تازہ تر ین

”لاہور‘ جو میں نے دیکھا“

میم سین بٹ
لاہور کی ثقافت کے حوالے سے یونس ادیب کی ”میرا شہر لاہور“،طاہر لاہوری کی ”سوہنا شہر لاہور“ اورڈاکٹر اعجاز انور کی ”نئیں ریساں شہر لہور دیاں“ اہم کتابیں ہیں پہلے دونوں لکھاریوں نے اندرون شہر اور تیسرے لکھاری نے بیرون شہرکی ثقافت زیادہ بیان کی، اب لاہور کی ثقافت کے حوالے سے چوتھی اہم کتاب مسعود حیات کی ”لاہور جو میں نے دیکھا“ کے نام سے شائع ہوئی ہے جسے فیضان عباس نقوی المعروف لاہور کا کھوجی نے مصنف کی وفات کے بعد مسودہ ترتیب دے کر شائع کروایا ہے۔ کتاب کا انتساب ہی کسی کے نام نہیں کیا گیا، فہرست کے بعد فیضان نقوی ”یہ کتاب کیسے وجود میں آئی“ کے عنوان سے ابتدائیہ میں بتاتے ہیں کہ مسعودحیات مرحوم ان کے دوست عثمان مسعود ٹونی کے والد تھے اور وہ ان کے پاس گھنٹوں بیٹھ کر لاہورکی پرانی ثقافت کے قصے سناکرتے تھے، مسعود حیات نے لاہور شہرکے حالات پر اپنی یادداشتیں دس بڑے رجسٹرز میں لکھ رکھی تھیں جنہیں کتابی صورت دینے کیلئے انہوں وہ رجسٹرز فیضان نقوی کے سپردکردیئے تھے تاہم کرونا وباء کے دوران مسعود حیات انتقال کر گئے اور ان کی زندگی میں کتاب شائع نہ ہو سکی تھی۔
کتاب میں مسعود حیات ”اظہار خیال“ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ انہیں 1988 ء میں کتاب لکھنے کا خیال آیا اور مسودہ لکھنا شروع کردیا اسی دوران ”قیامت کب آئے گی؟“ کے عنوان سے ان کا مضمون شائع ہوا پھر دوسرا مضمون ”قیامت سے پہلے قیامت کے بعد“بھی شائع ہوا اس کے بعد ”فن پہلوانی موت کے دروازے پر“ کے عنوان سے ان کا مضمون چھپا بعدازاں وہ فن پہلوانی پر مزید مضامین بھی لکھتے رہے تھے، مسعود حیات نے اپنی اس مجوزہ کتاب کا نام پہلے ”گردش دوراں“ رکھا پھر اسے تبدیل کرکے ”چودھویں صدی ہجری“ رکھ دیا تھا تاہم فیضان نقوی نے ان کے مسودے میں سے لاہور شہربارے مواد الگ کرکے اسے کتابی صورت میں شائع کردیا کتاب کے عنوان ”لاہور جو میں نے دیکھا“ سے ہی اس میں آخری باب بھی شامل ہے، مسعود حیات مرحوم کے صاحبزادے عثمان مسعود ٹونی ”میرے ابو“ کے عنوان سے اپنے والد مرحوم کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ نیشنل بینک میں ملازمت کرتے رہے اس کے ساتھ ہی وہ شاعری، مصوری اورپتنگ بازی بھی کرتے رہے، انہیں ستار بجانے، مرغ لڑانے اور اکھاڑے میں کسرت کرنے کا بھی شوق تھا، رسائل و جرائد میں مضامین بھی لکھتے رہے تھے۔
ڈاکٹر اعجاز انور ”میرا دوست مسعود حیات“ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ وہ ان سے 1962ء میں پہلی بار ملے تھے دونوں الحمراء کی آرٹ کلاسز کے طالب علم رہے تھے، مسعود حیات مصوری کا سبق لینے کیلئے راوی روڈ پر عبدالرحمان چغتائی اور نیو مسلم ٹاؤن میں استاد اللہ بخش کے گھراکثر جایا کرتے تھے، ان کے پاس دنگلوں کے پوسٹرز اورتصاویرکا نایاب ذخیرہ موجود تھا انہوں نے پہلوانوں پر کتاب لکھنے والے قلمکار کو اپنا تحقیقی مواد دے دیا تھا جس نے شہ زوروں پر اپنی کتاب میں مسعود حیات کا شکریہ تک ادا کرنا گوارہ نہ کیا تھا مسعود حیات کا اپنا تعلق بھی پہلوانوں کے مشہور خاندان سے تھا، ڈاکٹر اعجاز انور نے رستم زماں گاماں پہلوان کو مسعود حیات کا ماموں لکھ دیا ہے حالانکہ وہ ان کے پھوپھا تھے، مسعود حیات کے دادا گاموں پہلوان بھی رستم ہند رہے تھے جن کے رستم زماں گاماں پہلوان داماد تھے، گاماں پہلوان ریاست دتیہ جبکہ ان کے سسرگاموں پہلوان ریاست جودھ پورکے درباری پہلوان رہے تھے، گاماں پہلوان کے بھائی امام بخش پہلوان جبکہ گاموں پہلوان کے بھائی کریم بخش پیلڑے والے دونوں رستم ہند رہے تھے بلکہ مسعودحیات کی اہلیہ کے دادا رحیم پہلوان سلطانی والا بھی رستم ہند رہے تھے۔
دیباچے میں ڈاکٹر اعجاز انور مزید بتاتے ہیں کہ مسعود حیات لاہورشہر سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور لاہور کنزرویشن سوسائٹی کے فعال رکن رہے تھے، یہ کتاب ان کی لاہور سے محبت کا اظہار ہے جس میں انہوں نے لاہور شہر کی تہذیب و ثقافت اور حالات وواقعات کو بیان کیا ہے، کتاب میں مسعود حیات کی بنائی ہوئی پینٹنگز کے عکس اور دوستوں اعجاز انور، قمر یورش کے علاوہ گاماں پہلوان اور سابق وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔ میاں نواز شریف کی خوشدامن اور بیگم کلثوم نواز (مرحومہ) کی والدہ مسعود حیات (مرحوم) کی پھوپھی زاد تھیں، مصوری میں مسعود حیات کے استاد عبدالرحمان چغتائی تھے، کتاب میں شامل مسعود حیات کے بنائے ہوئے فن پارے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پہلوانوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اتنے اچھے مصور کیسے بن گئے؟ انہوں نے زیادہ تر مسجد وزیر خان اور بادشاہی مسجد سمیت اندرون شہر کے داخلی دروازوں اور قدیم عمارتوں کی تصاویر بنائی تھیں، شیخ مسعودحیات بیرون شہر فاروق گنج میں رہتے تھے بلکہ ان کے والد شیخ غلام دستگیر نے ہی اس بستی کا نام رکھا تھا جو ریلوے سے ریٹائر ہوئے تھے، مسعود حیات نے موسیقی کا ذوق ورثے میں پایا تھا، ان کے والد کو استاد بڑے غلام علی خاں، برکت علی خاں، عاشق علی خاں، امیر بائی کرناٹکی، اختر بائی فیض آبادی جبکہ خود مسعود حیات کو کملا جھریا اور ماسٹر مدن کی گائیکی پسند تھی،گلوکارہ خورشید ان کی ممانی رہ چکی تھیں، ان کے ماموں اداکار لالہ یعقوب نے خورشیدکوطلاق دیدی تھی، مسعود حیات کو نورجہاں کے مقابلے میں لتا منگیشکر کی آواز پسند تھی۔
مسعودحیات اپنے رہائشی علاقے بارے کتاب میں بتاتے ہیں کہ میراں دی کھوئی (چاہ میراں) کے علاقے میں مٹی کی پہاڑیاں ہوا کرتی تھیں۔ بادامی باغ ریلوے سٹیشن کے قریب تلک نگر بستی میں مندر کے پاس ہندو پہلوان چھبے کا اکھاڑہ ہوتا تھا، مندر کو مہاجر خاندان نے رہائش گاہ میں تبدیل کرلیا، اندرون شہر شیرانوالہ دروازہ میں بھی اسلامیہ ہائی سکول کے ساتھ مندر ہوتا تھا، تقسیم ہند کے بعد یہ مندر مسمار کرکے وہاں دکانیں بنالی گئی تھیں۔ صرافہ بازار کے اندر بھی پرانا مندر ہے جو زمین میں دھنس چکا ہے۔ اس میں بھی لوگ رہائش پذیر ہیں۔ بانسانوالہ بازار کی رتن چند سرائے میں بھی مندر ہوا کرتا تھا۔ شیخ مسعود حیات نے مزدور ادیب قمر یورش کے آخری دنوں کا احوال بھی لکھا ہے۔ قمر یورش کی وفات سے چند ہفتے پہلے ان کی وہیں آخری ملاقات ہوئی تھی اب مسعودحیات خود بھی اپنے دوست قمریورش کے پاس جاچکے ہیں۔
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain