تازہ تر ین

عدالت سے ماورا گرفتاری

مقصوداحمد بٹ
آئین ِ پاکستان انتظامیہ کو عدالت سے وارنٹ کے بغیر گرفتاری کی اجازت نہیں دیتا، اور ہونا بھی یہی چاہیے ورنہ سارا نظام ِ زندگی تلپٹ ہو جائے گا۔لیکن فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنے اچھوتے قوانین بنائے ہوئے ہیں اور ہر سال ان میں کچھ نہ کچھ سختی لانے کی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں ان کے اہلکار خود ہی جج، جیوری اور انتظامیہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔
حالیہ بجٹ میں ایک نئی شق ڈال دی گئی ہے جس کے تحت اگر کسی کمشنر کو شک ہو کہ فلاں شخص نے ٹیکس ادا نہیں کیا تو وہ اپنے اہلکار کو حکم دے گا کہ اْس شخص کو گرفتار کر لو۔ اس حکم کو بجا لانے میں FBR کے اہلکار غیر روائتی efficiency دکھاتے ہوئے اْس شخص کو گھر سے، دفتر سے، سٹر ک پر جاتے ہوئے، کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہوئے ہتھکڑی لگا کر لے جائیں گے اور پھر کسی عدالت میں پیش کریں گے۔یعنی خود ہی FIRکاٹ کر گرفتار کر لیں گے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر کو گھر یا دفتر میں بیٹھے بٹھائے یہ کیسے پتا لگ جائے گا کہ فلاں شخص نے ٹیکس چھپایا ہے جب تک کہ اْس شخص کو پوچھا نہ جائے اور وہ اپنی صفائی پیش کرے اگر اس شق پر ٹھیک طریقے سے عمل کیا جائے تو نیشنل اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے بیشتر افراد گرفتار ہو سکتے ہیں لیکن اْن کو نہ کبھی کسی نے پوچھا ہے نہ ہی اب پوچھیں گے۔ اور یہی ہمارے سسٹم کاالمیہ ہے مزید یہ کہ یہی قانون، اِس قانون کو لاگو کرنے والوں پر بھی لاگو ہوتا ہے لیکن پچھلے 50سالوں میں کبھی کوئی ایسا کیس سننے میں نہیں آیا جب کہ قانون لاگو کرنے والا کوئی شخص اِ س قانون کے شکنجے میں آیا ہو۔ اس وقت تقریباً 60لاکھ بجلی کے کمرشل کنکشن ہیں لیکن اْن میں صرف چندلاکھ لوگ ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں اور باقی لوگوں کا دفتر اور گھر کا پتہ، اْن کے بینک اکاونٹ وغیرہ وغیرہ تمام ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہیں لیکن مجال ہے کہ کبھی کسی نے اْن لاکھوں نادہندہ لوگوں کو نوٹس دیا ہو یا پکڑا ہو یا پکڑنے کی کوشش کی ہو۔حکومت کو چاہیے کہ اس شق کو فوراً ختم کرے۔
کراچی، پنڈی، پشاور اور لاہور کی بڑی مارکیٹوں میں پچھلے 20سال سے کبھی کوئی Survey نہیں کیا گیا اور چند ہزار افراد ہی ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں یہ سب سے آسان، سیدھا اور Low Hanging Fruit ہے جو کہ ڈیپارٹمنٹ بڑی آسانی سے حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن ان مارکیٹوں میں کوئی افسر جانے کی جْرا ت نہیں کر سکتا اور ان مارکیٹوں کے کرتا دھرتا کْھلے لفظوں میں کہتے ہیں کہ ہم بطور احتجاج ریٹرن فائل نہیں کرتے۔ اور اگر کرتے بھی ہیں تو چند ہزار روپے جبکہ اْن کا بجلی کا ماہانہ بل بھی اْن کے سالانہ ٹیکس کی ادا شدہ رقم سے زیادہ ہوتا ہے۔
حکومت کیلئے آسان ترین راستہ امپورٹ شدہ مال پر چاہے خام مال ہو، مشینری ہو یا تیار شدہ مال ہو اْس پر انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی وغیرہ لگا کر ٹوٹل بجٹ کا تقریباً 30فیصد حاصل کر لیتے ہیں اور اِس امپورٹ شدہ مال پر بھی uder ivoicing کی وجہ سے ٹیکس چوری عام ہے۔
ہمارا سسٹم انتہائی خراب ہو چکا ہے اور اِس میں ہم سب برابر کے حصہ دار ہیں عوام اور خواص، ٹیکس دینے والے اور ٹیکس لینے والے، صنعت کار، تاجر، حکومتی اہلکار چاہے وہ عدلیہ سے ہوں انتظامیہ سے یا مقننہ سے،سب اس حمام میں ننگے ہیں، ذاتی طور پر سب امیر ہورہے ہیں نئی گاڑیاں بھی بِک رہی ہیں نئے مکان، پلازے بن رہے ہیں، فیکٹریاں بھی لگ رہی ہیں لیکن ملک غریب ہورہا ہے اور ہر سال جاری اخراجات کیلئے بھی ہر حکومت قرض لیتی ہے۔ حکومت پاکستان جب بھی 100روپے خرچ کرتی ہے تو اس میں 50روپے بیرونی اور اندرونی قرضہ ہوتا ہے۔
موجودہ نظام کی ایک بڑی خرابی Finalٹیکس ہے یعنی قیمت فروخت کا ایک فیصد یا دو/تین فیصد دے کر ایک شخص انکم ٹیکس کی ادائیگی سے مبرا ہو جاتا ہے اِس کے دو نقصانات ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ شخص اس انکم ٹیکس کو اپنی قیمت فروخت میں شامل کر لیتا ہے یعنی اپنا دینے والا انکم ٹیکس وہ اپنے خریدار سے وصول کر لیتا ہے حالانکہ انکم ٹیکس ہر شخص کو اپنے منافع پر، اپنی جیب سے، اپنے منافع سے ہی ادا کرنا چاہیے۔ دوسرے ہر Stageپر جب تک کہ ایک چیز صارف کے پاس نہیں پہنچ جاتی، اْس پر ٹیکس لگتا رہتا ہے اور اْس چیز کی قیمت بڑھتی رہتی ہے یعنی اگر چار Stages سے وہ مال گھومتا گھماتا صارف تک پہنچا ہو تو اْن چار اشخاص کا انکم ٹیکس، وہ بیچارہ صارف ادا کرے گا۔ اِ س کا براہ راست اثر 22کروڑ عوام پر پڑتا ہے اور Final Tax والے تاجر بغیر کسی انکم ٹیکس کے منافع سے لطف اندوز ہوتے ہیں تقریباً سارے Wholesalers اور Retailors ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں نظام کی ایک اور بڑی خامی Smuggling ہے جو تقریباً 100فیصد کراچی پورٹ یا افغانستان سے ہوتی ہے لیکن آج تک اْس کو روکا نہیں جا سکا۔ اور ہر چھوٹے بڑے سٹور پر سمگل شدہ اشیاء بلا خوف و خطر دستیاب ہوتی ہے حکومت نے اس بجٹ میں ایک اچھا قانون نکالا ہے جس کے تحت ہر فروخت کنندہ پر لازم ہو گا کہ وہ ہر چیز کی خرید کی Invoice یا رسید رکھے وگرنہ وہ شے سمگل شدہ تصور ہوگی۔
یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ حکومت صرف تین Points یعنی کراچی پورٹ،طُورخم اور تفتان سے سمگلنگ روکنے میں تو ناکام ہو گئی ہے اسلئے اس کا سارابوجھ 20لاکھ دوکانداروں پر ڈال دیا جائے گا جس سے Corruption اور بڑھے گی اور ہر چھوٹا بڑا دوکاندار چاہے وہ محلے کی چھوٹی دوکان ہی کیوں نہ ہو۔اْس کو کچھ نہ کچھ دینا ہی پڑے گا۔
(سنٹرل نائب صدر پاکستان مسلم لیگ فنکشنل
اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain