نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی حکومت کی جانب سے متنازع شہریت قانون پر بریفنگ کے لیے بلائے گئے ایک اہم ترین اجلاس میں بولی وڈ کے کسی بھی بڑے اداکار یا اداکارہ نے شرکت سے انکار کرکے حکومت کو پریشانی میں ڈال دیا۔ نریندر مودی کی ہدایات پر سابق موسیقار اور یونین وزیر پیوش گویل نے ممبئی میں ایک اہم اجلاس بلایا تھا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا تھا کہ اہم ترین اجلاس میں شرکت کے لیے بولی وڈ ی 25 نامور شخصیات کو شرکت کے دعوت نامے بھجوائے گئے اور انہیں بتایا گیا کہ متنازع شہریت قانون کے حوالے سے بہت ساری غلط معلومات پھیل رہی ہیں اس لیے درست معلومات کے لیے ان کا حکومتی اجلاس میں آنا لازمی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ اجلاس 5 جنوری کی شب ممبئی کے ایک نجی ہوٹل میں ہونا تھا جس میں متعدد شخصیات کی شرکت کا امکان تھا۔ تاہم اب بھارتی ٹی وی این ڈی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حکومت کے اجلاس میں کسی بھی معروف بولی وڈ شخصیت نے شرکت نہیں کی۔ ٹی وی کے مطابق متنازع شہریت قانون پر بولی وڈ شخصیات کو حکومتی معلومات فراہم کرنے والے اجلاس میں ان بولی وڈ شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا جو متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومتی اجلاس میں کسی بھی بڑے اور نامور بولی وڈ اداکار یا اداکارہ نے شرکت نہیں کی تاہم چند جانی پہچانی شخصیات پروگرام میں شریک ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق موسیقار انو ملک، گلوکار شان، کیلاش کھیر اور اروشی روتیلا حکومتی اجلاس میں شریک ہوئیں، ان کے علاوہ ٹی سیریز کے مالک بشن کمار، فلم ساز رتیش سدھوانی، رنویر شورے، کنال کوہلی اور رمیش تارانی بھی اجلاس میں دکھائی دیے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ حکومتی اجلاس میں جاوید اختر، وکی کشال، آیوشمن کھرانہ، روینہ ٹنڈن، بونی کپور، کنگنا رناوٹ اور مدھر بھنڈارکر سمیت دیگر معروف شخصیات شرکت کریں گی تاہم ان میں سے کوئی بھی شخصیت اجلاس میں شریک نہیں ہوئی۔ رہورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ متنازع شہریت قانون کے مظاہروں میں دکھائی دینے والی اداکارہ ریچا چڈا اور فلم ساز کبیر خان کو بھی اجلاس میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی تھی تاہم انہوں نے اجلاس میں نہ جانا ہی بہتر سمجھا۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق متنازع شہریت قانون پر ہونے والے مظاہروں میں شریک ہونے والی سوارا بھاسکر، فلم ساز انوراگ کشیپ، سوشانت سنگھ اور نکھل آڈوانی کو حکومتی اجلاس میں شریک ہونے کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔ حکومتی اجلاس میں دعوت ملنے کے باوجود بولی وڈ شخصیات کی جانب سے شرکت نہ کرنے کو سمجھا جا رہا ہے کہ بولی وڈ انڈسٹری بھی حکومت کی جانب سے بنائے گئے متنازع شہریت قانون کے خلاف ہے۔ جہاں بولی وڈ شخصیات نے حکومتی اجلاس میں شرکت نہ کرکے حکومت کو ناراضی کا پیغام دیا ہے وہیں بولی وڈ شخصیات قانون بنائے جانے سے اب تک سوشل میڈیا پر متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرتی دکھائی دیتی ہیں جب کہ سوارا بھاسکر، ریچا چڈا اور سوشانت سنگھ جیسے اداکار تو مظاہروں میں شریک بھی ہوتے رہے ہیں۔ مبینہ طور پر سوشانت سنگھ کو ان کے ٹی وی شو سے بھی متنازع قانون کی حمایت کرنے پر نکالا گیا تھافوٹو: فیس بک مذکورہ متنازع قانون بھارتی حکومت نے گزشتہ ماہ دسمبر کے آغاز میں بنایا تھا، متنازع بل کو لوک سبھا اور راجیا سبھا سے پاس کرائے جانے کے بعد بھارتی صدر نے 12 دسمبر کو اس پر دستخط کیے تھے جس کے بعد بل قانون بن گیا تھا۔ مذکورہ متنازع قانون کے تحت 6 مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستان، افغانستان یا بنگلہ دیش سے 31 دسمبر 2014 سے قبل بھارت منتقل ہونے والے تمام افراد کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔ مذکورہ قانون میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے افراد کو شہریت دینے اور مسلمانوں کو نظر انداز کیے جانے کے خلاف نہ صرف بھارت کے 22 کروڑ مسلمان بلکہ ہندو، عیسائی اور سکھ بھی احتجاج کررہے ہیں۔ بھارت میں انتہا پسندآر ایس ایس کے غنڈوں نے تعلیمی اداروں کوبھی نہ چھوڑا، دلی کی جامعہ ملیہ کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ بھی نشانے پر آ گئے۔ آر ایس ایس کے شدت پسندوں نے اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کا سر پھاڑ دیا، واقعہ میں 20 افراد زخمی ہو گئے۔ بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر صورتحال بیان کرتے ہوئے رو پڑیں۔اندھیر نگری چوپٹ راج، جامعہ ملیہ کے بعد جواہر نہرو یونیورسٹی بھی تاراج، مودی کی آشیر باد سے آر ایس ایس کے نقاب پوشوں نے جے این یو پر دھاوا بول دیا۔ فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے طلبہ اور اساتذہ کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ڈنڈوں سے لیس غنڈوں کا تعلق آر ایس ایس کی طلبہ ونگ سے تھا جنہوں نے جواہر لعل یونیورسٹی میں گھس کر کالے قانون کے خلاف مظاہرہ کرتے طلبہ کو بری طرح مارا۔ اسٹوڈنٹس یونین کے صدر ایشے گھوش کا سر پھاڑ دیا، بالی وڈ اداکار ذیشان ایوب نے ویڈیو پیغام میں عوام سے جلد از جلد جے این یو پہنچنے کی اپیل کر دی۔بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر جواہر نہرو یونیورسٹی کی صورتحال بیان کرتے ہوئے رو پڑیں، دہلی پولیس کی موجودگی میں طلبہ پر ظلم ہوتا رہا جس کے بعد نقاب پوش افراد بغیر رکاوٹ کے واپس بھی چلے گئے۔






































