Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • نمرہ خان اور زین حامد میں 17 جولائی کو طلاق ہوچکی تھی، سابق شوہر نے تصدیق کردی
    • غزہ میں آکسیجن اسٹیشنز کی مکمل بندش کا خدشہ: وزارتِ صحت
    • ترکیہ غزہ کو تنہا نہیں چھوڑے گا: طیب اردوان
    • پنجاب کا 2029 تک اے آئی سے فعال صوبہ بننے کا منصوبہ
    • اعصام الحق نے آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ چیمپئن شپ کا مکسڈ ڈبلز ٹائٹل جیت لیا
    • پی ایس جی نے ورلڈ کپ ہیرو فیران ٹوریس کو بارسلونا سے سائن کرلیا
    • پاکستان نے ایشین نیٹ بال چیمپئن شپ کا پلیٹ ڈویژن ٹائٹل جیت لیا، فائنل میں تھائی لینڈ کو 55-50 سے شکست
    • لاہور میں خوفناک حادثہ، تیز رفتار گاڑی درخت سے جا ٹکرائی، 5 افراد جاں بحق
    • ربیع الاول کی آمد پر روضہ امام حسینؓ سبز روشنیوں سے جگمگا اٹھا
    • ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا شیخ زاید ہسپتال کا دورہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے شیخ زاید ہسپتال کا دورہ کر کےانتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج اپنے غازیوں کی عیادت کی
    • جنوبی کوریا کا انچیون ایئرپورٹ دنیا کا مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈہ قرار
    • ربیع الاول کا آغاز، عید میلاد النبی ﷺ 26 اگست کو منائی جائے گی
    • ایرانی وزیر خارجہ: امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا
    • لبنانی وزیراعظم کا اسرائیلی انخلا کے لیے ٹائم فریم مقرر کرنے پر زور، حزب اللہ نے معاہدہ مسترد کردیا
    • ٹرمپ : آبنائے ہرمز کو جلد امریکی علاقہ قرار دیں گے
    • مشرقی انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ
    • سویڈن کی سفیر نے پاکستان کا 79واں یومِ آزادی منایا
    • جاپان میں ریکارڈ بارشوں سے ہزاروں مسافر ناریٹا ایئرپورٹ پر پھنس گئے، 8 افراد ہلاک
    • پاکستان ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے اہم بحری تجارتی راستوں کے تحفظ کی کوششوں میں شامل
    • کورین طلبہ نے پاکستان کے یومِ آزادی کی خوشی میں ’دل دل پاکستان‘ گا کر جشن منایا۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    صرف ایک فون کال

    By Daily Khabrainنومبر 20, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    سید سجاد حسین بخاری
    گزشتہ چند دنوں میں ملک بھر میں سیاسی بھونچال آیا ہوا تھا۔ اپوزیشن متحد ہوگئی تھی۔ دوسری طرف حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس معطل کرنے کے بعد یہ تاثر قائم کیا گیا کہ حکومتی اتحادیوں نے عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ اس بابت (ق) لیگ کے سربراہ پرویزالٰہی نے کہا کہ ساڑھے تین سال سے ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں مگر حکومت ہمارا ساتھ نہیں دے رہی۔ ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی عمران خان کو حمایت سے انکار کردیا تھا۔ پی ڈی ایم اے نے عوام میں یہ تاثر دینا شروع کردیا کہ حکومت کے خاتمے کے دن قریب آگئے ہیں۔ اپوزیشن کی دھڑا دھڑ میٹنگز ہوتی رہیں حتیٰ کہ مرکز اور پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے نام بھی گردش کرنے لگے۔ پنجاب میں چودھری پرویزالٰہی، حمزہ شہباز جبکہ وزیراعظم کیلئے خورشید شاہ، شہبازشریف اور پرویز خٹک کے نام آنے لگے۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ گلگت بلتستان کے ریٹائرڈ چیف جسٹس رانا شمیم کا حلفیہ بیان سامنے آگیا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے انہیں نوازشریف اور مریم نواز کو سزا کی بابت کہا تھا۔ اس بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
    میڈیا پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اقتدار کی جنگ رانا شمیم سکینڈل میں دب گئی۔ دو دن تک خوب لے دے ہوئی مگر عدالتی سکینڈل میں مسلم لیگ (ن) کو فائدے کے بجائے نقصان اُٹھانا پڑا کیونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس لیکر تمام فریقین کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیئے۔ 17نومبر کو مریم نوازنے عدالت میں حاضری کے موقع پر وہی پرانی گفتگو دُہراتی کہ میاں نوازشریف اور مجھے ناحق سزا دی گئی ہے جسے ختم کیا جائے۔ اس مقدمے کی بابت لوگوں کو یاد ہے کہ گزشتہ ماہ مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا تھا کہ وہ عنقریب بہت کچھ سامنے لانی والی ہیں جس سے بھونچال آجائے گا اور عوام دیکھیں گے کہ 22کروڑ کے منتخب وزیراعظم میاں نوازشریف کو کس طرح نکالا گیا تھا اور پھر 15نومبر کو رانا شمیم سکینڈل سامنے آگیا۔ میری نظر میں اس بیانِ حلفی کی حیثیت بھی سابق جج ملک ارشد کے ویڈیو سکینڈل سے زیادہ نہیں کیونکہ رانا شمیم کے بیٹے جوکہ اپنے والد کے وکیل بھی ہیں، نے بتایا کہ میرے والد کا تعلق (ن) لیگ سے تھا اور (ن) لیگ کے عہدیدار بھی رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ خبر بھی آئی ہے کہ انہیں سندھ ہائیکورٹ سے نکالا گیا تھا اور پھر نوازشریف جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے رانا شمیم کو براہِ راست گلگت بلتستان میں چیف جسٹس لگادیا۔ اب یہ ساری باتیں ظاہر کررہی ہیں کہ پرانے تعلق، دوستی اور لالچ کی بنیاد پر حلفیہ بیان دیا گیا ہے اور کچھ ذرائع نے تو اس بیان کو باقاعدہ ڈیل قرار دیا ہے جو نوازشریف اور رانا شمیم کے درمیان لندن میں ہوئی ہے کہ (ن) لیگ جب برسراقتدار آئے گی تو رفیق تارڑ کی طرح رانا شمیم کو بھی صدر مملکت بنایا جائے گا۔
    اب سب کی نظریں اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف لگی ہوئی ہیں مگر (ن) لیگ کا یہ اقدام بھی ان کے اپنے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں عمران خان چند دن قبل شدید پریشان تھے اور اتحادی ان سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں تھے بلکہ اپوزیشن نے نہ چاہتے ہوئے بھی حکومتی اتحادیوں سے فون کالز اور ملاقاتیں بھی کیں اور یوں لگتا تھا کہ بس عمران خان گیا۔ 14 سے 16نومبر کی صبح تک ہر حکومتی ذمہ دار پریشان تھا اور اپنی حکومت کے خاتمے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا بلکہ یہ بھی سچ ہے کہ حکومت کے 20سے 25ممبران قومی اسمبلی اپنی ذاتی ناراضگی کی وجہ سے اپوزیشن سے رابطے میں تھے مگر بالآخر یاروں نے یاری نبھائی۔ بس ایک فون کال کرکے سب کوڈھیر کردیا۔ اور تمام اتحادیوں نے خود چل کر وزیراعظم سے ملاقاتیں کرکے انہیں اپنے تعاون کی گارنٹی دے دی اور پھر میڈیا پر بھی یہ تمام ناراضگیاں ختم کرنے کا اعلان ہوا۔جونہی اتحادیوں نے وزیراعظم کو اپنی حمایت کا یقین دلایا تو ماسٹر پلان کے مطابق اسی شام صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا نوٹس جاری کردیا اور اگلے روز (17نومبر) کو صبح 12بجے اجلاس شروع ہوگیا اور اس اجلاس میں قوم کے نمائندوں نے جس تہذیب اور شائستگی کا مظاہرہ کیااس پردنیا بھرمیں ہماری جگ ہنسائی ہوئی۔ بہرحال پاکستانی قوم نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو خوب انجوائے کیا۔ جونہی حکومت نے اجلاس کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا تو میڈیا پر بڑے بڑے دانشوروں نے بھونڈے اور عجیب قسم کے تبصرے شروع کردیئے کہ کل ہونے والے اجلاس میں حکومت کو بڑا خطرہ ہے، کچھ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اپوزیشن متحد ہوگئی ہے۔
    حکومتی اتحادی کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ نے بھی عمران خان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے حتیٰ کہ ادھر پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہوچکا تھا اور اپوزیشن کے 203اراکین ایک طرف اور حکومتی 221 اراکین دوسری طرف بیٹھ چکے تھے، پھر بھی میڈیا پر حکومت کے خاتمہ اور مشکلات کی باتیں ہورہی تھیں ان دانشوروں کی جگہ کسی اندھے سے پوچھا جاتا کہ ایک طرف 203 اور دوسری طرف 221 اراکین اسمبلی وسینٹ موجود ہیں تو کس کا پلڑا بھاری ہے؟ اپوزیشن یا عمران خان کی حکومت کا تو اندھا بڑا خوبصورت جواب دیتا کہ میں آنکھوں کا اندھا ہوں، عقل کا اندھا نہیں جس طرف 221 اراکین بیٹھے ہیں وہی کامیاب ہے مگر یہ بات چینلز پر موجود لاکھوں روپے ماہوار لینے عقل کے اندھے دانشوروں کی سمجھ میں نہ آئی۔
    (کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.