Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • PTIراولپنڈی قیادت کوئی حکمت عملی نہ دے سکی کارکنوں میں مایوسی کی لہر
    • اٹک: لانگ مارچ کی اسپیشل ڈیوٹی کیلئے دیگر اضلاح سے آئے پولیس اہلکار کی واپسی کا عمل جاری ہے۔
    • جنرل بس سٹینڈ کی بہتری کیلئے سفارشات ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو پیش
    • موٹر سائیکل چور گینگ کیخلاف کارروائیاں ، 2 گینگز کے 5 ملزمان گرفتار 3 مسروقہ موٹر سائیکل اور رقم برآمد
    • اکبر نیازی ہسپتال ، 3 صحت مند بچوں کی مفت پیدائش
    • چکلالہ پولیس کی کارروائی، قتل،اقدام قتل کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری گرفتار
    • قاضی سعید الحسن ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن مقرر
    • سی ڈی اے کی صفائی مہم، شہریوںنے سینیٹیشن ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا گیا
    • پشاور، ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں وزیراعلی سہیل آفریدی سمیت 5 ملزم نامزد
    • آئیسکو ریجن میں سالانہ سسٹم مینٹیننس شیڈول 2026.2027 جاری
    • گورنر راج کے بعد پی ٹی آئی کے سیاست بد ترین آزمائش سے دو سے چار احتجاجی کال بے اثر
    • مندرہ ککھڑی موڑ کے قریب سے الیکٹریشن کا قیمتی موٹر سائیکل تین اشخاص چوری کرکے لے گئے
    • مری شہر کو صاف ستھرا رکھنے اور صفائی کے بہترین انتظامات پر سینیٹری ورکرز میں 10 ہزار روپے فی کس نقد انعام تقسیم
    • ڈی ایچ او سید تقی عباس کا تحصیل جنڈ کے چار سرکاری سکولوں کا تفصیلی دورہ
    • ڈیجیٹل پاکستان کے دعوے مگر انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار پر سوالات برقرار
    • لاہور ہائیکورٹ ‘ میڈیکل کے طلبائسے زائد فیس وصول کرنے کیخلافدرخواستوں پر حکم امتناعی میں توسیع
    • روس نے کسی ملک پر حملہ کیا تو پوار جنگی نظام تباہ کر دینگے نیٹو کی سخت وارننگ
    • سابق امیدوار اسمبلی سرور علوی کا رشید مغل اور دیگر صحافیوں سے اظہار یکجہتی
    • سابقہ دشمنی کی بنا پر 20 سالہ نوجوان کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا
    • فاطمہ فرٹیلائزر ماحولیاتی تحفظ کیلئے پہلی کمپنی بن گئی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ”لاہور‘ جو میں نے دیکھا“

    By Daily Khabrainجنوری 27, 2022
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    میم سین بٹ
    لاہور کی ثقافت کے حوالے سے یونس ادیب کی ”میرا شہر لاہور“،طاہر لاہوری کی ”سوہنا شہر لاہور“ اورڈاکٹر اعجاز انور کی ”نئیں ریساں شہر لہور دیاں“ اہم کتابیں ہیں پہلے دونوں لکھاریوں نے اندرون شہر اور تیسرے لکھاری نے بیرون شہرکی ثقافت زیادہ بیان کی، اب لاہور کی ثقافت کے حوالے سے چوتھی اہم کتاب مسعود حیات کی ”لاہور جو میں نے دیکھا“ کے نام سے شائع ہوئی ہے جسے فیضان عباس نقوی المعروف لاہور کا کھوجی نے مصنف کی وفات کے بعد مسودہ ترتیب دے کر شائع کروایا ہے۔ کتاب کا انتساب ہی کسی کے نام نہیں کیا گیا، فہرست کے بعد فیضان نقوی ”یہ کتاب کیسے وجود میں آئی“ کے عنوان سے ابتدائیہ میں بتاتے ہیں کہ مسعودحیات مرحوم ان کے دوست عثمان مسعود ٹونی کے والد تھے اور وہ ان کے پاس گھنٹوں بیٹھ کر لاہورکی پرانی ثقافت کے قصے سناکرتے تھے، مسعود حیات نے لاہور شہرکے حالات پر اپنی یادداشتیں دس بڑے رجسٹرز میں لکھ رکھی تھیں جنہیں کتابی صورت دینے کیلئے انہوں وہ رجسٹرز فیضان نقوی کے سپردکردیئے تھے تاہم کرونا وباء کے دوران مسعود حیات انتقال کر گئے اور ان کی زندگی میں کتاب شائع نہ ہو سکی تھی۔
    کتاب میں مسعود حیات ”اظہار خیال“ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ انہیں 1988 ء میں کتاب لکھنے کا خیال آیا اور مسودہ لکھنا شروع کردیا اسی دوران ”قیامت کب آئے گی؟“ کے عنوان سے ان کا مضمون شائع ہوا پھر دوسرا مضمون ”قیامت سے پہلے قیامت کے بعد“بھی شائع ہوا اس کے بعد ”فن پہلوانی موت کے دروازے پر“ کے عنوان سے ان کا مضمون چھپا بعدازاں وہ فن پہلوانی پر مزید مضامین بھی لکھتے رہے تھے، مسعود حیات نے اپنی اس مجوزہ کتاب کا نام پہلے ”گردش دوراں“ رکھا پھر اسے تبدیل کرکے ”چودھویں صدی ہجری“ رکھ دیا تھا تاہم فیضان نقوی نے ان کے مسودے میں سے لاہور شہربارے مواد الگ کرکے اسے کتابی صورت میں شائع کردیا کتاب کے عنوان ”لاہور جو میں نے دیکھا“ سے ہی اس میں آخری باب بھی شامل ہے، مسعود حیات مرحوم کے صاحبزادے عثمان مسعود ٹونی ”میرے ابو“ کے عنوان سے اپنے والد مرحوم کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ نیشنل بینک میں ملازمت کرتے رہے اس کے ساتھ ہی وہ شاعری، مصوری اورپتنگ بازی بھی کرتے رہے، انہیں ستار بجانے، مرغ لڑانے اور اکھاڑے میں کسرت کرنے کا بھی شوق تھا، رسائل و جرائد میں مضامین بھی لکھتے رہے تھے۔
    ڈاکٹر اعجاز انور ”میرا دوست مسعود حیات“ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ وہ ان سے 1962ء میں پہلی بار ملے تھے دونوں الحمراء کی آرٹ کلاسز کے طالب علم رہے تھے، مسعود حیات مصوری کا سبق لینے کیلئے راوی روڈ پر عبدالرحمان چغتائی اور نیو مسلم ٹاؤن میں استاد اللہ بخش کے گھراکثر جایا کرتے تھے، ان کے پاس دنگلوں کے پوسٹرز اورتصاویرکا نایاب ذخیرہ موجود تھا انہوں نے پہلوانوں پر کتاب لکھنے والے قلمکار کو اپنا تحقیقی مواد دے دیا تھا جس نے شہ زوروں پر اپنی کتاب میں مسعود حیات کا شکریہ تک ادا کرنا گوارہ نہ کیا تھا مسعود حیات کا اپنا تعلق بھی پہلوانوں کے مشہور خاندان سے تھا، ڈاکٹر اعجاز انور نے رستم زماں گاماں پہلوان کو مسعود حیات کا ماموں لکھ دیا ہے حالانکہ وہ ان کے پھوپھا تھے، مسعود حیات کے دادا گاموں پہلوان بھی رستم ہند رہے تھے جن کے رستم زماں گاماں پہلوان داماد تھے، گاماں پہلوان ریاست دتیہ جبکہ ان کے سسرگاموں پہلوان ریاست جودھ پورکے درباری پہلوان رہے تھے، گاماں پہلوان کے بھائی امام بخش پہلوان جبکہ گاموں پہلوان کے بھائی کریم بخش پیلڑے والے دونوں رستم ہند رہے تھے بلکہ مسعودحیات کی اہلیہ کے دادا رحیم پہلوان سلطانی والا بھی رستم ہند رہے تھے۔
    دیباچے میں ڈاکٹر اعجاز انور مزید بتاتے ہیں کہ مسعود حیات لاہورشہر سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور لاہور کنزرویشن سوسائٹی کے فعال رکن رہے تھے، یہ کتاب ان کی لاہور سے محبت کا اظہار ہے جس میں انہوں نے لاہور شہر کی تہذیب و ثقافت اور حالات وواقعات کو بیان کیا ہے، کتاب میں مسعود حیات کی بنائی ہوئی پینٹنگز کے عکس اور دوستوں اعجاز انور، قمر یورش کے علاوہ گاماں پہلوان اور سابق وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔ میاں نواز شریف کی خوشدامن اور بیگم کلثوم نواز (مرحومہ) کی والدہ مسعود حیات (مرحوم) کی پھوپھی زاد تھیں، مصوری میں مسعود حیات کے استاد عبدالرحمان چغتائی تھے، کتاب میں شامل مسعود حیات کے بنائے ہوئے فن پارے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پہلوانوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اتنے اچھے مصور کیسے بن گئے؟ انہوں نے زیادہ تر مسجد وزیر خان اور بادشاہی مسجد سمیت اندرون شہر کے داخلی دروازوں اور قدیم عمارتوں کی تصاویر بنائی تھیں، شیخ مسعودحیات بیرون شہر فاروق گنج میں رہتے تھے بلکہ ان کے والد شیخ غلام دستگیر نے ہی اس بستی کا نام رکھا تھا جو ریلوے سے ریٹائر ہوئے تھے، مسعود حیات نے موسیقی کا ذوق ورثے میں پایا تھا، ان کے والد کو استاد بڑے غلام علی خاں، برکت علی خاں، عاشق علی خاں، امیر بائی کرناٹکی، اختر بائی فیض آبادی جبکہ خود مسعود حیات کو کملا جھریا اور ماسٹر مدن کی گائیکی پسند تھی،گلوکارہ خورشید ان کی ممانی رہ چکی تھیں، ان کے ماموں اداکار لالہ یعقوب نے خورشیدکوطلاق دیدی تھی، مسعود حیات کو نورجہاں کے مقابلے میں لتا منگیشکر کی آواز پسند تھی۔
    مسعودحیات اپنے رہائشی علاقے بارے کتاب میں بتاتے ہیں کہ میراں دی کھوئی (چاہ میراں) کے علاقے میں مٹی کی پہاڑیاں ہوا کرتی تھیں۔ بادامی باغ ریلوے سٹیشن کے قریب تلک نگر بستی میں مندر کے پاس ہندو پہلوان چھبے کا اکھاڑہ ہوتا تھا، مندر کو مہاجر خاندان نے رہائش گاہ میں تبدیل کرلیا، اندرون شہر شیرانوالہ دروازہ میں بھی اسلامیہ ہائی سکول کے ساتھ مندر ہوتا تھا، تقسیم ہند کے بعد یہ مندر مسمار کرکے وہاں دکانیں بنالی گئی تھیں۔ صرافہ بازار کے اندر بھی پرانا مندر ہے جو زمین میں دھنس چکا ہے۔ اس میں بھی لوگ رہائش پذیر ہیں۔ بانسانوالہ بازار کی رتن چند سرائے میں بھی مندر ہوا کرتا تھا۔ شیخ مسعود حیات نے مزدور ادیب قمر یورش کے آخری دنوں کا احوال بھی لکھا ہے۔ قمر یورش کی وفات سے چند ہفتے پہلے ان کی وہیں آخری ملاقات ہوئی تھی اب مسعودحیات خود بھی اپنے دوست قمریورش کے پاس جاچکے ہیں۔
    (کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.