ملک کے اکثر علاقوں میں آج سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونےکی پیشگوئی

ناگا لینڈ‘حیدر آباد‘ میسور‘ نئی دہلی(نیٹ نیوز) بھارت کی وہ ریاست جس نے اپنی الگ فوج بنا کر بھارتی فوج کیخلاف جنگ لڑنے کا اعلان کر دیا، بھارتی ریاست ناگا لینڈ نے گزشتہ برس علیحدگی اختیار کرنے اور 14 اگست کو اکستان کیساتھ یوم آزادی منانے کا اعلان کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کی شورش زدہ ریاست ناگا لینڈ نے اب باقاعدہ طور پر اپنی الگ فوج تیار کر لی ہے۔ناگالینڈ کے شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپنی فوج کی تصاویر پھیلائی جا رہی ہیں اور بھارت کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ اب ناگا لینڈ آزادی حاصل کرنے کیلئے اور بھارت سے مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ واضح رہے کہ کشمیر پر قبضہ کرنے والا اور پاکستان کو توڑنے کے خواب دیکھنے والا بھارت خود ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگا ہے۔بھارت کی شورش زدہ ریاست ناگا لینڈ نے گزشتہ برس خود کو بھارت سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ناگا لینڈ ریاست کی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیاتھا کہ ناگا لینڈ اب ایک آزاد ملک ہے، جس پر بھارت نے زبردستی قبضہ کر رکھا تھا۔ناگا لینڈ 14 اگست 2019 کو بھرپور انداز میں اپنا یوم آزادی منائے گا۔ ناگا لینڈ کی حکومت اور عوام کو موقف ہے کہ ناگالینڈ کبھی بھی بھارت کے ساتھ الحاق نہیں چاہتا تھا۔ بھارت نے 1947 میں زبردستی ناگا لینڈ پر قبضہ کر لیا تھا۔ شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آر سی)اور قومی آبادی رجسٹر(این پی آر) کے خلاف جمعہ کے روز شہر حیدرآباد میں بڑے پیمانہ پر ترنگا ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی میں کئی لاکھ افراد نے شرکت کرتے ہوئے ان سیاہ قوانین کی مخالفت کی۔حیدرآباد کی بڑی عیدگاہ 1:15 بجے دوپہر نماز جمعہ ادا کی گئی اور اس کے بعد عیدگاہ میر عالم سے شاستری پورم میدان تک بڑے پیمانہ پر ریلی نکالی گئی۔ اس دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ریلی کی خاص بات یہ رہی کہ غیرمسلم افراد نے اس سے نہ صرف اظہار یگانگت کیا بلکہ اس میں شریک بھی ہوئے۔ ریلی میں موٹرسائیکلوں، بائکوں اور دیگر گاڑیوں پر سوار افراد شہریت ترمیمی قانون اور مودی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔ شرکا نے اپنے ہاتھوں میں ترنگے تھامے ہوئے تھے۔ریلی کی قیادت حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے کی۔ اس ریلی کا اہتمام یونائیٹڈ مسلم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا۔ لوگوں نے اپنی سہولت کے مطابق مقامی مساجد میں نماز جمعہ ادا کی جس کے بعد اس ریلی میں شریک ہوئے۔ ریلی میں مختلف جماعتوں، تنظیموں انجمنوں کے نمائندوں و اہم شخصیات، جہد کاروں، علما کرام و مشائخین شریک تھے۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ سے اظہار یکجہتی کیلیے میسور یونیورسٹی میں احتجاج کے دوران کشمیر کو آزاد کرو کے پوسٹر اٹھانے والے طلبہ پر بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں نقاب پوش ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والے طلبہ کے خلاف پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کیا گیا اور اب ان طلبہ سے اظہار یکجہتی کے لیے بھارتی ریاست کرناٹک میں میسور یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو پولیس نے ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا۔کانگریس کے جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کے کالے قوانین ”سی اے اے، این آر سی “ کو ختم کر دے گی، آئین سے متصادم قوانین کو ہر گز ہر گز نافذالعمل نہیں رکھا جائے گا، ایسے قوانین ملک میں بد امنی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں، کانگریس سی اے اے کے مخالف مظاہرین کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لئے ایک سیل قائم کرے گی تا کہ ان لوگوںکو قانون کے شکنجے سے چھڑایا جا سکے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی نے جمعے کے روز مودی جی کے حلقے وارانسی پہنچی اور گفتگو کی جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کے کالے قوانین ”سی اے اے، این آر سی “ کو ختم کر دے گی۔ آئین سے متصادم قوانین کو ہر گز ہر گز نافذالعمل نہیں رکھا جائے گا۔بھارتی سیاسی رہنماو¿ں اور سماجی کارکنوں نے نئی دہلی میں مقیم غیر ملکی سفارتکاروں کو مقبوضہ کشمیر کا ایک مخصوص اور منتخب دورہ کرانے کے بھارتی حکومت کے اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے رہنما منیش تیواری نے غیرملکی سفیروں کے دورے کو حقیقت کو مسخ کرنے کی ایک فرسودہ مشق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے حکومت بنیادی طور پر یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ کشمیر میں ہر چیز نارمل ہے جو حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 منسوخ کرنے کے بعد حکومت نے یہ فرض کر لیا تھاکہ کہ کشمیری اس اقدام کو قبول کر لیں گے ۔

مشرف غداری کیس ،سنے بغیر سزا کہاں کا قانون ،فرد جرم میں غداری کا ذکر نہیں ،لاہور ہا ئیکورٹ

لاہور( این این آئی )لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کی جانب سے سنگین غداری کیس کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے خصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق سمری طلب کرلی۔ جبکہ فاضل عدالت نے کہا ہے کہ آرمی چیف کے معاملے پر دیکھ لیں کابینہ کا ذکر ہوا کہ کابینہ میں 11 لوگ تھے یا 13 لوگ تھے لیکن پرویز مشرف کیس میں تو کوئی کابینہ کی منظوری یا اس کا نظر نہیں آ رہا،ہم ٹرائل کورٹ کے نتائج پر نہیں جارہے، فیصلے کو دیکھیں تو اس وقت جس جس نے ساتھ دیا وہ سب اعانت کے ملزم بن جاتے ہیںجبکہ عدالتی معاون بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اس وقت وزیراعظم نے اکیلے ہی کیس شروع کرنے کا فیصلہ کیا جو قانون کے منافی ہے، آرٹیکل 6 کا جرم کوئی اکیلا نہیں کر سکتا، اگر مخصوص لوگوں کے خلاف کاروائی ہو یہ آئین کے خلاف ہوگا۔جسٹس مظاہر علی نقوی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سابق صد رجنرل (ر) پرویز مشرف کی درخواستوں پر سماعت کی۔دوران سماعت بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد لازم تھا کہ آرٹیکل 6 آنے کے بعد 1973 اور 1976 کے سنگین غداری قوانین میں ترامیم کی جاتی۔آرٹیکل 6 نیا جرم تو شامل ہوا مگر اس میں سزا کا طریق کار طے نہیں کیا گیا، ایسا ممکن نہیں کہ 18 ویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 6 کے تحت خود بخود سزا ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی عدالت وفاقی حکومت کی مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد غداری کی کارروائی کر سکتی ہے، یہاں وفاقی حکومت نے قانون کی پاسداری نہیں کی۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خصوصی عدالت تو بنا دی اور فوجداری کیسے چلے گی اس کا طریقہ کار طے ہی نہیں کیا گیا۔اس کیس میں مدعی پر کوئی جرح نہیں کی گئی، اس وقت کے وزیراعظم نے عدالت بنانے کے بعد انکوائری کا حکم دیا اور کیس آنے کے پہلے دن ہی خصوصی عدالت نے فرد جرم عائد کر دی۔جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ 2007 میں ایمرجنسی لگی اور یہ کہتے ہیں کہ آئین معطل ہوا، 2009 میں فیصلہ آیا جس میں 2007 کے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔بنچ کے سربراہ نے ایڈووکیٹ علی ظفر سے استفسار کیا کہ 2007 سے خاموشی تھی اور 2013 سے پھر یہ کیس آجاتا ہے۔اس پر ایڈووکیٹ خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا کہ پرویز مشرف نے آئین معطل کیا۔سماعت کے دوران بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 6 کے ساتھ تعلق نہیں بتایا مگر اسے غیر آئینی اقدام قرار دیا، جو کیس بنایا گیا وہ قانون کے مطابق نہیں بنا اور نہ عدالت کی تشکیل قانون کے مطابق تھی۔21 جون 2013 کو اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کو سمری بھیجی کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کا کیس بنایا جائے اور سیکرٹری داخلہ کو 29 دسمبر 2013 کو شکایت درج کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت کابینہ کی منظوری کے بغیر کیس نہیں بن سکتا یہ اختیار وزیراعظم کے پاس نہیں تھا۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جب بھی کوئی قانون کیس بنانے کا تقاضہ کرے گا تو اس کا مطلب ہو گا کہ وفاقی کابینہ فیصلہ کرے گی۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ مجاز اتھارٹی کو کیس دائر کرنے کی منظوری کون دے گا؟اس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے کہا تھا کہ کابینہ کی منظوری نہیں لی گئی اس طرح تو اس کیس کی بنیاد ہی موجود نہیں۔دورانِ سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ کے اجلاس میں ایجنڈا میں شامل تھا ؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ اس حوالے سے کابینہ کا کوئی بھی اجلاس نہیں ہوا۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ سے اٹارنی جنرل کے بتائے ہوئے دستاویزات کے علاوہ کوئی دستاویز موجود نہیں ہے۔اس پرفاضل بنچ نے استفسار کیا کہ یہ تاریخ میں اہم ترین معاملہ تھا کیا ایجنڈا آئٹم کے بغیر کیا کابینہ ایسے معاملے کو دیکھ سکتی ہے ؟۔جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دئیے کہ آرمی چیف کے معاملے پر دیکھ لیں کابینہ کا ذکر ہوا کہ کابینہ میں 11 لوگ تھے یا 13 لوگ تھے لیکن پرویز مشرف کیس میں تو کوئی کابینہ کی منظوری یا اس کا کردار نظر نہیں آ رہا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کابینہ سے منظوری کا کوئی ریکارڈ حکومت کے پاس ہے؟جس پر وزارت داخلہ کے نمائندے سے عدالت میں بیان دیا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے حوالے سے کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر عدالت کی تشکیل ہی غلط اور غیر قانونی ہے تو اسکے فیصلے سمیت تمام اقدام غیر قانونی تصور ہوں گے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل میں جو ججز لگائے گئے وہ کن بنیادوں پر لگائے گئے؟ خصوصی عدالت میں ججز لگانے کے لیے کوئی تحریری بات چیت بھی ہوئی یا سب کچھ ٹیلی فون پر ہی ہوا؟۔جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ وزارت قانون و انصاف نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے لیے ججز کے نام دئیے جائیں۔اس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف شکایت مجاز اتھارٹی نے دائر نہیں کی یہاں بھی قانون کی خلاف ورزی ہوئی، قانون کے مطابق کابینہ نے مجاز اتھارٹی کو نامزد کرنا تھا کہ وہ شکایت درج کروائے۔بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیسے ہو سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ملزم کی عدم موجودگی میں ٹرائل مکمل کر کے فیصلہ نہیں سنایا جاسکتا۔اس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ اگر کوئی شخص ٹرائل میں پیش نہیں ہورہا تو عدالت زیادہ سے زیادہ اسے اشتہاری قرار دے سکتی ہے۔فاضل بنچ نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کے علاوہ کتنے لوگ ہیں جو باہر بیٹھے ہیں ان کے خلاف بھی ایسے کبھی ٹرائل ہوا ؟ جس پر عدالتی معاون نے کہا کہ سیکشن 9 کے تحت ملزم کی عدم موجودگی میں ٹرائل ہو ہی نہیں سکتا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ کسی کو سنے بغیر سزا دینا کہاں کا قانون ہے؟، اگر کوئی 342 کا بیان نہیں دے رہا تو ضروری ہے کہ اس سے منگوالیا جائے۔جسٹس مظاہر علی نقوی نے مزید کہا کہ ہم ٹرائل کورٹ کے نتائج پر نہیں جارہے، فیصلے کو دیکھیں تو اس وقت جس جس نے ساتھ دیا وہ سب اعانت کے ملزم بن جاتے ہیں۔اس پر عدالتی معاون نے کہا کہ اس وقت وزیراعظم نے اکیلے ہی کیس شروع کرنے کا فیصلہ کیا جو قانون کے منافی ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 6 کا جرم کوئی اکیلا نہیں کر سکتا، اگر مخصوص لوگوں کے خلاف کاروائی ہو یہ آئین کے خلاف ہوگا۔جسٹس مظاہر علی نقوی نے ریمارکس دئیے کہ جو فرد جرم عائد ہوئی اس میں تو آرٹیکل 6 کا ذکر ہی نہیں ہے۔فاضل میں شامل جسٹس مسعود جہانگیر نے استفسار کیا کہ جب وفاقی حکومت دیگر کو ملزم نہیں بناتی تو خصوصی عدالت دیگر ملزموں کو بلوا سکتی ہے؟ اس پر بیرسٹر علی نے کہا کہ خصوصی عدالت کو دیگر ملزمان کو طلب کرنے کا اختیار نہیں تھا۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غداری ایک شخص نہیں کرسکتا یہ جرم مجموعی طور پر لیا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رشوت والے قانون کی طرح لیا جاسکتا ہے کہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں قصور وار ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ 3 نومبر 2007 کو پرویز مشرف کا اقدام کیا تھا جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ سابق صدر نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کی تھی۔پرویز مشرف کے وکلا ءاور عدالتی معاون کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو پیر (13 جنوریکو دلائل دینے کا حکم د یتے ہوئے وفاقی حکومت سے خصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق سمری طلب کرلی۔

اسرائیلی طیارے کی شام میں ایران اور عراقی تنصیبات پر بمباری 12ہلاک

دمشق (نیٹ نیوز) شام میں مبینہ طور پر اسرائیلی طیارے کی ایران اور عراق کی فوجی تنصیبات پر بمباری کے نتیجے میں 8 اہلکار، 4 شہری اور 2 عراقی حکام ہلاک ہوگئے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام میں عراقی سرحد کے نزدیک ایک طیارے نے بمباری کی، بمباری میں عراق اور ایران کے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جو عراق اور ایران کے حمایت یافتہ جنگجو گروپس کے زیر استعمال تھا۔ بمباری میں 8 فوجی اہلکار، شام میں کام رنے والے 4 سماجی کارکنان اور 2 عراقی حکام کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ 3 فوجی اہلکار شدید زخمی ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ اسلحہ ڈپو مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ ادھر شام میں انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ فضائی حملہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کی تنصیبات پر کیا گیا ہے جبکہ جنگ زدہ شام میں صورت حال پر نظر رکھنے والے ایک برطانوی ادارے کے مطابق بمباری اسلحہ ڈپوز پر کی گئی۔ دوسری جانب عراقی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ طور پر اسرائیلی طیارے نے اسلحے اور میزائل سے لدے دو ٹرکوں کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے تردید یا تائید نہیں کی گئی ہے۔ اسرائیل اس سے قبل بھی ایسے کئی حملے کرچکا ہے۔

امریکی کا نگریس نے ٹرمپ کو جنگ سے روک کر دنیا کو امن کا راستہ دکھایا،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ زینب الرٹ بل کی کثرت ائے سے منظوری کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم نے زینب قتل کیس سے ہم نے سبق سیکھ لیا۔ سیاسی معاملات میں تو ابھی کافی اختلافات ہیں لیکن سوشل سبجیکٹ پر سب لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور پھر یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ عام طور پر الزام یہ لگتا تھا کہ قانون سازی سرے سے ہوئی نہیں اور پارلیمنٹ کام نہیں کرتی۔ لہٰذا ایسے بل جس میں سیاسی جماعتوں کی سیاست کا امکان نہیں ہے ان میں آپس میں ایک دوسرے کی بات تسلیم کر لیا جاتا ہے تا کہ یہ احساس دلایا جا سکے کہ دیکھئے جی پارلیمنٹ میں کام ہو رہا ہے اور مل جل کر قانون سازی ہو رہی ہے۔ سیاسی مخالفت کے علاوہ باقی سبھی بل وہ آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے کنسرن کے ساتھ منظور ہوتے چلے جائیں گے۔ البتہ حکومت اپوزیشن دونوں طرف سے یہ رائے موجود ہے کہ ہر بات جو ہو سکتی ہے اسے کر لیا جائے اور اس الزام سے بچا جائے کہ پارلیمنٹ کام نہیں کر رہی۔ البتہ ایک ماہ پہلے یہ پوزیشن تھی کہ دنیا کے کسی بھی مسئلے پر پارلیمنٹ میں تو دونوں فریقین کی رائے مختلف ہوتی تھی اب دھڑا دھڑا بل منظور ہوتے جا رہے ہیں خاص طور پر سیاسی اور غیر سیاسی بل ان پر بھی اتفاق رائے ہوتا جا رہا ہے کیا یہ کوئی خفیہ ڈیل معاہدے یا انڈرسٹینڈنگ کا نتیجہ ہے یا پارلیمنٹ اس الزام سے بچنا چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی سرے سے نہیں ہوتی۔عمران خان کی سچائی اور حق گوئی کے سبھی معترف ہیں وہ صاف طور پر کہہ چکے ہیں کہ ہم نے کوئی این آر او نہیں کروں گا لیکن آج کل جو پے درپے واقعات ہو رہے ہیں اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی انڈر سٹینڈنگ ہو گئی ہے اور اب معاملات کو مل جل کر چلانے کے لئے دونوں فریقین تیار ہیں۔ نیب کے آرڈی نینس کے بارے میں جس طرح سے وہ واپس لیا گیا اور باتیں ہو رہی ہیں اور بعد میں بحث شروع ہو گئی کہ اس میں بعض غیر اسلامی چیزیں شامل ہیں۔ پلی بار گیننگ کا قانون یا کم از کم اور بھی بہت سارے نکات جو اسلامی قانون میں کس طرح سے شامل نہیں ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہو ںکہ کوئی نہ کوئی انڈر سٹینڈنگن ضرور ہوتی ہے۔ احتساب اور حکومت اور اپوزیشن کی انڈر سٹینڈنگ اکٹھی چل بھی سکتی ہیں یعنی ایک خاص حد تک ایک دوسرے کو برداشت کرنا قانون سازی کے لئے تعاون کرنا اور دوسری طرف یہ کہ کرپشن کے سلسلے میں کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہ کرنا یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ رانا ثناءاللہ کی قومی اسمبلی میں تقریر کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اے این ایف کے سربراہ فوجی ہوتے ہیں۔ یہ شعبہ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ آج تک کبھی کوئی کچا ہاتھ نہیں ڈالا۔ جب تک پورا ثبوت موجود نہ ہو کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ اب رانا ثناءاللہ کے بارے میں جو بھی ایکشن لیا گیا اب رانا ثناءاللہ اس کے جواب میں اگر قرآن پاک اٹھا کر یہ بات کہتے ہیں تو پھر اے این ایف جواب دے کہ ان کے پاس کیا ثبوت تھا اس سلسلے میں اگر وہ ثبوت پورا نہیں کر سکے تو ان کو ثابت نہیں کر سکے تو اس کی کیا وجہ تھی۔ یہ اے این ایف کی ذمہ داری ہے کہ ان کا شاندار ریکارڈرہا ہے ان کو اپنا ریکارڈ درست ثابت کرنے کے لئے جواب دینا چاہئے کہ رانا ثناءاللہ کے مسئلے کا کیا ہوا کیوں اتنی دیر تک یہ متعلقہ جج میسر ہی نہ آ سکا اور پھر کیوں ان کے ساتھ یہ سارا سلوک ہوا رانا ثناءاللہ کو چاہئے کہ وہ مراد سعید کی بات کا جواب دینے کے لئے قرآن پاک کو ہی سامنے رکھ کر بات کریں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے لوگوں پر جو حملہ ہوا تھا اس کی پلاننگ کہاں ہوئی تھی اور کون کون اس کے پیچھے تھا اور کس طریقے سے پولیس کو کیا حکم دیا گیا تھا۔ امریکی کانگریس نے ٹرمپ کو کوئی نیا محاذ کھولنے سے روکا ہے تو وقتی طور پر بندش ہو گئی ہے مشکل ہو گیا ہے کہ ٹرمپ کے لئے میدان جنگ میں کوئی فتوحات انجام دیں۔ امریکی کانفریس نے بڑی جنگ سے بچا لیا گیا ہے۔ میرا نہیں خیال ہے اس تنگ ناکے سے ٹرمپ کو اس پابندی سے نکلنے کا راستہ اختیار کر سکیں گے۔ جنگوں میں سب سے زیادہ قتل سچائی کا ہوتا ہے ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ 80 امریکی فوجی مارے گئے ہیں ٹرمپ نے کہا کہ سب اچھا ہے ایک بھی امریکی فوجی نہیں مارا گیا ہے ان میں سے کون سی بات سچی ہے۔ مسلمان بھائی کی بات پر یقین کریں یا سپر پاور کی بات پر یقین کریں واقعہ کیا ہے سمجھ نہیں آئی سچائی کیا ہے۔ اگر امریکہ نے ایران پر پابندیاں لگانے کی کوشش کی کہ امریکی کانگگریس میں اسے زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ اگر کانگریس جنگیں روک سکتی ہے تو ٹرمپ کو اس پیش قدمی سے بھی روک سکتی ہے کہ مزید کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ سوشل میڈیا پر فلموں کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ پرانی فلمیں دوبارہ دکھائی جا رہی ہیں۔

بھارتی ریاست ناگا لینڈ کا اپنی فوج بنا کر مودی کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان،پاکستان کے ساتھ یوم آزادی منانے کا اعلان

ناگا لینڈ‘حیدر آباد‘ میسور‘ نئی دہلی(نیٹ نیوز) بھارت کی وہ ریاست جس نے اپنی الگ فوج بنا کر بھارتی فوج کیخلاف جنگ لڑنے کا اعلان کر دیا، بھارتی ریاست ناگا لینڈ نے گزشتہ برس علیحدگی اختیار کرنے اور 14 اگست کو اکستان کیساتھ یوم آزادی منانے کا اعلان کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کی شورش زدہ ریاست ناگا لینڈ نے اب باقاعدہ طور پر اپنی الگ فوج تیار کر لی ہے۔ناگالینڈ کے شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپنی فوج کی تصاویر پھیلائی جا رہی ہیں اور بھارت کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ اب ناگا لینڈ آزادی حاصل کرنے کیلئے اور بھارت سے مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ واضح رہے کہ کشمیر پر قبضہ کرنے والا اور پاکستان کو توڑنے کے خواب دیکھنے والا بھارت خود ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگا ہے۔بھارت کی شورش زدہ ریاست ناگا لینڈ نے گزشتہ برس خود کو بھارت سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ناگا لینڈ ریاست کی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیاتھا کہ ناگا لینڈ اب ایک آزاد ملک ہے، جس پر بھارت نے زبردستی قبضہ کر رکھا تھا۔ناگا لینڈ 14 اگست 2019 کو بھرپور انداز میں اپنا یوم آزادی منائے گا۔ ناگا لینڈ کی حکومت اور عوام کو موقف ہے کہ ناگالینڈ کبھی بھی بھارت کے ساتھ الحاق نہیں چاہتا تھا۔ بھارت نے 1947 میں زبردستی ناگا لینڈ پر قبضہ کر لیا تھا۔ شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آر سی)اور قومی آبادی رجسٹر(این پی آر) کے خلاف جمعہ کے روز شہر حیدرآباد میں بڑے پیمانہ پر ترنگا ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی میں کئی لاکھ افراد نے شرکت کرتے ہوئے ان سیاہ قوانین کی مخالفت کی۔حیدرآباد کی بڑی عیدگاہ 1:15 بجے دوپہر نماز جمعہ ادا کی گئی اور اس کے بعد عیدگاہ میر عالم سے شاستری پورم میدان تک بڑے پیمانہ پر ریلی نکالی گئی۔ اس دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ریلی کی خاص بات یہ رہی کہ غیرمسلم افراد نے اس سے نہ صرف اظہار یگانگت کیا بلکہ اس میں شریک بھی ہوئے۔ ریلی میں موٹرسائیکلوں، بائکوں اور دیگر گاڑیوں پر سوار افراد شہریت ترمیمی قانون اور مودی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔ شرکا نے اپنے ہاتھوں میں ترنگے تھامے ہوئے تھے۔ریلی کی قیادت حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے کی۔ اس ریلی کا اہتمام یونائیٹڈ مسلم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا۔ لوگوں نے اپنی سہولت کے مطابق مقامی مساجد میں نماز جمعہ ادا کی جس کے بعد اس ریلی میں شریک ہوئے۔ ریلی میں مختلف جماعتوں، تنظیموں انجمنوں کے نمائندوں و اہم شخصیات، جہد کاروں، علما کرام و مشائخین شریک تھے۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ سے اظہار یکجہتی کیلیے میسور یونیورسٹی میں احتجاج کے دوران کشمیر کو آزاد کرو کے پوسٹر اٹھانے والے طلبہ پر بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں نقاب پوش ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والے طلبہ کے خلاف پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کیا گیا اور اب ان طلبہ سے اظہار یکجہتی کے لیے بھارتی ریاست کرناٹک میں میسور یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو پولیس نے ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا۔کانگریس کے جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کے کالے قوانین ”سی اے اے، این آر سی “ کو ختم کر دے گی، آئین سے متصادم قوانین کو ہر گز ہر گز نافذالعمل نہیں رکھا جائے گا، ایسے قوانین ملک میں بد امنی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں، کانگریس سی اے اے کے مخالف مظاہرین کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لئے ایک سیل قائم کرے گی تا کہ ان لوگوںکو قانون کے شکنجے سے چھڑایا جا سکے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی نے جمعے کے روز مودی جی کے حلقے وارانسی پہنچی اور گفتگو کی جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کے کالے قوانین ”سی اے اے، این آر سی “ کو ختم کر دے گی۔ آئین سے متصادم قوانین کو ہر گز ہر گز نافذالعمل نہیں رکھا جائے گا۔بھارتی سیاسی رہنماو¿ں اور سماجی کارکنوں نے نئی دہلی میں مقیم غیر ملکی سفارتکاروں کو مقبوضہ کشمیر کا ایک مخصوص اور منتخب دورہ کرانے کے بھارتی حکومت کے اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے رہنما منیش تیواری نے غیرملکی سفیروں کے دورے کو حقیقت کو مسخ کرنے کی ایک فرسودہ مشق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے حکومت بنیادی طور پر یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ کشمیر میں ہر چیز نارمل ہے جو حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 منسوخ کرنے کے بعد حکومت نے یہ فرض کر لیا تھاکہ کہ کشمیری اس اقدام کو قبول کر لیں گے ۔

اضا خیل ڈرائی پورٹ کا افتتاح سفارشی نظام نہیں چلے گا ،کرپشن کرنیوالوں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی،عمران خان

نوشہرہ(نیوز ایجنسیاں ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔ میری حکومت کوئی سفارشی نظام نہیں لائے گی۔ پاکستان سیٹزن پورٹل پر کرپشن سے متعلق شکایت کریں، میرا کام ہے اسے دیکھنا۔نوشہرہ ڈرائی پورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت ہم نچلے طبقے کیلئے کارڈ بنا رہے ہیں، اس کے ذریعے انھیں پیسے بھی ملیں گے اور وہ اشیائے ضروریہ بھی خرید سکیں گے۔ اس کے علاوہ پورے پاکستان کے غریب گھرانوں کو صحت انصاف کارڈ ملے گا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سال ہم 50 لاکھ گھر بنانا شروع کر رہے ہیں۔ نیا پاکستان ہاسنگ سوسائٹی کی وجہ سے تنخواہ دار طبقہ قسطوں میں گھر خرید سکے گا۔ ہاسنگ کا منصوبہ پر کام شروع ہوتے ہیں انڈسٹریز میں کام بڑھے گا۔اپنے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹرین میں عام آدمی سفر کرتا ہے، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ پاکستان ریلوے کو اٹھائیں۔ ریلوے ایک ایسا ادارہ بنے جو پی آئی اے اور پرائیویٹ سیکٹر کا مقابلہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ آج تک پاکستان میں ریلوے نظام کی بہتری کیلئے کیوں پیسہ نہیں خرچ کیا گیا؟ ریلوے کے حالات بگڑتے گئے اور وہ اس نہج پر پہنچ گیا۔ ہم نے اربوں کی سرکاری زمینوں سے قبضے چھڑوائے ہیں۔ ریلوے کی اراضی فروخت کرکے ریلوے کا خسارہ دور کریں گے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایم ایل ون ریلوے میں انقلابی تبدیلی لے کر آئے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پشاور سے کراچی تک کا سفر 8 گھنٹے میں طے ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اضاخیل ڈرائی پورٹ سے تجارت میں اضافہ اور روز گار ملے گا، اس سے نوشہرہ کے لوگوں کوفائدہ ہوگا، ایم ایل ون پاکستان ریلویز میں انقلابی تبدیلیاں لائے گی، ریلوے کو اب پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مقابلہ کرناہے، شیخ رشید احمد نے ریلوے کا خسارہ کم کیا ، ساری دنیا میں فریٹ کیلئے ٹرین کو استعمال کیا جاتاہے،ایم ایل ون کے بعد کراچی سے پشاور ٹرین8 گھنے میں پہنچے گی ،ریلوے کی زمینوں کو کمرشل کریں گے اور ریلوے کا خسارہ کم کریں گے،قوم کو اگلے ہفتے بتائیں گے کہ قبضہ گروپوں سے کتنا پیشہ بچایا ہے، عام آدمی کی سواری ریلوے کو اوپر لے کر جائیں گے۔ ،نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام سے 40 انڈسٹریاں چلیں گی روز گار کے مواقع پیداہونگے ‘ ملک میں بند ہونے والی انڈسٹریز کیلئے اقدامات کر رہے ہیں‘ عوام بنیادی اشیاءیوٹیلٹی سٹورزسے سستی قیمت پر لے سکتے ہیں۔ جمعہ کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ شیخ رشید احمد کو اضاخیل ڈرائی پورٹ کی تکمیل پر مبارکباد پیش اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ نوشہرہ کے عوام باشعور ہیں اس لئے پی ٹی آئی کو بار بار منتخب کرتے ہیں۔ ڈرائی پورٹ سے تجارت میں اضافہ اور روز گار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائی پورٹ سے نوشہرہ کے لوگوں کوفائدہ ہوگا۔70 سالہ تاریخ میں کبھی ریلوے پر پیشہ خرچ نہیں کیا گیا ۔ پاکستان میں جو ریلوے ٹریک انگریز چھوڑ گیا اس سے بھی کم ہو گئے ہیں ۔ پاکستان میں جو حکومتیں آئیں وہ صرف ایلیٹ کلاس کیلئے تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے حالات بگڑتے گئے اور پیسہ بھی خرچ نہیں کیا گیا ۔ ایم ایل ون پاکستان ریلویز میں انقلابی تبدیلیاں لائے گی۔ ریلوے پر سرمایہ کاری نہیں کی گئی اسی وجہ سے ریلوے کا برا حال ہے ملک میں سرکاری اداروں کی کارکردگی آہستہ آہستہ خراب ہو گئی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ریلوے کو اب پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مقابلہ کرناہے ۔ شیخ رشید احمد نے ریلوے کا خسارہ کم کیا ۔ ساری دنیا میں فریٹ کیلئے ٹرین کو استعمال کیا جاتاہے ۔ ایم ایل ون کے بعد کراچی سے پشاور ٹرین8 گھنے میں پہنچے گی ۔ ریلوے ٹیکنالوجی میں چین سب سے آگے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کے حالات بدرجہ خراب ہوتے رہے ‘ ریلوے مزدور اور انجینئر کو کہتا ہوں کہ حکومت کوئی سفارش نہیں لائے گی ‘کوئی بھی کرپشن کرے کمپلین پورٹل پر شکایت درج کرائیں کرپشن کرنے والے کے خلاف شکایت پر ایکشن لینا میرا کام ہے ۔ ریلوے کی زمینوں کو کمرشل کریں گے اور ریلوے کا شارہ کم کریں گے ۔ اربوں روپے کی سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرایا ہے ۔ قوم کو اگلے ہفتے بتائیں گے کہ قبضہ گروپوں سے کتنا پیشہ بچایا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے کمزور طبقے کو اوپر اٹھانا ہے ۔ عام آدمی کی سواری ریلوے کو اوپر لے کر جائیں گے۔ ریلوے اسٹیشن پر خواتین کیلئے اسٹالز بنائے ہیں ‘ ہماری ساری پالیسیاں نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کیلئے ہیں‘ احساس پروگرام میں ہم نے 190 ارب روپے رکھے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو قرضے دے رہے ہیں‘ انہیں ہنر سکھائیں گے اور انہیں سکالر شپ دے رہے ہیں‘ صحت کارڈ کے ذریعے غریب طبقہ علاج کرا سکتا ہے ‘50 لاکھ گھر بنا رہے ہیں جو عام آدمی قسطوں پر خرید سکتا ہے‘ نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام سے 40 انڈسٹریاں چلیں گی‘40 انڈسٹریاں چلیں گی تو روز گار کے مواقع پیداہونگے ‘ ملک میں بند ہونے والی انڈسٹریز کیلئے اقدامات کر رہے ہیں‘ عوام بنیادی اشیاءیوٹیلٹی سٹورزسے سستی قیمت پر لے سکتے ہیں‘ احساس پروگرام سے نچلے طبقے کی ہر طرح سے حفاظت کریں گے‘ پاکستان جس کیلئے بنا تھا 2020 میں وہ عظیم قوم بن کر دکھائیں گے۔

امریکہ نے مزید 17ایرانی کمپنیوں پر پابندی لگا دی ،چین کو بھی ایران سے تیل نہیں خریدنے دینگے ،پو مپیو

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی میڈیا کے مطابق امریکا نے ایران کی متعدد کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کردیں، 8 ایرانی کاروباری افراد پر بھی پابندیاں لگائی گئیہیں، پابندی کی شکار کمپنیاں اور افراد کسی بھی امریکی شہری، امریکی فرم دنیا بھر میں پھیلے امریکا کے کاروباری نیٹ ورک سے کسی بھی قسم کا لین دین نہیںکرسکیں گی۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے نزدیکی افراد پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی شامخانی اور رضاکار فورس بسیج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل غلام رضا سلیمانی پر بھی امریکی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عراق کے حملوں میں ایران امریکی فوجیوں کو مارنے کا ارادہ رکھتا تھا، ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی سفارت خانوں سمیت امریکی اہداف کو نشانہ بنانے والے تھے، امریکا کے پاس قاسم سلیمانی کے ممکنہ حملوں کی انٹیلی جنس معلومات تھیں، حملوں کے فوری خطرے کو ٹالنے کے لیے قاسم سلیمانی کے خلاف کارروائی کی۔ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ایران 40 سال سے دنیا میں دہشت گردی کی مالی معاونت کر رہا ہے، ایران پر پابندیاں اسے سبق سکھانے کے لیے لگائی گئی ہیں۔

کوئٹہ :مسجد میں خود کش دھماکہ ،16شہید 19زخمی ،ڈی ا یس پی اور امام بھی جاں بحق

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹان کی مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں مسجد کے امام اورڈی ایس پی امان اللہ سمیت 16 افراد شہید جبکہ19 شدید زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے موقع پہنچیں اور علاقے کو تمام قسم کی آمدورفت کیلئے یل کردیا۔دھماکے میں زخمی ہونے والے متعدد افراد کو ایمبیولینسوں کے ذریعے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاج کیلئے لائے گئے بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا سیٹیلائٹ ٹان کی مسجد میں ہوا جہاں نماز مغرب کے وقت بہت سے نمازی موجود تھے۔وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے کوئٹہ شہر میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس بزدلانہ کارروائی میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ادھر وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی کوئٹہ میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ڈی ایس پی امان اللہ سمیت دیگر افراد کی شہاد ت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کیلئے دعا بھی کی۔ ترجمان سول ہسپتال کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ ٹان دھماکے میں 13 افراد شہید ہوئے اور 21 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ اسپتال میں ایمرجنسی بھی نافذ کردی گئی ہے۔وزیراعظم اور صدر کی مذمت۔وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کوئٹہ میں مسجد کے اندر دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی، وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی کی بھی ہدایت کی۔صدر مملکت عارف علوی نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کی بلند درجات اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ صدر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ دہشت گرد ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں تاہم قوم ان ناپاک سازشوں کے خلاف متحد ہے۔دوسری جانب وزیراعلی بلوچستان نے غوث آباد سٹیلائٹ ٹاون میں مسجد کے اندر بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے، وزیراعلی بلوچستان نے دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جب کہ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بھی مسجد کے اندر دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آور سچے مسلمان نہیں ہو سکتے۔

چینل ۵ پر خبر نشر ہونے کے بعد ڈی جی والڈ سٹی کو ہوش آ گیا‘ مقدمے کیلئے تھانہ ٹبی میں درخواست دیدی

لاہور (خصوصی رپورٹر) چینل فائیو پر خبر نشر ہونے کے بعد ڈی جی والڈ سٹی کو بھی ہوش آگیا شاہی قلعہ میں ہونے والی شادی کی تقریب کے خلاف تھانہ ٹبی سٹی میں درخواست دائر کردی جس میں بتایا گیا ہے کمپنی نے اجازت نامے کے خلاف سرگرمیاں سرانجام دیں، والڈسٹی کے قواعدو ضوابط کے مطابق قلعے میں آتش بازی،کھانا بنانا، خوبصورتی کو نقصان پہنچانا اور دیگر سرگرمیاں ممنوع ہے جس کی کمپنی کی طرف سے خلاف ورزی کرنے اور جھوٹ بولنے پر مقدمہ درج کیا جائے۔ اس حوالے سے ایس ایچ او ٹبی سٹی عاطف ملک کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہوئی ہے مزید کاغذات والڈ سٹی سے طلب کئے ہیں جس کے بعد ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

فاطمہ فرٹیلائزرکا کمال،شاہی قلعہ میں صنعتکار کے بیٹے کی دعوت ولیمہ ،ہیر ٹیج کونسل قوانین کی دھجیاں اڑا دیں

لاہور (خصوصی رپورٹر، نامہ نگار) سیاسی اثرورسوخ یا پھر دولت کی چمک ؟ بین الاقوامی ہییرٹیج کونسل میںشامل تاریخی شاہی قلعہ میں معروف صنعتکار کے بیٹے کی دعوت ولیمہ کا اہتمام، لاکھوں روپے کے عوض بین الاقوامی ہیرٹیج کونسل کے قوانین کی دھجیاں اڑا دی گئی، چینل فائیو، خبریں کی نشاندہی پر وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کا نوٹس، ابتدائی رپورٹ پر فورٹ انچارج معطل کردیا گیا مزید تحیققات کےلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، والڈ سٹی ڈی جی کا کہنا ہے کہ دیگر ملوث افسران و ملازمین اور شادی کا اہتمام کرنے والوںکے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کرنے کے احکامات جاری کر دئےے ہیں۔ فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی کے چیف ایڈمنسٹریٹر آفیسر کی طرف سے 100افراد کے لئے کارپوریٹ ڈنر کا اجازت نامہ لیا گیا تھا جس کا غلط استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے متعلقہ کمپنی کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے تھانہ ٹبی سٹی میں درخواست دے دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملک کے بڑے صنعتکار نے لاہور کے تاریخی شاہی قلعے میں 9جنوری کے روز بیٹے کی دعوت ولیمہ کا اہتمام کیاگیا، تقریب کے بعد قلعے میں بکھرے سامان کی چینل فائیو نے ویڈیو حاصل کرلی۔ شاہی باورچی خانہ میں منعقد کی گئی بدھ کی رات ہونے والی دعوت ولیمہ میں ڈھائی سے تین سو افراد شریک ہوئے، شاہی باورچی خانہ میں باقاعدہ قناطیں گاڑھی گئیں‘ لش پش سٹیج، ہائی فائی ساو¿نڈ سسٹم اور دیواروں پر فانوس لٹکائے گئے جبکہ تقریب کے بعد قلعے کے مختلف حصوں میں کچرا اور بچا کھچا سامان بھی پھینک دیا گیا، شاہی قلعہ بین الاقوامی ہیرٹیج کونسل میں شامل ہے، کونسل کے قوانین کے تحت قلعہ میں کسی قسم کی تقریب منعقد نہیں کی جاسکتی۔ جس کی چینل فائیو اور خبریں کی نشاندہی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی والڈ سٹی سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے احکاما ت جاری کئے ہے اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ والڈ سٹی اور قلعہ انتظامیہ نے سیاسی دباو¿ اور لاکھوں روپے رشوت کے عوض تقریب منعقد کرنے کی اجازت دی۔اس حوالے سے والڈ سٹی اتھارٹی کے ڈی جی کامران لاشاری نے گفتگو کرتے ہوئے چینل فائیو، خبریں کو بتایا کہ فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی ہے جس پر بھرپور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ اس میں ملوث افسران و ملامین کو بھی ہرگز معافی نہیں دی جائے گی۔