تازہ تر ین

ایران،مظاہروں میں شرکت پر برطانوی سفیر گرفتارو رہا

واشنگٹن، لندن، تہران، ٹورنٹو، سڈنی (نیٹ نیوز) ایرانی پولیس نے حکومت کے خلاف نکالے گئے ایک جلوس میںشرکت کرنے پرتہران میں متعین برطانوی سفیر روب مکائیر کو حراست میں لے لیا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانوی سفیر کوایک ریلی میں شرکت کے بعد گرفتار کیا گیا ۔ان سے تہران حکومت کے خلاف نکالے گئے جلوس میں شرکت کے بارے میں پوچھ تاچھ کی گئی۔ بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا۔ادھربرطانوی حکومت نے تہران میں اپنے سفیر کی گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی قرار یا ۔برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک ریپ نے ایک بیان میں کہاکہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران میں برطانوی سفیر روب مکایر کو حراست میں لیا گیا۔ وہ ایک ایسی ریلی میں شریک تھے جس میں یوکرین کے مار گرائے گئے مسافر طیارے کے مہلوکین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا تھا۔ کسی ایسی پرامن ریلی میں شرکت پر سفیر کو حراست میں لینا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔برطانوی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اس وقت فیصلہ کن موڑ میں ہے۔ عالمی سطح پر ایرانی پرعاید کردہ پابندیوں کی وجہ سے تہران سیاسی، اقتصادی اور معاشی طور پرتنہا ہو رہا ہے۔ اسے مزید تنہائی کو بڑھانے یا عالمی سفارتی اصولوں کی پاسدارای کو یقینی بنانے میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ادھر امریکا نے بھی تہران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری کو سفارتی آداب کی توہین قراردیتے ہوئے ایران پر زور دیا کہ وہ اس اقدام پر برطانیہ سے معافی مانگے۔ ایران میں یوکرینی مسافرطیاراگرنے کے واقعے کے حکومتی اعتراف کے بعد لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، اورپاسداران انقلاب کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ان کے خلاف اے ڈکٹیٹر تم ایران کے داعشی ہو کے نعرے لگائے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں اس وقت لوگوں کی بڑی تعداد حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی جب ایران نے سرکاری سطح پر اعتراف کیا کہ حال ہی میں یوکرین کا ایک مسافر جہاز میزائل حملے کے نتیجے میں حادثے کا شکار ہوا تھا۔ مظاہرین سخت مشتعل اورغم وغصے میں تھے۔ انہوں نے پاسداران انقلاب کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ان کے خلاف اے ڈکٹیٹر تم ایران کے داعشی ہو کے نعرے لگائے۔ایرانی اپوزیشن کے ترجمان ٹی وی چینل ایران انٹرنیشنل کی طرف سے تہران میں نکالے جانے والے جلوس کی فوٹیج دکھائی گئی جس میں لوگوں کو پاسداران انقلاب کے خلاف داعشی کے نعرے لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ایران میں مظاہرین نے جہاں پاسداران انقلاب کے خلاف شدید نعری بازے کی وہیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ اور دیگر ایرانی عہدیداروں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔مظاہرین نے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی اور دیگر لیڈروں کی تصاویربھی پھاڑ کر پھینکیں۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے یوکرینی ہم منصب وولودیمیر زیلینسکی کو ٹیلیفون کر کے یقین دہانی کرائی ہے کہ یوکرین کے طیارے کو غلطی سے مار گرانے کے لئے ذمہ دار تمام لوگوں کی ذمہ داری طے کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔یوکرین کے صدر دفتر کی پریس سروس نے ہفتہ کو دونوں رہنماﺅں کے درمیان ٹیلیفون پر ہوئی بات چیت کے بعد یہ معلومات دی۔وولودیمیر زیلینسکی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران اپنی غلطی قبول کرے گا اور سرکاری طور پر معافی مانگنے کے بعد اس کے لئے ذمہ دار لوگوں کو سزا دے گا۔دریں اثناء ایران کے صدر حسن روحانی نے یوکرین طیارہ حادثے کے سلسلے میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سے فون پر بات چیت کی۔ ایرانی صدر دفتر کی جانب سے ایک پریس بیان جاری کر کے یہ معلومات دی گئی۔ حسن روحانی نے کہا کہ ایران اس حادثے کے سلسلے میں صورتحال کو واضح کرنے کے لئے بین الاقوامی قانون کے دائرے میں کسی بھی قسم کے بین الاقوامی تعاون کا خیر مقدم کرتا ہے اور اس مقصد کے لئے تمام قونصلر سہولیات فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر ایران اور کینیڈا کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت جاری رہے ۔جسٹن ٹروڈو نے ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یوکرین طیارہ حادثے کی جانچ میں ایران نے کینیڈا کو تعاون کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ جسٹن ٹروڈونے کہا کہ جلد ہی کینیڈا کی ایک ٹیم اس حادثے کی جانچ کے لئے ایران پہنچے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید قتل عام نہ کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کے اعتراف کے بعد ایران میں ہونے والے مظاہروں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرائے جانے کے اعتراف کے بعد تہران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مظاہرین اور اخبارات کی جانب سے ملک کی قیادت پر دبا ڈالا جا رہا ہے۔امریکا کی خفیہ ایجنسی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے ایران کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی پر لگائے گئے الزامات مسترد کر دیئے۔امریکی ٹی وی کے مطابق امریکی صدر نے اپنی نیوز کانفرنس میں قاسم سلیمانی کو دنیا کا نمبر ون دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قاسم سلیمانی کی دہشت کا راج اب ختم ہو چکا، امریکی افواج نے ایک درست کارروائی میں انہیں قتل کیا۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو امریکا کی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے مسترد کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا علم نہیں کہ بغداد ائیرپورٹ پر حملے میں مارے گئے جنرل سلیمانی امریکا کے چار سفارتخانوں پر حملوں کی سازش کر رہے تھے۔اہلکاروں نے امریکی اخبار کو بتایا کہ صرف بغداد میں امریکی سفارتخانے کے خلاف سازش کا علم تھا لیکن وہ بھی غیر واضح تھا۔آسٹریلیا کے سیکڑوں طلبا نے جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کو شہید کرنے کے امریکا کے دہشت گردانہ اقدام کی مذمت میں ایک احتجاجی اجتماع کیا۔آسٹریلیا کے سیکڑوں طلبا نے سڈنی میں امریکی قونصل خانے کے باہر اجتماع کرکے جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کو شہید کرنے کے امریکا کے دہشت گردانہ اقدام کی مذمت کی اور امریکا سے شدید نفرت و بیزاری کا اعلان کیا۔ امریکا مخالف اس اجتماع کے شرکا نے آسٹریلیا کی حکومت سے کہا کہ وہ عراق سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بارے میں عراقی پارلیمنٹ کے بل کا احترام کرتے ہوئے اپنی فوج عراق سے واپس بلائے۔ امریکا کی دہشت گرد فوج نے تین جنوری کی علی الصبح بغداد ہوائی اڈے پر سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی الہمندس نیز ان کے کئی ساتھیوں کو دہشت گردانہ حملہ کرکے شہید کردیا تھا جس کے بعد پوری دنیا میں امریکا کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved