تازہ تر ین

PPP,ANPفیصلے پر نظر ثانی کریں PDM مولانا مفاہمت چاہتے ہیں تو پہلے بتائیں کس کے کہنے پر لانگ مارچ کو استعفوں سے نتھی کیا تھا:پیپلز پارٹی

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ وجمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے تو قع نہیں تھی کہ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کو باپ بنالیں گے ، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کوایک موقع دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں ہم آپس میں بیٹھ کر شکوے اورشکایات دور کرسکتے ہیں۔پی ڈی ایم میدان میں رہے گی، پی ڈی ایم کی تحریک اور اس کے آگے بڑھنے کی رفتار پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کریں گے ۔ ان خیالات کااظہارانھوں نے اپنی رہائش گاہ پر پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اجلا س میں سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی، میرطاہر بزنجو،آفتاب شیر پائو ،احسن اقبال، اویس نورانی اوردیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور اے این پی نے پی ڈی ایم سے باقاعدہ علیحدگی کا اعلان کر دیا اور ان کے عہدیداروں نے اپنے استعفے بھی بھیج دیئے ہیں، انہوں نے اپنے آ پکو علیحدہ کر دیا لیکن ہم پھر بھی کوشش کریں گے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرتے ہوئے ہم سے رابطہ کریں ا س لئے ابھی پیپلز پارٹی کے عہدیداروں کے استعفے قبول نہیں کر رہے بلکہ انھیں ایک موقع دے رہے ہیں ،ہم نہیں چاہتے تنظیمی معاملات چوراہوں پر لائیں بلکہ ان کا بات چیت سے حل نکالیں ، پی ڈی ایم منصب کے لیے لڑنے کا فورم نہیں، ہم نے مکمل احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر جواب طلب کئے ، افسوس ہے جواب دینے کی بجائے استعفے بھجوادیئے ۔انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم برقرارہے اور برقرار رہے گی ، افراد آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اتحاد اورپارٹیاں اپنے نظریات کیساتھ قائم رہتی ہیں، پی ڈی ایم دس جماعتوں کے اتحاد کا نام ہے اور ا سمیں شامل تمام جماعتوں کی حیثیت برابر ہے ۔ جہاں پی ڈی ایم کے اندر دس جماعتوں کا اتحاد ہے وہاں ایک باضابطہ تنظیمی ڈھانچہ بھی ہے ، صرف یہ نہیں ہے کہ جماعتیں ہیں اور سربراہان نمائندگی کرتے ہیں بلکہ ایک مستقل صدر، نائب صدر، سیکرٹری جنرل اور دیگر ذمہ دار ہیں ۔انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سے جدا ہونے والی دونوں جماعتوں کا سیاسی قد کاٹھ کا تقاضا تھا کہ باوقار انداز سے نوٹس کا جواب دیتے لیکن غیر ضروری طور پر عزت نفس کا مسئلہ بنا لیا۔ ان کا جواب میڈیا کی طرف سے آیا انہیں عزت نفس کا مسئلہ ہے کون ہوتے ہیں ہم سے پوچھنے والے اور وضاحت کا نوٹس پھاڑ دینا یہ سب میڈیا سے آیا۔انھوں نے کہاکہ دونوں جماعتیں پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس بلا کر وہاں پر بھی آ کر جواب دے سکتی تھیں اور سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس بھی بلا سکتی تھیں اور کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ پی ڈی ایم جماعتوں کی طرف سے اکثر فیصلے اتفاق رائے سے آئے ہیں، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور قائد حزب اختلاف کے امیدوار کا انتخاب تحریری طور پر اتفاق رائے سے ہوا تھا اور جب ان فیصلوں کی خلاف ورزی ہوئی اور جو نتائج آئے تو تنظیمی تقاضا تھا کہ جس جماعت سے شکایت ہے اس سے جواب لیا جائے اور کسی جماعت سے جواب مانگنا کوئی نئی چیز نہیں ، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ قوم پی ڈی ایم کیساتھ ہے ۔عیدکے بعدمشترکہ فیصلے سے حکومت مخالف تحریک کے بارے میں لائحہ عمل دیں گے ۔ پی ڈی ایم ایک سنجیدہ اور قومی مقاصد حاصل کرنے کیلئے بنایا گیا فورم ہے ، پی ڈی ایم کا فورم پاکستان، عوام اور جمہوریت کے عظیم مقصد کیلئے تشکیل دیا گیا تھا اور آج بھی اس عظیم مقصد کو مد نظر رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب بھی اے این پی اور پیپلز پارٹی کے لئے موقع ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں ۔ پی ڈی ایم کا پروگرام عوام کی امانت ہے کیونکہ پاکستان معاشی طور پر تباہ ہو چکا ہے ، عوام مشکلات میں ہیں، وہاں ہم اپنے چند سیاسی مقاصد کیلئے نہیں لڑ سکتے ، ہم چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے عوام کیلئے فیصلے کریں، پیپلز پارٹی اوراے این پی نے بہت چھوٹی سطح پر آ کر فیصلے کئے ہیں جو ان کا مقام نہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مسائل کاحل کہاں تک نکلتا تھا ہم نے کوشش کی ،ملک کی سیاست اورجمہوریت کی خاطر یہ فورم قائم کیا گیا تھا ،تحریک لبیک کے ساتھ روا رکھا جانے والاحکومتی رویہ درست نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بیان بازی میں بالکل نہیں الجھنا، یہ ہمارا آخری بیان ہے ، ہماری طرف سے جواب آگیا، اب ان سے توقع ہے کہ وہ بلوغت کا مظاہرہ کریں گے ،پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے ووٹ لینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں توقع ہی نہیں تھی کہ وہ \’باپ کو باپ بنائیں گے ۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیں کرسیوں کی سیاست سے ہٹ کرملک کی بات کرنی چاہئے ۔عباسی کا پیپلز پارٹی کے پی ڈی ایم سے علیحدگی کے اعلان سے متعلق کہنا تھا کہ جو جماعت اتحاد کا اعتماد کھو بیٹھے ، میری نظر میں اس کیلئے کوئی گنجائش نہیں، فیصلہ پی ڈی ایم کی جماعتیں کریں گی۔ جو جماعت اتحاد میں نہیں رہنا چاہتی تو پھر ان کا اپنا راستہ ہے اور ہمارا اپنا راستہ ہے ، ہمارا مقصد نظام کی تبدیلی ہے ۔ادھر مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے بطور ایڈمن پی ڈی ایم کے واٹس ایپ گروپ سے پیپلز پارٹی اور اے این پی کے رہنماؤں کو نکال دیا۔پیپلزپارٹی کی جانب سے پی ڈی ایم کے عہدوں سے مستعفی ہونے پر احسن اقبال نے شیری رحمان،راجہ پرویز اشرف،قمرزمان کائرہ کو نکال دیا ۔احسن اقبال نے اے این پی کے میاں افتخار کو بھی پی ڈی ایم کے واٹس ایپ گروپ سے نکال دیا۔دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم کے واٹس ایپ گروپ سے نکالنے پر سوشل میڈیا پر صارفین دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کنول شوذب نے واٹس گروپ کا سکرین شاٹ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں لڑائی ہوگئی، پی ڈی ایم کے جنازے کے بعد۔اس پر سانولی نامی ٹویٹر ہینڈل نے تبصرہ کیا کہ ‘کیا یہ اتحاد سینیٹ کے الیکشن تک کے لیے تھا۔وجیہہ ہلال نے اس پر لکھا کہ ہمیں کیوں نکالا۔ عدنان صدیقی نے تحریک انصاف کی ایم این اے کو لکھا کہ ‘عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں، پلیز عوام کے مسائل پر توجہ مرکوز رکھیں۔شہزاد ملک نامی ٹویٹر ہینڈل نے تبصرہ کیا کہ ‘لو جی واٹس ایپ صحافت کے بعد حاضر ہے واٹس ایپ سیاست، نکالنے چلے تھے وزیر اعظم کو، نکال رہے ہیں ایک دوسرے کو واٹس ایپ سے ۔آر جے طیبہ نے ٹویٹ کیا کہ سب کو نکال دیا، پی ڈی ایم ختم ہو گئی۔ ، پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ مولانا نے انتہائی نامناسب بات کی کہ باپ کو باپ نہیں بنانا چاہئے ، میں توقع کررہا ہوں آپ اپنے الفاظ واپس لیں گے ، ہم نے استعفے دے دیئے ،(ن) لیگ والے تلخ باتیں کرتے رہے ، اگر خط اور شوکاز میڈیا سے ملے تو جواب بھی میڈیا سے ملنا چاہیے ، میاں صاحب اے آر ڈی کو بغیر بتائے باہر چلے گئے تھے کوئی شوکاز نہیں جاری کیا، زبیر صاحب دو مرتبہ آرمی چیف سے ملے ،اتحادوں میں کبھی کسی کو شوکاز نہیں ہوتے لیکن ہمیں شوکاز دے دیا گیا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ ہم اے این پی کے ساتھ ہیں، چھوٹی بڑی کوئی جماعت نہیں ہوتی ۔پیپلز پارٹی اس ملک کی بڑی جماعت ہے ، ہم سب کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے استعفیٰ دے دیا ، گروپ میں رہیں نہ رہیں ، جن صاحب نے گروپ سے نکالا ہے لگتا ہے مسلم لیگ لندن کو ہمیں گروپ سے نکالنے کی کافی جلدی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جہانگیر ترین سے ہمارے کوئی رابطے نہیں ۔( ن) لیگ تلخ باتیں کرتی رہی ان کا احترام کرتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں پیپلز پارٹی جواب دے شوکاز جاری کیا ہے ۔ مولانا نے فرمایا ہے کہ شاہد خاقان کے جواب کے لئے پی ڈی ایم میں آجانا چاہیے تھا، اگر خط اور شوکاز میڈیا سے ملے تو جواب بھی میڈیا سے ملنا چاہیے ۔ تلخ باتیں دونوں طرف سے ہوئی ہیں۔ مولانا ہم سے وضاحت طلب کررہے ہیں آپ ساری تحریکوں کا حصہ رہے ہیں ،ہم نے پی ڈی ایم اتحاد بنایا تھا اس کا فورم تشکیل دیا تھا، اس کا چارٹر 26 پوائنٹس پر مشتمل تھا، فیصلہ ہوا تھا اتفاق رائے سے فیصلہ ہوگا، پیپلز پارٹی ہر معاہدے کے ساتھ کھڑی ہے ، ہم اس کے ایک ایک لفظ کا پہرا دے رہے ہیں۔ کہا گیا سب کے ساتھ ساتھ کسانوں، تاجروں کے ساتھ بھی رابطے کئے جائیں ، کسی ایک سے بھی رابطہ نہیں کیا گیا، ہمیں کہا گیا عدم اعتماد کیسے لائیں ، ہمارے پاس نمبرز نہیں ،ہم نے کہاں حکومت سے ووٹ لئے ہیں، جماعت اسلامی کو گالی مت دیں وہ حکومت کا حصہ نہیں ۔انہوں نے کہاکہ سینیٹر دلاور ن لیگ کے سینیٹر ہیں آپ ان کو نکال دیں ن لیگ سے ، ان کے ساتھ تین سینیٹرز آئے ۔پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں کہا کہ مولانا فضل الرحمن 2002 کی اسمبلی میں پی پی کی اکثریت کے باوجود خود اپوزیشن لیڈر بن گئے تھے ۔اگر مولانا فضل الرحمن مفاہمت چاہتے ہیں تو پہلے بتائیں کہ کس کے کہنے پر لانگ مارچ کو استعفوں سے نتھی کیا۔مولانا فضل الرحمن آگاہ کریں کہ پی ڈی ایم کے ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے ۔اکثریتی جماعت کا حق ہے کہ وہ ایوان بالا و زیریں میں اپنا اپوزیشن لیڈر لائے ۔یہ کیسی منطق ہے کہ پی پی کے استعفے حلال اور ن لیگ کے استعفے حرام ہیں۔دوسری طرف پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم سے اپنی پارٹی کے استعفے مولانا فضل الرحمن کی رہائشگاہ پر پہنچا دیئے ۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے تحریری منظوری دی۔ پیپلز پارٹی نے سینیٹر شیری رحمن، راجہ پرویز اشرف، قمرزمان کائرہ کے پی ڈی ایم کی طرف سے دئیے گئے عہدوں سے استعفے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر پہنچائے ۔علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ ملک کو جلد عوام دشمن حکمرانوں سے نجات دلائی جا ئے گی۔ پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے 30 ماہ میں پبلک ڈیٹ 12.5 کھرب روپے بڑھ گیا ہے ، مجموعی پبلک ڈیٹ 44 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے جو جی ڈی پی کا 90 فیصد ہے ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ 2023 میں سرکلر قرض مجموعی طور پر 4.6 ٹریلین روپے تک پہنچ جائے گا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved