تازہ تر ین

پاکستان اور تاجکستان پنج شیر کشیدگی ختم کرانے کو تیار

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان اور تاجکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے، افغانستان میں ایسی جامع حکومت کے قیا م کی ضرورت ہے جس میں تمام گروپوں کی نمائندگی موجود ہو، افغانستان کے دوست کی حیثیت سے ہم پنج شیر کے معاملہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے خواہاں ہیں، پاکستان اس سلسلے میں پشتون گروپوں جبکہ تاجکستان تاجکوں پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پاکستان اور تاجکستان کے مابین مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخطوں کے بعد تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے کامیاب انعقاد پر تاجکستان کے صدر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے تاجکستان میں اپنی اور اپنے وفد کی بہترین میزبانی پر تاجکستان کے صدر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین تجارت، سیاحت، اطلاعات، ادویہ سازی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین افغانستان کی صورتحال پر بھی اہم بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان اور تاجکستان بلکہ پورے خطے کیلئے ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغان عوام 40 سال سے مشکلات کا شکار ہیں، انہیں امن کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پنج شیر میں طالبان اور تاجکوں کے مابین تنازعہ کے پرامن حل کیلئے ثالثی پر بھی بات چیت ہوئی، ہم کوشش کریں گے کہ اس معاملہ کو بات چیت سے حل کیا جائے، اس سلسلہ میں پاکستان پشتون گروپوں جبکہ تاجکستان تاجکوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی تاریخ میں یہ فیصلہ کن گھڑی ہے، افغانستان میں پشتون 45 فیصد ہیں، اس کے علاوہ تاجک اور ہزارہ سمیت کئی اور گروپ بھی موجود ہیں، افغانستان میں جامع حکومت کے قیام کے ذریعے ہی پائیدار امن ممکن ہے، اس سلسلہ میں ہم اپنی پوری کوششیں کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان کا امن بھی وابستہ ہے، تین دہشت گرد گروپ اب بھی افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، افغانستان میں قیام امن جامع حکومت کے قیام سے ہی ممکن ہے۔ قبل ازیں دونوں ملکوں کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔ اس سلسلہ میں تقریب دوشنبے کے صدارتی محل ”قصر ملت” میں ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے مذاکرات میں پاکستانی جبکہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف نے اپنے ملک کے وفد کی قیادت کی۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان جبکہ صدر امام علی رحمان نے تاجکستان کی طرف سے مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے اور دستاویزات کا تبادلہ کیا۔ دونوں ملکوں کے مابین خارجہ امور ، صنعتی تعاون ، دوہرے ٹیکسوں کے بچا ،منی لانڈرنگ ، دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے، فنانشل انٹیلی جنس، سیاحت اور کھیل، اطلاعات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔ تاجک خبر رساں ایجنسی اور پاکستان کے قومی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی )کے مابین بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخطوں سے دونوں ملکوں کے مابین تعاون کو فروغ حاصل ہو گا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain