تازہ تر ین

فیض احمد فیض کی یاد میں

شاہدبخاری
20نومبر 1984ء کو فیض صاحب اس جہانِ فانی سے انتقال کرگئے۔ سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی کے علاوہ نقش فریادی دست ِصباء، زنداں نامہ، دست تہہ ِسنگ سر وادی سینا، شام شہریاراں، میرے دل میرے مسافر، میزان (تنقیدی مضامین) صلیبیں میرے دریچے میں (خطوط) متاعِ لوح وقلم ہمارے قومی ثقافت، مہ وسال آشنائی، سفرنامہ کیوبا اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔
”نقش فریادی“ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی شاعری کا آغاز بھی عام شعراء کی طرح خالص رومانی وعشقیہ شاعری سے ہوا۔ اس کی نظم وغزل دونوں میں صرف شخصی محبت کی کسک اور چوٹ ملتی ہے:
راتوں کی خموشی میں چھپ کر کبھی رو لینا
محبوب جوانی کے ملبوس کو دھو لینا
”دست ِصبا“ میں فیض کا لب ولہجہ زیادہ سیک رفتار ہوگیا ہے۔ وہ اپنوں اور غیروں کی دُشمنی میں امتیاز کرنے لگے ہیں۔ ان کی شاعری کا کمال دراصل ان کے اس انفرادی اسلوب اور فنی تعرف میں ہے جس کے ذریعے وہ اپنے پیغام کو ہم تک پہنچاتے ہیں:
ہم پرورش لوح وقلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
منظور یہ تلخی، یہ ستم ہم کو گوارا
دم ہے تو مداوائے الم کرتے رہیں گے
اک طرزِتغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے، سو ہم کرتے رہیں گے
”زنداں نامہ“ میں قید وبند کا تجربہ فیض صاحب کی زندگی اور انقلابی شاعری کیلئے انقلابی حیات کا حامل بن گیا ہے:
قصہئ سازشِ اغیار کیوں کہوں یا نہ کہوں
شکوہئ یارِ طرح دار کروں یا نہ کروں
بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی نادکِ دشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت
اس عشق نہ اس عشق پر نادم ہے مگر دل
ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغ ندامت
فیض تھا شمع سخن کے ایک پروانے کا نام
ہوش مندوں کے جہاں میں ایک دیوانے کا نام
وہ گیا تو لٹ گئی حسن نخیل کی بساط
کون دے گا شام کو اب زلف بکھرانے کا نام
ایک جگہ کہتے ہیں کہ ”ملک میں ایوب خان نے دو بار مارشل لاء نافذ کیا جبکہ ہمارے پروگرام میں عام شہری قوانین میں مداخلت کا دور دور تک کوئی ارادہ نہ تھا۔ انہوں نے دربار آمریت مسلط کی جبکہ ہمارا ارادہ تھا کہ جو بات آمریت کا خطرہ بن سکتی ہے، اس کا قلع قمع کردیا جائے۔ 23فروری کو ہم نے سارا پلان منسوخ کردیا، اسی لئے گرفتاری کی رات میں اطمینان سے گہری نیند سویا رہا“۔
ایک صحافی کا سوال ملزم میجر اسحاق سے یہ تھا کہ آپ فوجی انقلاب کے حق میں نہیں تھے اور نہ ہی کسی خفیہ اجلاس میں شریک ہوئے تو پھر اس کیس میں ملوث کیوں کرلئے گئے۔ اس کے جواب میں میجر اسحاق نے کہا کہ پنڈی سازش، کوئی سازش تھی ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں پاکستان کی حکومت امریکی فوجی معاہدے کیلئے رضامند ہوگئی تھی لیکن اسے فوج میں محب وطن افسران کی طرف سے خطرہ تھا کہ وہ ملک کو امریکی غلامی میں جانے نہیں دیں گے (جس کا نتیجہ اب آپ سب کے سامنے ہے کہ ہم قرضوں میں جکڑے جاچکے ہیں، بہت نقصان اُٹھانے کے باوجود امریکہ خوش بھارت سے ہے)۔ دوسرے کشمیر میں یکم جنوری 1949ء کو جو جنگ بندی کی گئی وہ بھی حکمرانوں اور انگریزوں کے درمیان سازش کا نتیجہ تھی، اس کے خلاف فوج میں شدید ردِعمل ہوا جیسے 1965ء میں معاہدہ تاشقند کے بعد عوام میں ردِعمل ہوا۔ مجھے ملوث اس لئے بھی کیا گیا کہ میرے پاس صفائی کی طرف سے بہت اچھا کیس تھا۔ پولیس نے ڈیفنس کی کارروائی کو ناکارہ بنانے کیلئے مجھے ملزمان کے کٹہرے میں کھڑا کردیا۔
منشا نہ تھا غلط، میرا مقصد نہ تھا غلط
سوچا گیا غلط، مجھے سمجھا گیا غلط
فیض صاحب کی وفات سے چند ماہ قبل کسی نے جب پنڈی سازش کیس کی بابت پوچھا تو آپ نے کہا کہ:
آج تک جس پہ وہ شرماتے ہیں
بات وہ کب کی بھلادی ہم نے
ان کی قید کے تجربات وواقعات سے اُردو ادب کا دامن وسیع ہوا۔ سازش انصاف، دانہ ودام، قفس، صیاد پہلے بھی اُردو شاعری میں مستعمل رہے لیکن جس سلیقے اور طریقے سے انہیں فیض نے برتا، وہ لاجواب ہے:
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دُکھ تھے بہت، لادوانہ تھے
قصہئ سازشِ اغیار کہوں یا نہ کہوں
شکوہئ یارِ طرحدار کروں یا نہ کروں
بنے ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کروں، کس سے منصفی چاہیں
(کالم نگارادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain