تازہ تر ین

مری کا رُومان اور انتظامی نااہلی

مریم ارشد
کوئی بھی موسم ہو مری کا رومان اور جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔موسمِ گرما میں فضا میں رچی چناروں اور چیڑ کی خوشبو دل موہ لیا کرتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں مری کے آسمان کے رنگوں کی چھب ہی نرالی ہوتی ہے۔ یکا یک بادلوں کے چھا جانے سے آسمانی رنگ لاجوردی اور گلابی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مری کا آسمان گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ مری پنجاب کا وہ سیاحتی پُرفضا پہاڑی مقام ہے جو ہر خاص و عام کی پہنچ میں ہے۔ کوئی بھی اپنے بجٹ کی منصوبہ بندی کر کے یہاں کی سیر سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اسے ملکہ کوہسار کہا جاتا ہے۔ لیکن مری کے مقامی ہوٹلوں والے ہمیشہ سیاحوں کی کھال اتارنے کو تیار ہی رہتے ہیں۔ چند دن پہلے بھی ویک اینڈ پہ لوگ پروانوں کی طرح مری کی برف باری دیکھنے کے عشق میں گھروں سے نکلے۔ انہیں کیا پتا تھا کہ وہ انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے ٹھنڈی سفید برف میں ٹھٹھرتے ہوئے میٹھی موت مر جائیں گے۔
یوں تو وطنِ عزیز میں بہت سے سیاحتی مقام ہیں جیسے ناران، کاغان، سوات، کالام، ہنزہ وغیرہ جانے کے لیے جیب میں کافی روپے ہونے چاہئیں۔ لہذا زیادہ تر لوگ مری کا رُخ کرتے ہیں۔ اس دفعہ بھی برف باری کے شوقین لوگوں نے مری کا رُخ کیا۔ جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق 3جنوری سے 8جنوری تک برفانی طوفان آنے کے پیشین گوئی کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں تمام اداروں کو ریڈ الرٹ کر دیا گیا تھا۔ بلا شبہ مری ایک چھوٹا سا ہِل سٹیشن ہے جہاں اس کے قدیمی حسن کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اُلٹا اس پر بہت سی تعمیرات بنائی گئی ہیں۔ مری میں زیادہ سے زیادہ35سو گاڑیاں داخل ہو سکتی ہیں لیکن اس روز مری میں تقریباً ایک لاکھ گاڑیاں داخل ہو گئیں۔ مری میں دو بڑے چوک ہیں جہاں ٹریفک بلاک ہو جانے کی وجہ سے نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ ایک جھیکا گلی اور دوسرا سنی بینک سے کلڈنہ۔ اس روز ان دونوں رستوں کو صاف کروانے کی کوئی تیاری ہی نہیں کی گئی تھی۔ فواد چوہدری صاحب کی ٹویٹ تھی: ”اتنی بڑی تعداد میں کسی سیاحتی مقام پہ گاڑیوں کے داخلے کا مطلب ہے کہ پاکستان میں لوگ خوشحال اور معیشت مظبوط ہے۔“
کوئی ان حکمرانوں سے پوچھے کہ کیا مری جیسے چھوٹے سیاحتی مقام پر اس کی قوتِ اختیار سے زیادہ گاڑیوں کا اندھا دھند داخل ہونا اور مری انتظامیہ کا غائب رہنا حکومت کی نا اہلی ہے یا معیشت کی مضبوطی۔ ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اس کے عوام کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کرنے سے۔ عوام کے لیے تعلیم و صحت کے شعبے میں ترقی دینے سے۔ عوام کے لیے بروقت سہولتیں بہم پہنچانے سے۔ اب مری کو ہی دیکھ لیجیے جب لوگ وہاں پھنسے مدد کے لیے آہ و فضاں کر رہے تھے۔ ماں اور باپ کے سامنے ان کے پھول سے بچے موت کی آغوش میں سرک رہ تھے۔ تب کوئی ان کا پُرسانِ حال نہ تھا۔ مری کی انتظامیہ شاید بھنگ پی کر سو رہی تھی۔ جب 23قیمتی جانیں میٹھی موت کے گھاٹ اتر گئیں تب کہیں جا کر اگلے روز برف صاف کرنے کی گاڑیاں پہنچیں۔ کیا یہ گاڑیاں وہاں پہلے سے موجود نہیں ہونی چاہیے تھیں۔
وزیر داخلہ شیخ رشید صاحب نے خود کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ نتھیا گلی کی طرف سے کے پی سے آنیوالی گاڑیوں کا داخلہ بروقت بند کیا جا سکتا تھا۔ اگر مری کی انتظامیہ غفلت نہ برتتی اور بروقت مدد کی جاتی تو وہ قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں۔ اب بات کرتے ہیں اس ظلم کی جو مقامی ہوٹلوں والوں نے غریب سیاحوں پر ڈھا یا۔ ایک اُبلا انڈہ تین سو تک کا بیچا۔ منرل واٹر کی بوتل جو 60روپے میں بکتی تھی وہ پانچ سو تک کی بیچی گئی۔
گاڑیوں میں چینز لگانے والوں نے بھی منہ کھول کر پانچ ہزار روپے تک مانگے۔ لوگوں کو ناشتے دو دو ہزار روپے میں بیچے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں بچ جانیوالی ایک فیملی اپنے تاثرات بیان کرتی ہے کہ وہ پہلے سے 10ہزار روپے پر تین دن کے لیے کمرہ بُک کروا کر گئے۔ ایک رات گزارنے کے بعد ہوٹل والوں نے کمرہ خالی کرنے کو کہا۔ جب اس شخص نے بتایا کہ میری تو پہلے سے تین دن کی بکنگ ہے تو کہا کہ پھر آج آپ 40ہزار کرایہ ادا کریں گے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ میں ٹوٹل 60ہزار کا بجٹ لے کر گیا تھا۔ لہذا ہم واپس آ گئے اور یوں زندہ بچ گئے۔ مری والوں نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ایسی اہندو ناک صورتِ حال میں بغیر منافع کے اپنے دلوں کے دروازے کھول دینے چاہیئے تھے۔
اگر ایسے میں مری والے اپنے ہم وطنوں کو سہولتیں دیتے تو ان کے لیے آنیوالے دنوں میں کاروبار دُگنا ہی ہونا تھا۔ ایک سوال پرائم منسٹر عمران خان سے بھی ہے کہ آپ تو زمانے کے سیاح ہیں۔ اپنی عید کی چھٹیاں گزارنے بھی نتھیا گلی جاتے ہیں۔ کیا آپ کو اپنے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کو نہیں بتانا چاہیے تھا کہ اتنی گاڑیاں آ رہی ہیں تو اس رش کو کنٹرول کرنے کے انتظامات کر رکھے ہیں یا نہیں۔ بعد میں عثمان بزدار کا ہیلی کاپٹر میں چڑھ کر ہوائی جائزہ لینے کا مقصد کیا تھا؟ کیا وہ معصوم لوگ جو گھروں سے سیر کرنے کو نکلے اور ملکی معیشت میں حصہ ڈلا وہ یوں اپنے بچوں سمیت مرنے کو گئے تھے؟ کیا مری کے اسسٹنٹ اور ڈپٹی کمشنر کو معلوم نہیں تھا کہ اتنی گاڑیاں آ رہی ہیں تو راستے صاف کروانے ہیں۔
حکومتِ پاکستان سے گزارش کے کہ راولپنڈی سے مری تک ٹرین ٹریک بنایا جائے اور مری کے اندر چھوٹی بس شروع کی جائے تاکہ ضرورت سے زائد گاڑیوں کے داخلے کو ممنوع قرارد دیا جائے۔ مری کی انتظامیہ کو ہر صورت محفوظ سیاحت کا بندوبست کرنا ہوگا۔ اس وقت عوام اتنی دلبرداشتہ ہے کہ وہ مری کا مکمل بائیکاٹ کر چکے ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ منافع خوروں کو اور اس اہندوناک واقعہ کے ذمہ داران کو فی الفور کڑی سے کڑی سزا دے۔ مری والوں نے جان بوجھ کر سڑکیں بلاک کیں۔ کمروں کے کرایے چار گُنا بڑھا دیے۔ ٹول پلازہ والوں نے لُوٹا۔ پوری قوم طیش میں ہے۔ مری کا سب بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ہوٹل ایسوسی ایشن والوں کو سزا دی جائے۔ آخر میں اگر کوئی پھر بھی زندگی کی رعنائیوں سے تنگ ہے اور مرنے کا ارادہ ہے تو مری چلیے۔مری کے رومان کو بالآخر مری کی انتظامیہ کی نااہلی لے ڈوبی۔
(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain