بجلی کی قیمت میں اضافے کے بعد فی یونٹ قیمت 16 روپے 79 پیسے مہنگی کرنے اور بعض صارفین کو ایک روپے 84 پیسے فی یونٹ سبسڈی دینے کی تجویز پیش، نیپرا 4 فروری کو سماعت کرے گا
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے300 یونٹ تک کے گھریلوصارفین کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت کی درخواست پر بجلی کی قیمت میں ایک روپے 95 پیسے اضافے کی نیپرا 4 فروری کو سماعت کرے گا،بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت 16روپے 79 پیسے اوربعض صارفین کو ایک روپے 84 پیسے فی یونٹ سبسڈی دینے کی تجویزپیش کی گئی ۔تفصیلات کے مطابق بجلی کی قیمت میں ایک روپے 95پیسے اضافے کی سفارشات کردی گئی ہیں، حکومت کی درخواست پر نیپرا 4 فروری کو سماعت کرے گا،بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت 16روپے 79 پیسے اوربعض صارفین کو ایک روپے 84پیسے فی یونٹ سبسڈی دینے کی تجویزپیش کی گئی ہے،حکومت کی جانب سے 300یونٹ تک کے گھریلوصارفین کو سبسڈی دی جائے گی، بجلی کے 300سے 700یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کیلئے48پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
700سے زائد یونٹ والے 2روپے 4پیسے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ٹی اویو آف پیک صارفین کیلئے 3روپے 23پیسے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔دوسری جانب دوسری جانب عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے حکومت نے مزید 18 کمپنیوں سے معاہدے کر لیے۔ حکومتی ٹیم اور مزید 18 آئی پی پیز کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے، کیپکو سمیت 18 آئی پی پیز معاہدے پر باضابطہ دستخط کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔18 آئی پی پیز میں 1600 میگا واٹ کی کوٹ ادو پاور کمپنی بھی شامل ہے، رضا مند ہونے والے دیگر 17 آئی پی پیز ونڈ پاور یونٹ پر مشتمل ہیں۔ معاہدے کے تحت آئی پی پیز ٹیرف میں کمی اور دیگر رعایتیں دینے پر رضا مند ہو گئے ہیں، چیئرمین واپڈا مزمل حسین نے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔حکومت کے ساتھ باضابطہ معاہدے پر دستخط وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہوں گے، واضح رہے کہ اب تک 41 آئی پی پیز ٹیرف میں کمی اور رعایتوں پر متفق ہو چکے ہیں، مجموعی طور پر 47 آئی پی پیز کے ساتھ حکومت نے بات چیت کی ہے۔یاد رہے کہ ستمبر 2020 میں عالمی بینک نے پاکستان میں متبادل توانائی کے منصوبوں کے لیی45 کروڑ ڈالر فنڈنگ کی منظوری دی تھی، اس رقم سے خیبر پختون خوا کے پن بجلی اور شمسی توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی، جب کہ متبادل توانائی کے ان منصوبوں سے سستی اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔






































