کراچی: (ویب ڈیسک ) کراچی میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر ساحل پر جانے والے17 افراد کو گرفتار کر کے مقدمات درج کرلیے گئے ہیں ۔ سمندری طوفان کے ممکنہ نقصانات کے پیش نظر ضلع جنوبی کی 36 خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا، خطرناک قرار دے گئی عمارتوں میں واقع دکانوں کو بھی سیل کردیا گیا ہے ، ڈپٹی کمشنر جنوبی کے مطابق ڈی ایچ اے فیز 8 میں ساحل پر تمام ریسٹورنٹس بھی مکمل بند کروا دیے گئے ہیں۔ ضلع میں زیر تعمیر عمارتوں کا کام بھی رکوا دیا گیا ہے، حفاظتی قوانین کے مطابق عمارتوں پر نصب مشینری کو بھی ہٹا دیا گیا ہے جبکہ آرام باغ، صدر، لیاری، گارڈن اور سول لائن سب ڈویژن میں شیلٹر ہاؤس بھی قائم کردیئے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی کا کہنا تھا کہ پاک فوج، رینجرز، پی ڈی ایم اے، کے الیکٹرک، واٹر بورڈ سمیت تمام متعلقہ اداروں کے افسران سے رابطے میں ہیں، کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کنٹیجنسی پلان تیار ہے۔ ضلع میں تمام بل بورڈ، سائن بورڈز کو ہٹانے سمیت گھنے اور کمزور درختوں کی کٹائی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ ڈی سی جنوبی آفس میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام 021-99205628، 021-99205629 پر اطلاع کریں۔ ضلع کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی لیے بھی تیاری مکمل کرلی گئی ہے ۔ خیال رہے کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے سمندری طوفان کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق یہ سسٹم کراچی سے 350 کلومیٹر، ٹھٹھہ سے 360 کلومیٹر جنوب میں ہے۔ سمندری طوفان ’’بپر جوئے‘‘کا کراچی سے فاصلہ کم ہو کر 350 کلو میٹر رہ گیا جس کے باعث شہر میں گرد آلود ہوائیں چلنے لگی ہیں اور بعض مقامات پر مٹی کا طوفان بھی آیا، ناخوشگوار حالات سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کے حفاظتی دستے بھی تیار ہیں۔





































