہیں۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے اپوزیشن کی ہر طرح سے تسلی ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل پر پارلیمانی جماعتوں کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر فروغ نسیم نے شرکاء کو بریف کیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے مختصر بات چیت میں فروغ نسیم نے بتایا کہ آرمی ایکٹ پر تمام سیاسی جماعتوں کو بریفنگ دی ہے جو سوالات تھے ان کے جوابات دیئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے حساب سے اپوزیشن کی ہرطرح سے تسلی ہوئی تاہم کل صبح ساڑھے 10بجے دوبارہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔

مایا علی نے عثمان خالد بٹ کے ساتھ شادی کی خبروں پرخاموشی توڑدی

کراچی: اداکارہ مایا علی نے عثمان خالد بٹ کے ساتھ شادی کی خبروں پر خاموشی توڑ دی۔اداکارہ مایا علی اورعثمان خالد بٹ کا شمارپاکستان شوبز انڈسٹری کی آن اسکرین مقبول ترین جوڑیوں میں ہوتا ہے۔ دونوں ایک ساتھ کئی ڈراموں میں اداکاری کے جوہردکھا چکے ہیں جن میں’’ایک نئی سنڈریلا‘‘، ’’عون زارا‘‘، ’’دیاردل‘‘ اور’’صنم‘‘ شامل ہیں اور ان تمام ڈراموں میں دونوں کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا تھا۔عثمان خالد بٹ اور مایا علی نہ صرف بہترین اداکارہیں بلکہ ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست بھی ہیں تاہم دونوں کے متعلق اکثر خبریں گردش کرتی رہتی ہیں کہ دونوں کا رشتہ دوستی سے کچھ زیادہ ہے۔ ایک بارتو دونوں کی منگنی کی خبریں بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تھیں جب کہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ دونوں شادی کرچکے ہیں۔عثمان خالد بٹ یا مایا علی دونوں میں سے کسی نے بھی ان کے رشتے سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں پرکوئی بیان جاری نہیں کیا تھا، تاہم اب مایا علی نے اس حوالے سے خاموشی توڑدی ہے۔ مایا علی نے حال ہی میں سالِ نو کے موقع پر اپنی ایک تصویر شیئر کی تھی اور ساتھ ہی پیغام لکھا تھا 2019 تمہارا شکریہ اس برس میں نے بہت سبق سیکھے، 2020 میں تیار ہوں

وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی کی عبوری ضمانت خارج

 لاہور: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پنجاب انسٹیٹیویٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) حملہ کیس میں وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی کی عبوری ضمانت خارج کر دی۔عدالت نے تاخیر سے آنے پر حسان نیازی کی عبوری درخواست ضمانت خارج کی۔ فاضل جج نے اظہار برہمی کرتے ہوئے حسان نیازی سے کہا کہ آپ وکیل ہو کر بھی تاخیر سے آ رہے ہیں، قانن سب کے لیے برابر ہے۔حسان نیازی نے کچھ دیر بعد انسداد دہشت گردی عدالت میں دوبارہ عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔واضح رہے کہ حسان نیازی پی آئی سی حملہ کیس میں نامزد ملزم ہیں اور عبوری ضمانت پر تھے

قومی اسمبلی ،گیس کی لوڈشیڈنگ پر اپوزیشن کا احتجاج ،عمر ایوب سے تلخ کلامی

اسلام آ باد ( آ ئی این پی ) قومی اسمبلی میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور پریشر میں کمی پر اپوزیشن ارکان نے شدید ج کیا، وزیر توانائی عمر ایوب خان اور اپوزیشن ارکان کی تلخ کلامی ہوئی، اپوزیشن ارکان نے جھوٹا جھوٹا کے نعرے لگائے، انہوں نے مطالبہ کیاکہ جھوٹے وعدے کے بجائے گیس فراہم کی جائے،ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے وزیر توانائی سے استفسار کیا کہ میرے حلقہ میں گیس نہیں ہے، شکایات آرہی ہیں یہاں سے گیس پیدا ہوتی ہے لوگوں کو کیوں نہیں مل رہی وضاحت کریں، پاکستان تحریک انصاف کے رکن جنید اکبر نے بات کرنے کے لئے فلور نہ ملنے پر کھڑے ہو کر احتجا ج کیا اور کہا ہم یہا ں کس لئے آتے ہیں اگر موقع نہیں دیا جاتا ،انہوں نے کاغذات پھاڑ کر پھینک دئیے جبکہ وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ موجودہ گیس بحران کی ذمہ دار مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں ہیں،انہوں نے اپنے دور حکومت کے دوران گیس کے تلاش کے منصوبوں پر کوئی کام نہیں کیا اور مہنگی درآمدی گیس پر انحصار بڑھایا،گزشتہ دونوں حکومتوں نے گیس کی پیداوار پر کام نہیں کیا اس کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں، رواں سال تاریخ سازسردی پڑی ہے، سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی میں مسائل ایک ماہ تک حل کر لیں گے،بعض علاقوں میں گیس چوری کی وجہ سے گیس کے پریشر میں کمی آئی ہے، سوئی سدرن کو احکامات دیئے ہیں کہ بلوچستان میں پائپ لائن تبدیل کریں ،سوئی سدرن کا ریونیو بلوچستان 6 ارب کا ہے ، 12 ارب کی گیس ضائع ہو رہی ہے ۔ لوگوں کو بل ادا کرنے کے لئے مہم چلا رہے ہیں ۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں توجہ دلاﺅ نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا کہ پاکستان میں گیس کی طلب زیادہ ہے ۔ طلب اور سپلائی میں فرق بڑھتا جا رہا ہے ۔ گزشتہ دونوں حکومتوں نے گیس کی پیداوار پر کام نہیں کیا اس کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں ۔ درآمدی گیس پر انہوں نے انحصار کیا ۔ گزشتہ 12 ماہ میں 8بلاکس گیس کی تلاش کے لئے دیئے ہیں 18 بلاکس کی نیلامی مزید کرنے جا رہے ہیں ۔ اس وقت تک گزشتہ سال کی نسبت 50 فیصد زیادہ گیس سسٹم میں لائی ہے ۔ رواں سال تاریخ سازسردی پڑی ہے سی این جی سیکٹر ایک ماہ تک قدرتی فلو میں آئے گی۔ موسم کی شدت کی وجہ سے مقامی صارفین کو ترجیح دی ۔ بعض علاقوں میں گیس چوری کی وجہ سے گیس کے پریشر میں کمی آئی ہے ۔ سندھ حکومت معاملہ پر سیاست نہ کرتی تو وہاں کے صارفین کو مشکلات نہ آتی ۔ اس وقت 1950 فی ایم ایم بی ٹی یو مقامی صارفین کو ایل این جی گیس منتقل کی ہے ۔ آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے گیس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ دسمبر میں 500 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی نیٹ ورک میں ڈالی ہے ۔ گیس بحران کی ذمہ دار مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں ہیں۔ عمران خان کی حکومت نے آکر لوڈ شیڈنگ ختم کی ۔ انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کر سکتا ۔ اپوزیشن ے ان کی تقریر کے دوران جھوٹا جھوٹا کے نعرے لگائے ۔ عمر ایوب نے کہا کہ گیس کی طلب اور سپلائی کے فرق میں کمی پر کام کر رہے ہیں ۔سید محمود شاہ نے کہا کہ بلوچستان میں گیس نہیں آرہی ہے ۔ ڈیڑھ لاکھ کے بل آرہے ہیں ۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ میرے حلقہ میں گیس نہیں ہے شکایات آرہی ہیں یہاں سے گیس پیدا ہوتی ہے لوگوں کو کیوں نہیں مل رہی وضاحت کریں عمر ایوب نے کہا کہ سوئی سدرن کو احکامات دیئے ہیں کہ سوئی میں پائپ لائن تبدیل کریں ۔ سوئی سدرن کا ریونیو بلوچستان 6 ارب کا ہے ۔ 12 ارب کی گیس ضائع ہو رہی ہے ۔ لوگوں کو بل ادا کرنے کے لئے مہم چلا رہے ہیں ۔ گزشتہ حکومتوں نے گیس پیدا کرنے والے اضلاع کو گیس نہیں دی ۔ سندھ حکومت گیس پائپ لائن بچھانے کے لئے اجازت نہیں دے رہی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ سندھ کا گیس کا حصہ اس کا حق ہے ۔ وزیر آئین کو عزت دیں ۔ صوبوں کو لڑانے کی بات نہ کریں ۔ سندھ 2500 ایم سی ایف ڈی مل رہی ہے ۔ وزیر سیاسی بیانات دے رہے ہیں ۔ جو حشر بلوچستان کا ہے وہ سندھ کا نہ کریں غلط بیانی نہ کریں اور دیوار سے نہ لگائیں ۔ عمر ایوب نے کہا کہ وسائل پر پورے پاکستان کا یکساں ہے ۔ سندھ کے ارکان نے احتجاج کیا ۔ ڈپٹی سپیکر کی جانب سے اجلاس ملتوی کرنے کے اعلان پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن جنید اکبر نے بات کرنے کے لئے فلور نہ ملنے پر کھڑے ہو کر احتجا ج کیا اور کہا ہم یہا ں کس لئے آتے ہیں اگر موقع نہیں دیا جاتا ،انہوں نے کاغذات پھاڑ کر پھینک دئیے۔ قومی اسمبلی میں حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ نیکٹا کی مالی تحقیقات کی سخت پالیسی کی وجہ سے ڈیڑھ سال میں دہشتگردوں کے منجمد اور ضبط کئے گئے فنڈز میں 10ہزار فیصد اضافہ ہوا،دہشتگردوں کی مالی معاونت میں جرم ثابت ہونے کے عمل میں 480فیصد،مالیاتی تحقیقات میں 540 فیصد اضافہ ہوا،پنجاب اور سندھ میں11لاکھ 42ہزار 736 لوگوں کے پاس نادرا کی جانب سے جاری کردہ اسلحہ لائسنس ہیں،گزشتہ تین سالوں کے دوران نادرا نے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز کی فیس کی مد میں 47ارب 33کروڑ سے زائدرقم وصول کی جبکہ تین سالوں کے دوران نادرا کے ملازمین کو تنخواہ اور مراعات کی مد میں 43ارب13روپے ادا کئے گئے،کچھ لوگوں نے جان اللہ کو حسین کی طرح دینی ہے اور کچھ لوگوں نے شمر اور فرعون کی طرح۔ان خیالات کا اظہارقومی اسمبلی میں وزیرمملکت شہریار آفریدی اوروزارت داخلہ کی جانب سے ارکان کے سوالوں کے تحریری جواب میں کیا۔رکن چوہدری حامد حمید کے سوال کے جواب میں وزارت بین الصوبائی رابطہ نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کے بیرون ملک دوروں پر گزشتہ سال کے مقابلے میں انتظامی بیرون ملک سفری اخراجات میں 6۔5 ملین روپے اضافہ ہوا ہے_رکن شمس النساء کے سوال کے جواب میں وزارت داخلہ نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیاکہ نیکٹا کی جانب سے 2018میں دہشت گردی سے متعلق 664 انٹیلی جنس رپورٹس جاری کی گئیں جبکہ 25 نومبر 2019تک 559 انٹیلی جنس رپورٹس جاری کی گئیں،نیکٹا ہیلپ لائن 1717 پر اوسطا روزانہ 1900 کالز وصول کی جاتی ہیں ،2019 میں ہیلپ لائن پر 597 قابل کارروائی ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں،جن پر 21 مقدمات درج کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے پالیسی ترتیب دی ہے،جس کے نتیجے میں جون 2018 سے ملک میں مالیاتی تحقیقات اور مقدمات میں540فیصد غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ،گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں جرم ثابت ہونے کے عمل میں 480 فیصد اضافہ ہوا،گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشت گردوں کے منجمند اور ضبط کئے گئے فنڈز میں 10ہزار فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی وزیر مراد سعید نے خواجہ آصف کے موقف کی حمایت کردی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دور ان پاکستان مسلم (ن) کے خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا تھا کہ اگر اجلاس بلانے سے پہلے سب کو آگاہ کیا جائے تو بہتر رہے گا۔جس پر مراد سعید نے کہا کہ پارلیمنٹ چلانا ہے تو سب کو اجلاس کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے ہم ان کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔مراد سعید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسمبلی اجلاس میں آنے کا کہا تھا ہم اس پر بھی قائم ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ایک وقت تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہر بدھ کو خود سوالوں کے جواب دینے آنا تھا، مگر اب بالکل بھی نہیں آتے۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم پچھلے سال میں شاید ہی اسمبلی میں آئے ہوں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہاﺅس قانون و قاعدے کے مطابق چلے گا تو ہاﺅس کا وقار بلند ہوگا، حکومت کو بھی فائدہ ہوگا۔خواجہ آصف نے ڈپٹی اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک دم اجلاس بلالیا جس کا کوئی نوٹس نہیں تھا۔رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ ایوان کو قاعدے و قانون کے مطابق چلا جائے۔انہوںنے کہاکہ میڈیا پر رپورٹ ہوا ہے کہ ایک سال ہوا وزیراعظم ایوان میں ہی نہیں آئے،اجلاس کو قانون قائدے کے مطابق چلنا چاہیے۔

ایم کیو ایم ،پیپلز پارٹی کے ساتھ ملے گی تو اختیارات اور گارنٹی مانگے گی،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یہ بھی طریقہ کار وہی ہے جو انڈیا نے اختیار کیا ہے پہلے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔ اب ہمارے ہاں اس پر چونکہ سپریم کورٹ رائے دے چکی ہے۔ اس لئے اس پر نئی قانون سازی ضروری ہے قانون سازی کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ پہلے آرمی ایکٹ میں ترمیم کر لی جائے۔ بعد میں اس ترمیم شدہ ایکٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کر کے منظور کروا لیا جائے۔ اس کے بعد اس پر عملدرآمد کروا لیا جائے۔ ہمارے ہاں تھوڑا سا مشکل ہے۔ انڈیا نے تو پیشتر اس کے کہ بحث مباحثہ شروع ہو انہوں نے اس مرحلے کو طے کر لیا۔ میرا خیال ہے کہ یہ ترمیم ہو جائے گی۔ قومی اسمبلی سے تو یہ ہو جائے گا مشکل سینٹ سے پیش آئے گی لیکن بالآخر یہ مسئلہ حل ہو جائے گا کیونکہ شاید ہی کسی جماعت کو آرمی پر اختلاف ہو یا اگر ہے بھی تو وہ اسے ظاہر نہیں کریں گے جہاں تک پاکستان میں انتشار اور اضطراب کا فائدہ تو انڈیا کو ہو سکتا ہے اور پاکستان میں اس قسم کا حلفشار یعنی حکومت اور اپوزیشن میں خلیج بڑھےے اس کا فائدہ اپوزیشن کو ہو سکتا ہے تینوں سروسز چیفس کی مدت ملازمت 64 سال کا کہا جا رہا ہے۔ اس پر ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پاکستان کی پوزیشن پہلے ہی خراب اور جگ ہنسائی ہو چکی ہے آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے جو بحثیں شروع ہوئی ہیں اس سے ہمیں فائدے کی بجائے پاکستان کو نقصان پہنچا ہے۔ اگر جلد از جلد اس مسئلہ کو سلجھا لیا جائے تو اتنا ہی اس ملک کے لئے بہتر ہے۔ 2019ءگزر چکا ہے۔ 2020ءمیں ملک میں اس سال سیاسی استحکام پچھلے سال کی نسبت بہتر ہو گا۔ حکومت کے خیال میں یہ مسئلہ جتنا تعطل میں ڈالا جائے گا نئی نئی موشگافیاں سامنے آئیں گی اور نئی سے نئی بحثیں شروع ہوتی رہیں گی۔ جتنی جلدی مسئلہ حل ہو جائے ملک کے لئے بہتر ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک میں اسی مسئلہ کو جس طریقے سے سلجھایا گیا اس سے اندازہ ہوا ہے کہ ہماری نسبت انڈیا میں میں داخلی انتشار کے باوجود یہ مسئلہ بہتر طریقے سے حل کیا گیا ہے۔ میں امریکہ کی مثال دیتا ہوں نیویارک ہو واشنگٹن ہو یا کوئی دوسرا شہر ہو اس میں ہمیشہ پاکستان کی داخلی سیاست پر پارٹیاں لڑتی جھگڑتی رہتی ہیں اسی طرح انڈیا کے بھی وہاں بڑے لوگ رہتے ہیں۔ اس کے باوجود میں نے امریکہ کے کسی شہر میں یہ تضاد نہیں دیکھا۔ میں نے وہاں ایم کیو ایم کو پیپلزپارٹی سے، پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ ن سے اور مسلم لیگ ن کو پی ٹی آئی کی طرح لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ہے جب 1940ءمیں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تو اس وقت کے بعد مسلم لیگ کا پرائم پریڈ شروع ہوا ہے جبکہ کانگریس اس سے سو سال پہلے سے اپنے طریقے سے کام کر رہی تھی۔ انڈیا میں جو سیاسی تحریکیں بہت پرانی، سیاسی روایات بھی مستحکم ہیں۔ وہ آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں لیکن میں نے کبھی ان کو پاکستان کے باہر کبھی آپس میں لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا جبکہ ہمارے ہاں سر پھٹول ہر وقت جاری رہتی ہیں۔ وہاں سیاسی ادارے زیادہ مستحکم ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے دعوے کئے جا رہے ہیں کہ 2020ءترقی کا سال ہوگا، خوشحالی کا سال ہو گا۔ ضیا شاہد نے کہا کہ میں اس بارے کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا میں صرف ان باتوں پر غور کر رہا ہوں جو وہ حکومت گزشتہ ایک سال سے کہہ رہی ہے۔ پہلے دن 6 مہینے کی کہہ رہی ہے بعد میں پھر چھ ماہ کا اضافہ کیا اور اب وہ اشارے دے رہی ہے کہ بہت سارے معاملات میں ہماری پوزیشن بہتر ہوئی ہے اور اب ان کا خیال ہے کہ اس سال میں حالات اور بہتر ہو جائیں گے لہٰدا سے میری مراد پیش گوئی کی بنیاد پر نہیں بلکہ حکومتی دعوﺅں کے اعتبار سے ہے جس کا خیال ہے کہ پچھلے سال کی نسبت اس سال معاملات بہتر ہوں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ اس میں شبہ نہیں مہنگائی بڑھی ہے تین بڑی چیزیں جن کی بنیاد پر پورے ملک کی معیشت کا انحصار ہوتا ہے تینوں کی قیمتوں میں سال کے شروع میں ہی اضافہ ہو گیا پچھلی حکومتوں کی نسبت اس حکومت کی پالیسی بالکل اس معاملہ میں مختلف ہے ایک زمانے اسحق ڈار کی وزارت خزانہ اکثر اوقات بینکوں سے کہیں پیسوں سے وہ ڈالرز خرید کر ڈالر کی قیمت کو کم کرنے کی کوشش کرتے تھے کہا جاتا ہے کہ وہ باہر سے بہت پیسہ لیتے تھے لیکن وہ مصنوعی طور پر ڈالر کی قیمت کم رکھنے کے لئے حتی المقدورکوشش کرتے تھے۔ اسی طریقے سے مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اکثر اوقات بجلی یا گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی بات ہوتی تو وزیراعظم اس کی اجازت نہیں دیتے تھے اور وہ یہ کہتے تھے کہ نہیں اس سے عوام میں بہت بے چینی پھیل جائے گی جو کہ ہمارا مقصد نہیں ہے لہٰذا وہ اور طریقے سے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ موجودہ حکومت کی پالیسی پہلے دن سے ہے کہ سبسڈی نہ دی جائے اور کسی بھی جگہ پر جو اصل قیمتوں کو ہی چلنے دیا جائے اور کسی بھی طریقے سے ان کو کھینچ تان کر ان کو کم نہیں کرنی چاہئے اور اس کے لئے باہر سے قرضے نہیں لینے چاہئیں جو ایک بنیادی فرق ہے جو موجودہ حکومت اور پچھلی حکومتوں میں تھا۔ میں نے بیسویں مرتبہ دیکھا ہے کہ مختلف چیزوں کی قیمتیں جو ان کی سمری نہیں کہ قیمتیں بڑھا دی جائیں گی لیکن عان وقت پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ سبسڈی دے کر اپنی جیب سے پیسے ڈال کر جس طریقے سے وہ یہاں میٹرو بس اگر 20 روپے کی تھی تو انہوں نے یہ دیکھ کر کہ اس میں نقصان ہوتا ہے اور اس کو حساب لگا کر اس کا ٹکٹ 30 روپے کر دیا۔ یہ ان کو پتہ تھا کہ 20 روپے میں وارا نہیں کھاتے لیکن وہ لاہور کو موٹر کمپنی دینے کے لئے اپنی جیب سے پیسے ڈال کر جو لوگوں کو سہولت دیتے تھے موجودہ حکومت کی یہ پالیسی نہیں ہے یہ ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔ مہنگائی براہ راست لوگوں کے سر پر ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف پیش آتی ہے۔ طویل مدت کے لئے شاید موجودہ حکومت کی پالیسی ٹھیک ہو کہ جو اصل خرچہ ہے اس کو رہنے دیا جائے اپنی جیب سے پیسہ خرچ نہ کیا جائے لیکن میں محسوس کرتا ہوں وقتی ریلیف کے لئے پچھلی حکومت کی پالیسی صحیح تھی۔ آپ یہ دیکھیں کہ کل نئے سال کے جشن منائے جا رہے تھے۔ حکومت نے 3 بنیادی چیزوں کی قیمتیں بڑھا دیں۔ بے شک وہ بوجھ پاکستانی عوام پر پڑتا ہے یہی موجودہ حکومت دلیل دیتی ہے کہ وہ قرضے لے کر عوام کو ریلیف دیتے تھے۔
قرض کی پیتے تھے اور کہتے تھے ہاں
رنگ لائے گی یہ فاقہ مستی ایک دن
کسی بھی طریقے سے قرضے لے کر، اللوں تللوں سے مزید اور قرض لے کر ملک کو مقروض کر کے بھی عوام کو خوش رکھتے تھے۔ اس بات سے قطع نظر کہ حالات اس قدر خراب ہیں کہ ڈھکنا اٹھے گا کہ اتنے پیسے ہیں اور اتنے لینے ہیں تو بھی ہمیں اتنی ہی مشکل پیش آئے گی۔ پیپلزپارٹی اور متحدہ دونوں طرف سے کوششیں جاری ہیں، بلاول نے متحدہ کو سندھ حکومت میں شامل ہونے کی پیش کش کی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما بھی متحدہ سے رابطہ میں ہیں۔ بلاول سمجھتے ہیں کہ متحدہ اگر وفاق کا ساتھ چھوڑ دے تو حکومت کمزور ہو کر گر جائے گی۔ متحدہ کی شہروں میں تعداد زیادہ ہے وہ بلدیاتی اداروں پر تسلط چاہتی ہے زیادہ سے زیادہ اختیارات کی خواہش مند ہے جبکہ صوبائی حکومت کی خواہش ہے کہ زیادہ اختیارات اس کے پاس رہیں کراچی حیدرآباد و دیگر شہروں میں بلدیاتی اختیار متحدہ کو دینے کی تیار نہیں ہے۔ دونوں پارٹیاں ماضی میں اتنی بار ملنے کے بعد الگ ہوئی ہیں کہ اب جب تک مکمل یقین دہانی نہ ہوئی تو آپس میں نہیں مل سکتی۔ یہ یقین دہانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بھی کرائی جا سکتی ہے پی پی اور متحدہ کی سیاسی مجبوریاں انہیں اکٹھا کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے۔ ایم کیو ایم پی پی سے ملنے کے لئے کوئی گارنٹی ضرور چاہے گی۔

نیپرا نے بھی عوام پر بم گرا دیا، بجلی1.56 روپے یونٹ مہنگی

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ رواں سال اکتوبر کے فیول ایڈجسٹمنٹ ی مد میں کیا گیا ہے۔نیپرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق کے الیکٹرک اور لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا۔ اکتوبر کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں حالیہ اضافی رقم صارفین کو آئندہ ماہ کے بلوں میں ادا کرنا ہوگی۔نیپرا کی جانب سے بجلی قیمتوں میں اضافہ سے صارفین پر 14 ارب 50 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔خیال رہے کہ نیپرا نے گزشتہ روز کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی 4 روپے 70 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی تھی۔ نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کا 11 سہ ماہی کا ٹیرف ایڈجسٹمنٹ فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔ نیپرا نے کے الیکٹرک صارفین سے 106 ارب روپے وصول کرنے کی اجازت دیدی ہے۔کے الیکڑک صارفین کے لیے بجلی 4 روپے 70 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے اور ٹیرف 12 روپے 81 سے بڑھا کر 17 روپے 69 پیسے فی یونٹ کرنے کی منظوری دی ہے۔ نیپرا نے جولائی 2016 سے مارچ 2019 کے عرصہ کے لیے فیصلہ جاری کیا ہے۔

پنجاب سندھ میں دھند ، پہاڑوں پر برف کا راج ،ملک بھر میں شدید سردی

اسلام آباد، لاہور ،سکھر ، پشاور، کوئٹہ (نمائندگان خبریں) ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری ہوئی جبکہ پنجاب اور سندھ میں دھند کا راج رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مغربی بلوچستان، بالائی خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع ابرآلود رہنے کے ساتھ چند مقامات پر ہلکی بارش اور برفباری متوقع ہے۔ پنجاب اور بالائی سندھ کے بیشتر میدانی علاقوں جبکہ خیبر پختونخوا کے بعض میدانی اضلاع میں دھند پڑنے کا امکان ہے۔ ملک
\ے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک جبکہ بالائی علاقوں میں شدید سرد رہنے کا امکان ہے۔ پنجاب کے علاقے میانوالی، شرقپور شریف، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، نارووال، سرگودھا، لیہ، بھکر، خوشاب، میانوالی، منڈی بہاﺅالدین، سیالکوٹ، حافظ آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، فیصل آباد، اوکاڑہ، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے بعد علاقوں میں دھند پڑی ہے۔ بالائی سند ھ کے اضلاع سکھر، لاڑکانہ، روہڑی، پڈعیدن اور جیکب آباد میں رات اور صبح کے اوقات میں دھند چھائے رہنے کا امکان ہے جبکہ دیگر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق صوبہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک جبکہ کوئٹہ، ژوب، پشین، قلعہ عبد اللہ، تربت، کیچ اور پنجگور میں ہلکی بارش اور برفباری ہوسکتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے بیشتراضلاع میں موسم سرد اور خشک جبکہ بالائی علاقوں میں مطلع ابر آلود رہے گا۔ چترال، سوات اور دیر کے اضلاع میں ہلکی بارش اور برفباری کا امکان ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب اور بالائی سندھ کے بیشتر میدانی علاقے جبکہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع شدید دھند کی لپیٹ میں رہے۔ سب سے زیادہ سردی اسکردو میں پڑی جہاں کا درجہ حرارت منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ملک بھر میں شدید سردی کے باعث ٹھنڈ کے ریکارڈ پر ریکارڈ ٹوٹ گیا تاہم سبی اور گردونواح میں سردی کا 100 سالہ ،لاہور میں 2019 کا دسمبر 17 برس کاسرد ترین مہینہ ریکارڈ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں سردی کی شدت بدھ کو بھی برقرار رہی تاہم شدید سردی کے باعث ٹھنڈ کے ریکارڈ پرریکارڈ ٹوٹے، سبی اورگردونواح میں سردی کا 100سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جبکہ لاہور میں 2019ءکا دسمبر17برس کا سرد ترین مہینہ ریکارڈ کیا گیا۔ شہر میں سردی کی لہربرقرار،گزشتہ روز سورج نے بادلوں کی اوڑھ سے جھانکا تودھند کی شدت میں کمی آئی۔شہر میں صبح اور شام کے اوقات میں دھند کے ڈیرے جبکہ دوپہر میں سورج نکلنے سے سردی کی شدت میں کمی آئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز شہر میں کم سے کم درجہ حرارت 4 اور زیادہ سے زیادہ 12 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ہوا میں نمی کا تناسب 90 سے75 فیصد تک ہے، جبکہ ہوا پانچ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے۔ ماہرموسمیات محمد ثاقب نے کہا کہ پانچ جنوری سے مغربی ہواوں کا تیسرا سلسلہ پاکستان میں داخل ہوگا، جس کے باعث شہر میں ہلکی بارش ہونے کاامکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے رواں ماہ جنوری بھی معمول سے زیادہ سرد مہینہ رہنے کی پیش گوئی کر دی۔

ملکی معیشیت مستحکم کرنے میں کا میاب ہو گئے ،جلد مشکل دن گزر جائینگے،عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیرِ اعظم عمران خان نے اشیائے خورودونوش میں ملاوٹ پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاوٹ کے مرتکب عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ایسے افراد محض چندسکوں کے عوض عوام کی زندگیوں اور صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں ایسے عناصر کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جائے ، ملاوٹ کے خاتمے کےلئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی کو برو¿ے کار لایا جائے، وہ ہر ہفتے اس حوالے ے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیش رفت کا جائزہ لیں گے جبکہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلا س میں شہری علاقوں میں دودھ میں 44.2فیصد اور دیہی علاقوں میں 50.5فیصد پانی اور کیمیکل کی ملاوٹ کا انکشاف کیا گیا ہے ۔ بدھ کو یہاں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک بھر میں اشیائے ضروریہ (آٹا، چاول، گھی، چینی، دالیں، سبزی وغیرہ) کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د، معاون ِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان، وفاقی سیکرٹری صاحبان، پنجاب، خیبرپختونخواہ اور سندھ کے چیف سیکرٹری صاحبان و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے ۔ اجلاس میں وفاقی حکومت میں رائج ”درست دام“اپلیکیشن کے نظام کو صوبوں کے بڑے شہروں میں متعارف کرانے میں پیش رفت، دودھ، ملاوٹ، خوردنی تیل، گوشت، مصالحوں، دالوں، چائے کی پتی و دیگر کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کے خلاف کریک ڈاو¿ن، اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد پر نظر رکھنے اور مستقبل کی ضروریات کے مدنظر تخمینوں کے حوالے سے خصوصی سیل کے قیام،اجناس کی براہ راست فروخت اور کسانوں کی سہولت کے لئے تحصیل کی سطح پر ”کسان مارکیٹ“کے قیام کے حوالے سے پیش رفت اور شہری اور دیہی علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ جیسے معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم عمران خان سے مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہی نے بھی ملاقات کی۔ ملکی اور پنجاب کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور ق لیگ رہنما مونس الہی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا بھی شریک تھے۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پنجاب کے سیاسی معاملات پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ وزیراعظم نے مونس الہی سے گفتگو میں حکومتی معاملات میں ق لیگ کے مثبت کردار اور تعاون کی تعریف کی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں نیا سال ترقی و خوشحالی کا سال ہوگا۔ ایئریونیورسٹی ساو¿تھ کیمپس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 60 کی دہائی کا ایک دور تھا جب مشرق وسطیٰ سے لوگ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے، لیکن پھر ماضی میں ہم نے تعلیم کے شعبے پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے ہم جدید دور میں وہ کامیابیاں حاصل نہیں کرسکے جو کر سکتے تھے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی سے مستفید ہونا ضروری ہے، مصنوعی انٹیلی جنس سے انقلاب آنے والا ہے جس کے لئے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار بڑھانا انتہائی ناگزیر ہے، محدود وسائل کے باوجود تعلیم کو ترجیح دینا ہوگی، ہم نے اداروں کومضبوط کرنا ہے ہمارا ہدف سسٹم کو ٹھیک کر کے میرٹ سسٹم لانا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ برے دن آزمائش کے لیے آتے ہیں اور آزمائشوں سے نکل کر قومیں مٹتی نہیں مضبوط بن کرابھرتی ہیں، انشا اللہ پاکستان برے دنوں سے جلد نکل جائے گا، تعلیم کے شعبے میں درپیش مالی رکاوٹیں عارضی ہیں، پچھلا سال بڑا مشکل سال تھا ہماری عوام کو مشکل وقت سے گزرنا پڑا لیکن اب معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور ہم ملک کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، 2020 ترقی اور خوشحالی کا سال ہے۔ بڑے انسان کےخواب بھی بڑے ہوتے ہیں لیکن ہم بڑی سوچ سوچنے سے ڈرتے ہیں، انسان جو چیز تصور کر سکتا ہے وہ اسے بنا بھی سکتا ہے، اگر پاکستان کے نوجوانوں کو مواقع ملیں تو یہ بہت تیزی سے ترقی کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ معاشی مشکلات پر قابو پالیا گیا ہے، 2020 خوشحالی اور ترقی کا سال ہوگا۔ماضی کے حکمرانوں کا پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا ویژ ن تھا جو بہت چھوٹا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ برے وقت میں اللہ تعالیٰ ایک قوم کوآزماتا ہے اور جیسے ہی قوم بُرے وقت کی آزمائش سے نکلتی ہے تو اور مضبوط ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم میں بہت زیادہ پوٹینشل ہے، ملک میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے ، اوورسیز پاکستانیوں کوجب مواقع ملتے ہیں تو بڑی تیز ی سے کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ٹارگٹ پاکستان کا نظام ٹھیک کرکے میرٹ لے کرآنا ہے، تعلیم کو وہ توجہ دینی ہے جو ماضی میں نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں ہماری یونیورسٹیاں عالمی معیار کی تھیں ، مڈل ایسٹ سے بچے ادھر پڑھنے آیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہم نے اس طرف توجہ نہیں دی جس کے بعد ہمارا تعلیمی معیارگرتا گیا۔انہوں نے کہا کہ بڑے انسانوں کا ویژن بڑا ہوتا ہے ، ایک انسان کا جتنا بڑا خواب ہو ، اتنا بڑا انسان بنتا ہے ، اسی طرح قوموں کا ویژن ہوتا ہے ، ماضی میں جب ہمارے حکمران کہتے تھے کہ ہم نے ایشین ٹائیگر بننا ہے تو وہ چھوٹا سا ویژن ہے میرا ویژن اس بھی بڑا ہے ، میں یہ کہتا تھا کہ ہم نے ریاست مدینہ کا ماڈل بنانا ہے کہ وہ چھوٹی سے قوم جوعرب تھے جن کو کوئی پوچھتا نہیں تھا۔ وہ اٹھے کھڑے ہوئے اوردنیا کی دو بڑی سپر پاورز کو روند ڈالا۔

بلاول حکومتی اتحاد توڑنے کے لیے سر گرم ،حکومت کے اتحادیوں سے رابطے تیز

کراچی(وقائع نگار خصوصی)پاکستان پیپلزپارٹی نے متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم )پاکستان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا فیصلہ کرلیا۔بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماﺅں کو ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات کا ٹاسک دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت ے ایم کیوایم کے ساتھ مسلسل مذاکراتی عمل شروع کرنے کی ہدایت کردی پیپلزپارٹی کے مطابق ایم کیوایم کے ساتھ مذاکرات میں آئینی، سیاسی ،انتظامی پیکج پر بات ہوگی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کو میئر کے ماتحت کرنے پر بھی غور ہوسکتا ہے۔پیپلزپارٹی سندھ میں نیابلدیاتی ایکٹ لانے کو تیار ہے اور بلدیاتی کونسلز کے میئرز، چیئرمینز کو مزید مالی وانتظامی اختیارات دئیے جائیں گے۔ پیپلزپارٹی کا وفد اس ضمن میں جلد ایم کیوایم کے مرکز کا دورہ کرے گا۔ذرائع نے دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ میں نیا بلدیاتی ایکٹ لانے کو تیار ہوچکی ہے ، جس کے تحت میئرز،چیئرمینز کو مزید مالی وانتظامی اختیارات دیئے جائیں گے۔ذرائع پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کو میئر کے ماتحت کرنے پر بھی غور ہوسکتا ہے،یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت نے ایم کیوایم کے ساتھ مسلسل مذاکراتی عمل شروع کرنے کی ہدایت کی ہے جس میں ایم کیوایم کے ساتھ مذاکرات میں آئینی،سیاسی،انتظامی پیکج پر بات ہوگی۔