تازہ تر ین

انجیلا میرکل کون ہیں؟

مرزا روحیل بیگ
انجیلا میرکل 17 جولائی 1954 کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں۔ جرمنی کے مشرقی حصے میں پروان چڑھنے والی انجیلا میرکل کبھی جرمنی کی سب سے مقبول اور طاقتور ترین سیاسی شخصیت بنیں گی، یہ میرکل سمیت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ طبیعات جیسے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیاست میں آ کر اتنی شہرت اور کامیابی حاصل کی، کہ آج دنیا حیران ہے۔ یہ امر سب ہی کے لیئے تعجب کا باعث ہے۔ جرمنی میں انجیلا میرکل کی سیاسی قیادت کو ملکی سیاست میں مثبت تبدیلی سمجھا جاتا ہے۔ میرکل جرمن چانسلر بننے والی پہلی خاتون سیاستدان ہیں۔
انجیلا میرکل نے جرمنی کے سیاسی منظر نامے کی کئی روایات توڑ ڈالیں۔ مشرقی جرمنی سے تعلق رکھنے والی خاتون جنہیں سیاست کے داؤ پیچ بھی معلوم نہیں تھے قدامت پسند جماعت کی سربراہ مقرر ہوئیں اور چار مرتبہ چانسلر بھی منتخب ہو چکی ہیں۔ سن 1990 میں میرکل جرمن پارلیمان کی رکن منتخب ہوئیں۔ سابقہ مشرقی جرمنی میں رہنے والی میرکل کی معلومات یورپی یونین کی بابت زیادہ نہیں تھیں، نہ ہی انہیں مغربی جرمنی کی سیاست کی گہرائیوں کا زیادہ علم تھا۔ تاہم چانسلر ہیلمٹ کوہل نے انہیں خواتین اور نوجوانوں کی وزارت کا قلمدان سونپ دیا۔ چار برس بعد وہ ماحولیات کی وزیر بنیں۔ 2005 کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے انجیلا میرکل جرمنی کی چانسلر بن گئیں۔ جرمنی میں لوگ انہیں اپنے اصولوں پر کاربند رہنے اور پاسداری کرنے والی چانسلر کے طور پر بھی جانتے ہیں۔ انہیں دنیا کی طاقتور ترین خاتون بھی قرار دیا جاتا ہے۔ انجیلا میرکل کی شخصیت کے بہت سے منفرد پہلو ہیں، تعمیر یا ڈھانچے اور حکومت چلانے کے معاملات میں میرکل بہت مضبوط ہیں۔ ان کے خیال میں اصولوں پر کاربند ہونے میں کوئی تضاد نہیں۔ اصولوں پر چلتے ہوئے اور اقتدار کے حصول کے دوران بھی نیک دلی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ انجیلا میرکل بولنے سے پہلے سوچتی ہیں اور جب بولتی ہیں تو کم بولتی ہیں، وہ دوسروں کی بات زیادہ سنتی ہیں۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتی ہیں کہ اپنے بارے میں کوئی بات نہ کریں۔ ان کی کامیابی کا راز صبرو تحمل اور سٹیمنا میں ہے۔ اس عمر میں بھی رات کے دو بجے فون کر کے عملے سے کہیں گی وہ جو صبح بات ہوئی تھی اس پر کچھ نوٹس بنا لیتے ہیں۔ انجیلا میرکل کا دامن ہر طرح کی کرپشن اور اقربا پروری سے پاک ہے۔ میرکل اور ان کے شوہر جو کہ کیمسٹری کے ایک پروفیسر ہیں برلن کے ایک اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں، وہ علاقے کے لوگوں سے عموماً سپر مارکیٹ میں ملتے دکھائی دیتے ہیں۔
انجیلا میرکل برلن کی شاہراہوں پر خریداری کرتے ہوئے، اپنا سامان خود اٹھا کر گاڑی میں رکھتے ہوئے آپ کو نظر آئیں گی۔ جرمنی میں قدامت پسند جماعتیں دو ہیں، ایک انجیلا میرکل کی پارٹی سی ڈی یو اور دوسری جنوبی صوبے باویریا کی سیاسی جماعت جو کہ کرسچن سوشل یونین یا سی ایس یو کہلاتی ہے۔ یہ پارٹی نہ صرف باویریا میں حکمران ہے بلکہ سیاسی طور پر سی ڈی یو کی ہم خیال جماعت بھی ہے۔ انجیلا میرکل کی صلاحتیں اس وقت بھی ابھر کر سامنے آئیں جب 2014 میں یونان کا مالیاتی بحران شدید تر ہو چکا تھا تو جرمنی اور یونان کی پرانی دشمنی کی جھلک بھی دیکھی گئی۔ لیکن میرکل اس وقت بھی اپنی ایمانداری اور صاف گوئی سے پیچھے نہ ہٹیں۔ بچتی کٹوتیوں اور مالیاتی اصلاحات کے مطالبات پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے یونانی عوام جرمنی سے زیادہ خوش نہیں ہے۔
2015 میں انجیلا میرکل نے شام اور عراق میں خانہ جنگی سے متاثرہ لاکھوں پناہ گزینوں کو جرمنی میں پناہ دینے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا تھا۔ انسانی ہمدردی کے پیش نظر کیئے گئے اس فیصلے کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہیں۔ افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے کے بعد انجیلا میرکل نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 2015 کی مہاجرین پالیسی کو نہیں اپنائیں گی۔ جرمن چانسلر انجیلا میرکل اس سال ستمبر میں ہونے والے وفاقی انتخابات کے بعد اقتدار سے دستبردار ہو جائیں گی۔ جرمن شہری میرکل کے ڈسپلن اور ان کے کام کرنے کے انداز کو یاد کریں گے۔ چانسلر میرکل جیسی شخصیت اور طرز قیادت والے حکمران اب دنیا میں ناپید دکھائی دیتے ہیں۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain