Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • مذاکرات بحال کریں امریکہ کا ایران کو خط پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز پر امریکی ڈرون تباہ کرنے کا دعوی
    • سکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائی فتنہ الہندوستان کا دہشت گرد ہلاک
    • وزیراعلیٰ مریم نواز جنرل ہسپتال’پنزکے آئی سی یو میں فالج اٹیک کے بعد روبہ صحت مریض کوفزیو تھراپی کرتا دیکھ رہی ہیں
    • جنرل ہسپتال میں سٹروک کارڈ تقسیم کسی کا علاج نہیں رکنا چاہیے مریم نواز
    • پٹنہ ہندو غنڈوں کا نمازیوں پر حملہ
    • سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان کا ملائیشیا کے ہم منصب سے رابطہ’دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال
    • وزیراعظم شہبازشریف ترکیہ کے قومی دن کے موقع پرکیک کاٹ رہے ہیں۔ اسحق ڈاراور ترک سفیر بھی موجود ہیں
    • وزیر خزانہ سے سعودی سفیرکی ملاقات اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
    • روس کا یوکرین میں ریلوے سٹیشن پر ڈرون حملہ’ 14افراد ہلاک
    • آصف زرداری کا پاک ترک تاریخیشراکت داری مزید مستحکم بنانے پر زور
    • پاک چین دوستی ہسپتال کا افتتاح پاکستان ترکیہ ایک دل دو روحیں ہیں شہباز شریف
    • کیف:روس کے یوکرینی ریلوے سٹیشن پرحملے کے بعد امدادی کارکن نعشوں کو ہسپتال منتقل کررہے ہیں۔
    • میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کے علاقے بی بلاک سیٹلائٹ فائون میں غیر قانونی تعمیرات کا منظر۔
    • کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پْرعزم ہیں، سینیٹر نیلوفر بختیار
    • اسلام آباد: صدر استحکام پاکستان پارٹی ،سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس ،حاجی نواز رضا، افضل بٹ، عامر محبوب ، سردار فارم ہائوس میں سینئر صحافیوں ،اینکرپرسنز کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔
    • مضبوط ‘ خوشحال پاکستان کے3 نکاتی ایجنڈے پر سب کو مل بیٹھ کر بات کرنا ہوگی:طارق فضل
    • مسلہ کشمیر پر صحافت کا کردار ستائش حل کیلئے ملکر اقام عالم جھنجھوڑنا ہو گا سردار تنویر الیاس
    • ڈائریکٹر جنرل سی سی آر اے میجر جنرل ظفر اللہ خان ہلا ل امتیاز اور وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی ڈاکٹر قمر الزمان کی موجودگی میں دونوں اداروں کے نمائندگان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر رہے ہیں ۔
    • فرانس’ سفارتخانہ میں یوم سیاہ کشمیر کی تقریب’ کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی
    • راولپنڈی میں غیر قانونی تعمیرات کا نہ رکنے والا سلسلہ بدستور جاری
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سچ تو یہ ہے

    By Daily Khabrainستمبر 15, 2021
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    مریم ارشد
    ممتاز سکالر ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی ”سچ تو یہ ہے“ میرے پاس بہت عرصہ پہلے آئی تھی۔ چونکہ میں خوفناک کرونا کا شکار ہو گئی تھی اور پھر بعد ازاں پوسٹ کووڈ پیچیدگیوں نے اس قدر الجھائے رکھا کہ سُدھ بُدھ بھی جاتی رہی اور جان کے لالے پڑے رہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی کتاب پڑھنے میں دیر سے دیر ہی ہوتی گئی۔اب پڑھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ یہ کتاب پاکستان کی تاریخ کو مسخ کرنے کی سازشوں اور قائدِ اعظمؒ سے بدظن کرنے کے من گھڑت الزامات اور نشرو اشاعت کو تاریخ کے مستند شواہد سے سچ کی سنہری کرنوں کو سامنے لانے کے مترادف ہے۔
    محترم ڈاکٹر صفدر محمود کی یہ کتاب 40مضامین پر مشتمل ہے۔ یہ کالم چھپنا تو پہلے چاہیے تھا لیکن دیر ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب ملکِ عدم کو روانہ ہو چکے ہیں۔ وہ انتہائی دیانت دار سول سروس کے آفیسر تھے۔ نظریہ پاکستان کے محافظ اور روحانی فرزند تھے۔ پاکستان کی نوجوان نسل کو فکری انتشار سے بچانا اُن کا اولین مقصد تھا۔کتاب ”سچ تو یہ ہے“اب تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔ وہ اسلامی نظریہ کے داعی تھے۔ اللہ ان سے مہربانی کا سلوک کرے آمین! پوری کتاب کو کسی ایک کالم میں سمونا خاصا مشکل کام ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان اور قائدِ اعظم سے محبت ہی ڈاکٹر صاحب کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ قائدِ اعظم مشکلات اور خطرات کے سامنے ہار ماننے والے شخص نہ تھے۔ وہ ممتاز ترین رہنما تنِ تنہا تمام مسئلوں کو سُلجھاتے رہے۔ جب وہ عوام کے درمیان ہوتے تو ان کے دل کی دھڑکن عوام کی دھڑکن بن جاتی۔خرابی صحت کے باوجود قائدِ اعظم مسلسل کئی سالوں تک صرف کام ہی کرتے رہے۔ ”سچ تو یہ ہے“ پڑھنے کے بعد دل میں ارمان پیدا ہوتا ہے کہ اس کتاب کے ہر مضمون پر کچھ نہ کچھ لکھا جائے لیکن آج میں بات کروں گی قائدِ اعظم کے یومِ وفات 11ستمبر کے حوالے سے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ دنیا میں سینکڑوں لیڈران کا انتقال ہوا ہے لیکن کسی میں بھی آپ کو وہ حُسنِ اتفاق نہیں ملے گا جو قائدِ اعظم کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ قدرت کے فیصلوں میں بعض اوقات ایسے راز ہوتے ہیں جن کا مقصد واضح پیغام دینا ہوتا ہے۔ جو لوگ حد درجہ تشکیک اور مادیت کے زیر اثر پائے جاتے ہیں وہ ایسے رازوں کو نہیں سمجھتے۔ ڈاکٹر صاحب اسی کالم میں لکھتے ہیں میرے ایک محترم دوست ریاضی کے استاد ہیں اور علم الاعداد میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے فزکس کے ساتھ کائنات اور روحانیت کا مطالعہ بھی کر رکھا ہے۔ قصہ آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قائدِ اعظم کے یومِ وفات سے کچھ دن پہلے میرے موبائل اور وہی میسج پروفیسر صاحب کے موبائل پہ بھی موصول ہوا تھا۔ میں نے موبائل کے فضول پیغاموں کی طرح اسے پڑھنے کی بھی زحمت نہ کی۔ لیکن پروفیسر صاحب علم الاعداد کی روشنی میں اس میسج پہ غور کرتے رہے اور پھر اعلان کیا کہ قدرت نے پاکستان اور قائدِ اعظم کو لازم و ملزوم قراردے دیا ہے۔
    ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ پروفیسر صاحب نے کہا! ڈاکٹر صاحب میں نے علم الاعداد کی روشنی میں امریکہ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کا مطالعہ کیا ہے۔ حیرت ہے کہ مجھے وہ مماثلت یا قدرت کا راز کہیں نظر نہیں آیا جو قائدِ اعظم کی شخصیت میں ہے۔ ڈاکٹر صاحب آپ نے کئی برس پہلے ایک کالم میں لکھا تھا کہ قائدِ اعظم کا یومِ پیدائش، یومِ وفات، اور قیامِ پاکستان کا دن ایک ہی ہوتا ہے۔ مثلاً 2016میں 14اگست11ستمبر اور 25دسمبر کا دن اتوار ہی ہے۔ زندگی و موت پر اختیار صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے۔ انسان ان میں بے بس ہے۔ اس لیے اگر ان فیصلوں میں کوئی پوشیدہ حقیقت یا راز نظر آئے تو اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ پروفیسر صاحب نے اپنے مشاہدے، ادراک اور احساس کے حوالے سے پاکستان کے کئی مرحوم لیڈروں کا ذکر کیا اور کہا کہ اُن کہ ایامِ پیدائش و وفات کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوا جوقدرت نے قائدِ اعظم کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔ مجھے ان میں وہ مماثلتیں نظر نہیں آئیں جس میں شہادت کے حوالے سے لیاقت علی خان بھی شامل ہو چکے ہیں۔ اُٹھتے اُٹھتے پروفیسر صاحب نے علم الاعداد پر دسترس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا: ڈاکٹر صاحب قائدِ اعظم کے حوالے سے یہ تین ایام اہم اور بنیادی حیثیت کے حامل ہیں۔ (1) پیدائش 25 دسمبر (2) وفات 11 ستمبر (3) یومِ پاکستان 14اگست۔ اگر ریاضی کے حوالے سے دیکھیں تو 25 سے 11منفی کریں تو 14 بچتا ہے جو ہمارا یومِ آزادی ہے۔اگر 25سے 14منفی کریں تو 11(قائدِ اعظم کا یومِ وفات)جمع کریں تو 25کا ہندسہ حاصل ہوتا ہے جو قائدِ اعظم کا یومِ پیدائش ہے۔ اگر قدرت نے ان ہندسوں میں سے کسی ایک کو بھی تبدیل کر دیا ہوتا تو صورتِ حال مختلف ہوتی۔ با ت ختم کرتے ہوئے پروفیسر صاحب نے اپنے علمی انداز میں کہا ”ہے ناں حیرت انگیز، منفرد اور فکر انگیز حقیقت؟ اسی لیے میں اسے قدرت کا وہ راز کہتا ہوں جسے عیاں کرنا مقصود تھا۔ یہ سب پڑھ کر میں تو خود حیرت کے سمندر میں ڈوب گئی۔ جھٹ میں نے اپنے موبائل میں اس سال کا کیلنڈر کھول کر دیکھا تو 14اگست، 11ستمبر،25دسمبر سب کا دن ہفتہ ہے۔ حتیٰ کے پروفیسر صاحب کے مطابق 16اکتوبر جو لیاقت علی خان کی شہادت کا دن ہے وہ بھی ہفتہ ہی ہے۔ یہ واقعی ایک حیرت انگیز حقیقت ہے۔ ستمبر کے اوائل ہی سے قائدِ اعظم کے ڈاکٹروں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اب ان کی صحت ٹھیک نہیں ہو گی۔
    علالت کے باوجود اکثر عالم خواب میں ان کی زبان سے کشمیر، مہاجرین، آئین اور پاکستان کے الفاظ سنائی دیتے۔ قائدِ اعظم کہا کرتے تھے ”قوم نے جو کام میرے سپرد کیا ہے اور قدرت نے جس کے لیے مجھے مقرر کیا وہ کام پورا ہو گیا۔ پاکستان بن گیا ہے۔ اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اسے ناقابلِ تسخیر اور ترقی یافتہ ملک بنائے۔ حکومت کا نظم و نسق دیانت داری اور محنت سے چلائے۔ میں تھک گیا ہوں۔ اب مجھے زندگی سے زیادہ دلچسپی نہیں رہی۔“ 11ستمبر کو عزم و استقلال، فہم و فراست،بصیرت اور وفا کا لاثانی لیڈر اپنی قوم سے جدا ہو گیا۔ آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے: آمین!
    (کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.