لمپی اسکن ڈیزیز سے متاثرہ جانورں کا گوشت اور دودھ انسانوں کے لیے محفوظ ہے یا نہیں آج کل یہ مضوع زیربحث ہے کراچی سندھ میں گائے میں جلد کی گانٹھ کی بیماری نے لوگوں میں شدید تشویش پیدا کردی ہے
لمپی اسکن ڈیزیز سے متاثرہ جانورں کے بارے میں لوگ شک میں مبتلا ہیں کہ گوشت کھائیں یا نہیں چونکہ ابھی تک اس مرض کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے اس لیے صوبائی حکومت نے وائرس کی بیماری پر قابو پانے کے لیے اب تک کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا ایک خبر کے مطابق صرف کراچی میں 15,100 سمیت 20,000 جانور لمپی اسکن ڈیزیز سے متاثر ہوئے ہیں یہ ایک سنگین صورتحال ہے
لمپی ڈیزیز کی علامات
لمپی اسکن ڈیزیز مویشیوں کا وائرل انفیکشن ہے اصل میں یہ افریقہ میں پایا جاتا تھا یہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور مشرقی یورپ کے ممالک میں بھی پھیل چکا ہے طبی علامات میں بخار، لکرمیشن، ہائپر سلائیویشن کی وجہ سے جلد پھٹ جاتی ہے
کسانوں نے بتایا کہ یہ بیماری پہلے ہی سانگھڑ، سکھر، میرپورخاص، حیدرآباد، خیرپور اور کراچی کے کھیتوں میں پھیل چکی ہے انہوں نے اس بیماری سے نمٹنے کے لیے ماہرین کے مشورے اور ادویات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا ہے
لمپی اسکن ڈیزیز سے متاثرہ گوشت اور دودھ
ایم ایم نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے برنس روڈ میٹ منڈی کے قصابوں کا کہنا تھا کہ جن جانوروں کو یہ بیماری ہوتی ہے ان کے گوشت کے اندر موٹے دھبے ہوتے ہیں اس لیے اگر آپ گوشت لینے جائیں تو گوشت دیکھ لیں اور پھر خریدیں ڈیری فارمر کے مالک ملک بلال نے کہا کہ یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ غیر معیاری دودھ فروخت ہو رہا ہے محض پروپیگنڈا ہے
ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں فروخت ہونے والا زیادہ تر دودھ بھینسوں کا ہے اور یہ بیماری گائے کے اندر اور خاص طور پر باہر سے پاکستان آنے والی گایوں میں زیادہ پائی جاتی ہے





































