تازہ تر ین

احتساب سست روی کا شکار کیوں ……؟

خیر محمد بدھ
پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے الیکشن میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بدعنوان اور کرپٹ لوگوں کا احتساب کر کے ملک کو کرپشن فری بنائیں گے اپنے اس وعدے کی تکمیل کے لیے حکومت نے کئی اچھے اقدامات کیے ہیں جن میں 2020 میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے بل کا ذکر بھی ضروری ہے اس ترمیم کے ذریعے کرپشن کی سزا 10 سال قید کر دی گئی ہے علاوہ ازیں ما ضی میں صرف پٹواری،تھانیدار،کلر ک اور انسپکٹر ہی پکڑے جاتے تھے۔ پی ٹی آئی نے احتساب کا عمل اوپر سے شروع کیا ہے اور پہلی بار سیاستدان،سابق حکمرانوں، بڑے بیوروکریٹس اور طاقتور لوگوں کو نہ صرف احتساب کے شکنجے میں لایا ہے بلکہ انہیں قید میں ڈالا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی ہے ہمارے ملک میں قومی سطح پر پہلی دفعہ احتساب اس وقت شروع ہوا جب صدر پاکستان نے بے نظیر بھٹو حکومت کو کرپشن کی وجہ سے ختم کیا۔ پھر نواز شریف کی حکومت کو اسحاق خان نے کرپشن کی بنیاد پر فارغ کیا اس کے بعد احتساب کا ڈھیلا ڈھالا نظام قائم ہوا اور نواز شریف نے احتساب بیورو بنایا جس کی سربراہی اپنے قریبی دوست سیف الرحمان کو دی جس نے صرف مخالفین کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی بہت بلند و بانگ دعوے کیے گئے سرے محل اور کرپشن کی غضب ناک داستانیں منظر عام پر آئیں۔ وسیم افضل و غیرہ کو ستارہ امتیاز سے نوازا گیا لیکن کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔
1999ء میں اقتدار میں آنے کے بعد صدر پرویز مشرف نے قومی احتساب بیورو NAB بنایا جس کے تین مقاصد تھے بدعنوانی کا خاتمہPrevention آگاہیAwarness اور قوانین پر عمل درآمد Enforment اس ادارے نے بہت اچھی کاروائیاں بھی کیں۔ بحریہ کے سابق سربراہ کو ہتھکڑی لگا کر امریکہ سے واپس لایا گیا اور رقم وصول کی گئی لیکن جب صدر صاحب نے 2007 میں این آر او NRO نافذ کیا تواحتساب کے دعوے کھوکھلے نکلے اور سب بدعنوان بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ پی ٹی آئی نے اپنی الیکشن مہم شروع کی اور احتساب کی ضرورت پر زور دیا اور اسے اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنایا تو اس نے بہت عوامی پذیرائی حاصل کی۔ عوام بدعنوانی سیاسی عناصر اور کرپٹ بیوروکریسی سے بہت نالاں تھے رشوت اور بدعنوانی کی وجہ سے ملک کی معیشت اور اخلاقی قدریں زوال پذیر تھیں۔ رشوت ایک ناسور ہے اس کا مطلب سیاسی لوگوں کی بدعنوانی اور بیوروکریسی کی اختیارات کا ناجائز استعمال ہے رشوت کا مطلب اقرباپروری، اختیارات کا ناجائز استعمال، سرکاری فنڈز میں خوردبرد، میرٹ اور انصاف سے انحراف ہے۔
دنیا کے تمام ممالک نے بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں برطانیہ میں پہلی دفعہ 2010 میں ایک سخت قانونBribery Act 2010 میں بنایا گیا جس کے تحت لوگوں کو دس سال تک سزا دی جاسکتی ہے علاوہ ازیں غیر محدود جرمانہ اور جائیداد کی ضبطی بھی اس کے علاوہ ہے. ایشیائی ممالک میں سنگاپور وہ واحد ملک ہے جہاں بد عنوانی نہ ہونے کے برابر ہے سال 2011 میں سنگاپور اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو 22 سال قید جبکہ 2012 میں ڈیفنس فورس کے سربراہ کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا بدعنوانی پر قابو کے پانے کے لیے اس ملک میں صرف دو قانون ہے۔1960 میں بنائے گئے قانون کے تحت رشوت سے مراد نقد رقم، تحفہ، قرضے، فیس، ایوراڈ، کمیشن، ملازمت، معاہدہ، سروس، رعائت وعدہ، کوئی فائدہ شامل ہے اس قانون کے تحت احتساب سب شہریوں پر لاگو ہے۔
سنگاپور نے بدعنوانی پر چار طریقوں سے قابو پایا ہے قوانین کے ذریعے LAWs مقدمات کے تصفیہ کے ذریعہ Adjudication قانون پر عمل درآمد کے ذریعےEnforcment کے ذریعے اور اچھے نظم و ضبطPublic Administration یعنی سیاسی مداخلت کے بغیر ادارے چلائے ہیں۔
ہمارے ملک میں کرپشن کو کنٹرول کرنے کے لئے مختلف قوانین موجود ہیں جن میں تعزیرات پاکستان PPC کی دفعات 161 سے 164۔اس کے علاوہ انسداد رشوت آرڈی نیس 1944انسداد رشوت شافی ایکٹ 1947 پنجاب اینٹی کرپشن آرڈینینس1961 قومی احتساب آرڈیننس اور ہر محکمے انٹرنل احتساب کا طریقہ موجود ہے محکمہ اینٹی کرپشن، ایف آئی اے اور نیب NABکا ادارہ ان قوانین پر عمل درآمد کرانے کا پابند ہے 1947کے ایکٹ کی دفعہ 5 بی اور سی بہت اہم ہیں جس کے تحت کسی بھی سرکاری ادارے رکھنے والے شخص کا ظاہر ی رہن سہن اور اپنے اثاثے اس کی آمدنی سے مطابقت نہ رکھتے ہوں اس کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے اس وقت نیب NABکے پاس ہزاروں انکوائری زیرالتوا ہیں جبکہ دیگر مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں اینٹی کرپشن میں بھی ہزاروں کی تعداد میں مقدمات اور درخواستیں موجود ہیں حکومت کو اقتدار میں آئے تین سال ہو چکے ہیں لیکن کسی بھی بڑے کیس کا فیصلہ نہ ہو ا ہے حالانکہ ثبوت موجود ہیں۔ ایک سروے کے مطابق بد عنوانی کی وجوہات میں احتساب کا نہ ہونا 31 فیصد کم تنخواہیں 16 فیصد اختیارات کا ناجائز استعمال 6 فیصد صوابدیدی اختیار کا غلط استعمال16 فیصداور سرخ فیتہ 5فیصد کی شرح سے کہا گیا ہے۔کرپشن کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی نیت صاف ہے لیکن تا خیر نہیں ہونی چاہیے حکومت کو چاہیے کہ کرپشن کے جرم کو کرائمCrime کے طور پر نصاب تعلیم کا حصہ بنایا جائے سپریم کورٹ کے این آر اوNRO سے متعلق فیصلے پر عمل کرایا جائے تمام قوانین کو یکجا کر کے ایک مرکزی اور ایک صوبائی قانون بنایا جائے آفیسران کے صوابدیدی اختیارات ختم کیے جائیں پرائیویٹ سیکٹر کے آڈیٹرز سے آڈٹ کرایا جائے۔ عدالتی نظام میں اصلاحات لائی جائے۔تمام سرکاری ملازمین کو قانون کے مطابق ہر سال اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا پابند کیا جائے۔ کرپشن پر سزائے موت مقرر کی جائے۔ کیونکہ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے اور اس سلسلے میں اچھے اقدامات بھی کیے ہیں لیکن مجموعی طور پر اس کوشش کے اثرات ملکی سطح پر ابھی تک نظر نہ آ رہے ہیں۔
الٰہی ملک پہ آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
(کالم نگار سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain