تازہ تر ین

سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی

 جنوبی کوریا میں سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی صاحب زادی نور مقدم قتل کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی۔

ذرائع کے مطابق پولیس کو موصول ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقتولہ کی موت دماغ کو آکسیجن سپلائی بند ہونے سے ہوئی، مقتولہ کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات بھی پائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مقتولہ کا سر دھڑ سے الگ کیا گیا، مقتولہ کے گھٹنے کے نیچے کے حصے پر زخموں کے متعدد نشان ہیں، مقتولہ کے جسم پر متعدد مقامات پر چاقو کے گہرے زخم ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے معدے سے لیا گیا مواد بھی فارنزک کے لیے لیبارٹری بھجوایا گیا ہے، تاہم اس کی رپورٹ پولیس کو تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔

پولیس نے اس کیس میں ایک مشتبہ ملزم ظاہر جعفر کو حراست میں لے رکھا ہے، جس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے پروسیس شروع کر دیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف کمشنر آفس آنے والی درخواست وزارت داخلہ بھجوائی جا چکی ہے اور اب وزرات داخلہ کابینہ کمیٹی سے منظوری کے بعد اس کا نام ای سی ایل میں شامل کرے گی۔

واضح رہے کہ عید کی رات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سیکٹر ایف سیون سے ایک سربریدہ لاش ملی تھی، جسے سابق سفیر شوکت مقدم کی 27 سالہ بیٹی نور مقدم کے نام سے شناخت کیا گیا، پولیس کے بیان کے مطابق جب اطلاع پر اہل کار وہاں پہنچے تو انھیں ہاتھ پاؤں بندھا ملزم ظاہر جعفر بھی ملا، جو نشے میں نہیں تھا۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ پولیس کو اطلاع کس نے دی تھی، ملزم کے ہاتھ پاؤں کس نے باندھے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نور مقدم اور ملزم جعفر آپس میں دوست تھے، مقتولہ دو دن قبل دوستوں کے ہمراہ لاہور جانے کے لیے گھر سے والد اور والدہ کی غیر موجودگی میں نکلی تھی، لیکن پھر وہ جعفر کے گھر گئی اور دو دن تک اسی کے گھر پر رہی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نور کی گردن آری سے نہیں، بلکہ چھری سے بے دردی سے کاٹی گئی تھی، پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم برطانیہ میں رہا ہے، آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل کی ہدایت پر ملزم کا بیرون ممالک انگلینڈ ،امریکا سے بھی کریمنل ریکارڈ لیا جائے گا۔

ایس ایس پی انوسٹیگیشن عطاالرحمان نے نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ یہ کیس ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے، واقعہ عید کی رات کو ہوا، جب ملزم کو پکڑا تو وہ ہوش و حواس میں تھا، ملزم نے انتہائی غلط اقدام کیا ہے، وہ جسمانی ریمانڈ پر تحویل میں ہے، اور ملزم سے آلہ قتل بھی برآمد کیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کیا ہے، تاہم اس کیس میں کئی سوالات کھڑے ہو چکے ہیں جن کے جوابات پولیس نے ابھی تک فراہم نہیں کیے، جب موقع پر کوئی عینی شاہد نہیں تھا تو پولیس کو اطلاع دینے والے کون تھے؟ پولیس پہنچی تو ہاتھ پاؤں بندھا ملزم ملا، اس کے ہاتھ پاؤں کس نے باندھے؟ نور اور ملزم میں جھگڑا ہوا تو کس بات پر؟ اگر ملزم نشے میں نہیں تھا تو اس نے اتنی بے دردی سےگردن کیوں کاٹی؟

دوسری طرف سابق سفرا کی تنظیم نے اس واقعے پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے، سابق سفرا نے بیان میں کہا ہے کہ وہ سابق سفیر شوکت علی مقدم کی صاحب زادی کے قتل کی مذمت کرتے ہیں، اور حکومت سے مطالبہ ہے کہ مس نور کے قاتل کو مثالی سزا دی جائے، ایسوسی ایشن کو خدشہ ہے کہ مجرم دہری شہریت کا فائدہ اٹھا کر فرار نہ ہو جائے۔

سابق سفرا نے کہا ہے کہ پولیس اور پراسیکیوٹر مجرم کا پورا طبی اور مجرمانہ ریکارڈ سامنے لائے، اس کیس کی نگرانی خواتین کے خلاف کرائم کی ہائی شرح میں کمی کا باعث بنے گی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain