تازہ تر ین

امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سر زمین استعمال کرنا چاہتا ہے،سابق سفیر مشتاق اے مہر

اسلام آباد(انٹرویو ملک منظور احمد تصاویر نکلس جان) کویت میں پاکستان کے سابق سفیر اور ممتاز سفارتی امور کے ماہر مشتاق اے مہر نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ نہیں ہو گی ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان صلح ہو سکتی ہے ،سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ثالثی کروانے کے حوالے سے پا کستان کا کردار محدود ہے ۔پاکستان نے اب کسی جنگ کا حصہ نہ بننے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ ایک بہتر اور مثبت فیصلہ ہے ان خیا لا ت کا اظہا ر انہوں نے چینل فائیو کے پر وگرام ڈپلو میٹک انکلیو میں خصوصی ا نٹرویو کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملک اپنے قومی مفادات کے لیے جدوجہدکرتاہے،امریکہ کے مقا صد ہیں کہ اگر جنگ ہو تو پا کستان کو استعمال کیا جائے ،پاکستا ن کی زمین کو استعمال کیا جائے ،کم از کم پاکستان ایران کی مدد نہ کرے ۔ سابق سفیر نے خطے کی صورتحال ،پاکستان کی امن کی کو ششیں ، ایران امریکہ کشیدگی ،اور مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیا ل کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بھی یہی کو شش ہے کہ حا لا ت جیسے بھی ہو ں پا کستان ایک بارپھر سے امریکہ کی گو د میں جا کر نہ بیٹھ جائے کیو نکہ ایران کا تجربہ کا ہے کہ ہم نے پچھلے تیس سال امریکہ کا ساتھ دیا ہے دونوں ملکو ں کے علیحدہ علیحدہ مقاصد ہیں اور وہ مقاصد یہ ہیں پا کستان کسی بھی ملک کی سا یئڈ نہ لے اگر پا کستان نیو ٹرل رہتا ہے تو ایران ،امریکہ خوش رہتے ہیں ۔لیکن پاکستان مسلم ملک ہے میر ے خیال سے ہمیں خاموشی سے تماشہ نہیں دیکھتے رہنا چاہیے اس لیئے پا کستان نے کو شش کی ہے کہ دونو ں سایئڈز کو علیحدہ علیحدہ کیا جائے اور امن کی طر ف لا یا جائے ۔ٹرمپ کے ذہن میں ہے کہ وہ دنیاکی بہت طاقتو ر حکو مت ہے اور اس کے ہا تھ میں سب پاور ہے ان حالات میں پا کستان کی کو شش رہے گی کہ وہ دونوں ملکوں کے حا لا ت میں تھوڑی بہتری آئے ۔کم از کم یہ جنگ کی طرف نہ جائیں اور غیر ضروری اکنامک پر یشر ،آئل اینڈ گیس کا پر یشر کم ہو جائے ۔کیونکہ پاکستان زیادہ اثر انداز ہوتا ہے ۔ایران کی خوشحالی سے ہمیں فائدہ تو نہیں ہو گا لیکن اس کی غربت سے ہمیں نقصان ضرور ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ سعودی عریبیہ اور ایران کی صلح ہو سکتی ہے اس کے لئے گروپ چاہیے جیسے پاکستان ،مصر ،انڈونیشیا اور اسلامک ممالک اکٹھے ہو کر کو ئی میکنزیم بنائیں او آئی سی کے ذریعے یا ڈائریکٹلی ،سعودی عریبیہ اور ایران میں بہت زیا دہ مشکلا ت نہیں ہیں،ایران اپنے وسائل شیعہ ازم پر زیادہ خرچ کرتا ہے وہ ان ملکوں پر خرچ کرتے ہیں جہاں مشکلا ت زیا دہ ہیں جیسے کہ اعراق ،کویت ،یمن اور پا کستان ہیں۔اگر وہ صرف اسلامک آیئڈیا لوجی کو پھیلائیں تو سعودی عریبیہ اور ایران میں اچھے حالا ت ہو سکتے ہیں ۔ایران کی مشہور شخصیت جنرل سلیمان کی امریکہ کی جانب سے ڈرون حملے میں شہادت پر سابق سفیر کا کہنا تھا کہ دنیا ٹرمپ سے ڈرتی ہے کیونکہ وہ کہتاہے کہ دنیا کی سب سے پاور فل فو ج میرے پا س ہے میں اس کا کمانڈر ہوں ،دنیا میں کو ئی ایسا ملک نہیں جہا ں ایسا کما نڈر ہو ۔ٹرمپ نے بھی اپنی طاقت دکھانے کی کو شش کی ہے ،کہ وہ اپنے دشمنو ں کو مارسکتے ہیں امریکہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر آپ کو ئی کام ہمارے خلا ف کریں گے تو ہم آپکے گھر گھس کر مارسکتے ہیں ۔یہ فیصلہ غلط ہے اور انٹر نیشنل لا ءاور ہیومین رائٹس کے خلا ف ہے ہم اس کی شدید مزمت کرتے ہیں لیکن امریکہ کی عوام میں بہت سارے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اسے اچھا اقدام مانا ہے اور اس فیصلے کو سراہا ہے ۔ایران پر امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران کی تاریخ بہت پرانی ہے ایران بہت بڑا ملک ہے اتنا بڑا انقلا ب اس نے دیکھا ہے اور بہت ساری کا میابیاں حاصل کیں ہیں ایران کے دوسرے مما لک کے ساتھ تعلقات کسی بھی قسم کے لالچ سے نہیں ہیں بلکہ وہ سیا سی تعلقات استعمال کرتا ہے ایگریکلچر اس کے پا س ،آئل اور ٹیکنالوجی ایران کے پا س ہے، اگر امریکہ ایران جنگ ہوتی ہے تو غربت ایران میں ضرور لوٹ آئے گی ۔ لیکن ایران بھوکے نہیں مریں گے۔ایک سوال کے جواب میں سابق سفیر نے کہا کہ یورپ نے جنگ دیکھی ہے لاکھوں لوگ اس میں مارے گئے ہیں اس سے زیا دہ ضروری بات یہ ہے کہ ویسڑن یورپ میں نے بہت بڑا گیم کیا ہے جو کمیو نسٹ یو رپ کو ختم کیا ہے اب یو رپ اختلا فات ختم کر کے ترقی کی جانب بڑھنا چاہتا ہے ،وہ نہیں چا ہتا کہ کوئی بیرونی اثرات اس کا میا بی پر اثرانداز ہو ں اور وہ کسی قسم کے اکنا مک پر یشر میں آئے ۔اس وقت یو رپ کو ترقی کی ضرورت ہے اسے مدد او ر امن کی ضرورت ہے اس نے چائنہ اور رشیا ءسے سیکھا ہے کہ جنگ تباہی کا پیش خیمہ ہو تی ہے اس سے ٹیکنا لو جی ختم ہو جاتی ہے ملک غربت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا صدر بش نے غیر ضروری طور پر جنگ کی ویتنا م میں بغیر ضرورت کے جنگ ہو ئی انیس سو پنتالیس کے بعد کسی بھی جنگ میں امریکہ کو فائدہ نہیں ہوا،امریکہ کا دنیا میں اچھا تاثر پیدا نہیں ہو ا،اس لیے کہا گیا کہ جتنے بھی فیصلے ہو ئے ہیں اگر وہ سینیٹ اور کا نگرس کی اجازت کے بغیر کے ہو ئے ہیں تو غلط کیے گئے ہیں ۔جبکہ اس کے مقابلے میں امریکہ کے دشمن رشیاء،چائنہ نے امن کی پا لیسی اختیار کر کے غربت کو دور کیا ۔اور آج وہ ٹیکنالو جی اور خوشحالی میں بہت آگے تک جارہے ہیں ۔لیکن فوج کا کنٹرول امریکہ کے صدر کے پا س ہی رہے گا کیونکہ ٹرمپ کہتا ہے کہ دنیا کی سب سے مضبو ط فو ج میر ے پا س ہے میں اس کا کمانڈر ہوں دنیا میں کو ئی ایسا ملک نہیں جہاں ایسا کما نڈر ہو ۔یہ فرق ہے سسٹم میں ۔ایک سوال کے جواب میں انہو ں کہا کہ امریکہ کی عوام کی پڑھی لکھی اور بہت صحیح فیصلے کرتی ہے وہا ں کی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ٹرمپ کو گراکر امریکہ کو کمزور کرنا چاہتی ہے جیسے پہلے سوشل ڈیموکریٹک کر مسلہ تھا وہ ابامہ نے حل کردیا ،اب ایک پھر امریکن پبلک چاہتی ہے کہامریکہ ایک بار پھر انیس سو پینتالیس جیسا مضبو ط ملک ہو۔اس کے لیے ٹرمپ جیسا مضبو ط شخص چاہیے جو فیصلہ کرنے والا ہو،شور مچا نے والا ہو،جو لوگوں کو ڈرا سکے ۔اگر زیا دہ حا لا ت خراب ہوئے تو امریکہ ایک ٹرمپ اور آنے کی امید ہے ۔سابق سفیر کا کہنا تھا کہ اعراق نہیں چا ہتا کہ امریکن فو ج کو وہاں سے ختم کیا جائے ۔اگر اعراق میں فوجیں رہیں گیں تو وہاں امن رہے گا اگر اعراق سے فوجیں نکلتیں ہیں تو وہا ں سول وار کا خطرہ بھی ہو گا ،کردوں کے مسائل بھی اٹھ سکتے ہیں جھگڑا فساد ہو گا ،جہاں پر آئین اور جمہوریت نہیں وہاں پر امریکن فورسز ضروری ہے کو شش کی جائے گی کہ امریکن فورسز کو رکھا جائے یا ٹوکن فورسز کو رکھا جائے گا۔جیسے پا کستان نے امریکہ کے ساتھ ایگری منٹ کیا ہوا ویسے اگر اعراق بھی کرتا ہے تو اس کے بارڈر محفو ظ رہے گے ۔ہر ملک چاہتا ہے کہ امریکن فورسز اس کے پا س آ جائے جیسا کہ قطر نے کیا ہے انہوں نے کا فی حد تک سعودی فورسز کو اپنے ہا ں جگہ دی ہے کویت نے امریکن فورسز کو اپنے ہا ں جگہ دی ہوئی ہے ۔امریکہ تیا ر ہے کہ وہ اپنی فوجیں دنیا بھر سے نکال کر چند ممالک تک محدود رکھے ۔اس کے بعد وہ اپنی اکنامک اور ٹیکنالو جی کو بہتر کرے گا کیونکہ وہ پروڈکشن میں بہت زیادہ پیچھے رہ گیا ہے۔سابق سفیر نے کہا کہ افغانستان کے اند ر ان کی اپنی اندرونی صورتحال بہت اہمیت کی حامل ہے ،یہ تین سو سال کا ملک ہے تا جک اور افغان دو حصوں میں تقسیم ہیں کوشش کرنی چاہیے کہ ان کو اکٹھا کیا جائے سعودیہ عریبیہ ،ایران اور پا کستان نے بیس سال صلح کروانے میںکوشش کی لیکن ناکام رہے طالبان کا مسلہ ہم نے اٹھا یا ہے اور ہم ہی اسے ختم کرسکتے ہیں ۔اگر وہ آپس میں لڑنا چاہتے ہیں تو ان دونوں کو اگلے بیس سے تیس سال تک چھوڑ دینا چاہیے۔آخری سوال کا جواب کا دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پا کستان کی فارن پا لیسی میں بہت زیادہ تبدیلی کی ضرورت ہے ،پاکستان پچھلے بیس سال سے ایک sleeping partnerبنا رہا ہے پا کستان کو چاہیے اس وقت جارحانہ قسم کی پا لیسی اختیار کرے ۔اور سعودی عریبیہ ،ایران اور اعراق کی مدد کرے اور ان سے مدد حاصل کرے ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved