تازہ تر ین

خبریں سرائیکی مشاعرہ، سیاسی سرائیکی جماعتیں اور تنظیمیں الگ صوبے کیلئے ہم آواز، مشاعرہ تہذیبی، ثقافتی اور سیاسی اکٹھ بن گیا،میرا ایمان ہے کہ سرائیکی وسیب کو اس کی پہچان ملے گی:شاہ محمود قریشی

ملتان (رپورٹنگ ٹیم+سجاد بخاری)روزنامہ ”خبریں” کا 21واں سالانہ مشاعرہ پورے وسیب کا تاریخ ساز، تہذیبی، ثقافتی اکٹھ بن گیا۔ تمام بڑی سیاسی، سرائیکی جماعتیں، تنظیمیں بااختیار، الگ صوبہ کے قیام پر ہم آواز بن گئیں۔ سرائیکی مشاعرہ کا پنڈال جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کے ساتھ بااختیار صوبے کے قیام اور اپنے وزیراعلیٰ ہونے کے مطالبے پر یک آواز ہوگیا۔ حفیظ گھی اینڈ جنرل ملز، ایس ایم فوڈز، محمود گروپ آف انڈسٹریز اور فوڈ فیسٹیول کے اشتراک سے ملتان آرٹس کونسل آڈیٹوریم میں منعقدہ ”خبریں” کا 21واں سالانہ مشاعرہ پورے وسیب پر مشتمل بااختیار علیحدہ صوبے بارے ریفرنڈم ثابت ہوا جو تقریب مسلسل 7گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ شرکاء نے کہا کہ آئینی ترمیم کے ذریعے خطے کے عوام کا الگ، بااختیار صوبہ بنانے کا مطالبہ تسلیم کیا جائے۔ ”خبریں” گروپ آف نیوز پیپرز کے ایڈیٹر وسی ای او چینل ”٥” ومشاعرے کے بطور میزبان خصوصی امتنان شاہد اور مہمان خصوصی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی پورے انہماک سے مشاعرہ سنا اور شعراء کو داد دی۔ خطے کے معروف شاعر اقبال سوکڑی نے ”خبریں” کے 21ویں سرائیکی مشاعرے کی صدارت کی۔ مشاعرے میں 112 سے زائد شعرائے کرام نے اپنا کلام سنایا۔ وقت کی قلت کے باعث درجنوں شعراء کلام سنانے سے محروم رہے۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری عبدالرب ارشد نے حاصل کی۔ قاری محی الدین قادری نے نعت رسول مقبولۖ پیش کی۔ مشاعرے کی نقابت کی ذمہ داری ”وسیب سنگ” کے انچارج قاسم رضا اور جوائنٹ ایڈیٹر ”خبریں” سجاد حسین بخاری نے انجام دی۔ شرکاء نے تقریب سے سرائیکی مشاعرے کا تسلسل قائم رکھنے پر ”خبریں”، جناب ضیاشاہد اور امتنان شاہد کی کاوشوں پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب میں شریک پاکستان تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان مسلم لیگ (ق)، وکلائ، سرائیکی تنظیمیں، کاروباری شخصیات اور خطے کے نمائندہ اکٹھ نے ”خبریں” کے مشاعرہ کو وسیب کے مسائل اُجاگر کرنے، حقوق کی بازیابی، الگ صوبہ تحریک، محرومیوں اور پسماندگی کے خاتمہ کی منظم جدوجہد قرار دیتے ہوئے ”خبریں” کا اہم ترین کارنامہ قرار دے دیا۔ تمام سیاسی وسرائیکی جماعتوں، وکلاء اور خواتین تنظیموں کے نمائندوں نے خطے کے تمام مسائل کا واحد حل الگ صوبہ کے قیام کو قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان اپنے اور پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے مطابق 100روز میں الگ، بااختیار صوبہ بنانے کے وعدے پر عمل کریں اور اب اس میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ کسی بھی رہنما نے اپنے خطاب میں الگ صوبہ کے قیام کی مخالفت نہیں کی بلکہ پورا پنڈال اس مطالبہ پر متفق رہا۔ بااختیار، الگ صوبہ کے قیام اور اپنے وزیراعلیی کے لئے متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔ تمام مقررین نے کہا کہ عوام خطے کو حقوق سے محروم رکھنے والوں کا محاسبہ کریں۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وسیب کے مقبول ترین شاعر شاکر شجاع آبادی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وجود آج بھی وسیب کے لئے باعث برکت بلکہ مشعل راہ ہے۔ ملتان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ شاکر شجاع آبادی کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ وہ گزشتہ شب روزنامہ ”خبریں” اور چینل ”٥” کے زیراہتمام 21ویں سالانہ سرائیکی مشاعرے کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر ”خبریں” گروپ آف نیوز پیپرز کے ایڈیٹر اور چینل ”٥” کے سی ای او امتنان شاہد، پارلیمانی سیکرٹری ندیم قریشی اور جنرل منیجر رزاق شاہین بھی موجود تھے۔ انہوں نے سرائیکی وسیب کے مختلف علاقوں سے اس قدر شدید سردی اور دُھند میں آنے والے شعراء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی آمد باعث برکت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعرائے کرام کی سوچ اتنی گہری ہے کہ اسے سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ سالہاسال سے آپ لوگ جو بات کہہ رہے تھے ہمیں اب سمجھ آئی ہے۔ آپ لوگوں نے وسیب کا علم اُٹھایا۔ اسی طرح وہ ”خبریں” اور جناب ضیاشاہد کو مبارکباد دینا چاہیں گے کہ ان کے اخبار اور ”چینل ”٥” نے وسیب کی بات کی۔ اگرچہ یہ بات اس وقت بے موسمی تھی لیکن اب موسم آگیا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ سرائیکی وسیب کو اس کی پہچان ملے گی۔ انہوں نے شعرائے کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے کلام سے ہمیں رہنمائی ملے گی۔ آپ کی بات اور شعروں میں وزن ہے اور آپ کا وجود بھی وزنی ہے۔ کوئی سمجھے نہ سمجھے لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آپ لوگ ہمارے وسیب کا فخر ہیں۔ اﷲتعالیٰ آپ کے وجود کو قائم ودائم رکھے اور آپ سوئی ہوئی قوم کو جگاتے رہو۔ آپ لوگوں کو مدینتہ الاولیاء میں خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک وتحقیق سید فخر امام نے ”خبریں” کے سرائیکی مشاعرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”خبریں” واحد اس خطے کا اخبار ہے جو ہمیشہ سے مظلوم اور محروم لوگوں کے حقوق کی جنگ بھی لڑتا ہے اور اس خطے کے عوام کے لئے تفریحی سہولیات بھی میسر کرتا ہے۔ وہ کبڈی میچ، پہلوانوں کے دنگل، ڈرامہ فیسٹیول کے علاوہ مذہبی پروگرام بھی بڑے انہماک سے کراتا ہے۔ میں چیف ایڈیٹر جناب ضیاشاہد، ایڈیٹر امتنان شاہد کو اس کامیاب سرائیکی مشاعرے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ سے ”خبریں” اخبار کا معترف رہا ہوں اور ”جہاں ظلم وہاں خبریں” کی تو کیا ہی بات ہے کیونکہ جو کام ہم نہیں کرسکتے وہ ”خبریں” غریب، مظلوم عوام کی آواز بلند کرکے کرکے کرالیتا ہے۔ آج کا مشاعرہ اپنی مثال آپ ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ ماضی میں جن کے پاس پنجاب اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینٹ میں دوتہائی اکثریت تھی اور وہ بیک جنبش قلم سرائیکی صوبہ بناسکتے تھے مگر انہوں نے نہیں بنایا مگر عمران خان نے 2018ء میں اسے اپنے منشور کا حصہ بنایا اور اس کے لئے عملی اقدامات کئے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل آئی جی پولیس اور 17سیکرٹریز کا تقرر کیا۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی جو ایک خواب تھا اسے پورا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”خبریں” اور چینل ”٥” کو ہی اعزاز حاصل ہے کہ وہ گزشتہ 22سال سے جنوبی پنجاب صوبے کی آواز بلند کررہے ہیں۔ 21ویں سرائیکی مشاعرے کا انعقاد بھی جنوبی پنجاب کا ایک اہم ایونٹ بن گیا ہے۔ سرائیکی زبان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قسم کے مشاعروں سے ٹیلنٹ کو اُبھرنے کا موقع ملتا ہے۔ شعرائے کرام نے خوبصورت انداز میں اس وسیب کی پسماندگی، بیروزگاری اور محرومیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی برصغیر کی پرانی، میٹھی اور خوبصورت زبان ہے۔ آج کے الیکٹرانک میڈیا کے دور میں ان کی آواز اور ان کا کلام پوری دُنیا میں سنا جائے گا۔ سوشل میڈیا بھی ترقی کا ذریعہ بن گیا ہے۔ انہوں نے ”خبریں” گروپ آف  نیوز پیپر کے چیف ایگزیکٹو جناب ضیاشاہد کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی صحت اور درازی عمر کی دُعا کی اور کہا کہ ان کا سایہ تادم ہمارے سروں پر قائم رہے۔ انہوں نے روزنامہ ”خبریں” اور ان کی ٹیم، ”خبریں” گروپ آف نیوز پیپرز کے ایڈیٹر امتنان شاہد، رزاق شاہین کو مبارکباد دی۔ ممبر قومی اسمبلی ملک احمد حسین ڈیہڑ نے مشاعرے کے انعقاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے کے عوام خصوصاً مظلوم، غریب، مذہبی اور سماجی رہنمائوں کے علاوہ یہاں کے قلمکار، فنکار، کسان، مزدور غرضیکہ زندگی کے ہر مکتبہ فکر پر ”خبریں” کے احسانات ہیں کیونکہ اس ادارے نے ہمیشہ ہر بے کس اور بے سہارہ کی مدد کی ہے۔ میں پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔ ممبر قومی اسمبلی مہر ارشاد حسین سیال نے کہا کہ ”خبریں” میرا پسندیدہ اخبار ہے اور یہ ہمارے خطے کی آواز ہے۔ آج اس مشاعرے میں آکر مجھے اپنائیت کا احساس ہورہا ہے اور سٹیج پر موجود اس علاقے کے شعراء کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ”خبریں” ایک عوامی، خطے کا نمائندہ اخبار ہے۔ میں تمام ورکروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ممبر صوبائی اسمبلی بیرسٹر وسیم خان بادوزئی نے اس موقع پر ”خبریں” میڈیا گروپ کو سرائیکی مشاعرے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ”خبریں” میڈیا گروپ جنوبی پنجاب کا اخبار ہے کیونکہ ”خبریں” ہمیشہ عوام کو خبروں کے ساتھ ساتھ تفریحی سہولیات بھی دیتا ہے جوکہ دوسرے گروپ بہت کم یا اس طرف ان کا رجحان نہیں ہے۔ میں اتنے خوبصورت مشاعرے کے انعقاد پر ”خبریں” میڈیا گروپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات ندیم قریشی نے کہا کہ ”خبریں” کو صرف یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ہمیشہ عوامی تفریح کے بڑے بڑے پروگرام کرواتا ہے جس کی مثال ”خبریں” کے دنگل اور ڈرامہ فیسٹیول، خصوصی طور پر آج کا خوبصورت سرائیکی مشاعرہ اس بات کی دلیل ہے کہ ”خبریں” صرف اخبار نہیں بلکہ ایک ایسا بہت بڑا ادارہ ہے جو عوام کو ہر قسم کی مفت تفریحی سہولتیں میسر کرتا ہے۔ میں پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ٹکٹ ہولڈر مسلم لیگ (ن) رانا اقبال سراج نے مشاعرے میں شرکت کے موقع پر کہا کہ میں ”خبریں” کے کسی بھی پروگرام میں پہلی مرتبہ آیا ہوں اور یہ اس قدر خوبصورت ہے کہ میں انشاء اﷲ ہر پروگرام میں حاضری دوں گا بلکہ میں آئندہ ہر پروگرام کو اپنی حیثیت کے مطابق سپانسر بھی کروں گا۔ پاکستان سرائیکی ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین رانا فراز نون نے کہا کہ سرائیکی مشاعرہ اس وقت اس خطے کا سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہے اور اس میں ہر زبان کے لوگوں کی شرکت پھولوں کے گلدستے کی مانند ہے۔ بطور چیئرمین پارٹی میں ”خبریں” گروپ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس خطے کے حقوق اور آزاد وخودمختار صوبے کے لئے ہماری جماعت کی آواز کو بلند کیا۔ ہم ”خبریں” کے ساتھ بھی ہیں اور شکرگزار بھی۔ کچھ کام مزید کرنے والے ہیں جوکہ ”خبریں” کو کرنے چاہئیں۔ چیئرمین مارکیٹ کمیٹی سبزی منڈی مہر محمد اکرم چاون نے کہا کہ ہماری ماں بولی زبان کا مشاعرہ ہمارے لئے باعث ِافتخار ہے۔ اس کے لئے ”خبریں” کا شکریہ اور میں سمجھتا ہوں کہ ”خبریں” کی مقبولیت کا راز بھی یہی ہے کہ اس نے یہاں کے مظلوم ومحکوم عوام کی آواز کو بلند کیا ہے اور آج حکومت صوبے بنانے کا سوچ نہیں عملی اقدام کررہی ہے۔ چیئرمین مارکیٹ کمیٹی غلہ منڈی شیخ محمد طاہر نے کہا کہ میرا پسندیدہ اخبار ”خبریں” ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ”خبریں” نے ہمیشہ حق اور سچ کی آواز بلند کی ہے۔ اسی وجہ سے یہ اس خطے کا مقبول ترین اخبار ہے اور سرائیکی مشاعرہ بھی اس کا مقبول ترین پروگرام ہے۔ چیئرمین ایم ڈی اے رانا عبدالجبار نے کہا کہ روزنامہ ”خبریں” نے سرائیکی مشاعرہ کراکر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اس خطے کا مقبول ترین اخبار ہے۔ خبروں کے علاوہ اس گروپ نے ہمیشہ عوام کو بہترین تفریحی پروگرام مفت میں پیش کئے ہیں۔ ”خبریں” گروپ کو میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ملتان (رپورٹنگ ٹیم) ”خبریں” گروپ آف نیوز پیپرز کے ایڈیٹر وسی ای او چینل ”٥” امتنان شاہد نے کہا کہ روزنامہ ”خبریں” نے 22سال قبل جنوبی پنجاب صوبے کا جو نعرہ لگایا تھا اب وہ ایک حقیقت کا روپ دھار چکا ہے، اب اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ گزشتہ شب روزنامہ ”خبریں” اور چینل ”٥” کے زیراہتمام 21ویں سالانہ سرائیکی مشاعرہ میں بطور میزبان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے مہمانانِ خصوصی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر تحفظ خوراک وتحقیق سید فخر امام، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاست ملک محمد عامر ڈوگر، صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر، صوبائی وزیر زراعت حسین جہانیاں گردیزی، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی ملک احمد حسین ڈیہڑ، مہر ارشاد سیال، وسیم خان بادوزئی اور دیگر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دور دراز کے علاقوں سے اس قدر سردی میں مشاعرے میں شرکت کرنے والوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ امتنان شاہد نے کہا کہ 22سال قبل جنوبی پنجاب صوبے کے نعرے کو سرائیکی وسیب کے شعراء اور دانشوروں نے اپنے کلام اور تحریروں کے ذریعے آگے بڑھایا۔ اب سرائیکی صوبہ ضرور بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی شاعری میں اس قدر گہرائی ہے جتنی اُردو سمیت کئی اور زبانوں میں نہیں ہے۔ اگرچہ انہیں سرائیکی زبان مکمل طور پر سمجھ نہیں آتی لیکن جو وہ سمجھتے ہیں وہ شعرائے کرام کے دل کی آواز اور اس دھرتی کی ڈیمانڈ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ”خبریں” گروپ کے زیراہتمام سہ روزہ فوک فیسٹیول کے انعقاد کا اعلان کیا جس میں وسیب کے گلوکار اور فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ یہ ملتان کی تاریخ کا ایک یادگار ایونٹ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سرائیکی مشاعرے میں بہت مزہ آیا۔ یہ ان کی زندگی میں دوسرا موقع ہے کہ انہوں نے سرائیکی مشاعرے میں شرکت کی۔ بعدازاں انہوں نے وسیب کے 5شعراء کو ”لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ” دینے کا اعلان کیا اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایوارڈز تقسیم کئے۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں احمد خان طارق مرحوم کا ایوارڈ ان کے بیٹے پروفیسر شبیر ناز نے وصول کیا۔ ان کے علاوہ اقبال سوکڑی، افضل عاجز، مصطفی خادم اور شاکر شجاع آبادی کو ایوارڈز دیئے گئے۔

ملتان (رپورٹنگ ٹیم) روزنامہ ”خبریں” کے 21 ویں سرائیکی مشاعرہ میں وسیب کے اضلاع پر مشتمل بااختیار الگ صوبہ بنانے سمیت مختلف قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ ”خبریں” کے عظیم مشاعرے میں جو قراردادیں پاس کی گئیں ان کی تفصیل اس طرح سے ہے۔

٭ قرارداد میں کرونا وبا سے ہونے والے نقصان کی وجہ سے شعراء کیلئے خصوصی پیکج کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

٭ بڑھتی بیروزگاری کے باعث لوگ خودکشی پر مجبور ہیں۔ وسیب میں بیروزگاری کے خاتمہ اور صنعتی ترقی کیلئے ٹیکس فری زون بنائے جائیں۔

٭ پی ٹی وی ملتان کو مکمل سنٹر کا درجہ دیا جائے اور خطے میں ڈرامہ پروڈکشن شروع کی جائے۔

٭ پیمرا اپنے قوانین میں ترمیم کرکے ٹی وی چینلز کو پابند کرے کہ وہ تمام پاکستانی زبانوں کو وقت دیں اور پاکستان کی تمام ثقافتوں کو فروغ دینے پر کام کریں۔

٭  ملتان کو ڈیرہ اسماعیل خان سے ملانے کیلئے موٹر وے بنائی جائے۔ ایم ایم روڈ کی توسیع اور بحالی کیلئے فنڈز جاری کئے جائیں۔ مظفرگڑھ، علی پور روڈ کو دو رویہ کیا جائے۔

٭ ثقافتی سرگرمیوں سے انتہاء پسندی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ لائوڈ سپیکر پر پابندی سے سرائیکی وسیب میں ادبی، ثقافتی سرگرمیاں مانند پڑ چکی ہیں۔ فنکاروں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں۔ یہ پابندی فوری طور پر ہٹائی جائے تاکہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کا خاتمہ ہو سکے۔

٭ پوری دنیا کے ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم ہونی چاہیے۔ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور سرائیکی شعراء کو نصاب میں شامل کیا جائے۔

٭ ماضی میں وسیب سے حق تلفی ہوتی رہی ہے۔ صوبائی رائٹرز ویلفیئر کا نصف بجٹ سرائیکی وسیب کیلئے الگ کیا جائے۔ وسیب کے شاعروں، ادیبوں اور لکھاریوں کو پورا حق دیا جائے۔

٭ اکادمی ادبیات، مقتدرہ قومی زبان اور نیشنل بک فائونڈیشن جس طرح دوسری زبان کی کتب شائع کرتی ہیں اس طرح سرائیکی زبان میں بھی کتب شائع کی جائیں۔

٭ شاعر، ادیب، لکھاری کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ تمام علیل شعراء کا علاج سرکاری خرچ پر کرایا جائے۔ مستحق شعراء اور ادیبوں کے وظائف مقرر کئے جائیں۔

٭ غازی یونیورسٹی ڈی جی خان، ویمن یونیورسٹی ملتان اور ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں سرائیکی شعبے قائم کئے جائیں۔

٭ ملک میں عدالتی فیصلوں کا احترام ہونا چاہیے اور جمہوریت بھی قائم رہنی چاہیے۔

٭ پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں کو ترقی کا حق ملنا چاہیے۔

٭ سرائیکی وسیب کے دریائوں پر سرائیکی وسیب کے حصے کا حق تسلیم کرتے ہوئے ارسا میں سرائیکی وسیب کا نمائندہ مقرر کیا جائے اور بھارت سے بھی اپنے حصے کا پانی لینے کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے۔

٭ وسیب پر مشتمل علاقوں کیلئے الگ پبلک سروس کمیشن بنایا جائے۔

٭ ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان کے ہوائی اڈوں کو مکمل طور پر فنکشنل کیا جائے۔ ملتان ایئرپورٹ پر تمام سہولیات دی جائیں جہاں سے پھل، سبزیوں کی براہ راست ایکسپورٹ کو یقینی بنایا جاسکے اور ملتان میں صحیح معنوں میں ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ بن سکے۔

٭ وسیب کی پہچان سمجھی جانے والی کپاس کی فصل جسے وائٹ گولڈ بھی کہا جاتا ہے کی بحالی کیلئے کپاس تحقیقاتی اداروں کو فنڈز دیئے جائیں اور کپاس کی فصل کی بحالی کیلئے معیاری بیج تیار کرکے کاشتکاروں کو دیئے جائیں۔

٭  آم سرائیکی خطے کی پہچان ہے۔ آم کے باغات سمیت زرخیز زمینوں پر رہائشی کالونیاں بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور آم سے تیار ہونے والی مصنوعات کو فروغ دینے کیلئے ویلیوایڈڈ انڈسٹری لگائی جائے۔

٭ آرٹسٹ سپورٹ فنڈ میں جنوبی پنجاب کے فنکاروں، دستکاروں کیلئے علیحدہ رقوم مختص کی جائیں اور کسمپرسی کے شکار اور بیمار فنکاروں کی مالی امداد کے کیسز جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو منظور کرنے کا اختیار دیا جائے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved