تازہ تر ین

ووٹ چوری بے نقاب، تبدیلی دفن، مریم نواز دھونس دھاندلی کا خاتمہ ہوگیا، شبلی فراز

این اے 75 ڈ سکہ کے ضمنی الیکشن کے تیسرے روز بھی تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن آمنے سامنے رہیں ،دونوں جماعتوں کے قائدین نے ڈسکہ میں جاکر جاں بحق ہونے والے کارکنوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزرا نے کہا کہ ڈسکہ کے عوا م نے پاکستان تحریک انصاف کو فتح سے ہمکنار کیا ہے ، ن لیگ میں ہار تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں ، الیکشن کمیشن انتخابات کی تحقیقات کر رہا ہے ، منگل تک حقائق سامنے آجائیں گے ۔پی ٹی آئی ایسے ہی فتح حاصل کرتی رہی تو ان کی سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ ہو جائے گا۔ الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ وہ علی اسجد ملہی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن فی الفورجاری کرے ، ملک میں شفاف الیکشن کے لئے حکومت الیکٹرانک ووٹنگ کی طرف جارہی ہے ، مریم نواز ایک ماہ سے کہہ رہی ہیں ہم الیکشن بندوق کی نوک پر جیتیں گے ۔ سینیٹر شبلی فراز نے فواد چودھری ، معاون خصوصی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور عثمان ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا پاکستان مسلم لیگ ن نے ہمیشہ دھونس ، پیسے ، غنڈہ گردی ،قتل و غارت کی سیاست کی ہے ۔ ضمنی الیکشن میں بھی انہوں نے اپنے سپیشلسٹ لوگوں رانا ثنا اللہ ، جاوید لطیف اور دیگر کو اسی مقصد کے لئے یہاں بھیجا ۔ اب ڈسکہ میں مریم نواز کی تقریر میں مگر مچھ کے آنسو بہتے دیکھ کر بے ساختہ ماڈل ٹاؤن واقعہ یاد آگیا جس میں بچوں ، خواتین اور بزرگوں پر گولیاں چلائی گئیں ۔ ماڈل ٹاؤن حملہ راناثنا اللہ کی سربراہی میں کیا گیا۔ الیکشن کو آلودہ اور لوگوں کو ڈرانے کے لئے یہ اقدامات کیے گئے ۔ اتنا غصہ اور دہشت گردی اس لئے ہے کہ نواز شریف کے بیانیے کو شکست ہورہی ہے ۔ ڈسکہ میں ن لیگ نے 40ہزار کی لیڈ لی تھی اور آج الیکشن ہار رہے ہیں ، انکے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل رہی ہے ۔ ہماری پارٹی اور وزیراعظم جس سفر پر روانہ اور قافلے کی سربراہی میں ملک کو تبدیل کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں اس سے دھونس ، پیسے کی سیاست کا خاتمہ ہورہا ہے ۔ سینیٹ کے انتخابات میں یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن نے جس طرح منافقانہ رویہ اختیار کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، انہوں نے ماضی میں ووٹ اور ضمیر خریدے تھے ، اب بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اکیلا ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے ،انتخابات کو شفاف بنانے کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ کی طرف جارہے ہیں ، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے لئے انتظامات کر رہے ہیں ۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا حسرت ہے کہ کاش مریم نواز زندگی میں سچ بول دیں ، یہ کیلبری فونٹ سے شروع ہوتی ہیں اور پھر لندن تو کیا پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں ہے تک آتی ہیں۔ انہوں نے ہر جگہ جھوٹ پر جھوٹ بولا ۔ نوشہرہ ، وزیر آباد الیکشن میں اپوزیشن جیتے تو ٹھیک، ڈسکہ میں پی ٹی آئی جیتے تو وہاں دھاندلی کا شور ہے ۔ الیکشن کمیشن کو انتخابی نتائج کا فوری اعلان کرنا چاہیے ۔ مریم نواز نے رات ایک بجے جیت کا ٹویٹ کیا ، یہ تو الیکشن کمیشن کو بھی نہیں پتہ، ابھی تک حتمی نتائج نہیں آئے ۔ علی اسجد ملہی اکثریت سے جیت چکے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ڈسکہ کے الیکشن کو جعلی راجکماری نے جنگ کا نام دیا تھا۔ اسکے کارندوں، درباریوں،حواریوں ، شاہی خاندان کے ذاتی ملازموں نے جس طرح الیکشن کو خون آلود کرنے کی سازش کی اور قاتل کو سٹیج پر اپنے ساتھ کھڑا کر کے جیسے شاباش دی یہ شہدا کے ورثا کے زخموں پر نمک پاشی ہے ۔ بستہ الف اور بستہ ب کے اشتہاری ، قبضہ گروپ اور عوام کو اذیت میں مبتلا کرنے والے ٹولے کی پشت پناہی ن لیگ کررہی ہے ۔ مریم نواز نے آج بھی اسی سوچ اور عمل کی عکاسی کی، اس کی ہم سب مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے ٹولے میں شکست برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے ۔ عثمان ڈار نے کہا کہ ڈسکہ الیکشن میں مسلم لیگ ن نے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کرلی ہیں۔ پوری قوم کے سامنے مریم نواز کو چیلنج ہے ، وہ اگر یہ سمجھتی ہیں کہ پی ٹی آئی نے حملہ کر کے کسی کو جاں بحق کیا ہے تو وہ مقتول کارکنوں کے گاؤں میں جاکر بتا دیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت جاں بحق ہونے والے کارکنوں کے جنازے میں گئی اور انکے اہلخانہ کے ساتھ کھڑے ہیں ۔جاں بحق ہونے والے کارکن کے بھائی نے بتایا کہ ووٹ ڈال کر جیسے ہی پولنگ سٹیشن سے باہر آیا تو الیکشن کی پرچیاں کاٹتے میرے بھائی پر حملہ کردیا گیا اور فائرنگ شروع کر دی ۔ حمزہ بٹ رائفل لیکر آیا اور مجھ پر فائر نگ کی کوشش کی، جاوید بٹ نے فائرنگ کی۔ میرے بھائی پر فائرکیے ۔ قبل ازیں شبلی فراز، فواد چودھری، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ، عثمان ڈار و دیگر نے الیکشن کے دوران فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شخص کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیلئے ان کے گاؤں گوئندکے کا دورہ کیا۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اپنے ٹویٹ میں کہاکہ این اے 75 کے ضمنی الیکشن میں ’’مسلح ن لیگ‘‘ کے سوچے سمجھے فائرنگ منصوبے کے بعد جعلساز راجکماری، عقل کی اندھی کنیزوں اور چیلوں کے جھرمٹ میں اپنی ہی فائرنگ سے جاں بحق نوجوان کے لواحقین سے تعزیت کے نام پر ساؤنڈ سسٹم، گانوں،لطیفوں اور تالیوں سے انکے زخموں پر نمک پاشی کرتی رہی۔ انہوں نے کہا ووٹ کو عزت کا جھوٹا نعرہ لگانے والی ن لیگ کے ایم پی اے عادل چٹھہ کو ووٹوں سے بھرا تھیلا لے کر بھاگتے ہوئے پورا ملک دیکھ چکا ہے ،جعلساز راجکماری نے اپنی چوری کا الزام مخالفین پر ڈالا،پی ٹی آئی کارکنان کو مبارکباد جو مسلح ن لیگ کی غنڈہ گردی کے آگے ثابت قدم رہے اور منشیات فروش ٹولے کو ہمیشہ کیلئے چلتا کیا۔ ادھر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے گھٹیا سیاست کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ سیاسی مقاصد کیلئے غنڈہ گردی اور گلو گردی نااہل لیگ کے لیے نئی بات نہیں،ڈسکہ میں پی ٹی آئی کے پولنگ ایجنٹ کو بیدردی سے مارنے والے لیگی غنڈے تھے ۔ظلم کے بعد مگرمچھ کے آنسو بہانے کے ڈرامے کیلبری کوئین کا وطیرہ ہے ۔ مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن میں جب نتائج آنا شروع ہوئے تو پتہ چلا ڈسکہ اور وزیر آباد تودور کی بات نوشہرہ میں شیر نے پی ٹی آئی کے گھر میں گھس کے ان کو مارا،عوام جاگ رہے ہوں توووٹ چورکی کوئی ترکیب کامیاب نہیں ہوتی، عوام کو پتہ چل گیا ہے اصل چور کون ہے ، اگر مجھے پتہ ہوتا کہ یہ ڈسکہ کی سیٹ کی خاطر اتنے بے چین ہیں اور سیٹ کی خاطر دو قیمتی جانیں لے لیں گے تو مسلم لیگ ن وہ سیٹیں مفت میں ان کو دے دیتی ، میں ووٹ چوروں کو کہنا چاہتی ہوں شرم کرو حیا کرو تم نے ایک گھر کا چراغ بجھا دیا ، ظلم کا حساب اس دنیا میں بھی اور اگلی دنیا میں بھی دینا پڑے گا،دھند زیادہ ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا عملہ بھی گم ہوگیا،دھند میں ڈپٹی کمشنر ، آر پی او، آئی جی، چیف منسٹر اور حکومت بھی گم ہوگئی،22کروڑ عوام کی نظریں الیکشن کمیشن پر جمی ہیں۔ ڈسکہ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ن لیگ کا شیر 21سالہ ذیشان ان کی سیٹ کی لالچ کی نذر ہو گیا ، جس بچے کی جان چلی گئی اسکے والد میرے ساتھ کھڑے ہیں ،ہم سب انکے ساتھ دلی صدمے اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم تحریک انصاف کے کارکن کے خاندان سے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا بجلی، گیس،چینی کی چوری کے بعدالیکشن کمیشن کے عملے کوچوری کیا گیا،عمران کی بیوقوفی نے ڈسکہ کاالیکشن پورے پاکستان کاالیکشن بنادیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن ہونا چاہیے ،دھند بہت تھی اس لیے پتہ نہیں چلا کہ بکسہ کدھر ہے اور ڈسکہ کدھر۔ ڈسکہ کے انتخابات سے ظاہر ہو گیا کہ الیکشن 2018 میں کس طرح انتخابات چھینے گئے ۔مریم نواز نے کہا کہ جب 14 گھنٹے کے بعد مختلف پولنگ کا 20 اغوا شدہ انتخابی عملہ صبح الیکشن کمیشن پہنچا تو وہ یہ بتانے سے قاصر تھا کہ انہیں کون لے کر گیا، کہاں لے کر گیا تو انکے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ نوشین افتخار نے ووٹ چوروں کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا ۔قبل ازیں ڈسکہ روانہ ہوتے ہوئے مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ڈسکہ کے عوام نے ریاستی جبر کے خلاف جمہوریت کی جنگ لڑی ہے اور ووٹ کو عزت دی ہے ۔اس انتخاب نے ثابت کر دیا کہ حکمران ووٹ چور ہیں۔حکومتی اراکین اسمبلی کو بھی پتہ ہے کہ اب عمران خان نے دوبارہ نہیں آنا،اراکین اسمبلی نیا مسکن ڈھونڈ رہے ہیں کیونکہ نہ تحریک انصاف ہے نہ کوئی اس کا مستقبل ہے ۔ دوسری جانب ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب نے کہا کہ تین وزیرمریم نوازشریف کاجواب دینے ڈسکہ گئے ۔آٹا،چینی چوروزیروں کومریم نوازکی تقریرکے جواب کی فکرہے عوام کی نہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved