بیٹی کو دینی تعلیم دلائی ‘جانے کس جرم کی سزا ملی :حریم کے والد کا بیان

لاہور(شوبزڈیسک)ٹک ٹاک کی دنیا میں آکر معروف ہونیوالی حریم شاہ کے والد کی بھیگی آنکھوں سے وڈیو وائرل ہو گئی جس میں وہ اپنی بیٹی کی ہدایت کی دعا مانگ رہے ہیں ۔ ضرار حسین نے وڈیو میں کہا کہ انہوں نے اپنی بیٹی حریم شاہ جس کا اصل نام فضہ حسین ہے کو کالج کی تعلیم کے بجائے دینی تعلیم دلوائی اور اسے عالمہ بنانا چاہا لیکن مجھے جانے کونسے گناہوں کی سزا ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کو ایک بار ناراض کیا تھا اور بعدازاں معافی مانگ لی تھی ممکن ہے اس دوران والد صاحب کی کوئی بددعا اثر کر گئی ہو۔ سوشل میڈیا پر حریم شاہ کے فین اور دیگر صارفین اسے بہت سخت الفاظ میں برا بھلا کہہ رہے ہیں کئی صارفین کا کہنا ہے کہ حریم شاہ نے اپنے ضعیف والد کو ستایا ہے ایسی اولاد تو پیدا ہی نةہ ہو تو اچھا ہے۔ حریم شاہ کے والد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو اس لئے یونیورسٹی کی تعلیم نہ دلوائی کہ قبیلے والے باتیں نہ کریں۔لیکن اس نے دینی تعلیم حاصل کر کے بھی مجھے رلا دیا۔تیرہ منٹ کی اس وڈیو کے دوران ضرار حسین کئی بار روئے۔ادھر افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ حریم شاہ ان دنوں آذر بائجان کے دارلحکومت باکو میں نیشنلٹی کی کوششوں میں مصروف ہے اور زیر زمین چلی گئی ہیں۔

پاک بنگلہ دیش کرکٹ سیریز میں اہم بریک تھرو کا امکان

لاہور(نیوزایجنسیاں)پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ میں رابطوں میں تیزی آ گئی، بنگلا دیش کی ٹیم کو ٹیسٹ کھیلنے کے لیے ضرور آنا چاہیے، پی سی بی کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایک دو روز میں مثبت جواب ملنے کی امید ہے۔ پاک بنگلا دیش دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کیلئے پی سی بی کی بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی نہ کو ہاں میں بدلنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس دورے کے دوران مہمان ٹیم نے دو ٹیسٹ میچز اور تین ٹی ٹونٹی میچز کھیلنا ہے۔پی سی بی کی طرف سے موقف اپنایا گیا ہے کہ 3 ٹی ٹوئنٹی مستقبل میں کھیل لیں گے۔ مہمان ٹیم کو ٹیسٹ کھیلنے کیلئے پاکستان ضرور بھیجا جائے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے ببانگ دہل موقف اپناتے ہوئے کہا کہ کسی صورت ہوم سیریز بنگلا دیش میں کھیلنے کا کوئی آپشن زیر زیر غور نہیں۔ ٹیسٹ میچز صرف پاکستان میں ہی ہونگے۔پاکستان کرکٹ بورڈ اور بی سی بی کے سربراہان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جبکہ دونوں بورڈ کے درمیان ای میلز کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ پی سی بی کو بنگلہ دیش بورڈ سے ایک دو روز میں مثبت خبر ملنے کا یقین ہے۔یاد رہے کہ بنگلا دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر نظم الحسن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صرف ٹی ٹونٹی سیریز کھیلیں گے، سینئر کھلاڑی ٹی ٹونٹی کھیلنے سے بھی ہچکچا رہے ہیں۔ جبکہ ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔واضح رہے کہ بنگلا دیش کرکٹ ٹیم نے جنوری اور فروری میں پاکستان میں سیریز کھیلنے کے لیے آنا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے موقف اپنایا گیا ہے کہ اگر بنگلا دیشی ٹیم پاکستان کھیلنے نہیں آتی تو آئی سی سی میں قانونی چارہ جوئی کا بھی آپشن ہے۔

عثمان خالد بٹ سے شادی؟ مایا علی کا جواب سامنے آگیا

پاکستان کی نامور اداکارہ مایا علی اور اداکار عثمان خالد بٹ کئی پروجیکٹس میں اکٹھے کام کرچکے ہیں جبکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے کافی اچھے دوست بھی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مداحوں کو ہمیشہ ایسا لگا کہ ان کے درمیان رومانوی تعلق بھی ہے۔یہ دونوں متعدد ایونٹس میں بھی ایک ساتھ نظر آئے جبکہ انہوں نے کئی کئی ملبوسات کے برینڈز کے لیے ریمپ پر ایک ساتھ واک بھی کی۔سوشل میڈیا پر بھی یہ دونوں ایک ساتھ کئی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرچکے ہیں۔تاہم کچھ عرصے سے مایا علی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر عثمان خالد بٹ کے ہمراہ کوئی تصویر شیئر نہیں کی جس پر ایک مداح نے مایا علی سے عثمان خالد بٹ کے ساتھ شادی کے حوالے سے سوال کرلیا۔مایا علی نے نئے سال کے موقع پر انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر شیئر کی جس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ 2020 کے لیے تیار ہیں۔

بنگلہ دیش کا دورہ پاکستان: دونوں کرکٹ بورڈز تاحال کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیریز کے آغاز میں تین ہفتوں سے بھی کم وقت رہ گیا ہے لیکن ابھی تک پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کے انعقاد کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا اور دونوں فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔بنگلہ دیش نے رواں ماہ ٹی20 اور ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کا دورہ کرنا ہے جہاں بنگلہ دیشی حکام ٹی20 سیریز کے لیے ٹیم پاکستان بھیجنے کے لیے پر راضی ہیں لیکن وہ ٹیسٹ میچز پاکستان کے بجائے نیوٹرل مقام پر انعقاد کے خواہاں ہیں۔مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ دورہ پاکستان کے خواہش مندادھر سری لنکا کے کامیاب دورہ پاکستان اور ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی 10سال بعد بحالی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میچز بھی ملک میں ہی منعقد کرانا چاہتا ہے اور نیوٹرل مقام پر سیریز کی منتقلی کے مطالبے کو مسترد کر چکا ہے۔سیریز کے انعقاد کا وقت ہر گزرتے دن کے ساتھ قریب آتا جا رہا ہے لیکن دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز ابھی تک سی بھی بات پر متفق نہیں ہو سکے اور اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پی سی بی سے رابطے میں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ کھلاڑی پہلے پاکستان میں ٹی20 میچز کھیل لیں اور ہمارے کھلاڑی، کوچنگ اسٹاف اور سیکیورٹی ٹیم وہاں کھیل کر جائزہ لے لیں جس کے بعد ہم فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کہ ٹیسٹ میچز پاکستان میں کھیلیں گے یا نیوٹرل مقام پر سیریز کا انعقاد ہونا چاہیے۔گزشتہ ہفتے نظم الحسن نے کہا تھا کہ سینئر کرکٹرز نے ٹی20 میچز کے لیے دورہ پاکستان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے پاکستان سپر لیگ کے لیے 23بنگلہ دیش کرکٹرز نے خود کو رجسٹر کرایا تھا اور وہ یہ جانتے تھے کہ اس مرتبہ کا مکمل ایڈیشن پاکستان میں منعقد ہو گا لہٰذا بنگلہ دیشی بورڈ کا یہ دعویٰ کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بنگلہ دیش کیخلاف ٹیسٹ میچز کہیں اور منتقل کرنے سے انکارادھر بنگلہ دیشی ٹیم کے ہیڈ کوچ رسل ڈومینگو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ان سے کہا یا تو وہ ضرور پاکستان کا دورہ کرنا چاہیں گے۔کرک انفو کے مطابق دونوں فریقین کے کسی نتیجے پر پہنچنے کی صورت میں بنگلہ دیش جیسے تیسے ٹیم پاکستان بھیج دے گا تاہم پاکستان آنے سے قبل انہیں اپنی حکومت کی اجازت بھی درکار ہو گی۔

افغانستان :زمینی وفضائی حملے 3کمانڈرز سمیت 25طالبان ہلاک،2افغان فوجی جاں بحق

کابل(آئی این پی)افغانستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کئے گئے زمینی و فضائی آپریشن میں اکستانی کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے 3کمانڈر اور 2مقامی کمانڈروں سمیت 25طالبان ہلاک ہو گئے،سیکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں 19طالبان زخمی جبکہ 5افراد کو گرفتار کیا گےا ہے، جھڑپ میں 2افغان فوجی جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ افغان صوبہ قندھار میں تازہ آپریشن میں 14 طالبان دہشت گرد گروہ ہلاک ہوگئے۔ہوائی و زمینی فورسز نے شاہ ولی کوٹ ، خاکریز اور ضلع میونڈ میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ طالبان کو دہشت گردوں اور تباہ کن کارروائیوں کے دوران ان کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں طالبان کے دو مقامی کمانڈر اور تین پاکستانی کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے کمانڈر شامل ہیں۔ ترجمان 209شاہین کور کا کہنا ہے کہ افغان صوبہ فاریاب میں کی گئی کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 11طالبان جنگجو ہلاک اور 13 دیگر زخمی ہوگئے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ مقابلوں کے دوران کسی بھی شہری کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ سوائے ان دو افغان فوجیوں کے جو اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ایک زخمی ہوا۔طالبان نے اس سلسلے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ فاریاب کو افغانستان کے شمال میں ایک غیر محفوظ صوبوں میں سے ایک کے طور پرپہچانا جاتاہے جہاں طالبان عسکریت پسند سرگرم عمل رہتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر ،گھر گھر تلاشی کے دوران بھارتی فوج کا تشدد ،3کشمیری نوجوان شہید

سری نگر(آئی این پی)مقبوضہ کشمیر میں سرچ آپریشن کے دوران سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع راجوری میں تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا،سرکاری ذرائع نے ابھی تک ان شہادتوں کی اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی فوج کے ہاتھوں راجوڑی سیکٹر میں 3کشمیری نوجوان شہید ہو گئے ہیں۔نوجوانوں کو بھارتی فوجیوں نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرچ آپریشن کے وران شہید کیا۔ پولیس عہدیداران کا کہنا ہے کہ نوشہرہ کے علاقے میں 31دسمبر 2019کو آپریشن لانچ کیا گیا تھا۔سرکاری ذرائع نے ابھی تک ان شہادتوں کی اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج ، سی آر پی ایف اور پولیس نے عسکریت پسندوں کا سراغ لگانے کے لئے پورے نوشہرہ سیکٹر میں بڑے پیمانے پر مشترکہ آپریشن شروع کیا ۔ فورسز کو شبہ تھا کہعسکریت پسند دفاعی تنصیبات اور سویلین علاقوں کو نشانہ بنانے جیسی مخصوص کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔واض ح رہے کہ اس سے قبل رات گئے اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کے ہلاک دو فوجی جوانوں کی شناخت 29سالہ نائیک ساونت سندیپ رگونااتھ اور 25 سالہ رائفل مین ارجن میگر کے نام سے ہوئی ہے۔

ٹریفک چالان ،ٹول پلازہ فیس میں اضافہ کے خلاف ٹرانسپوٹرز کی ہڑتال ،مسافر پریشان مزدور بیروزگار

لاہور(خصوصی رپورٹر) پبلک اینڈ گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنے مطالبات کے حق میں ملک بھر میں پہیہ جام ڑتال کی ،انٹرسٹی سروس معطل ہونے سے مسافروںکو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاجبکہ گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کی وجہ سے سامان کی ترسیل نہ ہوسکی ، ہڑتال کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے ،ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ڈرائیوروں اور دیگر عملے کے ہمراہ داخلی اور خارجی راستے پر احتجاجی مظاہرے کئے جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا ،پولیس افسران اور ضلعی انتظامیہ نے ٹرانسپورٹرز کومسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرا دی ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پبلک اینڈ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے موٹروے پولیس کی جانب سے جرمانے کی شرح 750 سے 10 ہزار روپے تک بڑھانے ،ٹول پلازوں کی فیس کی شرح میں دگنا اضافہ کرنے ، تحصیل سطح پر لگائے گئے ٹول ٹیکس کے خاتمے ،کسٹم حکام کی جانب سے گاڑیوں کی چیکنگ اور اڈوں پر ناجائز چھاپوں،ایکسل ویٹ شیڈول پر فوری عملدرآمد ، مزدہ ٹرک کو شیڈول میں شامل اور وزن 13 ٹن کرنے ،روٹ پرمٹ کی معیاد کم کرنے اور روٹ پرمٹ فیس میں اضافے کے خلاف پہیہ جام ہڑتال کی ۔ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے انٹرسٹی اے سی اورنان اے سی سروس معطل رکھی گئی جس کی وجہ سے ہزاروں مسافر وںکو مشکلات کا سامناکرنا پڑا اوروہ پبلک ٹرانسپورٹ کے انتظار میں گھنٹوں انتظار کی سولی پر لٹکے رہے ۔پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہونے سے ریلوے اسٹیشنزپر مسافروں کا انتہائی رش رہا اور مسافر وں نے ٹرینوں میں کھڑے ہو کر سفرکیا ۔ دوسری جانب گڈ زٹرانسپورٹرز نے بھی اپنی سروس معطل رکھی جس کی وجہ سے انٹر سٹی سامان کی ترسیل نہ ہو نے کی وجہ سے تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور بھی کام نہ ملنے کی وجہ سے خالی ہاتھ گھروں کو واپس لوٹ گئے ۔الائنس کے عہدیداروںعصمت اللہ نیازی اور دیگر نے کہا کہ ٹرانسپورٹ انڈسٹری سے متعلق قانون سازی کے معاملات میں ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے ۔حکومت اور انتظامیہ کو کئی ماہ سے مطالبات سے آگاہ کر رہے ہیں لیکن شنوائی نہ ہونے پر احتجاج پر مجبورہوئے ۔ ٹرانسپورٹرز نے ڈرائیورز اور دیگرعملے کے ہمراہ خارجی اورداخلی راستوں پر احتجاج کیا ۔ ٹرانسپورٹرز نے یتیم خانہ چوک میں دھرنا دے کر اور ٹائر کو آگ جلا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ ٹرانسپورٹرنے بابو صابوچوک میں بھی گاڑیاں کھڑی کر کے احتجاج کیا جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا ۔پولیس کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے متوقع احتجاج کے پیش نظر پنجاب اسمبلی کے اطراف میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے اور پولیس کی بھاری نفری کو تعینات رکھاگیا ۔ علاوہ ازیں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے الائنس کے عہدیداروں سے مذاکرات کئے گئے اورانہیں مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ۔ٹریفک جرمانوں کی شرح میں اضافے کے تناظر میں کمشنر لاہور سیف انجم اور سی سی پی او ذوالفقار حمید نے ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں سے مذاکرات کئے اور ان کے مطالبات کے حل کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سی سی پی او آفس میں ہونے والے مذاکرات میں ڈی آئی جی موٹرویز ارسلان احمد، ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید، صدر ٹرانسپورٹرز رہبر کمیٹی عصت اللہ نیازی، حاجی خالد، حاجی شیر علی،علیم بٹ، نبیل احمد، جاوید بٹ، چودھری سلطان محمود، عدنان مجید گجر، رانا شریف، تنویر جٹ اور دیگر نے شرکت کی۔ سی سی پی او نے مذاکراتی وفد سے کہا کہ حکومت کی طرف سے ٹریفک جرمانوں پر نظرثانی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔ جہاں تک دیگر معاملات کا تعلق ہے تو ٹریفک پولیس اور موٹر وے پولیس سے متعلق شکایات پر جوائنٹ کمیٹیاں تشکیل دیں گے۔ ذوالفقار حمید نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز سے متعلق حکومت کی طرف سے فیصلے کا انتظار کیا جائے اور عوام کی تکلیف کا خیال رکھا جائے۔ کمشنر سیف انجم نے کہا کوئی بھی نہیں چاہتا کہ سڑکوں پر ٹریفک کا پہیہ رکے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افسر مل کر ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کریں گے۔موٹروے اور جی ٹی روڈ پر ٹریفک جرمانوں کی شراح میں اضافے اور ٹول پلازہ کی فیس کی شرح میں اضافہ سمیت 9 مطالبات کی حمایت میں گزشتہ روز ملک بھر کے ٹرانسپورٹروں نے پہیہ جام ہڑتال کردی۔ جس کے نتیجے میں نہ صرف لاہور سے باہر جانیوالے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بیرون شہر سے سبزیاں اور پھل بھی لاہو نہ پہنچ سکے۔ آل پاکستان پبلک اینڈ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کی کال پر کی جانے والی پہیہ جام ہڑتال اور اس سلسلے میں نکالی جانیوالی احتجاجی ریلیوں کو روکنے کے لئے پولیس مداخلت پر ٹرانسپورٹروں نے شہر کے مختلف مقامات پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور سڑکیں بند کردیں۔ احتجاج ٹرانسپورٹروں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ فیصلے کے مطابق آل پاکستان پبلک اینڈ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے شہر کے بارہ مقامات سے ٹرانسپورٹروں کو احتجاجی ریلیوں ک شکل میں ناصر باغ پہنچنے کی ہدایات کر رکھی تھیں جبکہ دوسری طرف پولیس نے ان ریلیوں کو شہر میں داخلے سے روکنے کیلئے مختلف اقدامات اٹھا رکھے تھے۔ جن کے تحت گورنر ہاﺅس پنجاب اسمبلی ٹاﺅن ہال سمیت شہر کے دیگر حساس مقامات پر صبح ہی سے پولیس سمیت واٹرکین تعینات کر رکھے تھے۔ الائنس کی ہدایت پر بعض ریلیوں کو بابو صابو انٹرچینج پر پہنچنا تھا لیکن پولیس نے ریلیوں کو ناکام بنانے کیلئے ریلیوں میں شامل ٹرانسپورٹ کی نہ صرف پکڑ دھکڑ شروع کردی بلکہ ڈرائیوروں سے گاڑیاں چھین کر تھانوں میں بند کردیا گیا۔ گاڑیوں کے کاغذات قبضہ میں لے لئے گئے۔ گاڑیوں کی چابیاں چھین لی گئیں۔ پولیس نے شرکا کی جانب آنیوالے راستوں کو بڑے بڑے کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا۔ جس پر ریلیوں کے شرکاءنے سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کر کے وہیں دھرنا دے دیا۔ آل پاکستان پبلک اینڈ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کی پہیہ جام ہڑتال کی وجہ سے لاری اڈہ اور نیازی اڈہ سمیت دیگر اڈوں سے پبلک ٹرانسپورٹ روانہ ہوئیں۔ جس کے باعث مسافروں نے اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کیلئے لاہور ریلوے سٹیشن کا رخ کیا۔ جہاں مسافروں کا ایک بڑا رش اکٹھا ہوگیا۔ دھند کی وجہ سے مسافر ٹرینوں کی آمد و رفت کے شیڈول کے متاثر ہونے کے باعث لاہور سے باہر جانیوالے مسافروں کو ریلوے سٹیشن پر بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ہڑتال کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈوں پر سناٹے چھائے رہے۔آل پاکستان پبلک اینڈ گڈز ٹرانسپورٹر الائنس کے رہنما تنویر جٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے ٹرانسپورٹروں کی 200 گاڑیاں تھانے میں بند کردی ہیں جبکہ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پولیس نے گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور مزدوروں کو بھی حراست میں لیا ہے۔ آل پاکستان پبلک اینڈ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے رہنما عصمت اللہ نیازی نے کہا ہے کہ الائنس کے وفد کے گورنر پنجاب سے ہونیوالے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے جس کے بعد گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے گزشتہ شام 4 بجے ٹرانسپورٹروں کے مذاکراتی وفد کو دوبارہ طلب کرلیا تاہم عصمت اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرلئے جاتے ان کا پہیہ جام ہڑتال جاری رہے گی۔

آرمی چیف توسیع ،ہم نے غلطیاں کر کے اپنے سسٹم کو داغدار بنایا،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو رتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں 3 چار دن سے کہہ رہا ہوں کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملہ میں انڈیا نے آرمی ایکٹ میں تبدیلی کر کے 3 سال بڑھا دیئے اور سارا مسئلہ حل کر لیا۔ ہمارے ہاں سپریم کورٹ میں جا کر بحث ہوئی پھر یہ بحث شروع ہو گئی کہ سمری جو تھی وہ صدر کو بھیجنی تھی وہ غلط بھیجی گئی یا صحیح بھیجی گئی۔ اس پر بحث شروع ہو گئی۔ اب یہ صحیح راستہ کیا ہے اور بڑی آسانی سے اس کا رسپانس ہوا۔ مسلم لیگ ن نے تو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں حکومت کی مدد کرے گی جہاں پیپلزپارٹی کا تعلق ہے میں سفر میں تھا اس وقت پیپلزپارٹی اس پر بحث کر رہی تھی کہ انہوں نے کہا راستہ اختیار کرنا ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی سیاسی جماعت ہی اس قسم کے سوچ نہیں ہے کہ کم ہونا ہے بہرحال آرمی ایکٹ میں ترمیم کا قانون جو ہے منظور ہونا ہے سب نے اس پر اشیرباد دینی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آئندہ ایک دو دن میں یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق قانون منظور ہو جائے گا اور اس قانون میں کچھ اور چیزیں بھی شامل کر دی گئی ہیں مثلا بحریہ کے سربراہ کی مدت ملازمت کا تعین بھی کر دیا گیا اور فضائیہ کے سربراہ کی مدت ملازمت کا بھی تعین کر دیا گیا ہے اس طرح وزیراعظم کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ سمری صدر کو بھیجیں۔ یہ وہی بات ہے جو سپریم کورٹ میں بحث سے پہلے تھی صرف یہ کہ اس کو مس ہینڈل کیا گیا ہے اور سارے ہی اداروں میں ایک دوسرے سے کھینچا تانی میں ہر ایک نے دوسرے کی غلطیاں نکالیں اور اس طرح سے یہ مسئلہ بگڑتا چلا گیا حالانکہ یہی صورت حال انڈیا میں ہمارے سامنے ہے انڈیا میں نہ کسی سیاسی جماعت نے کوئی بحث کی اور نہ ہی میڈیا میں اس کا کوئی توا لگایا گیا نہ ہی پوری دنیا میں اس کو ایشو بنایا گیا بڑی خاموشی سے 62 سال سے عمر جو تھی 65 سال کر کے 3 سال کی توسیع دے دی اس کا اختیار بھی صدر کو دے دیا۔اب بھی اگر اس مسئلہ کو سنبھال لیا جائے تو میں یہ معاملہ ٹھیک ہو جائے کیونکہ پہلے ہی ہماری کافی جگ ہنسائی ہو چکی ہے۔ اوراس طرح سے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے آرمی چیف کی مدت ملازمتم پر بحث شروع ہے کچھ پارٹیاں ایک طرف ہیں کچھ دوسری طرف ہیںاور سب کے سب ایک بات پر متفق نہیں ہیں۔ ہمارا معاملہ کافی خراب ہو چکا ہے اس کو جلد سے جلد سمیٹنے کی ضرورت ہے۔ امید ہے اس معاملے میں آئے دنوں میں سارے معاملات سیٹل ہو جائیں گے اور خوش اسلوبی سے سیٹل ہو جائیں گے۔ اب ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ہم نے آپس میں کج بحثی کرکے اپنی پوزیشن، اپنے آرمی چیف کی پوزیشن، فوج کے مختلف شعبوں کے درمیان جو آرمی ایکٹ کا مسئلہ، یہی آرمی ایکٹ انڈیا میں ہے یہی آرمی ایکٹ پاکستان میں ہے صرف دو سال کے درمیان میں فرق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آرمی سب سے مقدم ہے یہ ہمارا قومی ادارہ ہے اس بارے میں کسی قسم کی کوئی بحث مباحثہ ہونا چاہئے نہ ہی عدالتوں میں اس کو کھینچنا چاہئے۔ محسوس یہ ہو کہ اس کی پوزیشن خراب ہو رہی ہے۔ انڈیا میں اس طرح سے یہ معاملہ زیربحث آیا ہی نہیں جس طرح سے ہمارے ہاں 6 ماہ سے یہ زیربحث ہے۔ موجودہ حکومت جو ہے اس میں خوبیاں بھی ہیں خامیاں بھی ہیں۔ اس کے باوجود انڈیا میں یہ کسی نے نہیں کہا۔ انڈیا میں گیارہ راستیں مرکزی حکومت کی بات نہیں مان رہیں اس کے باوجود کسی جگہ پر کسی نے اب تک نہیں کہا کہ وہ مودی کی حکومت کو نہیں مانتے، مودی کو کسی نے نہیں کہا کہ یہ سلیکٹڈ وزیراعظم ہے الیکٹڈ وزیراعظم ہے۔ ہم نے پہلے ہی بہت غلطیاں کی ہیں اپنے سسٹم کو داغدار کرنے کے لئے اور اپنی پوزیشن خراب کرنے کے لئے ہم آپپس میں لڑائی جھگڑا کی وجہ سے ساری پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی رہی اس کے بعد جو کامیاب ہوئے وہ اپنی اسمبلیوں میں رہیں خود مولانا فضل الرحمن جو کہتے ہیں میں ان اسمبلیوں کو نہیں مانتا انہوں نے ایک لفظ استعمال کیا کہ یہ گٹر اسمبلیاں ہیں۔یہ بہت نامناسب الفاظ ہے، حالانکہ اس گٹر اسمبلی میں ان کے صاحبزادے جو تھے وہ ایک کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور ساری سہولتیں لے رہے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے بہت ساری چیزوں میں غلطیاں کی ہیں وقت آ گیا ہے کہ اپنی علطیوں کو سمیٹیں اور آپس میں جو بھی لڑائی ہو اس کو الیکشن تک محدود رہنا چاہئے اس کو الیکشن کے طریقہ کار ہیں۔ فوج کی مداخلت سے اور یہ کہنے سے کہ ملک کا وزیراعظم وہ سلیکٹڈ وزیراعظم ہے اس کو سلیکٹ کیا ہے تو اس کو کس نے سلیکٹ کیا ہے۔ کیا کسی ایک حلقے میں بھی کوئی شکایت سامنے آئی کہ فوجی وردی میں ملبوس لوگوں نے کچھ لوگوں کو کہا ہو کہ ایک کو نہیں بی کو ووٹ دیں۔ پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ اگر کسی جگہ پر حتیٰ کہ زلزلے، بارش میں، سیلاب میں بھی ان معاملات میں جو شہری انتظامیہ کی مدد سے آرمی کو بلایا جا سکتا ہے تو یہ انتخابات کے لئے کیوں نہیں بلا سکتے۔ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو اس کو چاہئے کہ الیکشن کمیشن میں اس کی شکایت کر کے انتخابی عذر داری کرے۔ ثابت کرے کہ فلاں جگہ پر فلاں شخص کو فوجی لباس میں دیکھا کہ وہ ایک آدمی کو کہہ رہا ہے کہ آپ اے کو نہ ووٹ نہ دیں بلکہ بی کو ووٹ دیں۔ ایک بھی بات ایسی سامنے نہیں آئی۔ ہمیں غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہئے آرمی کو سیاست میں نہیں الجھانا چاہئے۔ فوج کا کام ملک کا دفاع ہے۔

