لاہور: (ویب ڈیسک) مارکیٹ کے حالات کو جواز بناکر اڈانی انٹر پرائزز نے 2.43 ارب ڈالرز مالیت کے حصص کی فروخت بھی روک دی ہے جس سے بھی ان کی کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں کمی آئی۔بھارتی تاجر گوتم اڈانی کی ذاتی دولت میں چند دنوں میں 50 فیصد کے قریب کمی آئی ہے جبکہ ان کی کمپنیوں کے اثاثوں کی مالیت بھی 50 فیصد سے زیادہ گھٹ گئی ہے۔
3 فروری کو اسٹاک مارکیٹ میں اڈانی گروپ کی مرکزی کمپنی اڈانی انٹر پرائزز کے حصص کی مالیت میں 25 فیصد جبکہ ان کی دیگر کمپنیوں کے حصص کی مالیت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔
25 جنوری سے اب تک اڈانی گروپ کی مارکیٹ ویلیو میں 118 ارب ڈالرز سے زیادہ کمی آچکی ہے، جو پہلے 25 جنوری کو 220 ارب ڈالرز تھی۔
اسی طرح گوتم اڈانی کی ذاتی دولت میں 25 جنوری سے اب تک 59.2 ارب ڈالرز کی کمی آئی ہے اور وہ 61.3 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 21 ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ایشیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں بھی گوتم اڈانی پہلے سے اب تیسرے نمبر پر پہنچ چکے ہیں۔
گوتم اڈانی کی دولت میں تیزی سے کمی کی وجہ امریکی شارٹ سیلنگ کمپنی ہندن برگ کی 25 جنوری کو جاری ہونے والی رپورٹ تھی۔
اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اڈانی گروپ دہائیوں سے اسٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری اور اکاؤنٹنگ فراڈ اسکیم میں ملوث ہے۔
رپورٹ میں گوتم اڈانی کے لیے کارپوریٹ تاریخ کے سب سے بڑے دھوکے باز کے الفاظ بھی استعمال کیے گئے تھے۔
امریکی کمپنی نے الزام عائد کیا کہ اڈانی گروپ کی جانب سے آف شور کمپنیوں کو استعمال کرکے اسٹاک مارکیٹوں میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ کرایا گیا۔
اڈانی گروپ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔
اڈانی گروپ کی حالت کی وجہ سے بھارتی پارلیمان کے اجلاس کو بھی ملتوی کرنا پڑا کیونکہ حزب اختلاف کی جانب سے کمپنی کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری کامیابی میں کسی انفرادی رہنما کا ہاتھ نہیں۔
خیال رہے کہ 2023 کا آغاز 119 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص کی حیثیت سے کیا تھا اور ایک ماہ کے اندر وہ تیسرے سے 21 ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
3 فروری کو گوتم اڈانی نے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کے قریب ہونے کے باعث کمپنیوں کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال نہ ہونے کے تاثر کو مسترد کیا۔





































