Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پنجاب کی ایک خاتون وزیر نے لاہور کے ایک ڈیزائنر کو مبینہ طور پر اسی لاکھ روپے کے دو جوڑوں کا آرڈر دیا ہے، واٹس ایپ پر وائرل آڈیو میں دعویٰ: صحافی طارق متین
    • یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد میں سٹی پریڈ کی تقریب
    • ٹرانسپورٹ ہڑتال سے پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات متاثر: اپٹما
    • پاکستان کی پیٹرولیم برآمدات ریکارڈ 939 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں
    • دنیا کے سب سے بڑے برقی طیارے نے پہلی تاریخی پرواز مکمل کرلی
    • شاہد آفریدی کا پالتو کتا گم، مداحوں سے مدد کی اپیل
    • محکمہ موسمیات کی پانچ روزہ شدید بارشوں کی پیشگوئی
    • سونے کی قیمت 4 لاکھ 60 ہزار روپے سے نیچے آگئی
    • سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ علاج کے لیے دبئی روانہ
    • سابق کرکٹر عثمان شنواری کی خوبصورت تلاوتِ قرآن کی ویڈیو وائرل
    • سابق کرکٹر عثمان شنواری کی خوبصورت تلاوتِ قرآن کی ویڈیو وائرل
    • برطانیہ کے اسٹوڈنٹ ویزوں میں تاخیر پر پاکستان کو تشویش برطانوی سفیر کی مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی
    • نصرت فتح علی خان کی 29ویں برسی، عظیم قوال کو خراجِ عقیدت
    • نمرہ خان اور زین حامد میں 17 جولائی کو طلاق ہوچکی تھی، سابق شوہر نے تصدیق کردی
    • غزہ میں آکسیجن اسٹیشنز کی مکمل بندش کا خدشہ: وزارتِ صحت
    • ترکیہ غزہ کو تنہا نہیں چھوڑے گا: طیب اردوان
    • پنجاب کا 2029 تک اے آئی سے فعال صوبہ بننے کا منصوبہ
    • اعصام الحق نے آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ چیمپئن شپ کا مکسڈ ڈبلز ٹائٹل جیت لیا
    • پی ایس جی نے ورلڈ کپ ہیرو فیران ٹوریس کو بارسلونا سے سائن کرلیا
    • پاکستان نے ایشین نیٹ بال چیمپئن شپ کا پلیٹ ڈویژن ٹائٹل جیت لیا، فائنل میں تھائی لینڈ کو 55-50 سے شکست
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    افغانستان کی پکار

    By Daily Khabrainدسمبر 7, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    محمد صغیر قمر
    امریکی اور نیٹو کی افواج ا افغانیوں کی دھرتی پرناک رگڑ کر رخصت ہوئیں۔ خس کم جہاں پاک!! میں کم ازکم اٹھارہ برس بعد ایک بار پھر کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا۔ میں نے دیکھا دنیا کے چودہ ممالک کے فوجی جو جدید ترین اسلحہ لے کر آئے تھے،افغانیوں کے قدموں میں پڑا ہے۔بیس برس کی جنگ سے قبل اگر چہ افغانی برسوں باہم دست وگریباں بھی رہے لیکن انہوں نے اپنی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔سوویت یونین نے جہاں اس خطے میں اپنے آپ کو خوار کیاوہاں وسط ایشیا کی ریاستیں بھی برس ہا برس تک نام نہاد سوشل ازم میں پسنے کے بعد اس چنگل سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہوئیں۔ گزشتہ چار دہائیوں میں افغانیوں نے دو سُپر طاقتوں اور نیٹو کے لشکریوں کو شکست دی۔ گھر بیٹھ کر تجزیے، تبصرے ہوتے رہیں گے۔ اس سب کچھ کے باوجود حقائق اس وقت وہی ہیں جو اپنی آنکھوں سے جا کر دیکھے جاسکتے ہیں۔من گھڑت کہانیاں اور تجزیے وہ حیثیت نہیں رکھتے جو بر سر زمین اپنی آنکھوں سے دیکھے جاتے ہیں۔کابل کی سر زمین پر اترنے سے قبل ہم بھی بین الاقوامی متعصب میڈیا کے زیر اثر تھے۔خیال یہی تھا کہ یہاں امن وامان نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی لیکن ہمارے میزبانوں نے جس طرح اپنے پلکیں بچھا کر استقبال کیا وہ ہمیں اپنی حیثیت اور سوچ سے بہت زیادہ لگا۔ ہم نے اپنی رہائش پر سامان رکھا اور تازہ دم ہو کر پیدل بازاروں میں نکل پڑے۔ سوچا تھا کہ یہاں ہر طرف حفاظتی چوکیاں ہوں گی لیکن موجودہ حکمرانوں کے حوالے سے ”انتہا پسند اور دہشت گرد“ جیسے الفاظ استعمال کرنے والوں کی عقل پر ماتم کرنے کو جی کیا۔ ہم کابل کی گلیوں کوچوں میں پیدل گھومے، ہمیں کسی نے روکا نہ کوئی مورچہ نظر آیا، سوائے اس کے کہ سرکاری اداروں اور سفارت خانوں کی حفاظت کے لیے ہمیں موجودہ حکومت کے نوجوان نہ صرف چاق وچوبند نظر آئے بلکہ مجھے اخلاق اور برتاؤ میں ہر ترقی یافتہ ملک سے بہتر نظر آئے۔اس دوران ہمیں حکومتی اہلکاروں سے ملنے کا بھی موقع ملا، ماضی کے بالکل برخلاف واضح تبدیلی نظر آئی۔ان کی عاجزی اور انکساری کے ساتھ رواداری بھی نظر آتی ہے۔ماضی میں ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہوں نے خواتین کے حقوق پامال کیے،انہیں تعلیم سے محروم کیا،ترقی نہیں ہونے دی،دہشت گردی کو پروان چڑھایا۔ کابل سمیت ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں تعلیم کا سلسلہ گزشتہ تین ماہ سے بند ہے۔کابل یونیورسٹی کے ایک اہل کار نے بتایا کہ ہمیں کسی بھی دور میں خواتین یا بچیوں کی تعلیم میں رکاوٹ نہیں رہی۔اس وقت بھی کابل یونیورسٹی میں خواتین کا تناسب ساٹھ فی صد ہے۔
    اسی طرح ننگرہار یونیورسٹی جلال آباد میں بچیوں کا تناسب کابل سے بھی زیادہ ہے۔ننگر ہار یونیورسٹی کے ایک ڈین سے جب ہم نے سابق اور موجودہ دور کے حالات کا ذکر کیا تو ان کاکہنا تھا”موجودہ طالبان حکومت پچھلے دور سے بالکل مختلف ہے ان کے آنے سے امن سو فیصد بحال ہے۔ ہمیں ان کے پچھلے دور میں بھی خواتین کی تعلیم سے نہیں روکا گیانہ اس دور میں پابندی ہے۔ کابل کی فوڈ سٹریٹ میں آپ ایک لمبی قطار میں چادریں اوڑھے افراد کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ یہاں نوجوان سر عام چرس اور ہیروئین میں دھت نظر آتے ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں رات کے پچھلے پہر تک، ہم نے دیکھا کہ بھیک مانگ رہے ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر پاؤں سے بھی ننگے نظرآتے ہیں۔یہ سمجھنا بالکل مشکل نہیں کہ امریکی اپنی تہذیب کا سارا گند یہاں چھوڑکر گئے ہیں۔بچیاں تو کیا یہاں بچوں کو بھیک اور چرس پر لگا دیا گیا۔یہ مناظرکابل شہر کے ہیں جہاں بیس برس میں نسلیں بدل جاتی ہیں انقلاب آجاتے ہیں،لیکن یہاں ہم نے کابل سے باہر وردگ صوبے،قندھار روڈ،تے تیمور کے دیہاتوں کے علاوہ سروبی،لغمان،جلال آباد شہر اور گرد ونواح کے دیہات بھی دیکھے۔ہمیں نہ تہذیب بدلی نظر آئی،نہ تعلیم،نہ خوشحالی نہ روز گار۔ستر فی صد دیہات آج بھی کچی آبادیوں پر مشتمل ہیں،جہاں تک جانے والے کچے راستوں پر چلتے ہوئے کہیں کہیں آثار بتاتے ہیں کہ یہاں کبھی سڑک ہوئی ہو گی۔اس سفر میں ہمیں امریکیوں کا ایک”سچ“ واضح نظر آیا وہ یہ کہ انہوں نے افغانیوں کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دیا۔اس کے برعکس موجودہ حکومت میں شامل اہلکار نہ صرف اس عرصے میں اعلیٰ تعلیم سے بہرہ مند ہوئے بلکہ ان بیس برسوں میں انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے نہ صرف سبق سیکھا بلکہ جدیددورکے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ہم آہنگ بھی کیا۔شدت پسندی میں واضح کمی آئی ہے۔
    ستم یہ ہے کہ اس وقت افغان حکومت کے اکاؤنٹ سیز ہیں اور بیرونی دنیا یہ تماشہ دیکھ رہی ہے کہ امریکی اپنے حواریوں کو کب اشارہ کریں گے۔اگرچہ ایک باقاعدہ معاہدے کے تحت اس کی ”رخصتی“ عمل میں آئی ہے اور افغان حکومت اس کی پاسداری کے لیے دن رات مصروف ہے جب کہ دوسری طرف سے ابھی ”دیکھو اور انتظار کرو“کی پالیسی ہے۔یہاں مسئلہ انسانیت کا ہے اور انسانیت چیخ چیخ کر بتارہی ہے کہ ان شدید ترین سردیوں میں وہ لوگ جو جنگ کی تباہ کاریوں کے باوجود زندہ ہیں وہ اس دور میں بھوک اور بیماری کے ہاتھوں موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
    (متعدد کتابوں کے مصنف‘شعبہ تعلیم
    سے وابستہ اورسماجی کارکن ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.