Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا نام تبدیل کر کے سائبر پولیس رکھنے کی تجویز
    • لاہور ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی بھرتی کے نتائج کا اعلان
    • راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ 30 ارب اضافی خرچ ہونے کے باوجود مکمل نہ ہوسکا
    • وزیراعلیٰ پنجاب کے دھی رانی پروگرام ، چکوال میں اجتماعی شادیوں کی تقریب
    • زکریا ضیا نے آئی سی سی آئی کے صدر کا عہدہ سنبھال لیا
    • چکوال شہری میں بیوٹیفکیشن پلان کے تحت راستوں کی بندش سے تاجر، شہری پریشان
    • CDA چیئرمین کا ڈپلومیٹک انکلیو کا دورہ، ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ
    • علیمہ خانم کے خلاف تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے کا فیصلہ ایک بار پھر موخر
    • اسلام آباد پولیس کے اہلکار نفیس اقبال کو ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ترقی دیدی گئی
    • وزارت مذہبی امور نے لیبر کوٹہ کی درخواستوں کیلئے حج پورٹل فعال کر دیا
    • ہم پر تنقید کریں یا تعریف، میڈیا آزاد ہے: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    • میونسپل کارپوریشن کی غفلت، راولپنڈی ایک بار پھر "تجاوزات سٹی” بن گیا
    • 3 گینگز کے 5 ملزمان گرفتار، 6 مسروقہ موٹر سائیکل و رقم اور اسلحہ برآمد
    • جوبلی لائف انشورنس اور یونی کرو سولیوشنز کی شراکت داری
    • اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان سیدہ زینب حسین سے صحافیوں کے وفد کی ملاقات
    • چکلالہ کینٹ بورڈ کی غفلت ،رحیم آباد راولپنڈی پل کی سڑک پر کھڈا حادثات کا سبب
    • نیوٹاون پولیس کی کارروائی، چیک ڈس آنر کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری گرفتار
    • تھانہ وارث خان راولپنڈی کے علاقے میں 2 نوجوان زہریلی شراب پینے سے جاں بحق
    • ستھرا پنجاب کی نا اہلی ، بد ترین نظام سے نجی سرکا ری سکول کے طلبہ کو مشکلات
    • جعلی ادویات انسانی زندگیوں کیلئے سنگین خطرہ ہیں: ساجد محمود
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    صوبائی تعصب کو ہوا نہ دیں

    By Daily Khabrainستمبر 6, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    شفقت حسین
    29 اگست ہفتے کے روز کراچی میں منعقد ہونے والے جلسے کے حاضرین کی تعداد پی ڈی ایم کے مطابق ایک لاکھ سے زائد ہو یا آزاد ذرائع کے مطابق یہ تعداد 30 ہزار ہو، پاکستان تحریک انصاف کے نزدیک حاضرین دس ہزار ہوں یا ایجنسیوں کے ظاہر کردہ اعداد و شمار کے اعتبار سے 20 ہزار شرکا ہوں لیکن ایک بات تو بہر حال واضح ہو چکی ہے کہ اس وقت منتشر الخیال اپوزیشن حکومت وقت کے لئے کسی سردردی کا باعث بن سکتی ہے اور نہ ہی پی ڈی ایم لاکھوں عوام کو اسلام آباد کی جانب جلوس لے جانے اور جلسے منعقد کرنے کے قابل ہے کیونکہ پی ڈی ایم کے پاس فی الوقت کوئی پُرکشش ایجنڈا اور نعرہ نہیں ہے کہ عوام جوق در جوق ایک قابل لحاظ تعداد میں اپوزیشن کے کہنے پر سڑکوں پر آئیں اور سختیاں جھیلیں۔ کیونکہ جب ذہنی اُپج اور اپروچ یہ ہو کہ ایک بڑی سیاسی جماعت جو کبھی ماضی میں چاروں صوبوں کی زنجیر تصور کی جاتی رہی ہے اس کے سربراہ یہ فرمائیں کہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے شخص کو سندھی عوام کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے (واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے ”سندھ کے عوام“ کے الفاظ استعمال نہیں کئے انہوں نے لفظ ”سندھی عوام“ اپنے بیان میں چنا ہے) اگر وہ ”سندھ میں بسنے والے عوام“ کے الفاظ کا چناؤ کرتے تو ہم جیسے کم فہم بھی یہ سمجھ لیتے کہ چونکہ سندھ بالخصوص کراچی حیدرآباد دو ملٹی کلاس شہر ہیں اور یوں بھی سندھ میں پاکستانی مسلمانوں کے علاوہ ہندو آبادی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی بستے ہیں لہٰذا انہوں نے من جملہ تمام پاکستانیوں کے حقوق کی بات کی ہے۔ لیکن نہیں۔ جناب بلاول نے ”سندھی عوام“ کے لفظ استعمال کر کے نفرت بلکہ قوم پرستی کی سیاست کو جنم دیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کسی قومی دھارے اور بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو زیب نہیں دیتا نہ ہی اس کے شایان شان رویہ اور طرز عمل سمجھا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ بلاول بھٹو اس سیاسی راہنما کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے اپنی شریک حیات کی تدفین کے وقت اٹھنے والے ایک فتنے کو ”پاکستان کھپے“ کہہ کر گویا دبا دیا تھا۔
    بلاول بھٹو کا یہ کہنا بھی قرین دانش نہیں ہے کہ سندھ کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا، ایسا تعصب کی عینک لگا کر ہی کہا جا سکتا ہے، بقامی ہوش و حواس کوئی عقلمند شخص اس طرح کی گفتگو نہیں کر سکتا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کل کلاں آج کی اپوزیشن اور بطور خاص پاکستان پیپلزپارٹی برسراقتدار آ جاتی ہے تو یہی اسلام آباد میں بیٹھا ہوا شخص (عمران خان) آپ کو مطعون قرار دیئے بغیر نہیں رہے گا اور آپ کی اپوزیشن بھی آپ کو اسی طرح چاروں شانے چت کرنے پر اپنی تمام تر طاقت اور قوت کو بروئے کار لانے میں حق بجانب ہو گی جس طرح آپ آج اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔
    ہمیں معلوم ہے کہ اقتدار سے باہر بیٹھا ہوا کوئی بھی شخص وہ بلاول بھٹو ہوں یا میاں صاحبان، مولانا فضل الرحمن ہوں یا کوئی اور ایک خاص مفہوم میں کسی نہ کسی حد تک ہی سہی بوکھلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں اور وہ گفتگو کے دوران میں اعتدال اور میانہ روی کے کلچر کے احترا کی پرواہ نہیں کرتے کہ انہیں ہر حال میں مسند اقتدار ہی پیاری ہوتی ہے۔
    ماضی اگرچہ کبھی خوشگوار نہیں ہوتا اور اپنے دامن میں اکثروبیشتر تلخ یادیں ہی سمیٹے ہوتا ہے۔ انہی تلخ یادوں میں ایک یاد یہ بھی ہے جب میاں محمد نوازشریف نے جوش فضول میں دوران خطاب ”جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ“کہہ دیا تھا۔ قارئین کرام! یہ ایسا زہریلا اور صوبائی عصبیت پر مبنی جملہ تھا جس نے بعد کے کئی سالوں تک صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا کو مکدر بنانے میں ایک ناخوشگوار کردار ادا کیا۔ کیونکہ اس سے پہلے پنجاب سے بدقسمتی سے ایک حقیقی لاش (ذوالفقار علی بھٹو) گڑھی خدا بخش اور دوسری زندہ لاش (محمد خان جونیجو) کی صورت میں سندھڑی جا چکی تھی۔ جس سے دونوں بڑے صوبوں کے درمیان نفرت کا لاوا مسلسل پکتا رہا لیکن الحمدللہ یہ لاوا پھٹنے سے محفوظ رہا۔ اب اگر اس ڈگر پر بلاول بھٹو چلتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں بیٹھا ہوا شخص سندھی عوام کے حقوق پرڈاکہ نہیں ڈال سکتا اور اگر وہ یہ کہیں کہ سکھر کا (اشارہ جوہری طور پر خورشید شاہ کی طرف ہے) اپوزیشن لیڈر جیل میں ہے اور لاہور کا اپوزیشن لیڈر (یہاں اشارہ میاں محمد شہباز شریف کی جانب ہی لگتا ہے) آزاد گھوم رہا ہے تو اسے بھی تعصب پر مبنی رویہ قرار نہ دیا جائے تو کیا کہا جائے۔ اگر بلاول بھٹو اور مریم نوازشریف بہن بھائی بن کر بھی اور پوری پی ڈی ایم ملک بھر میں منظم اور بھرپور جلسے کرنے کے باوصف حکومت گرانے میں ناکام رہے ہیں تو اس میں قصور کس کا ہو سکتا ہے؟ کیا اس کا جواب منتشر اپوزیشن کے پاس ہے۔
    میں کبھی وزیراعظم کا سپورٹر اور حمائتی نہیں رہا لیکن میری ایماندارانہ رائے ہے کہ عمران خان نے یقینا بعض حوالوں سے غلطیوں کے باوجود کبھی صوبائی عصبیت پر مبنی گفتگو نہیں کی اور نتیجہ یہ ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے تمام تر پھبتیاں کسے جانے کے باوجود وزیراعظم نے پوری اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ بھی لگا رکھا ہے اور حکومت بھی پُرسکون انداز میں کرتے چلے جا رہے ہیں۔تو دانشمند کون؟ وزیراعظم یا پی ڈی ایم،آپ یا عمران خان فیصلہ آپ خود ہی کر لیں، ہم اگر عرض کریں گے تو شکائت ہو گی۔ فی الوقت ہمارا مشورہ ہے کہ چاروں صوبوں کی زنجیر سمجھی جانے والی جماعت کے سربراہ خود کو منظم کریں۔ عوام میں اپنی جڑیں مضبوط بنائیں اور پاکستان پیپلزپارٹی کو پھر سے صفِ اول کی جماعت بنانے پر اپنی توجہات مرکوز کریں۔
    (کالم نگار سیاسی‘سماجی اورمعاشرتی موضوعات پرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      ارلنگ ہالینڈ کا پونی ٹیل اشتہار پر نارویجین ایئرلائن کے خلاف مقدمہ

      جم کیری کی خاموش محبت شادی کے بندھن میں بندھ گئی

      پاکستان میں سونے کی قیمت پھر کریش 10 گرام سونا 3.5 لاکھ روپے کا ہوگیا

      وزیراعظم شہباز شریف کا نجی شعبے کو برآمدات بڑھانے میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر زور

      سوات زلزلے سے لرز اٹھا، شدت 4.2 ریکارڈ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.