تازہ تر ین

نریندر مودی بنام جوبائیڈن

سجادوریا
ہیلو،مسٹر بائیڈن،نمسکار،میں امید کرتا ہوں کہ مزاج بخیر ہوں گے کیونکہ افغانستان میں حا لیہ شکست کے بعد آپ خاصے گھائل ہو چکے ہیں،ان حالات میں مزاج کا بخیر ہونا،ممکن نہیں،لیکن اُمید کرنے میں کیا حرج ہے؟۔”شرارتی“ میڈیا ایسی ”افواہیں“ پھیلا رہا ہے کہ آپ نجی محفلوں میں روتے پائے گئے ہیں۔میں ان ”شرارتی“ میڈیا والوں کی افواہوں پر بالکل یقین نہیں کرتا،ان کا کام ہی ’جلتی پر تیل‘ ڈالنا ہوتا ہے۔یہ آپ کی شکست کے بعد کے جذبات کو کیا سمجھیں گے؟میں پوری طرح سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کس اذیت سے گزر رہے ہیں۔
مسٹر بائیڈن،آپ پریشان نہ ہوں،ذلت و رُسوائی ہوتی رہتی ہے،انسان کو تھوڑا ڈھیٹ بن جانا چاہئے اور اپنے میڈیا کو کنٹرول میں رکھنا چاہئے،بھارتی میڈیا کو ایسے کنٹرول کر رکھا ہے کہ اتنی گھٹیا صحافت کر رہا ہے کہ ان کا اپنا تماشا بن گیا ہے،مسٹر بائیڈن آپ تو جانتے ہیں کہ چین نے لداخ میں بھارتی افواج کی پٹائی کی،چین نے کئی کلومیٹر بھارتی علاقے پر قبضہ کر لیا۔چینی فوج نے مُکوں اور گھونسوں سے کئی بھارتی فوجی بھی ہلاک کردیے،لیکن میری حکومت کو ذرا بھی شرمندگی نہیں ہوئی،میرے وزیر انتہائی بے شرمی سے میڈیا کی ملی بھگت سے واقعات کو چھپاتے رہے۔شکست و شرمندگی تو گویا ہم نے محسوس ہی نہیں کی۔ہمیں معلوم ہے کہ چین ایک بڑی طاقت ہے،اس کی عسکری قوت بھی قابو سے باہر ہو چکی ہے،اس لئے بھارت نے مناسب سمجھا کہ شرمندگی برداشت کر لو چین سے پنگا نہیں لینا چاہئے۔
جنابِ صدر ِ امریکہ،یہ تو شرمندگی کا ایک واقعہ لکھا ہے،اس سے بھی بڑی رُسوائی تو پاکستان کے ہاتھوں برداشت کر چکا ہوں۔مسٹر بائیڈن، آپ تو جانتے ہیں اور آپ کی خفیہ ایجنسیوں نے بھی بتایا ہو گا کہ پاکستان نے بھارت کے ناک میں دم کر رکھا ہے،میں نے تو مذاق مذاق میں ”سرجیکل“ اسٹرائیک کے لئے جہاز پاکستان بھیجے تھے،وہ بھی رات کو چوری چھپے ان کے چند درخت شہید ہو گئے۔میں سمجھا وہ بھی اسے مذاق ہی سمجھیں گے،لیکن سر ایک بات بتانا پڑے گی کہ نوازشریف واقعی شریف انسان تھے،ایسا ہنسی مذاق بھی برداشت کر لیتے تھے بلکہ اپنی افواج کو ہی دباوٗ میں لاتے تھے،ہمیں ہمیشہ خوش رکھتے تھے۔جب سے عمران نیازی آیا ہے تب سے آپ تو پریشان ہیں ہی،ہمیں بھی ذلیل کر رہا ہے۔ہمارے دوست نواز شریف کو تو جیل میں ڈالا لیکن ہمارا دوست نوازشریف بھی کمال کا ایکٹر ہے،جیل میں ایسی پلیٹ لیٹس کی گیم ڈالی،میڈیا میں اپنے چہیتے صحافیوں سے ایسی فضا بنوائی کہ عمرانی حکومت تو کیا عدلیہ بھی پریشان ہو گئی کہ جیل سے رہا کرنا پڑا۔میں آپ کوبتا رہا تھاکہ پاکستان کی فضائیہ نے میرے ”ابھی نندن“ کو پکڑلیا۔کشمیریوں نے پٹائی بھی کی،لیکن پاک فوج موقعے پر پہنچ گئی،ابھینندن کو بچایا،پھر فنٹاسٹک چائے بھی پلائی۔ایسی بھارت کی دُرگت بنائی کہ جگ ہنسائی ہمارا مقدر بن گئی لیکن ہم نے ڈھٹائی اور شرمندگی سے اپنے بے شرم میڈیا کو ”فرضیکل اسٹرائیک“ کا ٹاسک دے دیا۔
مسٹر بائیڈن! میں ایمانداری کی بات کہوں،افغانستان میں امریکہ کی شکست کے پیچھے بھی مجھے پاکستان دکھائی دیتا ہے۔پاکستان نے افغانستان میں صرف امریکہ کی ہی نہیں انڈیا کی بھی ٹھکائی کی ہے۔جناب صدر،پاکستان نے کمال ذہانت سے پہلے سوویت یونین کے ٹُکڑے کر دیے،اب امریکہ اور بھارت کی لُٹیا ڈبو دی۔پاکستان کی فاتحانہ للکار،جنرل فیض حمید کا کابل میں چائے پینے کا انداز،سچ کہوں ناقابلِ برداشت ہو رہا ہے۔
مسٹر بائیڈن،بھارت کو کس کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے ہو؟ہم نے بھارتی عوام کو بھوگا،ننگا رکھ کر اربوں افغانستان میں لگا دئیے،وہاں سڑکیں بنائیں،بسیں فراہم کیں،افغان فوج کو تربیت دینے میں مدد دی،اشرف غنی،امرللہ صالح سمیت کئی افغان رہنماوٗں پر انویسٹمنٹ کی،لیکن سب ڈوب گیا۔آپ تو جانتے ہیں ایک’بنیا‘پائی پائی پر مر جاتا ہے۔اپنے عوام کو بے وقوف بنا ئے رکھا،افغانستان میں آپ کی آشیر باد سے اربوں اُڑا دیے۔اب ہمارے لئے تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکہ بھاگ گیا ہے،انڈیا اس خطے میں تنہا ہو چکا ہے،چین،رُوس اور پاکستان خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہے ہیں۔بھارت میں میری حکومت کی انتہا پسند پالیسیاں،اندرونی خلفشار پیدا کر چکی ہیں۔بظاہر ایسے لگتا ہے کہ امریکہ کا خوف بھی اب نہیں ہے،اگر مقبوضہ کشمیر میں کوئی تحریک دوبارہ جاگ گئی تو بھارت اس پر قابو نہیں پا سکے گا۔چین اور پاکستان تو پہلے ہی ہم پر دباوٗ بڑھانا چاہتے ہیں۔
جنابِ صدر! ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان نے اپنے لئے مشکل ترین حالات کے باوجود بہترین فیصلے کیے ہیں،عالمی سازشوں،عالمی میڈیا کی بد عنوان رپورٹس اورمقامی سیاسی و عسکری رہنماوٗں کی غفلتوں کے باوجود اپنی ترجیحات پر توجہ مرکوز رکھی۔پاکستان نے ایسے وقت کا انتظار کیا،جب امریکہ کو تھکا دیا جائے اور بھگا دیا جائے،پاکستان نے چین کے ساتھ ایسے مضبوط اسٹریٹیجک تعلقات قائم کر لئے ہیں کہ اب اس خطے میں بیرونی مداخلت کے امکانات کو ختم کر دیا ہے۔پاکستان،چین اور عرب ممالک افغانستان میں نظامِ دنیا کو بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔امریکہ اور بھارت انتہائی بے بسی سے دور بیٹھ کر دانت پیستے رہیں گے۔جناب صدر،ہمارے لئے چین بڑا دردِ سر بن چکا ہے،اسی طرح پاکستان بھی ہمیں خطے میں تنہا کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔سری لنکا، مالدیپ، بنگلہ دیش اور نیپال ہمارے پڑوسی ممالک ہیں،وہ بھی آنکھیں دکھانے لگے ہیں۔ہم جان چکے ہیں کہ امریکہ ہماری مدد نہیں کر پائے گا۔
مسٹر بائیڈن،طالبان نے امریکہ اور نیٹو فورسز کے ساتھ جو کیا ہے،اس میں پاکستان کا دماغ شامل ہے،پاکستان نے طالبان کو ایسے تمام اطوار سکھا دیے ہیں جن سے دنیا کو ہینڈل کرنے میں مدد ملے گی۔میں گزارش کرتا ہوں کہ پاکستان پر دباوٗ کم نہ کیا جائے،پاکستان کو فیٹف کے شکنجے میں کسنا چاہئے،اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرنی چاہئیں،آئی ایم ایف،ورلڈ بینک جیسے عالمی اداروں کو استعمال کر کے پاکستان میں عمرانی حکومت کو دباوٗ میں رکھنا چاہئے۔ورنہ ان عالمی اداروں کا کوئی کام نہیں، انکو بند کر دینا چاہئے۔
میں نے بطور وزیر اعظم ہندوستان آپکو خط اس لئے لکھا ہے کہ ہمارا ساتھ دیں،ہماری مشکلات سمجھیں،اگر بھارت کو تنہا چھوڑا گیا تو ہم بھی امریکہ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور چین سے جا ملیں گے،اس خطے میں امریکہ پر کوئی اعتبار نہیں کرے گا۔جنرل بخشی پہلے ہی امریکہ کو بُزدل اور خوف زدہ کہہ رہا ہے۔اگر ہماری مدد نہ کی گئی تو ہم بھی چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنا لیں گے،میرا خط ایک دھمکی سے کم نہ سمجھا جائے،کیونکہ ہمارے پاس وقت کم ہے،ہمیں اس خطے میں ایک راکھشش پاکستان کا سامنا تھا،اب افغانستان میں راکھششوں نے حکومت بنا لی ہے۔طالبان تو کشمیر کی باتیں کرنے لگے ہیں۔اس لئے ہمیں خطرات کا سامنا ہے۔امید ہے ہمیں تنہا نہیں چھوڑا جائے۔
آخر میں آپ سے ہمدردی کرتا ہوں،آپ کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتا ہوں۔امریکی شکست نے دنیا کا توازن بدل دیا ہے۔اب دنیا امریکہ کو نہیں،چین کو نئی سُپر پاور کے طور پر دیکھنا شروع ہو گئے ہیں۔میرا ”گمان“ ہے کہ امریکہ ان سب حالات کو سمجھتا ہے۔میرا مقصد صرف آپکو ’چتاونی‘ دینا ہے۔بائے!اپنا خیال رکھنا اور ہمارا بھی۔
آپکا خیر اندیش
نریندرا مودی،وزیر اعظم ہندوستان
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain