قصور: 500 روپے کے عوض 12 سالہ بیٹی کو فروخت کرنے کے الزام میں باپ پر مقدمہ

قصور میں ایک شخص نے مبینہ طور پر دوسرے فرد سے چند روپے وصول کرکے اپنی نابالغ بیٹی کے ساتھ جنسی استحصال کرنے کی اجازت دے دی۔ پولیس نے بچی کی والدہ کی شکایت پر دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جبکہ ڈی پی او زاہد نواز مروت نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے حکام پر مشتمل ٹیم تشکیل دے دی۔بچی کی والدہ کی جانب سے تھانے میں دائر کی گئی شکایت کے مطابق ان کے شوہر نے ایک شخص کو گھر میں بلایا اور اسے 500 روپے کے بدلے اپنی 12 سالہ بیٹی کا جنسی استحصال کرنے کی اجازت دی۔مزید پڑھیں: بھارتی فلم ساز کا ’ریپ‘ کو قانونی قرار دینے کا مطالبہدرج کردہ شکایت میں والدہ نے بتایا کہ وہ گھر سے دور کام پر گئی ہوئی تھیں جب یہ واقعہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ جب وہ کام سے واپس گھر آئیں تو ان کی بیٹی نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں انہیں بتایا، جس کے بعد دونوں ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔بعد ازاں پولیس نے طبی معائنے کے لیے متاثرہ لڑکی کو پتوکی تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال منتقل کیا، جہاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ ریپ کی کوشش کا ہے۔یہ بھی پڑھیں: ’گینگ ریپ‘ کا ڈراما رچانے پر 19 سالہ لڑکی کو سزا کا سامناواضح رہے کہ والد کو رقم دینے والے ملزم پر اس سے قبل 2013 میں بچوں پر تشدد کا مقدمہ درج کیا گیا ھا۔علاوہ ازیں پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 (ریپ)، 371-اے (کسی شخص کو جسم فروشی کے لیے فروخت کرنا)، 371-بی (کسی شخص کو جسم فروشی کے لیے خریدنا) کے تحت نیا مقدمہ درج کرکے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارنے کا آغاز کردیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں قصور بچوں کے ریپ، زیادتی کے واقعات سے لرز اٹھا ہے۔جنوری 2018 میں 5 روز سے لاپتہ رہنے کے بعد 6 سالہ بچی زینب انصاری کی لاش قصور میں شہباز خان روڈ کے قریب کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور لوگوں کی جانب سے ان واقعات میں ملوث لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔زینب کے کیس کے مرکزی ملزم عمران علی کو 23 جنوری 2018 کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور 12 جون کو عدالت عظمیٰ نے ملزم کی سزائے موت کے خلاف اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم نے 8 دیگر بچوں کے ساتھ اسی طرح کا جرم کیا، بعد ازاں عمران علی کو گزشتہ برس اکتوبر میں پھانسی دے دی گئی تھی۔اس سے قبل 2015 میں قصور کے حسین خان والا گاؤں نے دنیا بھر کی توجہ اس وقت حاصل کی تھی جب وہاں چائلڈ پورنوگرافی کا معاملہ سامنے آیا تھا، اس وقت سیکڑوں ایسی ویڈیو کلپس سامنے آئی تھیں جس میں ایک گروپ کم عمر لڑکے اور لڑکیوں کو جنسی عمل کرنے اور اس کی فلم بندی کرنے پر مجبور کرتھا تھا۔یہ گروپ ان ویڈیوز کو ان بچوں کے اہل خانہ کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا اور ان سے لاکھوں روپے نقد اور جیولری کی صورت میں وصول کرتا تھ

ایران پر حملہ کے خلاف امریکہ ،پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ،ٹرمپ کے پتلے نذر آتش

واشنگٹن، نیویارک، اسلام آباد، کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک+ نیوز ایجنسیاں) ایران امریکہ کے درمیان بڑھتے وئے جنگ کے امکانات کے پیش نظر سیکڑوں افراد نے امریکی شہروں میں مظاہرے کیے، نوجوانوں نے امریکی فوج واپس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔مظاہرین نے ٹرمپ ہوٹل کے باہر ٹرمپ کا پتلا اٹھا کر امریکی پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ خواتین مظاہرین نے جنرل قاسم سلیمانی کے حق میں بھی کتبے اٹھا رکھے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور لاس اینجلس میں امریکی شہریوں نے جنگ کے خالف مظاہرے کئے، نوجوانوں نے وائٹ ہاو¿س کے باہر بھی جنگ کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ٹرمپ ہوٹل کے باہر ٹرمپ کا پتلا اٹھا کر امریکی پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ خواتین مظاہرین نے جنرل قاسم سلیمانی کے حق میں بھی کتبے اٹھا رکھے تھے۔دریں اثنا نیویارک، شکاگو سمیت دیگر شہروں میں بھی ایران پر امریکی پابندیوں اور جنگ کے خلاف مظاہرے کئے گئے، مظاہرین نے عراق اور افغانستان سے امریکی فوجیں واپس بلانے کا بھی مطالبہ کیا۔ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عراق میں ایرانی جنرل پر حملے کے خلاف مظاہرہ کیا گیا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ واشنگٹن کے علاوہ میم فلس، میامی، نیو یارک، سینٹ لوئس اور سان فرانسسکو میں بھی مظاہرے ہوئے جس میں عوام نے NowarwithIran کے بینر اٹھا رکھے تھے۔دوسری جانب وائٹ ہاس نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو عراق میں نشانہ بنانے سے متعلق کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا نوٹیفکیشن خفیہ ہے اس لیے عوام کے سامنے نہیں لایا جا سکے گا جس پر امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے اس اقدام کو انتہائی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف حملے کے جواز، وقت کے چنا اور انداز سے متعلق سنجیدہ اور فوری نوعیت کے سوال ہیں جن کے جوابات آنے چاہیں۔نینسی پلوسی نے کہا کہ ایران کے خلاف فوج استعمال کرنےکی نہ اجازت لی گئی اور نہ ہی کانگریس سے مشاور ت کی گئی۔صدارتی امیدوار بننے کے ڈیموکریٹ خواہشمند برنی سینڈرز نے ڈیموکریٹ حلیف راو کھنہ کے ساتھ مل کر بل پیش کر دیا ہے جس کے تحت صدر ٹرمپ کو مجبور کیا جائے گا کہ اگر ایران کے خلاف جنگ ہو تو فنڈنگ کانگریس سے حاصل کرنا لازم ہو گا، دونوں نے کہا کہ کھربوں ڈالرز ایسی جنگ پر خرچ نہیں کیے جا سکتے جن کے ختم ہونے کا آثار تک نظر نہ آئے۔ترقی پسند تصور کیے جانے والے ڈیموکریٹ برنی سینڈرز نے کہا کہ ان کے اس اقدام کا مقصد پینٹاگان کے ہاتھ باندھنا ہے تاکہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی یکطرفہ کارروائی سے باز رہے۔امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے طاقتور ترین فرد برنی سینڈر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹرمپ کو اس اقدام پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ حملے سے قبل کانگریس کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔اب سابق قومی سلامتی کی مشیر سوسن رائس نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ کے اقدام نے امریکیوں کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔سوسن رائس کا کہنا تھا اوباما دور میں جنرل سلیمانی کو ہدف بنانے کی تجویز پیش نہیں کی گئی تھی، جنرل سلیمانی کو مارنے کی تجویز پیش کی گئی ہوتی تو فائدہ اور نقصان جانچتے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنرل سلیمانی کو مارنے سے امریکا کو فائدے سے زیادہ نقصان ہو گا۔جنرل سلیمانی کی ذمہ داریاں ان کے نائب کو سونپی گئی ہیں۔ القدس فورس کے نئے سربراہ بریگیڈیر جنرل اسماعیل قاآنی زیادہ محتاط سمجھے جاتے ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہےکہ وہ جنرل سلیمانی کی پالیسی کو آگے بڑھائیں گے۔کراچی اور اسلام آباد میں 2روز قبل امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر امریکا مخالف مظاہرے کئے گئے ۔وفاقی دارالحکومت اور صوبہ سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں امریکا مخالف ریلی کے مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔کراچی میںریلی کا آغاز فوارہ چوک پر سہ پہر 3بجے ہوا، ریلی کے شرکا نے قاسم سلیمانی کے کی تصاویر تھامی ہوئی ہیں اور امریکا مردہ باد کے نعرے لگارہے ہیں۔مظاہرین میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او)، جعفریہ الائنس، مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم)، تنظیم عذاداری اور شیعہ علما کونسل شامل ہیں۔احتجاجی ریلی میں شریک مظاہرین شاہین کمپلیکس کے راستے ٹاور اور پھر امریکی قونصل خانے جانے کا ارداہ رکھتے ہیں۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو ٹاور پر احتجاج کرسکتے ہیں لیکن انہیں مائی کولاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علما کونسل کے علامہ شہنشاہ حسین نے انکشاف کیا کہ ایک چھوٹا گروہ قونصل خانے کی حدود کے اندر جائے گا اور ایک مفاہمتی یادداشت پیش کرے گا۔انہوں نے اپنے خطاب میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کے بیان کو سراہا جنہوں نے قوم کو یقین دہانی کروائی ہے کہ کسی پڑوسی ملک کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال نہیں کی جائے گی۔اس موقع کراچی میں امریکا مخالف کے انعقاد کی وجہ سے شہر قائد میں متعدد شاہراہیں بند کردی گئیں۔دریں اثنا اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے ملک بھر میں سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا ہے۔جمعے کے روز جاری ہونے والے سیکیورٹی الرٹ میں سفارتخانے کا کہنا تھا کہ عراق میں ہونے والے واقعات کے رد عمل کے پیش نظر امریکی سفارتخانے نے امریکی حکومت کے ملازمین کے سفر پر پابندی عائد کردی ہے، پاکستان میں امریکی اہلکاروں کو غیر ضروری سرکاری سفر اور اپنی زیادہ تر نجی سفر کو موخر کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امریکی شہریوں کو مظاہروں اور تشویش ناک سرگرمیوں کا اپنے اطراف میں جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔کراچی ٹریفک پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق کراچی میں ریلی کی وجہ سے ایم ٹی خان روڈ، مائی کولاچی روڈ، ایوان صدر روڈ اور ڈاکٹر ضیا الدین احمد روڈ (کھجور چور سے ڈاکٹر ضیاالدین احمد ٹریفک سگنل تک مکمل طور پر بند کر دی گئی۔

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش ،کے پی کے ،بلوچستان میں برف باری

لاہور، اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ (نمائندگان خبریں) آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت جنوبی وسطی پنجاب ، بالائی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستاں اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر بارش اور پہاڑوں پر برف باری کا امکان ہے، ملک کے دیگر علاقوں میں موسم سرد اور خشک جبکہ بالائی علاقوں میں شدید سرد رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد سمیت بالائی پنجاب مری، کالام، دیر ،پٹن، میر کھنی ، بالاکوٹ ،مالم جبہ ، چترال، دروش، سیدوشریف، کوئٹہ ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر ہلکی بارش ہوئی جبکہ کالام، مالم جبہ اور چترال میں برف باری سے موسم سرد ہو گیا۔سب سے زیادہ بارش کالام میں 16 ، دیر بالا 13 ، دیر زیریں میں 01 ، مالم جبہ میں 10 اور گوپیس میں 01 سنٹی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ کم سے کم درجہ حرارت سکردو میں منفی 09،گوپس ،پاراچنار منفی میں 06 اور کالام میں منفی04 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور گردو نواح میں ہلکی بارش، جنوبی وزیرستان اور ژوب کے پہاڑی علاقوں میں برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ، کئی علاقوں میں بجلی اور گیس ناپید، بارش اور سردی کے باعث کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان اور مضافاتی علاقوں میں کئی روز سے جاری خشک سردی کی لہر کے بعد سال نو کی آمد کے ساتھ ہی ہلکی بوندا باندی نے سماں باند دیا، ڈیرہ شہر اور مضافات میں گزشتہ صبح سے جاری ہلکی بارش وقفے وقفے سے جار رہی جس سے سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی خشک اور خون جمادینے والی سردی اور خشک سردی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا کافی حد تک خاتمہ ہوگیا۔ بارش کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کے فیڈر ٹرپ کرگئے جبکہ سونے پر سہاگہ گیس کی لوڈ شینگ نے کیا۔ ادھر شمالی اور جنوبی وزیرستان کے پہاڑوں اور ژوب بلوچستان کے پہاڑی سلسلوں پر ہونے والی برفباری نے بھی ڈیرہ میں سردی کی شدت میں اضافہ کردیا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو منگل تک جاری رہے گا، بارش اور برفباری کے باعث سردی کی شدت بڑھ گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمال مغربی اضلاع میں اتوار کی صبح سے بارش اور برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ برفباری کی وجہ سے وادی زیارت نے سفید چادر اڑھ لی ہے، جس کی وجہ سے سردی کی شدت میں کافی اضافہ ہوا ہے، ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ زیارت اور گرد ونواح میں تقریبا 6 انچ تک برف پڑ چکی ہے اور برفباری کا یہ سلسلہ پیر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔خیبر پختونخوا کے اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں بھی گزشتہ رات سے بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ وانا، اعظم ورسک، شاہ عالمل، وادی شکئی، رغزئی اورپاک افغان بارڈر انگوراڈہ میں برف باری کے باعث کئی مقامات پر سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔ کراچی سے خیبر تک سردی کی شدت برقرار رہی ، حسین وادیوں میں وائٹ کارپٹ بچھ گیا۔ سیاحوں نے برف باری کو انجوائے کرنے کے لیے سیاحتی مقامات کارخ کیا ہے تو دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بلوچستان کے شمالی علاقوں میں شدید بارش اور برف کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں سردی کی شدید لہر برقرار ہے۔ بالائی پہاڑی علاقوں میں برف باری کے رنگ نظر آنے لگے، مری میں برفباری ہوتے ہی سیاحوں کا رش لگ گیا۔لوگ ہفتہ وار چھٹی کو یادگار بنانے ملکہ کوہسار چلے آئے، ہزاروں گاڑیاں پہنچنے کے بعد ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی، لوگوں نے خوب ہلہ گلہ اور موج مستی کی ۔گلیات میں روئی کے گالوں نے سیاحوں کا مزہ دوبالا کردیا لوگوں نے نتھیا گلی اور ٹھنڈیانی کا بھی رخ کرلیا ، جی ڈی اے کا عملہ سڑکوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہے۔محکمہ موسمیات نے مری گلیات میں اچھی برفباری کی نوید سنادی، شدید بارش اور برفباری کے باعث بلوچستان کے شمالی اضلاع کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج پیر سے منگل تک پنجاب خیبرپختونخوا اور سندھ کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کی ہے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ ہے۔

پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ،سی پیک میں شامل ہوسکتے ہیں ،نائیجرین سفیر

اسلام آباد (انٹرویو: ملک منظور احمد، تصاویر : نکلس جان ) پاکستان میں نائجیریا کے سفیر اشیمیو ادبایو اولینیو نے کہا ہے کہ پا کستان اور نا ئجیریا کے درمیان ہمیشہ سے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں تعلیم معیشت ،دفاع ،اور سرمایہ کاری سمیت تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات مثالی ہیں ۔دفاعی شعبے میں پا کستانہمارے افسران کو تربیت فراہم کر رہا ہے نیشنل ڈیفنس یو نیورسٹی میں نا ئجیریا کی تینوں مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے افسران مختلف کو رسز میں شریک ہیں اس کے ساتھ ساتھ پا کستان کے فوجی تربیت کے اداروں میں ہمارے افسران کو انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بھی تربیت فراہم کی جا رہی ہے ۔ہم مجوعی طور پر پا کستان اور نا ئجیریا کے درمیان دفاعی تعاون سے بہت خوش اور مطمئن ہیں ۔ پاکستان اور نا ئجیریا کے درمیان تجارتی حجم 500ملین امریکی ڈالر سے بھی کم ہے ۔اس تجارتی حجم میں اضا فے کی ضرورت ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ پا کستان اور نا ئجیریا کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلے کیے جائیں ۔ ہمارا ملک نہ صرف کاروباری افراد کے لیے ایک بڑی منڈی ہے بلکہ افریقہ میں جغرافیائی لحاظ سے بھی اہم مقام پر واقع ہے ۔خاص طور پر تیل اور گیس کے شعبے میں پا کستانی سرمایہ کاروں کو بہت مواقع حاصل ہیں ان سے فائدہ اٹھانا چا ہیے ۔پا کستان کی حکومت نے گزشتہ سال لو ک افریقہ کے نام سے ایک پروگرام بھی شروع کیا ہے جس میں کہ افریقی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کی کو شش کی جا رہی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے ۔ان خیالات اظہار انھوں نے چینل فائیو کے پروگرام ڈپلومیٹک انکلیو میں خصوصی انٹر رویو دیتے ہوئے کیا ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی لو ک (Look) افریقہ کے تحت افریقی ممالک کے ساتھ پاکستان کی تجارت بڑھانے سے متعلق بہت پر جوش ہیں انھوں نے حال ہی میں تمام افریقی ممالک کے سفیروں کے ساتھ میٹنگ کی اور اس ملاقات میں تجارت بڑھانے سے متعلق گفتگو کی گئی اور مختلف تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نا ئجیریا کے ائر چیف کی قیادت میں 40رکنی وفد نے ideasپاکستان دفاعی نمائش میں شرکت کی جو کہ دونوں ممالک کے درمیان انتہائی قریبی اور مضبوط دفاعی تعلقات کا مظہر ہے ہم نے پا کستان نے دفاعی ساز و سامان بھی خریدا ہے جس نے ہمیں بوکو حرام کو شکست دینے میں مدد فراہم کی ہے پا کستان نے دہشت گردی کے خلاف گزشتہ 18برسوں میں بہت کا میابیاں حاصل کی ہیں ۔دہشت گردی صرف پا کستان یا نا ئجیریا تک محدود مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے اور دنیا کو اس مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہو ں گی اور اور مشترکہ حل نکالنا ہو گا ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پا کستان کی افواج نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بیش بہا قربانیاں دیں ہیں پا کستان کی افواج دنیا کی چند بہترین افواج میں سے ایک ہیں ۔نا ئجیریا کی افواج انسداد دہشتگردی کے حوالے سے پا کستان سے مدد اور تربیت لے رہی ہیں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی جا رہی ہیں گزشتہ سال پا کستان نے 450نا ئجرین فوجیوں کو تربیت فراہم کی ہے جو کہ اہم پیشرفت ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پا کستان او ر نا ئجیریا کے درمیان تجارتی حجم ان ملکوں کی آبادی اور وسائل کے مقابلے میں بہت کم ہے اس کو بڑھانے کی ضرورت ہے زراعت پا کستان کی کل جی ڈی پی کا 21فیصد ہے اور نا ئجیریا کی کل جی ڈی پی کا 23فیصد ہے یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی بہت گنجائش موجود ہے ۔نا ئجیریا دنیا میں تیل اور گیس کی پیدا وار کے حوالے سے 13واں بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان کاٹن کی پیدا وار کے حوالے سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے زراعت کے شعبے پر توجہ دی جائے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے ۔ پا کستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے نئی حکومت کی پا لیسی کے متعلق نا ئجیریا کے سفیر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت سرمایہ کاری کے حوالے سے درست سمت میں جا رہی ہے کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کے لیے چند بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جن میں سیکورٹی اور امن و امان کی بہتر صورتحال ،انفرا سٹرکچر ،اور توانا ئی شامل ہو تی ہے پا کستان میں سی پیک منصوبے کے تحت سٹرکوں اور ریل کا جال بنایا جا رہا ہے جو کہ مستقبل میں پا کستان میں انقلابی تبدلی لا سکتا ہے اس کے ساتھ موجودہ حکومت کی توجہ بجلی کی پیدا وار پر بھی ہے امید ہے ان اقدامات کے باعث پا کستان میں سرمایہ کاری بڑھے گی ۔ سی پیک کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے نا ئجیریا کے سفیر کا کہنا تھا کہ سی پیک پا کستان کے لیے حقیقی معنوں میں ایک گیم چینجر ہے نا ئجیریا بھی سی پیک کا حصہ بن سکتا ہے کیونکہ پا کستان کے چین کے سا تھ تعلقات بہترین نا ئجیریا کے بھی چین کے ساتھ تعلقات بہترین ہیں ،یہ منصوبے صرف پا کستان یا جنوبی ایشیا کے لیے ہی نہیں بلکہ نا ئجیریا اور دیگر ممالک کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے معاشی ترقی کے لیے سڑکوں اور رابطوں کی بہت ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انھی سٹرکوں کے ذریعے اشیا کی نقل و حمل ممکن ہو تی ہے ۔ پاکستان میں سی پیک حقیقی معنوں میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے منصوبے سے پا کستان میں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی میں بھی بہت مدد ملے گی ۔ایس منصوبے سے صرف پا کستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی خطے میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے اس لیے مجھے امید ہے کہ مستقبل میں نا ئجیریا بھی اس پر ا جیکٹ کا حصہ بن سکتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان اور نا ئجیریا کی صورتحال میں بہت مماثلت موجود ہے ،پا کستان اور نا ئجیریا کی آبادی بھی ایک جیسی ہے نا ئجیریا کی پا کستان سے تھوڑی کم ہے لیکن پا کستان کی آبادی سے بہت زیادہ فرق نہیں ہے ۔اگر ہم پا کستان کے دارلحکومت اسلام آباد کی بات کریں تو یہ شہر بھی نا ئجیریا کے دا رلحکومت ابوجا سے بہت ملتا جلتا ہے دونوں شہروں کی پلاننگ بالکل ایک ہی انداز میں ہوئی ہے اور ابوجا بھی اسلام آباد کی ہی طرح بہت ہی ہرا بھرا شہر ہے ۔اس کے ساتھ ہمارا قومی جھنڈا بھی سفید اور سبز ہے پا کستان کے جھنڈے کی طرح ۔اگر بات کی جائے مشکلات اور چیلنجز کی تو ان میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے دونوں ممالک کی لیڈرشپ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یکتا ہے اور بھرپور کو شش کر رہی ہے اگر دونوں ممالک کے سماجی ڈھانچے کی طرف دیکھا جائے تو پا کستان اور نا ئجیریا دونوں ملکوں کی 60فیصد سے زائد آبادی نوجوان ہے اور اس آبادی کا مستقبل میں اپنے اپنے ملک کی ترقی کے حوالے سے اہم کردار ہے ۔ان نوجوانوں کو روزگار ملے گا تو ہی امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئے گی ۔ دونوں ممالک کے سیکورٹی چیلنجز بھی ایک ہی نوعیت کے ہیں ،دونوں ممالک 5مختلف بین الااقوامی تنظیموں کے رکن ہیں جن میں ڈی 8،اقوام متحدہ ،نان الائیڈ مومنٹ ،او آئی سی ،اور کامن ویلتھ شامل ہیں ۔دونوں ممالک بین الا اقوامی امور سے متعلق یکساں موقف رکھتے ہیں ،اگر معاشی شعبے کی بات کریں تو پا کستان کی طرح نا ئجیریا میں بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری موجود ہے لیکن اس وقت اس کی حالت زیادہ اچھی نہیں ہے اور کچھ مشکلات کا شکار ہے ۔میں نے پا کستان میں چیمبر آف کامرس کے دوروں کے دوران پاکستانی کاروباری افراد کو دعوت دی کہ وہ نا ئجیریا کی ٹیکسٹائل کی صنعت میں سرمایہ کاری کریں ،کیونکہ وہاں پر ان کے لیے مارکیٹ موجود ہے اور اس کے ساتھ ہماری حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات بھی فراہم کر رہی ہے آپ اگر نا ئجیریا میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو صرف 72گھنٹوں میں آ ن لائن اپنی کمپنی کو رجسٹر کروا سکتے ہیں اس کے ساتھ 10سال تک نئے سرمایہ کاروں کو ٹیکس میں چھوٹ دی جا رہی ہے ۔نا ئجیریا میں آپ کاروبار شروع کریں تو آپ کا فائدہ ہی فائدہ ہے اور نقصان ہو ہی نہیں سکتا ۔اس کے ساتھ میں نے پا کستانی سرمایہ کاروں کو نا ئجیریا میں آئل اینڈ گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے کیونکہ پا کستان کی توانا ئی کی ضروریات بھی بہت زیادہ ہیں اور پا کستان اس شعبے سے فا ئدہ اٹھا سکتا ہے ۔پا کستان میں فارما سیوٹیکل کی صنعت بہت بڑی ہے اور میں نے اپنے ملک کے کاروباری افراد کو پا کستان آکر اس صنعت کا جائزہ لینے کا کہا ہے گزشتہ سال ہمارے 9وفود نے اس سلسلے میں پا کستان کا دورہ کیا میں چا ہتا ہوں کہ اس شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھا یا جائے اور تجارت کے حجم میں اضافہ ہو ۔ تعلیم کے شعبے میں پا کستان اور نا ئجیریا کے درمیان تعاون کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے نا ئجیریا کے سفیر نے کہا کہ گزشتہ روز ہی ہماری وزارت سائنس اور ٹیکنا لوجی کا وفد پا کستان کے دورے پر پہنچا اور انھوں نے پا کستان میں ہا ئر ایجوکیشن کے وفد سے ملاقات کی ۔پا کستان کی کا مسیٹس یو نیورسٹی نا ئجیریا میں بھی قائم کی جارہی ہے جو کہ بہت ہی خوش آئند بات ہے بڑی تعداد میں ہمارے طلباءپا کستان میں زیر تعلیم ہیں اس کے ساتھ پا کستان کی فارن سروس اکیڈمی میں بھی نا ئجیریا کے طا لب علم بڑی تعداد میں تعلیم حاصل کر ہے ہیں ،مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون تسلی بخش ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پا کستان اور نا ئجیریا کے درمیان منسٹریل کمیشن کا اجلاس اس سال ہو نا تھا لیکن اب اس کو اگلے سال کے اوائل میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان تیل اور گیس کے شعبے میں ایم او یو دستخط کے لیے تیار ہے امید ہے اس پر سائن ہونے کے بعد مزید معاہدوں پر دستخط بھی ہو ں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پا کستانی عوام بہت ہی مہمان نواز ،دوستانہ مزاج کے حامل اور اچھے لوگ ہیں میری ابھی تک جتنے پا کستانی لوگوں سے جان پہچان ہو ئی ہے میں نے ان سب کو بہت ہی اچھا انسان پایا ہے اور میرے ان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں میری خواہش ہے کہ یہ دوستی دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی تعلقات میں بہتری کی صورت میں نظر آئے دونوں ممالک میں عظیم ملک بننے کی صلاحیت موجود ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کو اپنی منزل تک پہنچے میں بہت مدد کر سکتے ہیں ۔

جنرل قاسم سلیمانی کی موت شہادت ایران کےساتھ ہیں، ترک صدر کا حسن روحانی کو فون

استنبول (آئی این پی) ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے عراق میں امریکی فوج کےآپریشن میں مارے جانے والے قاسم سلیمانی کی موت کو شہادت قرار دیتے ہوئے اس کی موت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اخبار’رشیا ٹوڈے’کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پرتبصرہ کرتے ہوئے ترک صدرنے کہا کہ مجھے شہید قاسم سلیمانی کے کھو جانے پر گہرا دکھ اور صدمہ پہنچا ہے،دکھ اور مشکل کی اس گھڑی میں ہم ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں،میں ایرانی عوام کے غم وغصے کوسمجھ سکتا ہوں۔ایردوآن نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قاسم سلیمانی کو قتل کرکے امریکا نے حماقت کی ہے، خطے میں بیرونی مداخلت اور مقامی سطح پر جاری لڑائیاں بدامنی کا اصل سبب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں دیرپا امن کے قیام کو یقینی بنانا ہے کہ بیرونی مداخلت کو ختم کرنا ہوگا۔ یہ بیرونی مداخلت ہے جس نے خطے کی سلامتی اورامن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

امریکی شیطانی وجود کا خاتمہ کرینگے،ایرانی وزیر خارجہ حملے کا بھرپور جواب دینگے،ڈونلڈ ٹرمپ

تہران، واشنگٹن (نیٹ نیوز) ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ چاہے امریکا پیر پٹخے یا لائے، مغربی ایشیا میں امریکی شیطانی وجود کا خاتمہ شروع ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب امریکی صدر نے دوبارہ عالمی ضابطوں کو توڑنے کی دھمکی دی ، ایران کے ثقافتی مقامات کو نشانہ بنانا جنگی جرائم ہے۔اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جمعہ کے روز جنرل قاسم سلیمانی کے بزدلانہ قتل کے اقدام میں عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ، جنرل سلیمانی پر حملہ کر کے امریکا نے خطے میں اپنی موجودگی کے خاتمے کا آغاز کر دیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ عراقیوں نے جنرل سلیمانی کی موت کا جشن منایا ہے جبکہ لاکھوں عراقیوں نے جنازے میں شرکت کرکے امریکی وزیر خارجہ کو جواب دے دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبر دار کیا ہے کہ اگر اس نے کسی بھی امریکی شہری یا امریکی اثاثوں پر حملہ کیا تو امریکہ ایران کے 52مقامات کو انتہائی تیزی اور بہت شدت سے نشانہ بنائے گا ٹرمپ نے ہفتے کی شام ایک ٹویٹ میں کہا کہ 52ایرانی مقامات (یہ ان 52امریکیوں کو ظاہر کرتا ہے جو کئی سالوں قبل ایران نے یرغمال بنالئے تھے۔ کو ہدف بنالیا ہے جن میں سے ایران کیلئے انتہائی اہم اور ایرانی ثقافت کیلئے اہمیت کے حامل ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر حسین دہقان نے امریکا کو عسکری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملے کا ردعمل بھی عسکری ہوگا اور امریکی تنصیباب نشانہ بنیں گی۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں حسین دہقان کا کہنا تھا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ کبھی چاہتے تھے۔ جنگ کا آغاز امریکا نے کیا ہے، اس لیے وہ ردعمل کے لیے تیار رہے۔حسین دہقان نے کہا کہ حالات کو معمول پر لانے کا صرف ایک ذریعہ ہے کہ امریکا کو اسی شدت سے جواب دیا جائے۔ ٹرمپ کو عالمی قوانین کا پتا ہے نہ ہی اقوام متحدہ کے چارٹر کی کوئی فکر، دراصل امریکی صدر ایک جوا باز اور گینسگٹر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نہ سیاستدان ہے اور نہ ہی اس کا دماغی توازن ٹھیک ہے۔ اگر ٹرمپ نے ثقافتی مراکز کو نشانہ بنایا تو اس کے خلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمہ ہوگا۔ اگر ٹرمپ نے وہی کیا جو وہ کہہ رہے ہیں تو کوئی امریکی فوجی اور نہ ہی فوجی تنصیبات محفوظ رہیں گے۔ادھر ایران کے آرمی چیف نے ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں ایران کے ساتھ لڑنے کی جرات نہیں ہے۔دوسری جانب ایران کے ساتھ جنگ کے خطرے کے پیش نظر امریکا کے ستر سے زائد شہروں میں مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔ مظٓہرین کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ملک کو ایک اور تباہ کن جنگ میں دھکیلنے نہیں دیں گے۔ ایرانی کمانڈر کو مار کر امریکا نے غلط اقدام اٹھایا۔مظاہرین نے امریکی صدر کے ذاتی ہوٹل ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل کے باہر بھی احتجاج کیا جبکہ نیویارک میں ٹائم سکوائر پر بھی مظاہرہ ہوا۔ ایران کے وزیر دفاع نے ساری دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی دہشت گردی کے مقابلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ایران کے جنوبی صوبہ کرمان میں سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل غلام علی ابوحمزہ نے کہا ہے کہ ایران اپنی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کے قتل پر امریکا سے بدلہ لینے کا حق رکھتا ہے۔ایرانی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل غلام علی ابوحمزہ نے کہا کہ امریکی اور صہیونی حکام کو اس خوف اور دباو¿ کا شکار ہونا چاہیے کہ ایران کب اور کیسے جنرل سلیمانی کے خون کا بدلہ لے گا۔ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز مغرب کے لیے ایک اہم (سمندری) راستہ ہے اور بڑی تعداد میں امریکی جنگی جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایک طویل عرصے سے امریکی اہداف کی نشاندہی کی جاچکی ہے اور خطے میں 35 اہم امریکی اہداف ایران کے دسترس میں ہیں اور امریکا کا دل اور زندگی تل ابیب بھی ہماری پہنچ میں ہے۔ ایرانی کمانڈر نے کہا کہ اگر کوئی ملک یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کی سرزمین میدان جنگ کا نقشہ پیش کرے تو وہ آگے بڑھے (لیکن )ہم کسی جنگ کو تہران کے علاقے تک آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ امریکا نے عراق میں کشیدگی اورایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر ہزاروں میرینزکو فوری طورپر مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کردیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق مراکش میں فوجی مشقوں میں شرکت کے لیے روانہ کیے گئے ایس ایس باتھان بیڑے کا راستہ تبدیل کرتے ہوئے اسے فوری طور پرمشرق وسطیٰ کے لیے بھیج دیا گیا۔ عراقی حزب اللہ ملیشیا عراق میں موجود امریکی فوج کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہاہے کہ وہ امریکی فوج کے ٹھکانوں سے ایک ہزار میٹر دور رہیں تاکہ کسی بھی کارروائی کی صورت میں اس اسے جانی نقصان نہ پہنچ پائے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج کے حملے کے بعد اب امریکی فوج اس کے نشانے پر ہے۔حزب اللہ کی طرف سے عراقی سیکیورٹی فورسز کے کہا گیا کہ وہ امریکی فوج کے ٹھکانوں سے ایک ہزار میٹر دور رہیں تاکہ کسی بھی کارروائی کی صورت میں اس اسے جانی نقصان نہ پہنچ پائے۔

امریکہ ،اسرائیل کا مشرق وسطی پر قبضہ ،ہزاروں عربوں کو ہلاک کرنے کا منصوبہ،ہنری کسنجر

واشنگٹن(آن لائن) سابق امریکی وزیرخارجہ ہینری کسنجر نے خبردار کیا ہے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے اور ایران اس جنگ کا نقطہ آغاز ہوگا،جس میں اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ عربوں کو ہلاک کرنا ہوگا اور آدھے مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرلے گا۔انہوں نے یہ بات ایک انٹرویو میں کہی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکی فوج کو بتا دیا ہے کہ ہمیں مشرق وسطیٰ میں سات ملکوں پر ان کی سٹرٹیجک اہمیت کی وجہ سے قبضہ کرنا ہوگا،خاص طور پر کیوں کہ وہ تیل اور دیگر اقتصادی وسائل رکھتے ہیں،صرف یہی ایک قدم رہ گیا ہے کہ ایران پر حملہ کیا جائے۔ہینری کسنجر نے کہا کہ جب روس اور چین اپنی حماقت سے قدم اٹھائیں گے تو عالمی جنگ جیتی جاچکی ہو گی اور صرف ایک قوت اسرائیل اور امریکہ جیتیں گے،اسرائیل کو اپنی قوت اور ہتھیاروں کے ساتھ لڑنا ہوگا اور جتنا زیادہ ممکن ہوسکے عربوں کومارنا ہوگا اور مشرق وسطیٰ کے نصف حصے پر قابض ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں طبل جنگ پہلے ہی بج چکا ہے اور صرف کوئی بہرہ ہی ہوگا جو یہ سن نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے نقطہ نظر سے حالات اچھے گئے تو اسرائیل کے پاس نصف مشرق وسطیٰ کا کنٹرول ہوگا۔ہینری کسنجر نے کہا کہ امریکی اوریورپی نوجوان عوام گزشتہ 10سالوں میں لڑائی میں اچھی تربیت حاصل کرچکے ہیں اور انہیں لڑائی میں جانے کا حکم دیا جائے گا تو وہ احکامات کی پیروی کریں گے اور انہیں(مسلمانوں کو)راکھ بنا دیں گے۔سابق امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ان اسلامی ممالک سے کئی مقامی باشندوں کو خرید یا کرائے پر حاصل کر رکھا ہے اور وہ ہمارے منصوبوں کیلئے کام کر رہے ہیں،جیسا کہ ہم ان پر بھاری سرمایہ لگا چکے ہیں،یہ ہماری توقعات سے بڑھ کر اچھا کام کر رہے ہیں،ان غداروں کی وجہ سے ہم اپنے مقاصد کے حصول کے انتہائی قریب ہیں۔کسنجر نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل روس اور ایران کے لئے تابوت تیار کرچکے ہیں اور ایران اس تابوت میں آخری کیل ہوگا جب امریکہ انہیں بہتری کیلئے موقع دے گا ،اس کے بعد وہ ہمیشہ کیلئے اختتام پذیر ہو جائیں گے تاکہ امریکہ ایک نئی عالمی کمیونٹی تشکیل دے سکے،جہاں سپرپاور کے طورپر صرف ایک حکومت ہوگی۔کسنجر نے کہا کہ اس وقت ان کا خواب ہے کہ ان کا ویژن حقیقت بن کر سامنے آئے۔

ایران، جنرل سلیمانی کی نماز جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

تہران(نیٹ نیوز)امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ ایران ادا کر دی گئی۔ دو روز قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی عراق میں امریکی راکٹ حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔گزشتہ روز عراق میں قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ ادا کی گئی تھی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔آج جنرل قاسم سلیمانی کا جسد خاکی ایران لایا گیا تو بڑی تعداد میں شہری ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ ایرانی پرچم میں لپٹے جنرل قاسم سلیمانی کے تابوت کو طیارے سے اتارا گیا۔ جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں شہریوں نے سیاہ لباس پہن کر شرکت کی اور قافلے کی شکل میں اہواز کی سڑکوں پر مارچ کیا۔سوشل میڈیا پر ایک صارف نے جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ میں شرکت کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں عوام کی بڑی تعداد کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔قاسم سلیمانی کی تدفین آبائی شہر کرمان میں منگل کے روز ہوگی۔خیال رہے کہ ایران نے بغداد شہر میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا امریکا سے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے اور پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ وہ جلد امریکا کی اس عارضی خوشی کو سوگ میں تبدیل کر دیں گے۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی اپنے ردعمل میں کہا کہ جنرل سلیمانی پر حملہ کر کے امریکا نے عالمی دہشتگردی کی ہے، امریکا نے انتہائی خطرناک اور بے وقوفانہ اقدام اٹھایا ہے جس کی قیمت انہیں چکانی پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی پرحملہ کر کے امریکا نے خطے میں اپنی موجودگی کے خاتمے کا آغاز کر دیا ہے۔

آرمی ایکٹ تر میم ،چودھری برادران کی فضل الرحمن سے ملاقات ،حمایت طلب ،شہباز شریف بھی متحرک،مولانا کا انکار

اسلام آباد (صباح نیوز‘ مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی ایکٹ کی حمایت کے یکطرفہ فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف نے جے یو آئی (ف) کے ناراض سربراہ مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کرلیا، مولانا فضل الرحمن کے گلے شکوے سنے، پارلیمنٹ میں متحدہ زب اختلاف کا مشاورتی اجلاس ایک دو روز میں متوقع ہے، بڑی اپوزیشن جماعت کی قیادت نے پاکستان میں موجود رہنماﺅ کو ضروری ہدایات جاری کردیں جبکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانون سازی کے معاملے پر مسلم لیگ (ق) کے صدرچوہدری شجاعت اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو منانے کی کوشش کی گئی۔چوہدری شجاعت چوہدری پرویز الہی نے مولانا فضل الرحمان کو منانے ان کے گھر پہنچے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فوج کو سیاست میں ملوث نہیں کرنا چاہتے۔ قانونی سقم کو دور کرنے کیلئے حکومت نے نااہلی کا ثبوت دیا۔ آرمی ایکٹ بل کی حمایت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی میں توسیع کا معاملہ اس اسمبلی میں آرہا ہے جسے حزب اختلاف جماعتیں جعلی مانتی ہیں۔ جے یو آئی (ف) اسمبلی کے قانون سازی کے حق کو تسلیم نہیں کرتی۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ آرمی ایکٹ پر شہباز شریف سے رابطہ ہوا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہماری جماعت آپ سے رابطہ کرے گی لیکن تاحال کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ ہماری پارلیمانی پارٹی حکمت عملی عملی اقدام طے کرے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے آشکار ہوا کہ قانونی سقم میں حکومتی نااہلی سامنے آئی، حکومت معاملے کو بلڈوز کرنے کی کوشش کررہی ہے، وقتی طور پر ایمرجنسی نافذ کرکے فیصلوں سے جمہوریت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوں گے، 6 ماہ کا وقت ہے اسمبلی تحلیل کرکے نئی اور جائز اسمبلی سے قانون پاس کرایا جائے۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ شہباز شریف سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ آپ کی جماعت کا فرض تھا اپوزیشن کو اکٹھا کرتے، کسی پارٹی کا موقف سخت ہوتا ہے کسی کا نرم ہوتا ہے، درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے، اپوزیشن لیڈر کو اپوزیشن کے مشترکہ موقف کی ذمہ داری پوری کرناچاہیے تھی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جعلی اسمبلی کو انتہائی حساس معاملے پر قانون سازی کی اجازت نہیں دے سکتے، حکومت کی جانب سے ترمیمی بل کے مسودے پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، پارٹی نے بل کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے البتہ مخالفت میں ووٹ دینے یا غیر جانبدار رہنے پر غور کررہے ہیں تاہم حتمی فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرےگی۔ سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ شہباز شریف سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ آپ کی جماعت کا فرض تھا اپوزیشن کو اکٹھا کرتے، کسی پارٹی کا موقف سخت ہوتا ہے کسی کا نرم ہوتا ہے، درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے، اپوزیشن لیڈر کو اپوزیشن کے مشترکہ موقف کی ذمہ داری پوری کرناچاہیے تھی۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جعلی اسمبلی کو انتہائی حساس معاملے پر قانون سازی کی اجازت نہیں دے سکتے، حکومت کی جانب سے ترمیمی بل کے مسودے پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، پارٹی نے بل کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ حتمی فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرے گی۔

امریکہ ،ایران کشیدگی ،پاکستان صرف امن کا ساتھ دیگا،پاک فوج

راولپنڈی (آن لائن‘ این این آئی) پاک فوجی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد خطے کے حالات میں تبدیلی آئی ہے، امریکا، ایران میں کشیدگی رہی، پاکستان نے مصالحت کیلئے کوشش کی ہے ، ہمارا خطہ 4 دہائیوں سے خطے میں امن کیلئے کوششیں کرتا رہا ہے،پاکستان صرف اور صرف امن کا ساتھ دے گا۔آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق ڈی جی ای ایس پی آر میجرجنرل آصف نے کہا کہ بھارت نے جارحیت دکھائی،اسکے پاکستان نے2طیارے گرائے، پاکستان نے ہروہ اقدام کیاجس سے امن قائم ہو۔ بھارت کیخلاف پاک افواج نے قابل فوج ہونے کاثبوت دیا،ترجمان پاک فوج کے مطابق مائیک پومپیونے آرمی چیف سے بنیادی طورپر2باتیں کیں، مائیک پومپیونے کہاخطہ حالات بہترہونے کے بعد ابتری کی طرف جارہاہے، آرمی چیف نے کہا خطے کے ممالک میں کشیدگی کم ہونی چاہیے ، آرمی چیف نے کہا خطہ کسی اورجنگ کی طرف نہ جائے۔ سوشل میڈیاپربہت سی افواہیں گردش میں ہیں، سوشل میڈیا پر جانے مانے لوگ بھی بات کررہے ہیں ۔ ایرانی جنرل واقعے کے بعددفتر خارجہ نے اپنا بیان دیاتھا، بھارتی آرٹیکل پڑھا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بہت سی قربانیوں کے بعد پاکستان میں امن کوحاصل کیاہے،خطے میں امن کے لئے بھرپور کردار ادا کرینگے، خطے میں امن خراب کرنےوالے عمل کاحصہ نہیں بنیں گے، بھارتی آرمی چیف کے بیانات سنے ہیں، بھارتی آرمی چیف نئے ہیں،اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں ہیں۔ میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارتی آرمی چیف کوخطے کے حالات،پاکستانی فورسزکااچھی طرح علم ہے، افواج پاکستان ملک کا دفاع کرنا جانتی ہے،بھارت بھی جانتاہے، ملکی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کرینگے، بھارتی آرمی چیف دھمکیوں کی بجائے کشمیرمیں ظلم وستم بندکردیں۔بھارت جس راستے پرچل رہا ہے وہ اسےخودتباہی کی طرف لے جائیگا ۔ انہوں نے کہا وزیراعظم، آرمی چیف کہہ چکے اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال کی اجازت نہیں دینگے۔عوام کی تائید،حکومتی پالیسی کے تحت خطے میں امن کیلئے کردار ادا کریں گے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت کے خلاف پاک افواج نے قابل فوج ہونے کا ثبوت دیا۔ مائیک پومپیو نے آرمی چیف سے بات چیت کی مائیک پومپیو نے بنیادی طور پر دو باتیں کیں۔ پومپیو نے کہا حالات بہتر ہونے کے باوجود خطہ ابتری کی طرف جارہا ہے ،آرمی چیف نے کہا خطے کے ممالک میں کشیدگی کم ہونی چاہئے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بہت سی افواہیں زیر گردش ہیں۔ سوشل میڈیا پر جانے مانے لوگ بھی بات کررہے ہیں۔ خطے کی صورتحال میں بہتری کے لئے آرمی چیف کا اہم کردار ہے۔ ایرانی جنرل واقعے کے بعد دفتر خارجہ نے بیان دیا ،عوام،میڈیا صرف مصدقہ ذرائع کی بات پر توجہ دیں۔ بہت قربانیوں کے بعد پاکستان نے امن حاصل کیا ہے۔ خطے میں امن کے لئے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ خطے میں امن خراب کرنے والے کسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان ملک کا دفاع کرنا جانتی ہیں۔ خطے میں امن چاہتے ہیں مگر ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ خطے میں امن خراب کرنے والے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد خطے کے حالات میں تبدیلی آئی ہے،آرمی چیف نے مائیک پومیو سے کہا خطے کے ممالک میں کشیدگی کم ہونی چاہیے،خطے میں امن کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے ، وزیر اعظم اور آرمی چیف بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم خطے میں امن چاہتے ہیں مگر ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہوگا، بھارتی آرمی چیف دھمکیوں کی بجائے کشمیر میں ظلم و ستم بند کر دیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کے دور ان مریکہ ایران کشیدگی اور خطے کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی چل رہی ہے، خطے میں مختلف ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونی چاہئے اور ڈائیلاگ سے آگے بڑھنا چاہیے۔انہوںنے واضح کیا کہ خطے میں امن کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے لیکن امن خراب کرنے والے کسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم خطے میں امن چاہتے ہیں مگر ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہوگا۔انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بہت سی افواہیں گردش میں ہیں، جانے مانے لوگ بھی بات کر رہے ہیں، تاہم خطے کی صورت حال میں بہتری کے لیے آرمی چیف کا اہم کردار ہے، ایرانی جنرل کے واقعے کے بعد فارن آفس بھی اپنا بیان جاری کر چکا ہے، عوام اور میڈیا سے درخواست ہے مصدقہ ذرائع کی بات پر توجہ دی جائے۔