Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • دپیکا پڈوکون نے کہا ہے کہ پاکستانی اداکاراؤں کی طرح خوبصورت نظر آنے کے لیے انہوں نے کبھی سرجری نہیں کروائی۔
    • بالی ووڈ اپنی پہچان کھو بیٹھا، بڑی فلمیں کامیاب نہیں ہو رہیں: ثانیہ سعید
    • فلپائن میں 6.6 شدت کے زلزلے کے بعد 5.7 ریکٹر کا آفٹر شاک
    • کیریئر نہیں، فلسطینی بچوں کا مستقبل میری ترجیح ہے:ٹام ہارڈی
    • انتخابی پولز میں نیتن یاہو کی پوزیشن کمزور,ہارنے کا خطرہ
    • مشہور گانوں کے حقوق چوری ہوئے،ابرار الحق کا قانونی کارروائی کا اعلان
    • اسرائیلی افواج کو لبنان شام اور غزہ کے سیکورٹی زون میں روکنے کا فیصلہ
    • ہیملٹن کی فراری کے ساتھ پہلی فتح، اسپینش گراں پری جیت لی
    • برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی امریکا ایران معاہدے کے بعد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار
    • واٹس ایپ میں ایک بہترین فیچر کا اضافہ
    • فیفا ورلڈکپ جاپان کے مداحوں نے اسٹیڈیم میں صفائی کی روایت کو برقرار رکھا
    • نیتن یاہو میں پرکھنے کی صلاحیت نہی صدر ترمپ
    • امریکا اور ایران کی بڑی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اسحاق ڈار
    • روس نے رات بھر یوکرین پر 70 میزائل اور 611 ڈرون داغ دیے
    • امریکا ایران جنگ ختم معاہدہ طے پاگیا
    • آبنائے ہرمز کھولنے سے منجمد فنڈز کی ریلیز تک، امریکہ-ایران امن معاہدے کی 14 اہم شرائط سامنے آ گئیں
    • برازیل: 2 ہیلی کاپٹرٹکراگئے، معروف گلوکار اولیور ٹری سمیت 6 افراد جاں بحق
    • فیفا ورلڈ کپ 2026: جرمنی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم بن گئی
    • امریکہ میں طیارہ حادثہ، 12 افراد ہلاک
    • ایران امریکا معاہدہ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد گرگئیں
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    آرمی چیف توسیع ،ہم نے غلطیاں کر کے اپنے سسٹم کو داغدار بنایا،ضیا شاہد

    By Daily Khabrainجنوری 3, 2020
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو رتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں 3 چار دن سے کہہ رہا ہوں کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملہ میں انڈیا نے آرمی ایکٹ میں تبدیلی کر کے 3 سال بڑھا دیئے اور سارا مسئلہ حل کر لیا۔ ہمارے ہاں سپریم کورٹ میں جا کر بحث ہوئی پھر یہ بحث شروع ہو گئی کہ سمری جو تھی وہ صدر کو بھیجنی تھی وہ غلط بھیجی گئی یا صحیح بھیجی گئی۔ اس پر بحث شروع ہو گئی۔ اب یہ صحیح راستہ کیا ہے اور بڑی آسانی سے اس کا رسپانس ہوا۔ مسلم لیگ ن نے تو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں حکومت کی مدد کرے گی جہاں پیپلزپارٹی کا تعلق ہے میں سفر میں تھا اس وقت پیپلزپارٹی اس پر بحث کر رہی تھی کہ انہوں نے کہا راستہ اختیار کرنا ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی سیاسی جماعت ہی اس قسم کے سوچ نہیں ہے کہ کم ہونا ہے بہرحال آرمی ایکٹ میں ترمیم کا قانون جو ہے منظور ہونا ہے سب نے اس پر اشیرباد دینی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آئندہ ایک دو دن میں یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق قانون منظور ہو جائے گا اور اس قانون میں کچھ اور چیزیں بھی شامل کر دی گئی ہیں مثلا بحریہ کے سربراہ کی مدت ملازمت کا تعین بھی کر دیا گیا اور فضائیہ کے سربراہ کی مدت ملازمت کا بھی تعین کر دیا گیا ہے اس طرح وزیراعظم کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ سمری صدر کو بھیجیں۔ یہ وہی بات ہے جو سپریم کورٹ میں بحث سے پہلے تھی صرف یہ کہ اس کو مس ہینڈل کیا گیا ہے اور سارے ہی اداروں میں ایک دوسرے سے کھینچا تانی میں ہر ایک نے دوسرے کی غلطیاں نکالیں اور اس طرح سے یہ مسئلہ بگڑتا چلا گیا حالانکہ یہی صورت حال انڈیا میں ہمارے سامنے ہے انڈیا میں نہ کسی سیاسی جماعت نے کوئی بحث کی اور نہ ہی میڈیا میں اس کا کوئی توا لگایا گیا نہ ہی پوری دنیا میں اس کو ایشو بنایا گیا بڑی خاموشی سے 62 سال سے عمر جو تھی 65 سال کر کے 3 سال کی توسیع دے دی اس کا اختیار بھی صدر کو دے دیا۔اب بھی اگر اس مسئلہ کو سنبھال لیا جائے تو میں یہ معاملہ ٹھیک ہو جائے کیونکہ پہلے ہی ہماری کافی جگ ہنسائی ہو چکی ہے۔ اوراس طرح سے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے آرمی چیف کی مدت ملازمتم پر بحث شروع ہے کچھ پارٹیاں ایک طرف ہیں کچھ دوسری طرف ہیںاور سب کے سب ایک بات پر متفق نہیں ہیں۔ ہمارا معاملہ کافی خراب ہو چکا ہے اس کو جلد سے جلد سمیٹنے کی ضرورت ہے۔ امید ہے اس معاملے میں آئے دنوں میں سارے معاملات سیٹل ہو جائیں گے اور خوش اسلوبی سے سیٹل ہو جائیں گے۔ اب ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ہم نے آپس میں کج بحثی کرکے اپنی پوزیشن، اپنے آرمی چیف کی پوزیشن، فوج کے مختلف شعبوں کے درمیان جو آرمی ایکٹ کا مسئلہ، یہی آرمی ایکٹ انڈیا میں ہے یہی آرمی ایکٹ پاکستان میں ہے صرف دو سال کے درمیان میں فرق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آرمی سب سے مقدم ہے یہ ہمارا قومی ادارہ ہے اس بارے میں کسی قسم کی کوئی بحث مباحثہ ہونا چاہئے نہ ہی عدالتوں میں اس کو کھینچنا چاہئے۔ محسوس یہ ہو کہ اس کی پوزیشن خراب ہو رہی ہے۔ انڈیا میں اس طرح سے یہ معاملہ زیربحث آیا ہی نہیں جس طرح سے ہمارے ہاں 6 ماہ سے یہ زیربحث ہے۔ موجودہ حکومت جو ہے اس میں خوبیاں بھی ہیں خامیاں بھی ہیں۔ اس کے باوجود انڈیا میں یہ کسی نے نہیں کہا۔ انڈیا میں گیارہ راستیں مرکزی حکومت کی بات نہیں مان رہیں اس کے باوجود کسی جگہ پر کسی نے اب تک نہیں کہا کہ وہ مودی کی حکومت کو نہیں مانتے، مودی کو کسی نے نہیں کہا کہ یہ سلیکٹڈ وزیراعظم ہے الیکٹڈ وزیراعظم ہے۔ ہم نے پہلے ہی بہت غلطیاں کی ہیں اپنے سسٹم کو داغدار کرنے کے لئے اور اپنی پوزیشن خراب کرنے کے لئے ہم آپپس میں لڑائی جھگڑا کی وجہ سے ساری پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی رہی اس کے بعد جو کامیاب ہوئے وہ اپنی اسمبلیوں میں رہیں خود مولانا فضل الرحمن جو کہتے ہیں میں ان اسمبلیوں کو نہیں مانتا انہوں نے ایک لفظ استعمال کیا کہ یہ گٹر اسمبلیاں ہیں۔یہ بہت نامناسب الفاظ ہے، حالانکہ اس گٹر اسمبلی میں ان کے صاحبزادے جو تھے وہ ایک کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور ساری سہولتیں لے رہے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے بہت ساری چیزوں میں غلطیاں کی ہیں وقت آ گیا ہے کہ اپنی علطیوں کو سمیٹیں اور آپس میں جو بھی لڑائی ہو اس کو الیکشن تک محدود رہنا چاہئے اس کو الیکشن کے طریقہ کار ہیں۔ فوج کی مداخلت سے اور یہ کہنے سے کہ ملک کا وزیراعظم وہ سلیکٹڈ وزیراعظم ہے اس کو سلیکٹ کیا ہے تو اس کو کس نے سلیکٹ کیا ہے۔ کیا کسی ایک حلقے میں بھی کوئی شکایت سامنے آئی کہ فوجی وردی میں ملبوس لوگوں نے کچھ لوگوں کو کہا ہو کہ ایک کو نہیں بی کو ووٹ دیں۔ پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ اگر کسی جگہ پر حتیٰ کہ زلزلے، بارش میں، سیلاب میں بھی ان معاملات میں جو شہری انتظامیہ کی مدد سے آرمی کو بلایا جا سکتا ہے تو یہ انتخابات کے لئے کیوں نہیں بلا سکتے۔ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو اس کو چاہئے کہ الیکشن کمیشن میں اس کی شکایت کر کے انتخابی عذر داری کرے۔ ثابت کرے کہ فلاں جگہ پر فلاں شخص کو فوجی لباس میں دیکھا کہ وہ ایک آدمی کو کہہ رہا ہے کہ آپ اے کو نہ ووٹ نہ دیں بلکہ بی کو ووٹ دیں۔ ایک بھی بات ایسی سامنے نہیں آئی۔ ہمیں غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہئے آرمی کو سیاست میں نہیں الجھانا چاہئے۔ فوج کا کام ملک کا دفاع ہے۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    بالی ووڈ اپنی پہچان کھو بیٹھا، بڑی فلمیں کامیاب نہیں ہو رہیں: ثانیہ سعید

    فیفا ورلڈکپ جاپان کے مداحوں نے اسٹیڈیم میں صفائی کی روایت کو برقرار رکھا

    امریکا اور ایران کی بڑی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اسحاق ڈار

    تازہ ترین

    فیفا ورلڈکپ جاپان کے مداحوں نے اسٹیڈیم میں صفائی کی روایت کو برقرار رکھا

    آبنائے ہرمز کھولنے سے منجمد فنڈز کی ریلیز تک، امریکہ-ایران امن معاہدے کی 14 اہم شرائط سامنے آ گئیں

    برازیل: 2 ہیلی کاپٹرٹکراگئے، معروف گلوکار اولیور ٹری سمیت 6 افراد جاں بحق

    فیفا ورلڈ کپ 2026: جرمنی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم بن گئی

    امریکہ میں طیارہ حادثہ، 12 افراد ہلاک

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.