Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Trending
    • اقوام متحدہ نے غزہ میں نسل کشی کرنے پر اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا، عرب میڈیا
    • مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
    • قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
    • سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
    • مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
    • آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
    • معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
    • صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • سنڈے میگزین
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Khabrain Group Pakistan
    Home»کالم»سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات کا تدارک کیسے ممکن ہے؟
    کالم

    سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات کا تدارک کیسے ممکن ہے؟

    Daily KhabrainBy Daily Khabrainدسمبر 7, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ملک منظور احمد
    پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی مملکت بننا تھا یہ اس ملک کے قیام کا اولین مقصد تھا ایک ایسا ملک جو کہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر قائم ہو اور یہاں پر تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے مذہب اور عقائد کے مطابق عبادات کرنے کی آزادی حاصل ہو۔یہی قائد اعظم محمد علی جناح کا فرمان تھا اور اس مملکت کے لیے ان کا وژن تھا۔اور اگر دیکھا جائے تو پاکستان اپنے قیام کے بعد ابتدائی سالوں میں ایک متعدل معاشرہ تھا،رنگ و نسل اور مذہبی عقائد کی تفریق کے بغیر سب لوگ آزاد انہ طور پر عبادات کرتے تھے اور مل جل کر زندگی گزارتے تھے لیکن پھر اس ملک میں انتہا پسندی کی ایک لہر چلی اور ملک کے رہنے والے افراد خاص طور پر چند طبقات کے خیالات اور نظریات سخت گیر ہو تے چلے گئے۔اور معاشرے میں پیدا ہو نے والی اس سخت گیری کا مورد الزام سابق صدر ضیالحق کے دور کو ٹھہرایا جاتا ہے۔
    بہر حال میں اس حوالے سے زیادہ بات نہیں کروں گا لیکن یہ ضرور کہو ں گا کہ 80ء کی دہائی میں اپنائی جانی والی افغان پالیسی نے اس ملک کے معاشرے میں مذہبی مسالکی اور دیگر تفا ریق پیدا کیں اور ان تفریقوں کے اثرات سے ہم آج تک نکل نہیں پا ئیں ہیں۔بین الا ا قوامی حالات نے بھی ملک کو بہت متاثر کیا ہے اور ہمارے حکمران بد قسمتی سے ملک کو بین الا ا اقوامی حالات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کے نتیجے میں اپنے ملک کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہے۔نائن الیون کے بعد اس ملک نے جس دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا کیا اس کی شاید ہی کو ئی مثال ملتی ہو،پاکستان نے اس جنگ میں اپنے 70ہزار سے زائد شہریوں کو کھو دیا،فرقے اور مسلک کے نام پر مساجد اور امام با رگاہوں پر حملے ہو ئے۔گرجا گھروں اور خانقاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔معاشرے کا کو ئی بھی حصہ اس عفریت سے محفوظ نہیں رہا۔ریاست پاکستان اور مختلف حکومتوں نے مل کر اس عفریت کا مقابلہ کیا اور اس جنگ میں پاکستان کو خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہو ئی ہے۔جس کے نتائج ہم ملک میں بہتر امن و امان کی صورتحال کی صورت میں دیکھ رہے ہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ہم نے اس مسئلہ پر مکمل طور پر قابو پا لیا ہے تو یہ کسی صورت درست بات نہیں ہو گی۔عدم برداشت اور مذہبی انتہا پسندی اس ملک میں سرایت کر چکی ہے جس کو ختم کرنا اتنا آسان کا م نہیں ہے۔اور جب لوگوں کو محسوس ہو کہ اگر مذہب کے نام پر قتل بھی کر دیا جائے تو بچا جاسکتا ہے تو انتہا پسندی کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔انتہا پسندی تو شاید مغربی ممالک میں بھی ہے لیکن انتہا پسند نظریات کے تحت کوئی بھی فرد کوئی پرتششد رویہ اپنانے سے پہلے سو بات ضرور سوچتا ہے کیونکہ ان کو معلوم ہو تا ہے کہ اگر کوئی خلا ف قانون کام کیا تو قانون کی گرفت سے نہیں بچا جاسکتا ہے۔پاکستان میں بھی ہمیں قانون کی عمل دراری قائم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
    گزشتہ دنوں میں سیالکوٹ میں سر لنکن فیکٹری مینجر کے ساتھ پیش آئے واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔کئی لوگوں کو تو یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ ہمارے ملک کے عوام اس قدربے حس بھی ہو سکتے ہیں کہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر کسی تحقیقات کے کسی پر سنگین ترین الزام لگا کر اتنی بے دردی سے کسی کو ما ر دیا جائے۔تو ہین مذہب کا الزام لگا کر کسی غیر مسلم کو نشانہ بنانا کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔پاکستان میں خدا نخواستہ اس حوالے سے کسی پر کوئی الزام لگے تو قوانین موجود ہیں قانون کو ہاتھ میں لینا کسی صورت قابل قبول نہیں ہو نا چاہیے۔لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ آخر معاشرے میں موجود ان انتہا پسند رویوں کو کنٹرول کس طرح کیا جاسکتا ہے؟اس حوالے سے یقینا علما ئے کرام،میڈیا اور سیاسی قیادت کے علاوہ ریاست اور اس کے اداروں کا بھی کلیدی ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں کسی بھی ایسے رویے کو نہ پنپنے دیا جائے جو کہ کسی بھی صورت میں آگے چل کر ملک کے اندر تشدد اور تخریب کا ری کا باعث بن جائے۔کوئی ایسی پالیسی نہ اپنائی جائے جو کہ ملک کے اندر سخت گیر نظریات کو فروغ دینے کا باعث بنے اور ملک کے اندر تقسیم پیدا کرے جو کہ بعد میں جا کر قومی سلامتی کے لیے بھی خطر ہ ثابت ہو۔پاکستان کا دنیا بھر میں ایک متوازن اور سافٹ امیج اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔اسی سے پاکستان میں سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے اور اسی طرح پاکستان کی معیشت میں بھی استحکام لا یا جاسکتا ہے۔پاکستان کو بین الااقوامی سطح پر فیٹف اور یورپین کمیشن کی جانب سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ دشمن ملک بھی عالمی سطح پر پاکستان کو بد نام کرنے کا کو ئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور اس بات میں کو ئی شک نہیں کہ سیالکوٹ واقعے سے عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
    سیالکوٹ واقعے کے حوالے سے پولیس اور انتظامیہ کا کیا کردار تھا پولیس بروقت موقع پر کیوں نہیں پہنچی؟ سمیت کئی سوالات موجودہ ہیں جن پر ایک لمبی بحث کی جاسکتی ہے اور حکومت اور انتظامیہ پر تنقید کی جاسکتی ہے لیکن میں آج اس موضوع پر زیادہ بات کرنا نہیں چاہتا۔مسئلہ پولیس اور انتظامیہ سے کہیں بڑا ہے اور بطور ملک اور بطور قوم جب تک ہم سب مل کر ملک کو بہتر اعتدال پسند اور امن اور امان کا گہوارہ ملک نہیں بنانے کی کوشش کریں گے تب تک یہ سب کچھ اس ملک میں ہوتا رہے گا۔ہم سب کو ایک اجتماعی اپروچ کی ضرورت ہے۔ ریاست کو اس حوالے سے بہتر پالیسز اپنانے کی ضرورت ہے۔تب جاکر ہی معاشرے کی بہتر انداز میں تشکیل دی جاسکتی ہے۔ہم سب کو مل کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا پاکستان دے کر جانا ہے جو کہ حقیقی معنوں میں ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست ہو۔
    (کالم نگارسینئرصحافی اورتجزیہ کارہیں)
    ٭……٭……٭

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Daily Khabrain

    Related Posts

    میری اننگ اب اختتام کو پہنچی!

    مئی 21, 2026

    مریم نے مشکل ترین کام کر دکھایا!

    مئی 18, 2026

    مہنگا پٹرول، جنگی بحران، لاک ڈاؤن نما پابندیاں اور عوام کی خاموش چیخ

    مئی 14, 2026

    Comments are closed.




    Facebook X (Twitter) Instagram Pinterest
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 ThemeSphere. Designed by ThemeSphere.

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.