متنا زعہ شہریت بل،مودی اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آیا ،مظاہرین کو لاکھوں روپے جرمانہ

نئی دہلی (نیٹ نیوز) انڈیا میں شہریت کے قانون کے خلاف ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے مختلف حصوں میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مظاہروںے دوران تشدد کے بعد جمعہ کو سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے اور مظاہروں پر مکمل پابندی ہے۔ اتر پردیش کے 75 اضلاع میں سے 21 میں انٹرنیٹ بند ہے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 19 تک پہنچ چکی ہے۔اس دوران جن مقامات پر 19 دسمبر کو مظاہروں میں تشدد ہوا تھا وہاں پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں، وڈیو فوٹیج اور اخباروں میں شائع ہونے والی تصاویر کی بنیاد پر بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی ہیں۔اس کے علاوہ حکومت نے سینکڑوں لوگوں کو یہ نوٹس بھیجا ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران پبلک پراپرٹی کو ہونے والے نقصان کا ہرجانہ دیں۔ اس ہرجانے کے بارے میں صرف 8 اضلاع کے ڈی ایم نے 498 لوگوں کی شناخت کی ہے اور رپورٹ حکومت کو بھیج دی ہے۔ سماجی کرکنان کے مطابق ان میں بیشتر مسلمان ہیں۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران پولیس کی جیپ کو آگ لگانے پر ساڑھے 7 لاکھ روپے وصول کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ وائرلیس سیٹ لاڈ سپیکر، ہوٹر کے توڑنے پر 31500 روپے وصول کیے جائیں گے۔ پولیس بیریکیڈ توڑنے پر ساڑھے تین لاکھ روپے ادا کرنا ہوں گے۔اس کے علاوہ مظاہروں میں مبینہ تشدد کی کوششوں پر قابو پاتے ہوئے ٹوٹنے والی پولیس کی لاٹھیوں اور گولیاں چلانے کا خرچ بھی مظاہرین ادا کریں گے۔انتظامیہ اس کے لیے اب تک کروڑوں روپے کے نوٹس بھیج چکی ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق مراد آباد میں 200 اور میرٹھ میں 48 لوگوں کو نوٹس بھیجا گیا ہے۔ لکھن میں 110، رام پور میں 79 مظفرنگر میں 73 کانپور میں 50 سنبل میں 26 بلند شہر میں 19 فیروز آباد میں 29 گورکھپور میں 34 اور مو میں 8 لوگوں کو نوٹس بھیجا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی مزید لوگوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔ لکھن میں جنہیں نوٹس جاری کیا گیا ان میں سے بعض اہم نام ریٹائرڈ پولیس آفیسر ایس آر داراپوری، کانگریس کی لیڈر اور اداکارہ صدف جعفر اور محمد شعیب ہیں۔اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی نے ہرجانہ وصول کرنے کے احکامات دیے ہیں، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے تمام کارروائی مکمل کی ہے۔ جن لوگوں کو نوٹس بھیجا گیا انہیں ایک ہفتے میں جواب دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ریاست کی پولیس کے آئی جی پروین کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی نوٹس بھیجے گئے ہیں لیکن اگر کوئی اپنی بیگناہی ثابت کر دیتا ہے تو اس پر غور کیا جائے گا۔ پولیس صرف ان سے ریکوری کرے گی جنہوں نے پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔تاہم کچھ ایسے افراد کو بھی نوٹس ملے ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ مظاہروں میں شامل ہی نہیں تھے۔ ان میں سے ایک لکھن کے علاقے چوک میں رہنے والے اطہر علی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں درزی کا کام کرتا ہوں۔ خاندان میں چھ لوگ ہیں۔ میں اکیلا کمانے والا ہوں۔ جس دن مظاہرے ہوئے میں گھر ہی میں بیٹھا تھا کیونکہ دکان بند تھی۔ اب مجھے ساڑھے تین لاکھ روپے کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔ میں کہاں سے بھروں گا سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ریاست میں پولیس کے ڈی جی اس طرح کے کیس کے بارے میں کہتے ہیں کہ پولیس ابھی بھی ویڈیو اور تصویریں دیکھ رہی ہے۔ ابھی پہچان کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ جو بھی کارروائی کرے گی پورے ثبوتوں کے ساتھ کرے گی۔ جو بے قصور ہیں انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں اور جو قصوروار ہیں انہیں بخشا بھی نہیں جائے گا۔کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے نوٹس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان میں سے ایک زلیخا اور اسلام کا خاندان ہے۔ زلیخا کہتی ہیں کہ ان کے شوہر دودھ بیچنے گئے ہوئے تھے اور گرفتار ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ گھر میں کھانے کے پیسے تو ہیں نہیں یہ ہرجانہ کہاں سے دیں اور کیوں دیں۔ بھارتی مسلمان خواتین کی جرات ،عزم اور استقلال نے مودی سرکار کو حیران کردیا، دلی کی 120 سال کی ریکارڈ سردی میں خواتین شیر خوار بچوں کے ساتھ باہر نکل ائیں۔تفصیلات کے مطابق نئی دہلی میں درجہ حرارت 2 ڈگری تک گر گیا لیکن شاہین باغ کی ہزاروں خواتین مسلسل 17ویں رات متنازع شہریت قانون کے خلاف چھوٹے بچوں کو لے کر باہر نکلیں اور دھرنا جاری رکھا۔متنازع قانون کے خلاف ہر عمر کی خواتین ساری رات سڑکوں پر رہیں، رضاکار کمبل، رضائیاں، گرم انڈے ، بریانی اور چائے لے کر احتجاج میں پہنچ گئے۔بھارتی سینئر صحافی برکھا دت بھی انوکھے احتجاج کو نظر انداز نہ کرسکیں، بوڑھے، بچے، جوان اپنی شہریت کے حق کے لیے احتجاج میں بیٹھے ہیں، کچھ لوگوں کو لگنے لگا ہے گویا یہ آزادی کی جنگ ہے۔رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کا اٹل فیصلہ ہے کہ انتہا پسندی کے آگے ڈٹے رہیں گے، مودی سرکار ان بھارتی مسلمانوں کو بھی مشکوک قرار دے رہی ہے جن کی جھریوں میں اس پورے خطے کی تاریخ چھپی ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے اب تک پولیس سے جھڑپوں میں 30 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔گزشتہ روز بھارتی ضلع بجنور کے علاقے نہٹور میں مودی سرکار کے شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کے دوران گولیاں لگنے سے 2 مسلم نوجوان محمد سلیمان اور محمد انس جاں بحق ہوگئے تھے۔مقتول سلیمان کے والد زاہد کا کہنا تھا کہ جب ہم اس مٹی میں پیدا ہوئے اور اسی مٹی میں دفن نہیں ہوں گے تو کہاں جائیں گے۔ ترمیمی قانون کے خلاف گزشتہ کئی دنوں سے احتجاجی مظاہرہ کر رہے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے بدھ کو سلسلہ وار بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ طلبا نے حکومت کے سامنے 7 مطالبات رکھے ہیں۔شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کر رہے جامعہ کے طالبات نے بدھ کو سلسلہ وار بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ طلبا نے حکومت کے سامنے شہریت ترمیمی قانون واپس لینے سمیت سات مطالبات رکھے ہیں۔ یونیورسٹی احاطہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کے مقام پر موجود طلبا و طالبات کے مطابق وہ سلسلہ وار بھوک ہڑتال کر رہے ہیں تاکہ ان کی بات حکومت تک پہنچے۔

بھارتی آرمی چیف مسلمانوں اور عیسائیوں سے دشمنی کے لیے مشہور ،ناگالینڈ میں 11مسیحی لڑکیوں سے زیادتی کا الزام

نئی دہلی(نیٹ نیوز) بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکونڈ روان عیسائی لڑکیوں کی عصمت دری میں ملوث نکلے۔جنرل منوج پرناگا لینڈ کی 11عیسائی لڑکیوں کی عصمت دری کا الزام ہے۔ تفصیلات کے مطابق 1991میں جنرل منوج ناگا لینڈ میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے ۔ناگا لینڈ میں تعیناتی کے دوران بھارتی آرمی چیف نے 11مسیحی خواتین کی آبروریزی کی جس سے خوش ہوکر بھارتی حکومت نے انہیں فل ٹائم کرنل کے عہدے پر ترقی دی تھی۔بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکونڈ نراوان مسلمانوں اور عیسائیوں سے دشمنی کے سبب مشہور ہیں۔کہا جارہا ہے کہ انتہا پسند مودی نے جان بوجھ کر منوج مکونڈ نراوان کا انتخاب کیا ، جس پر عیسائی خواتین کے ساتھ عصمت دری کا الزام ہے۔ آرمی چیف کو مودی بھارت میں خون ریزی کےلئے استعمال کرتے ہوئے گجرات کا واقعہ دوبارہ دہرا سکتا ہے۔ آرمی چیف جنرل منوج کو مودی نے بھارت میںمذہبی صہیونیت کو فروغ دینے کے لئے مقرر کیا ہے تاکہ اس کی گھناﺅنی کمانڈ میں بھارت میں ایک بار پھر مزید خونریزی کرائی جا سکے ۔