تازہ تر ین

آئی ایم ایف کا تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ، پاکستان کا ماننے سے انکار

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بجلی اور گیس کے ریٹ مزید بڑھانے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر 150 ارب کے نئے ٹیکس لگانے کا کہہ رہا ہے، حکومت نے یہ دونوں شرطیں ماننے سے انکار کردیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں، دونوں کی منزل ایک ہے، ہم غریب طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے، عالمی مالیاتی ادارے کو ریونیو بڑھانے کیلئے متبادل پلان پیش کر دیا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث معیشت مستحکم ہوئی، بیشتر اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ایک بلین ڈالر سے زائد ہو چکے ہیں۔ گیس بجلی، تعمیراتی اور زرعی شعبے میں مراعات دیں۔ اب مہنگائی کو روکنے کی کرکوشش کر رہے ہیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے 2 کروڑ افراد بے روزگار ہوئے، تاہم ان میں سے بیشتر بحال ہو چکی ہیں۔ ہم بروقت اقدامات نہ کرتے تو کورونا کی تیسری لہر خطرناک ہو سکتی تھی۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا، امید ہے ترسیلات زر 29 بلین ڈالر ہو جائیں گی۔ ترسیلات زر بڑھنا اوورسیز پاکستانیوں کا وزیراعظم پر اعتماد ہے۔ ترسیلات زر کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس چل رہا ہے جبکہ زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالر کیساتھ 4 سال کی بلند ترین سطح پر ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کی ٹیکس کلیکشن بہتر جا رہی ہے۔ زرعی شعبے میں 2.7 فیصد ترقی ہوئی۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بھی ایک بلین ڈالر سے زائد آ چکے ہیں۔ کروڈ آئل کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود عوام کو ریلیف دیا، قیمتیں کنٹرول کرنے کیلئےانتظامی انفراسٹرکچر ٹھیک کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں غیر ملکی قرض 700 ارب روپے کم ہے۔ کامیاب جوان پروگرام سے 9 ہزار افراد مستفید ہو چکے جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں پر بڑے وسائل خرچ ہو رہے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved