Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • یو اے ای میں ہنگامی الرٹ، شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت
    • ایرانی ڈرون حملہ ’احمقانہ اقدام‘ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے: ٹرمپ
    • قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کافی کیفے کھولنے کی تیاریاں
    • ٹرمپ کے سابق مشیر کا خفیہ معلومات کیس میں جرم کا اعتراف
    • آئرلینڈ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی بار بھارت کو شکست دے دی
    • وینزویلا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 589 تک پہنچ گئی
    • بیجنگ کی بلند ترین عمارت سے چھوٹا طیارہ ٹکرا گیا
    • ایشیا پیسیفک پیڈل کپ: جمعہ کو پاکستان اور بھارت ہوں گےآمنے سامنے
    • جنوبی فلپائن کے ساحل کے قریب 6.7 شدت کا زلزلہ
    • حزب اللہ سربراہ کا اسرائیل سے لبنان سے غیر مشروط انخلا کا مطالبہ
    • ایران کا انتباہ، امریکی ناکامی پر ردِعمل کی دھمکی
    • GTA 6 نے ایک دن میں 39 ملین سے زائد پری آرڈرز کے ساتھ عالمی ریکارڈ توڑ دیے۔
    • اسرائیل-لبنان مذاکرات بحال، ایران کے جہاز پر حملے کے بعد ہرمز انخلا منصوبہ معطل
    • اداکارہ پوجا بھٹ کا والد مہیش بھٹ کے اسلام قبول کرنے کا انکشاف
    • عالمی تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں کمی، قیمت 65 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی
    • اسرائیلی نژاد امریکی انفلوئنسر نے پاکستان کو اپنا پسندیدہ ملک قرار دے دیا
    • پنجاب فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کا شہدائے کربلا کی یاد میں مفت پودے تقسیم کرنے کی مہم کا آغاز
    • امریکی سپریم کورٹ کی ٹرمپ کو ہیٹی اور شامی شہریوں کے عارضی تحفظات ختم کرنے کی ہدایت
    • عراق نے 50 سال سے کم عمر پاکستانی مرد زائرین کے اکیلے داخلے پر پابندی عائد کر دی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پروبھارت لیڈروں کو مسترد کردیں

    By Daily Khabrainاگست 1, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    محمدنعیم قریشی
    ترکی میں ایک کہاوت ہے کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ میں تیرا بھائی ہوں بلکہ یہ بھی بتاؤ کہ کونسا بھائی۔ ہابیل یا قابیل۔ کچھ اسی قسم کے راز سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی سیاسی زندگی سے جڑے ہیں کہ آج تک معلوم نہ ہوسکا ہے کہ وہ ملک کے خیرخواہ ہیں یا ملک دشمن عناصر کے پیروکار۔ حال ہی میں برطانیہ میں مقیم پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سے افغان سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب کی زیرقیادت تین رکنی وفد نے ملاقات کی ہے، ملاقات کااہتمام سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کیا تھا اسحاق ڈار خود بھی ملاقات میں موجود تھے افغان قومی سلامتی مشیر نے نوازشریف کو افغان صدر اشرف غنی کا پیغام بھی پہنچایا۔ملاقات میں نوازشریف اپنی حکومت کے دور میں افغان حکومت سے بہتر تعلقات کی مثالیں دیتے رہے۔یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب پاکستان نے افغان قومی سلامتی مشیر کے دفتر سے تمام رابطے ختم کر دیئے ہیں۔کیونکہ افغان مشیر کی جانب سے پاکستان کو ہیرا منڈی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جو سراسر پاکستانی ریاست کو ایک گندی گالی دینے کے مترادف ہے۔اس ماحول میں ہمارے آپس کے سیاسی اختلافات کتنے ہی برے کیوں نہ ہو مگر ہمیں ملکی عزت اور وقار پر کیچڑ اچھالنے والوں کے معاملے پرضروریکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان نے کئی برسوں تک تیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے اور کر رہا ہے، اس کے علاوہ بھی افغانستان پر پاکستان کے بے پناہ احسانات ہیں،صدافسوس کہ نوازشریف نے اسی افغان اہلکار سے لندن میں ملاقات کی ہے،سوال تو یہ پیدا ہوتاہے کہ میاں صاحب کے نزدیک وطن کی عزت اورقومی حمیت کوئی اہمیت ہے بھی کہ نہیں۔لیکن جہاں تک ریاست پاکستان کی بات ہے تو پاکستان نے افغان قیادت پرواضح کردیا ہے کہ افغان سلامتی مشیر سے اب کوئی بات نہیں ہوگی،دوسری جانب اگرملک میں موجود اداروں کیخلاف محاذآرائی اور ملک دشمن قوتوں سے ملاقاتیں کر کہ اگر نوازشریف یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوبارہ اقتدا ر میں آسکتے ہیں تویہ ان کی بھول ہوگی ملک کے موجودہ حالات انہیں اب اس چیز کی اجازت نہیں دینگے میں سمجھتاہوں کہ جہاں پاکستانی اداروں، عدالتوں اور سیکورٹی ایجنسیوں کو ان کے خلاف ایکشن لینا چاہیے وہاں عوام کو بھی آئندہ الیکشن میں محمود اچکزئی اور منظور پشتین جیسے لوگوں کے ذریعے بھارت کی زبان بولنے والوں کو مسترد کرنا چاہیے، کشمیر الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ایک کی امیدواراسماعیل گجر نے سرعام میڈیا کے سامنے للکارتے ہوئے کہاکہ اگر کسی نے دھاندلی کی کوشش کی تو میں مدد کے لیے بھارت کو پکاروں گا جبکہ اسی قسم کی حرکتیں کچھ ماہ قبل ان کے ایک مرکزی رہنما جاوید لطیف صاحب بھی کرچکے ہیں۔اس کے علاوہ ہماری عدالتوں پر حملے افواج پاکستان پر تنقید اور گھٹیا الزامات اورریاستی و جمہوری اداروں سمیت کوئی ادارہ نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کی ہرزہ سرائی سے محفوظ نہیں ہے۔
    تین بار نوازشریف نے ملکی رازوں کی حفاظت کا حلف اٹھایا اور اقتدار سے باہر اور اندر رہ کروہ راز اگلتا رہے، اس کے علاوہ پاکستان کے ایک بڑے اخبار کے صحافی سرل المیڈا کو قومی سلامتی کے خلاف متنازع انٹرویو دیا اس انٹرویو میں نوازشریف کے ممبئی حملوں کے حوالے سے متنازع بیان کو انڈین نیوز چینلز نے کافی اچھالاتھا، یعنی ممبئی دھماکوں کے سلسلے میں نوازشریف نے پاکستان کو مورد الزام ٹہرایا تھا۔جس کے بعد نواز شریف کا نام نہ لیتے ہوئے پاکستان کی نیشنل سیکورٹی کونسل نے ایک اجلاس کے بعد انڈین میڈیا کی جانب سے سامنے آنے والے الزامات کی تردید کی تھی مگر سب کچھ آن دی ریکارڈ تھا۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد فوجی قیادت اور اسوقت کی حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔اس وقت کے وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید کو مستعفی ہونا پڑا یا قربانی کا بکر بننا پڑا۔شیر بنگال فضل الحق کے بارے میں قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ خیال تھا کہ 1946کے انتخابات میں انہوں نے پاکستان کی مخالفت کر کہ پاکستان کی کاز کو نقصان پہنچایا ہے۔ وہ قائد اعظم سے ملاقات کے لئے سندھ اسمبلی آئے اور راستے میں جھک کر کھڑے ہوگئے لیکن قائداعظم نے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ عبدالباسط صاحب جو انڈیا میں ہمارے ہائی کمشنر رہ چکے ہیں۔وہ بھارتی اینکر کرن تھاپر کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میاں نوازشریف کا مودی سے ایک جذباتی تعلق تھا جب وہ مودی کی تقریب حلف برداری میں گئے تو پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملاقات نہیں کی حالانکہ ملاقات طے شدہ تھی اوریہ طے تھا کہ یہاں نوازشریف نے کشمیریوں کے حقوق کی بات کرنا تھی مگر وہ حیرت انگیز طورپر خاموش رہے یہ تھا وہ بھارتی وزیراعظم سے ایک جزباتی لگاؤ جس نے اس وقت لاکھوں کشمیریوں اور کروڑوں پاکستانیوں کو حیرت زدہ کردیا تھا۔اسی طرح تھوڑا پیچھے کی تاریخوں میں جائیں تو جب میاں نواز شریف کو 1992میں حکومت سے برخاست کیا گیا تو بھارتی وزیراعظم گجرال نے کہا کہ نوازشریف کشمیری مجاہدین کے خلاف ہماری مدد کرتے رہے ہیں یہ وہ بیان تھا جو کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑنے والوں پر بجلی بن کر گرا تھا۔
    اسی طرح جب 1999میں پرویز مشرف نے نوازشریف کو ان کی حکومت سے فارغ کیا تو محترم مجید نظامی نے فرمایا کہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ یہ شخص یاسر عرفات بن چکاہے۔ جب انڈیا کو چینی ایکسپورٹ کی تو بھی پاکستانی نظریاتی سرحدوں کے محافظ جناب مجید نظامی بہت دل گرفتہ تھے ایٹمی دھماکے کر نے پر بھی وہ ہچکچاہٹ کا شکار تھے ایسے موقع پر بھی جناب مجید نظامی صاحب نے فرمایا کہ میاں صاحب اگر آپ نے ایٹمی دھماکہ نہ کیا تو قوم آپ کا دھماکہ کر دیگی، خیر اگر تحقیق کی جائے تو مئی1998کے اخبارات میں لگنے والے اداریئے یہ ثابت کردینگے کہ نوازشریف صاحب ایٹمی دھماکوں کے حق میں تھے بھی یا نہیں۔
    (کالم نگار مختلف امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      یو اے ای میں ہنگامی الرٹ، شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت

      آئرلینڈ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی بار بھارت کو شکست دے دی

      ایشیا پیسیفک پیڈل کپ: جمعہ کو پاکستان اور بھارت ہوں گےآمنے سامنے

      عراق نے 50 سال سے کم عمر پاکستانی مرد زائرین کے اکیلے داخلے پر پابندی عائد کر دی

      خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت، ایران کا پاکستانیوں کے لیے مفت ویزوں کا اعلان

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.