تازہ تر ین

ارتغرل کے بعد عثمان غازی بھی شاید پاکستان میں اُردو زبان میں دکھایا جائےگا،سی پیک کیا؟ پاکستان تجارتی وفود دنیا میں بھیجے، ترکی کے سفیر احسان مصطفی یردکل کی ترک سفارتخانے میں امتنان شاہد کو چائے کی دعوت پر بات چیت

اسلام آباد (خبریں ،چینل ۵،ویب ڈیسک) پاکستان میں ترکی کے سفیر احسان مصطفی یردکل نے کہا ہے کہ سی پیک کے علاوہ پاکستان کے ساتھ تمام منصوبوں میں شراکت داری کیلئے تر کی اپنی کوششیں جاری رکھ رہا ہے لیکن خصوصا سی پیک کیلئے پاکستان کو تجارتی وفود (ٹریڈ مشن) دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجنے پڑیں گے جو سرمایہ کاروں کو یہ بتائیں کے سی پیک کے تجارتی روٹ ہے کیا؟ اور اس میں سرمایہ کاری کرنے سے ان کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کسی کی بھی ہو ترکی اور پاکستان کے عوام رشتہ ایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ ہے اور دلوں سے دل کا رشتہ کوئی ختم نہیں کرسکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں ایڈیٹر خبریں گروپ سی ای او چینل۵ امتنان شاہد سے ترکش سفارت خانے اسلام آباد میں دی گئی چائے کی دعوت پر کیا۔بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ ٹریڈ پرموشن بھیجنے سے سی پیک جو پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے۔ دنیا کہ یہ معلوم ہوگا کہ پاکستان میں دیگر ممالک کی سرمایہ کاری کو بھی قبول کرتا ہے اس طرح ترکی سمیت دنیا بھر کے سرمایہ کار اس تجارتی راستے سے کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ امتنان شاہد کے ساتھ بات چیت کے دوران احسان مصطفی یردکل نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اور ترکی کے صدر طیب اردگان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اسلام و فوبیا کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک ٹی وی چینل شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس میں اسلام کی اصل روح اور حقائق کے بارے میں بتایا جاتا تھا۔ اس پر بات چیت چل رہی ہے۔ اور اس حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئینگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرح اسلامو فوبیا نسل پرستی تعصبات کا خاتمہ ترکی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ترک صدر ارگان نے اس حوالے سے ہر بار آواز اٹھائی اور خصوصاً پاکستان اور ترکی کی میڈیا سٹرٹیجی کے حوالے سے گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے دفتر خارجہ کے حکام نے مشاورت بھی کی ہے کہ اس مسئلہ کو بہتر انداز میں دنیا کے سامنے کیسے آجاگر کیا جائے۔ میڈیا وفود کے مشترکہ تبادلے اور مشترکہ کے فروغ کے دینے کیلئے ترک سفیر نے بتایا کہ تر کش ڈرامہ ارطغرل غازی کے پاکستان میں ریکارڈ توڑ پسند کئے جانے کے بعد شاید عثمان غازی کو بھی اردو میں ترجمہ کر کے دکھایا جائے گا البتہ کیوں کہ یہ معاملہ دو نجی کمپنیوں کے درمیان ہے لہذا ابھی اس کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔پاکستانی اور ترکی کے کئی اداکار اور پروڈیوسر مشترکہ فلم سازی اور ثقافت کے فروغ کیلئے اکٹھے ہو رہے ہیں،اور اسی حوالے سے آج تک ایک ڈرامے کے سلسلے میں استنبول میں موجود ہیں۔انہوں نے کیا کہ ترک ٹی وی چینل TRTعالمی سطح پر انتہائی مقبول ہے اور دنیا کے بہترین چینلز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا سوشل میڈیا پر اردو میں بھی ایک چینل موجود ہے جس سے اس چینل کی خبریں اردو میں دیکھی جا سکتی ہے۔اسلام آباد سے استنبول ریلوے سروس کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترکی کے سفیر احسان مصطفی یردکل کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران اور استنبول ریلوے لائن سے تینوں ممالک باالخصوس پاکستان اور ترکی کی تجارت اور رابطوں میں اضافہ ہوگااور خاص طور پر پاکستان کی مصنوعات کیلئے یورپ جبکہ ترکی مصنوعات کے جنوبی ایشیاءکے منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی البتہ ترک وزیر ٹرانسپورٹ اسلام آباد استنبول ریلوے لائن کی تاریخ کا حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ہمارا مقصد دونوں ممالک کی تجارت کو دوگنا کرنا ہے اور یہی ہمارے سرا براہوں کی خواہش ہے انہوں نے کہا کہ ہماری باہمی تجارت 1ارب ڈالر سے بھی کم ہے اور اس کو بڑھانے کے لئے ہمیں ریلوے لائن یا کوئی اور طریقہ اپنانا ہوگا تا کہ باہمی تجارت کے حجم میں تیزی سے اضافہ ہو،انہوں نے کہا پاکستانیوں کیلئے ترکی شہریت حاصل کرنے کیلئے ایسی سکیمیں موجود ہیں جن کے تحت دوہری شہریت حاصل کی جاسکتی ہے ۔کوئی بھی پاکستانی اڑھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے ترکی کی شہریت حاصل کرنا ہے۔امتنان شاہد کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستانی ترک شہریوں کیلئے دونوں ملکوں کی اعزازی شہریت کی ایک تجویز زیر غور تھی ۔اس سوال کے جواب میں ترک سفیر نے جواب دیا کہ ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا،البتہ ترکوں کیلئے پاکستان اپنا دوسرا گھر جبکہ پاکستان کیلئے ترکی ان کا دوسرا گھر ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ ترک یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم ہیں اور ان کے لئے تر کی زبان کا مسئلہ نہیں ،ترکی سالانہ 150پاکستانی طلبہ کو سکالر شپ مہیا کرتا ہے اور پاکستان سے اعلی تعلیم کیلئے ترکی جانے والے طلبہ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔دیہی علاقوں میں ترکی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ترکی سفیر احسان یردکل نے کہا کے ترک صدر اردگان استنبول کے میئر رہ چکے ہیں ،اس لئے وہ شہروں کی ترقی کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے بھی زور دیتے ہیں ۔ ہمارے ہاں بلدیاتی ادارے مظبوط ہوتے ہیں اور خود فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کو کس جگہ کون سی سکیم لانی ہے یا کیا پراجیکٹ بنانا ہے لہذا دیہی علاقے ہمارے بلدیاتی نظام کی وجہ سے آہستہ آہستہ شہروں کی طرح ترقی پا رہے ہیں ،یہی دیہی علاقوں کی کامیابی کا راز ہے،


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved