تازہ تر ین

فرشتہ کوئی بھی نہیں

شفقت حسین
انسانی تاریخ کا المیہ ہے کہ جب سے امت سازی کا عمل مکمل ہواہے اسی دن سے ہر زیردست کی رگِ جاں ہر بالادست کے پنجہئ استبداد میں رہی ہے جس کے نتیجے میں کائنات کاپہلا قتل بھی اسی بات کا ثبوت ہے اوریہ نتیجہ تھا حسد اورتکبر کا کہ قابیل میں یہی دوخصوصیات بدرجہئ اُتم پائی جاتی تھیں جو کسی صورت نہیں چاہتا تھا کہ اس کابھائی ہابیل اس سے بڑھ کر عزوشرف اور خدائے بزرگ وبرتر کا برگزیدہ بن جائے۔ بدقسمتی سے اس رسمِ قبیح نے اس قدر زور پکڑا کہ اس کے بعد بالادستی کاتصور واضح طورپرمضبوط اور پختہ سے پختہ تر ہوتا چلاگیا۔ ایک طرف زیردست طبقات تھے جن کی تعداد روز افزوں تھی جبکہ دوسری جانب بالادست تھے جو مٹھی بھر اور آٹے میں نمک کے برابر تھے لیکن اپنی ظاہری شان وشوکت اور سرمائے کی بدولت کمزوروں اور مستضعفین پر اپنا غلبہ برقرار رکھنے کے لئے کسی بھی بڑی سے بڑی زیادتی اور طاقت کے استعمال سے نہیں چوکتے تھے بلکہ کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتے تھے۔ شو مئی قسمت جس طرح طاقت کے خمار اورنشے میں بالادست ہر شے کو روند ڈالتے ہیں اسی طرح حسد کاخنّاس بھی دلوں میں وسوسے ڈال کرکسی انسان کو گمراہ کیے بغیر نہیں رہتا۔ کمزوروں کو اور انگوٹھے تلے دبا کر رکھنا معاشرے کے کسی خاص اورایک طبقے تک مخصوص نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں اور دائروں میں ہمیں کمزوروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ایسے برخود غلط روئیے دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن لہو کے آنسو پینے کے سوا کوئی کیا کرسکتاہے۔
اب اِدھر کچھ عرصے سے اراکین پنجاب اسمبلی کے استحقاق بل2021ء کے تحت سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے ایم پی ایز حضرات کو بااختیار اور طاقت کا منبع بنانے کے حوالے سے اٹھنے والی دھول نے فضا کو مکدر بنانے کاجونادرشاہی فرمان بلکہ باقاعدہ اسے قانون کی شکل دینے کافیصلہ کیااور ان کے اراکین نے بھی ہنستے کھیلتے بغیر سوچے سمجھے اورپڑھے اس پردستخط فرمادئیے۔ کیا آج کے ہر حوالے سے ترقی یافتہ دور میں ایسا فیصلہ اورحکم اپنے اندر کوئی جواز رکھتاہے جواب قطعی طورپر نفی میں ہے۔ کیا انٹرنیٹ‘ ٹوئٹر‘ انسٹاگرام‘ واٹس اپ کے ہوشربا اضافے کی موجودگی اورترقی میں کوئی خبریااطلاع روکی جاسکتی ہے۔ ہم تو حیران ہوتے ہیں جب کسی خبر یا واقعے کی اطلاع ہمارے پرنٹ‘الیکٹرانک اورسوشل میڈیاز اسے فوری طورپر مہیا کردیتے ہیں تو کیاکسی کواس حق سے محروم رکھا جاسکتاہے اور جس طرح کی اطلاعات تھیں کہ کسی رکن اسمبلی کے خلاف خبر کی نشرواشاعت پر کسی رپورٹر یا کسی بھی شہری کو تین ماہ قید اورمبلغ دس ہزار روپے جرمانے کاٹیکہ لگوانا پڑے گا اوراس حوالے سے کسی کی قسمت کافیصلہ بھی مروجہ جمہوری سسٹم کے تحت قائم عدالتیں نہیں بلکہ سپیکر اس جوڈیشل کمیٹی سے کروائیں گے جواراکین اسمبلی ہی پرمشتمل ہوگی۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ ایسا کرنے والوں کی مشکیں بھی ایم پی ایز ہی کسیں گے‘ لیکن ظاہر ہے کہ اس کالے قانون کے خلاف ملک بھر کی تنظیموں نے ایکا کرکے ایک زبردست مہم چلائی (یہاں یہ بھی مقام اطمینان ہے کہ کسی نے اسماعیل گجر صاحب کی طرح بھارت سے مدد نہیں مانگی‘ نہ ہی کسی نے بھارت کے لئے ناپسندیدہ سمجھے جانے والے عناصر کی لسٹیں اسے فراہم کیں اور نہ ہی کسی صحافی نے اپنا نان ونفقہ بند کیے جانے کی صورت میں بھارت کے ساتھ تجارت کا عندیہ دیاتھا)۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چودھری پرویز الٰہی ایک پختہ کار سیاستدان ہیں جن کی ساری زندگی سیاسی دشت کی سیاحی میں گزری ہے۔ وہ صحافیوں کے لئے ایک خاص مفہوم میں نرم گوشتہ بھی رکھتے ہیں۔ نہ جانے ان کے دل میں محض اراکین اسمبلی کی محبت میں اس طرح کے قانون کی تشکیل اور منظوری کاخیال بھی کس طرح آیا۔ بھلا ہو گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا جنہوں نے اس قانون کی منظوری کے حوالے سے اس بل پر دستخط نہیں کیے۔ انہوں نے چودھری پرویز الٰہی کے اس بیان کہ میں کسی کو ٹارزن نہیں بننے دوں گا۔ یہ ملک ہے جہاں جنگل کا قانون نہیں۔ نیز یہ کہ میں گورنر کو اس قانون کے راستے کی دیوار نہیں بننے دوں گا کے جواب الجواب کے طورپر خاموش رہنا ہی پسند کیاہے کیونکہ ان کی زندگی ترقی یافتہ اور آزاد معاشرے میں بسر ہوئی ہے جہاں کی ملکہ ہو یا وزیراعظم اپنی سبزی دال کی خریداری بھی پبلک ٹرانسپورٹ پر لاؤلشکر‘ پروٹوکول اورباڈی گارڈز کے بغیر کرتے ہیں۔ جہاں کوئی کسی کابازو نہیں مروڑ سکتانہ ہی کسی کو کوئی فری لنچ کرواتاہے اور نہ ہی اپنے خلاف شائع ہونے والی کسی خبر پرسیخ پا ہو کر ہمارے ہاں کی طرح استحقاق بل بناکر اسے قانون کی شکل دینے کاسوچتاہے۔
گورنر چودھری محمدسرور نے وزیراعظم کوبھی اس قانون کے حوالے سے آن بورڈ کیا لیکن چودھری پرویزالٰہی نے تو وزیراعلیٰ پنجاب سے‘ نہ ہی مشیرپنجاب ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان سے اورنہ ہی دیگر عمائدین حکومت سے مشاورت کی اور سردارعثمان بزدار کا حوصلہ دیکھیں کہ انہوں نے سپیکر سے گلہ بھی نہیں کیا کہ جناب!آپ وزیراعلیٰ آفس کے متوازی وزیراعلیٰ آفس بنانے کاشوقِ فضول کس طرح فرما رہے ہیں اور آپ صرف اور صرف آئین کے تحت خود کو حاصل پروڈکشن آرڈرزجیسے اختیار تک محدود رکھیں۔ اس مرحلے پر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سپیکر صاحب کو ایک قدم آگے بڑھا کر دوقدم پیچھے ہٹنا پڑا ہے تو یہ سارا ان کا اپنا کیا دھراہے۔ ان کی چونکہ ساری زندگی آمریت کے سہارے گزری ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اراکین پنجاب اسمبلی کے استحقاق کا بل2021ء اسی آمرانہ سوچ کا عکاس اور مظہر فیصلہ تھا جسے گورنر پنجاب نے صائب نہ سمجھتے ہوئے قبول کرنے سے انکارکردیا۔ ان کا ایسا کرنا آزادصحافت پر ایمان کو بھی واضح کرتاہے اور گورنر کے عہدے کی رٹ کومنوانے اور اسے برقراررکھنے پردلالت بھی کرتاہے لیکن اس حوالے سے ڈاکٹرفردوس عاشق کا ڈپلومیٹک رویہ ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے اگرچہ سپیکرکے فیصلے کی مذمت نہیں کی تاہم اس قدرضرور کہا ہے کہ ہم ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اور دوریوں کو قربتوں میں تبدیل کریں گے۔ کون سی دوری اور کون سی قربت۔ اسے محض بلیک میلنگ کانام ہی دیا جاسکتاہے جس کے نتیجے میں انہوں نے چودھری مونس الٰہی کو وفاقی وزیر بھی ہفتہ عشرہ قبل بنوا لیاتھا حالانکہ وہ یہی عہدہ اپنے دیرینہ خادم سینیٹر کامل علی آغا کوبھی دلواسکتے تھے۔ صحافی دوستوں اورتجزیہ کاروں کی اس بارے میں کیا رائے ہوگی کیا کوئی بتائے گا؟
(کالم نگار سیاسی‘سماجی اورمعاشرتی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain