Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • این سی سی آئی اے کا گلبرگ میں 3 جعلی کال سنٹرز پر چھاپہ’ 59 ملزم گرفتار
    • گوجرانوالہ:دولہا دلہن کی گاڑی پر فائرنگ، دلہن جاں بحق، ملزمان فرار ، مقدمہ درج
    • راولپنڈی:بینظیر بھٹو ہسپتال میں دو بچے دوران زچگی جاں بحق
    • گلبرگ میں 3جعلی کال سنٹرز پر چھاپے، 59 ملزمان گرفتار
    • ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی فراہمی کیلئے کمپنیوں سے درخواستیں طلب، 80 ہزار روپے سبسڈی کی تجویز
    • لاڑکانہ:مہنگائی کے ہاتھوں تنگ مسافر خطرناک طریقے سے گاڑیوں کی چھت پر سوار ہیں۔
    • مذاکرات کامیاب رہے’گیس سستی فروخت نہیں کرسکتے:ایسوسی ایشن
    • سیکرٹری داخلہ ،جیل سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت کی آج ذاتی حیثیت میں ہائیکورٹ طلبی
    • سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے  صدارتی امیدوار سردار امان اللہ خان  کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد
    • نیا سمارٹ فون متعارف، فزیکل سوئچ سے کیمرہ اور مائیکروفون بند کرنیکی سہولت
    • پاکستانی سفارتخانے کی باکو انٹرنیشنل بک فیئر میں شرکت، ادبی ورثے کی نمائش
    • سانگھڑ’ بس اور کار کا تصادم، بچے اور 2 خواتین سمیت 5 افراد جاں بحق، 3 زخمی
    • صادق آباد پولیس کی کارروائی، 15 سالہ لڑکے سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار
    • جرمنی میں پہاڑی پر واقع ہٹلر کے زیر استعمال تاریخی خفیہ عمارت عقاب کا گھونسلا نذر آتش
    • ایل پی جی گیس کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف لاہور عوامی رکشہ یونین کے رکشہ ڈرائیورز ٹھوکر مین روڈ پر احتجاج کررہے ہیں ۔
    • ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستانی ڈیری سیکٹر میں اہم پیشرفت
    • راولپنڈی :ڈھوک رتہ میں نئی گیس پائپ لائن کی تنصیب کے بعد لائنوں سے گیس کی بجائے پانی نکل رہا ہے ۔
    • پنجاب میں پانی، صفائی ‘حفظان صحت سے متعلق بڑی آگاہی مہم شروع کرنیکا فیصلہ
    • تھانہ مورگاہ پولیس کی کارروائی، مورگاہ کے علاقہ میں کمسن بچی کے علاج معالجہ کے دوران وفات کا معاملہ
    • ڈکیتی کی واردات کا ڈراپ سین،پمپ منیجر،ملازم اور ساتھی ملوث نکلے، تینوں ملزمان گرفتار،نقدی 18 لاکھ روپے برآمد
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    کیاہمارا جوش میں آنا بنتا ہے؟

    By Daily Khabrainنومبر 3, 2021
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    ندیم اُپل
    برسوں پہلے جب ایوب خان کے آخری دور میں بھٹو صاحب نے مہنگائی کو جواز بنا کر ایوب حکومت کے خلاف تحریک چلائی جس نے بالآخر ایوب خان کے دس سالہ سنہری دور کا خاتمہ کر دیا تھا اس تحریک کے دوران جب لاہور میں اے جی آفس کے قریب دو طالب علم شہید ہو گئے تھے تب ایوب خان نے ایک فوجی آمر ہونے کے باوجود اسی وقت اقتدار چھوڑنے کا اصولی فیصلہ کر لیا تھا انہوں نے اپنی کتاب،”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ میں بھی تحریر کیا ہے کہ جب ان کی حکومت کے خلاف ہنگاموں میں پولیس کی گولی سے دو طالب علم شہید ہوئے تھے تو انہوں نے اپنی بیگم سے کہا تھا کہ دیکھو میری قوم کے دو طالب علم شہید ہو گئے ہیں کیا میں اب بھی حکومت کرنے کے لائق ہوں؟اور پھر جب حالات واقعی بے قابو ہوگئے توانہوں نے مستعفی ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔قوم سے اپنے آخری خطاب میں انہوں نے کہا،ہم نے سوچا تھا کہ حالات معمول پر آجائیں گے اور ہم خود کو دوبارہ قوم کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گے مگر بدقسمتی سے حالات بدتر سے بدتر ہوتے چلے گئے۔میں نے ایک بار آپ سے یہ بھی عرض کیا تھا کہ قوم مسائل جوش کے بجائے ہوش سے حل کیے جانے چاہئیں مگر آپ نے دیکھ لیا کہ جوش کی آگ جو ایک مرتبہ بھڑک اٹھی ہے اس کے سامنے ہر شخص بے بس ہو کر رہ گیا ہے۔قومی مسائل کا فیصلہ گلیوں اور چوراہوں میں ہونے لگا ہے۔ہجوم کا شیوہ ہے کہ جہاں چاہا گھیرا ڈال لیا اور جو چاہا منوا لیا لہٰذا میں اپنے ملک کی بربادی کی صدارت نہیں کر سکتا اور مسلح افواج کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ملک کا نظم و نسق سنبھال لیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اقتدار جنرل یحییٰ خان کو سونپ کر بہت بڑی غلطی کی تھی جن کی قیادت میں ملک دو لخت ہو گیا مگر اس وقت ہمارا موضوع سقوط ڈھاکہ نہیں بلکہ ایوب خان کا ایک سربراہ مملکت کے طور پر ان کا کردار ہے کہ جب ان کی حکومت میں پولیس فائرنگ سے دو طالب علم شہید ہوئے تو انہوں نے اقتدار سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ایک بھی انسانی جان کی کتنی قیمت ہوتی ہے ایوب خان سے زیادہ آج تک آنیوالے کسی بھی حکمران کو ایسا احساس نہیں ہواکہاں اب دو تو کیا دوسو افراد کی جان بھی چلی جائے تو ذمہ داران کی مذمت اور مظلوم سے تعزیت اور معذرت سے آگے بات نہیں جاتی۔آخر صرف افسوس معذرت اور مذمت کے کلچر کے سہارے ہم کب تک چلیں گے کیونکہ ظالم کی مذمت کرنے سے اسے کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ مظلوم سے خالی ہمدردی کرنے سے اس کی اشک شوئی ہوتی ہے۔بات تو تب ہے کہ جب انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
    قارئین! ہمارا موضوع کچھ اور تھا بات ایوب خان کی آخری تقریر پر چلی گئی۔انہوں نے اپنی تقریر میں ایک ہی اہم اور فکر انگیز بات کی تھی کہ قومی مسائل جوش کے بجائے ہوش سے طے کیے جانے چاہئیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ حال ہی میں جو مسئلہ اٹھ کھڑا ہو اہے جس نے پوری قوم کو مسلسل دس بارہ روز تک ذہنی اذیت میں مبتلا کیے رکھا اور ایسے نازک وقت میں جب بعض عناصر جوش دلانے کی کوشش کر رہے تھے۔وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے جوش کے بجائے ہوش سے کام لے کر انتہائی دانشمندی کا ثبوت دیا اور بات بگڑتے بگڑتے بن گئی جس کا کریڈٹ بلاشبہ ملک کی سول اور عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ ہمارے جیّد علمائے کرام کو بھی جاتا ہے جنہوں نے آگے بڑھ کر حکومت کی مدد کی اور ملک میں امن و سکون ہوگیا مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے موجودہ حالات میں جب ہم آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں کیا ہمارا جوش میں آنا بنتا ہے۔سیانے کہتے ہیں کہ جس کام کے کرنے کا فائدہ نہ ہو مگر نقصان کا سو فیصد اندیشہ ہو وہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ایوب خان نے اپنی طاقت کا زور نہیں دکھایا تھا ہوش کے ناخن لیے تھے اور ہمیں قائد اعظم کا سالم پاکستان دے کر اقتدار سے الگ ہوئے تھے مگر بعد میں جنہوں نے جوش دکھایا اپنے گرد ہوس اقتدار اور انا کی بلند و بالا دیواریں کھڑی کیں انہوں نے بابائے قوم کا آدھا پاکستان گنوا دیا مگر اس کے باوجود جوش آج بھی ان کا کم نہیں ہواجبکہ اس وقت ہوش کی تدبر اور فراست کی ضرورت ہے جس کا کریڈٹ بلا شبہ وزیراعظم عمران خان کو دینا پڑے گا۔تاہم اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سچائی کو لے کر آگے بڑھا جائے جو بات ہوئی جو معاہدہ ہوا فریقین کی طر ف سے اس کی پاسداری کی جائے اور اس بات پر نظررکھی جائے کہ کسی بھی طرف سے کوئی خرابی پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے کیونکہ جس ناز ک دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں ذراسی بھی غلطی، کوتاہی یا بھول چوک ہمیں مشکلات کے ایک نئے گرداب میں پھنساسکتی ہے۔
    (کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.