Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • غربت کا وار: پاکستان، گندم، دودھ اور گوشت کا کم استعمال
    • پینٹاگون میں اچانک وارننگ الارم بج گیا، ملازمین خوفزدہ، جزوی لاک ڈاؤن نافذ
    • پارلیمنٹیرینز کی ترقیاتی اسکیموں کے بجٹ میں کمی کا فیصلہ
    • ایران ڈیل بارے ٹرمپ کا بیان: عالمی مارکیٹ میں خام تیل 4 فیصد سستاہوگیا
    • فٹبال ورلڈکپ: جنوبی کوریا نے چیک ریپبلک کو 1-2 سے دھول چٹادی
    • گوگل ویمنز ٹی 20 ورلڈکپ کے رنگ میں ڈھل گیا، ڈوڈل تبدیل
    • جاپان کے کپتان واٹارو اینڈو چوٹ کے باعث ورلڈ کپ سے باہر
    • ایبولا قرنطینہ کے بعد ڈی آر کانگو ورلڈ کپ کے لیے امریکہ پہنچ گئے
    • اوچ پاور پلانٹ ، بجلی کی فراہمی بند، بلوچستان کے کئی شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
    • دہلی ، پانچ منزلہ عمارت میں ہولناک آتشزدگی، 3 افراد جاں بحق
    • فیفا ورلڈ کپ افتتاحی میچ میں ایونٹ کی تاریخ کا منفرد ریکارڈ بن گیا
    • ایرانی سپریم لیڈر معاہدے پر راضی، دستخط کی تقریب یورپ میں ہونے کا امکان: ٹرمپ کا دعویٰ
    • ایران جنگ، 150کے قریب ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں
    •  وفاقی بجٹ آج  پیش کیا جائے گا،تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا امکان
    • سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف جنیوا سے  جدہ پہنچ گئے۔
    • صومالیہ کے فٹبال ریفری عمر آرتان کو یوئیفا سپر کپ 2026 کے لیے میچ آفیشل مقرر
    • فیفا ورلڈکپ ، افتتاحی میچ میں میزبان میکسیکو نے جنوبی افریقا کو 0۔2 سے شکست دے دی
    • میکسیکو میں فیفا ورلڈکپ 2026 کا شاندار، منظم اور پروقار تقریب کیساتھ آغاز ہوگیا
    • سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر صومالی ریفری کو داخلے سے روکا گیا: ٹرمپ انتظامیہ
    • ٹرین سروس معطل، جعفر ایکسپریس دوسرے روز بھی پشاور نہ پہنچ سکی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ’’کلٹ‘‘ کی پوجا

    By Khabrain Newsاپریل 14, 2024
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    عید گزرگئی لیکن مزے کی بات یہ رہی کہ ہماری قوم عید پر بوریت سے بچی رہی کیونکہ ان کو اس عید پرتماشالگانے اورتماشابنانے کے لیے بہاولنگرکا واقعہ مل گیا۔پاک فوج پرتنقیدکرنے کے مواقع اور بہانے تلاش کرنے والے پی ٹی آئی کے دوستوں کی توچاندی ہوگئی ۔یہ وہ دوست ہیں جن کو آج کل سول بالادستی سے زیادہ فوج کی نفرت کا بخار چڑھا ہوا ہے۔فوج سے نفرت کسی اصول ،ضابطے یابہتری کے لیے نہیںبلکہ صرف اس لیے ہوگئی ہے کہ ان کے لیڈر کو رہا نہیں کیا جارہا ۔اسی فوج کی آشیرباد سے ان کا لیڈر آج رہا ہوجائے تو یہ نفرت محبت میں بدلتے دیر نہیں لگے گی۔پی ٹی آئی کے ناقدین اس جذبے کو ’’کلٹ ‘‘کانام دیتے ہیں ۔
    یہ کلٹ کیا بلا ہوتی ہے ؟ یہ کیسے کام کرتا ہے ؟یہ کیسے افراد کو متاثر کرتا ہے ؟ کیا یہ کلٹ مثبت چیز ہے یا منفی ہے ؟کیا یہ معاشرے کو تعمیر کرتا ہے یا تخریب کا باعث بنتا ہے ؟کیا یہ کلٹ انسانی سوچ کو وسعت دیتا ہے یا اس کو تنگ نظر بنادیتا ہے؟کیا یہ کلٹ انسان کی ترقی کا ذریعہ ہوتا ہے یا اس کو تنزلی کی کھائی میں لے جاتا ہے؟ یہ سوالات انتہائی اہم ہیں ۔آج ان سوالات کا تجزیہ کرلیتے ہیں۔کلٹ چونکہ انگریزی زبا ن کا لفظ ہے تو اس کو سمجھنے کے لیے انگریزی لغات کودیکھ لیتے ہیں ۔ آکسفورڈ سے برناٹیکا اور’’ میریم ویب سٹر‘‘تک جو بھی ڈکشنری اٹھالیں اس میں اس کلٹ کے ملتے جلتے معانی ہی ملتے ہیں ۔اور تمام لغات نے اس کلٹ کو مذہب سے جوڑرکھا ہے۔کیمبرج ڈکشنری نے اس کی تعریف مذہبی گروہ کے حوالے سے مزیدوضاحت سے کی ہے ۔ اس ڈکشنری کے مطابق ’’کلٹ سے مراد ایسا مذہبی گروہ ہے جو ایک جگہ رہتا ہو۔جس کے نظریات انتہاپسندسمجھے جاتے ہوں اور اس کلٹ کے فالوورزکے علاوہ سب کویہ نظریات عجیب لگتے ہوں۔کلٹ کی اسٹڈی کریں تو اس کی کچھ تعریفیں یا استعمال مذہب کے علاوہ سیاسی گروپوں کے طورپر بھی ملتی ہیں ۔سیاسی طورپرکلٹ فالوورز’’ہائی کنٹرول گروپس‘‘کہلاتے ہیں۔یعنی ایسے گروپ پر کسی ایک شخصیت یا مخصوص سیاسی نظریات کااس قدر کنٹرول ہوتا ہے کہ اس کلٹ کی پوجا کرنے والے صرف حکم یا خواہش کے انتظار میں رہتے ہیں ۔وہ کوئی سوال نہیں کرتے ۔یہ لوگ صرف عمل کرتے ہیں ۔ان کو جس طرف لگادیا جائے یہ بغیر کوئی سوال کرے اس طرف لگ جاتے ہیں۔یہ لوگ اس لیڈر کے علاوہ باقی ہر کسی کی مخالفت کرسکتے ہیں یہاں تک کہ اپنی ذات تک کی نفی کرنی پڑے تو کردیتے ہیں۔اس کی اگر کوئی جھلک دیکھنی ہوتو حال ہی میں بالی ووڈ کی ایک فلم ’’شیطان‘‘ ریلیز ہوئی ہے جس میں اجے دیوگن نے بھی مرکزی کردار نبھایا ہے وہ دیکھی جاسکتی ہے۔
    تاریخ دان جب اس کلٹ کی بات کرتے ہیں تو اس کاپہلا ریفرنس جو دیاجاتا ہے وہ ’’رومن امپیریل کلٹ‘‘ ہے۔ تاریخ دان یہ مانتے ہیں کہ رومن امپائرکا کھڑاہونا بھی ایک کلٹ ہی کا مرہون منت تھا لیکن بعد میں اس میں اصلاحات لائی گئیں جس سے رومن امپائر کو کلٹ سے نکال کرایک نظام کے تابع کیا گیا۔یہ بات واضح ہے کہ کلٹ میں کوئی نظام نہیں ہوتا۔کلٹ میں لیڈر ہی سب کچھ ہوتا ہے ۔کلٹ کو جمہوریت کی ضد بھی کہاجاتا ہے کیونکہ اس میں سب اختیارات صرف ایک شخص کے پاس ہوتے ہیں۔اس میں نہ کوئی مشاورت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سازی کا پراسس۔
    کلٹ پرلکھاجانے والا سارامواد بیسویں صدی کا ہے ۔کلٹ کو پہلی بار اسٹڈی کا موضوع انیسویں صدی میں بنایا جانے لگا لیکن اس پرباقاعدہ ریسرچ یا لکھے جانے کا کام بیسوی صدی میں کیا گیا۔1930میں کلٹ کو سوشیالوجی کو موضوع بنایا جانے لگا۔کلٹ کوزیادہ ترلٹریچر یا ریسرچ مضامین میں ایک منفی جذبہ کہا گیا ہے۔اس کی تعبیر کسی بھی جگہ مثبت نہیں کی گئی۔اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ کلٹ کی وجہ سے کسی بھی معاشرے میں سدھارکم اور تباہی اور تخریب زیادہ آئی ہے۔یہاں بہت زیادہ کلٹ کے منفی ہونے کا لکھا گیا وہیں 1988میں فارنزک سائیکولوجسٹ ڈک انتھنی جو اکثر برین واشنگ تھیوریزکی وجہ سے تنقید کانشانہ بھی بنتے رہے ہیں انہوں نے کلٹ کو معاشرے کے لیے فائدہ مندبھی کہا ہے۔
    کلٹ جہاں اپنے اندرایک الگ دنیارکھتا ہے وہیں اس کلٹ کی مختلف اقسام اورکیٹیگریزبھی بیان کی جاتی ہیں۔ان اقسام میں ایک قسم کو’’ تباہ کن کلٹ‘‘کہاجاتا ہے۔کلٹ کی اس قسم میں انتہاپسندی اس حد تک چلی جاتی ہے کہ اس کا نتیجہ تشدد کی صورت میں نکلتا ہے۔کلٹ کی یہ قسم اتنی خطرناک ہے کہ اس گروہ کے لوگ آپس میں بھی لڑپڑتے ہیں اور اپنے ہی گروہ کے لوگوں کو بھی نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتے۔اگر ان سے کوئی محفوظ رہتا ہے تووہ ان کا لیڈر ہوتا ہے جس کو سب فالو کرتے ہیں۔کلٹ کی ایک خوبی یا خامی یہ بھی ہوتی ہے کہ لیڈر وفاداروں کی وفاداری ٹیسٹ کرنے کے لیے خود بھی اپنے نیچے کے لوگوں کو آپس میں لڑواسکتا ہے۔یہ لڑائی جھگڑے نچلی سطح تک رکھے جاتے ہیں ۔جب کلٹ کے نیچے عہدوں کی باری آتی ہے تو لیڈر اپنی ہی پارٹی یا گروہ میں اختلافات کو ہوا دیتا ہے اور نیچے والوں کو آپس میں مقابلہ کرنے پرلگادیتا ہے ۔ایسے میں نیچے والوں کو ایک مصروفیت مل جاتی ہے اور پھر جب جھگڑا حد سے بڑھ جاتا ہے تو جھگڑنے والے اپنی لڑائی اسی کلٹ لیڈر کے سامنے رکھتے ہیں جو اس کا فیصلہ کرتا ہے اور اختلافات ختم کرنے کا حکم دیتا ہے۔اس مشق سے لیڈرکا اپنے اوپر اعتماد اور اتفاق ٹیسٹ ہوجاتا ہے۔
    تباہ کن کلٹ کو ’’سائیکوپیتھ سنڈروم ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔اس میں کلٹ کے ماننے والے دلیل کی عادت سے کوسوں دورچلے جاتے ہیں ۔جب بحث کرتے ہیں تو موضوع یا دلیل سے نہیں بلکہ اپنے مخالف نظریات رکھنے والے کی شکل دیکھ کر ہی اس کے خلاف رائے قائم کرتے ہیں اور اس کو گالیاں دیتے ہیں۔آج کل کی سوشل میڈیا کی زبان میں اس کو ’’ٹرولنگ‘‘کہاجاسکتا ہے۔میں نے جب کلٹ کی اسٹڈی شروع کی اس پر ریسرچ کی تو اس میں سب سے تکلیف دہ پہلو ایک امریکی کلٹ لیڈر ’’جم جونز‘‘ کی کہانی نکلی۔سب ہی لکھنے والے اس کو کلٹ سے ہی جوڑتے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی خود کشی کا واقعہ ہے جس میں جم جونز کے کہنے پر 900لوگوں نے زہر کھاکر خود کشی کی جن میں 276بچے شامل تھے۔
    جم جونز 1931میں امریکی ریاست انڈیانا میں پید اہوا۔جوانی میں چرچ سے وابستہ ہوگیا۔ لیڈری کا شوق چڑھا تو سیاست میں آگیا۔پھر سوشلزم کا بخار چڑھ گیا ۔یہ سرد جنگ کا زمانہ تھا۔جم جونزروس کے قریب ہونے لگا۔جب امریکا کی طرف سے اس کے گرد گھیراتنگ ہونے لگاتو یہ اپنے فالوورزکو لے کر گیانا آگیااور اپنی موت تک وہیں رہا۔اس نے عوامی ٹیمپل کے نام سے ایک ادارہ بنالیا اور وہیں سے اپنا نیٹ ورک چلانے لگا۔اس کلٹ کوتباہ کن کلٹ کی قسم میں شمار کیا جاتا ہے۔امریکی حکومت کو پتہ چلا کہ اس کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں تو امریکی کانگریس نے تحقیقات کے لیے کانگریس مین ’’لیوریان‘‘ کو بھیجوایا تو جم جونز نے اس کو قتل کروادیا۔ اس قتل کے بعد امریکی حکومت نے جم جونز کے نیٹ ورک کو اکھاڑنے کا فیصلہ کیا ۔جب یہ بات جم جونز تک پہنچی تو اس نے سب کو ایک میدان میں جمع کیا اوراس بات کا جائزہ لیا کہ کیاوہ اور اس کے ساتھی فوری روس کی طرف فرارہوسکتے ہیں ۔ جب اس میں ناکامی ہوئی تو جم جونز نے مجمع کے سامنے خطاب کیااور اپنے کلٹ فالووزکو اجتماعی خودکشی کرنے پر راضی کرنا شروع کردیا۔یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ خود کشی کی ساری کارروائی کی آڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی ۔یہ چالیس منٹ کی آڈیو ٹیپ آج بھی موجود ہے ۔جس میں جم جونز کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’’ہم جو کرنے جارہے ہیں کہ عام خودکشی نہیں بلکہ ایک انقلابی خود کشی ہے ‘‘فیصلہ ہوا کہ پہلے بچوں کو زہر دیاجائے گا اور پھر بڑے خود اپنی موت کو گلے لگائیں گے۔یوں یہ کلٹ لیڈراپنے نوسو ساتھیوں سمیت خودکشی کی موت مرگیا۔
    میں جب اپنے ملک میں لوگوں کو پی ٹی آئی کو ایک کلٹ کی جماعت کہتے ہوئے سنتاہوں تو کلٹ کی بہت سی تعریفوں پر پرکھنے کے بعد اتفاق کرنے کو دل چاہتا ہے لیکن جب میں جم جونز کا قصہ پڑھتا ہوں تو دل ایسے کلٹ کو ماننے سے انکارکردیتا ہے۔یہ تو میری کیفیت ہے لیکن دنیا کے تاریخ دان جم جونز کو ایک کلٹ لیڈر ہی کے طورپریاد کرتے ہیں۔ کیا کلٹ کی پوجا اتنی خطرناک ہوسکتی ہے

    Khabrain News

    Keep Reading

    دنیا کے سب سے بڑے بچھو کی 41 کروڑ برس قدیم باقیات دریافت

    ایک لیٹر میں ’’900 کلومیٹر‘‘ سے زائد سفر کرنے والی حیرت انگیز کار ایجاد

    مچھروں کے خاتمے کیلئے گوگل کا ’32 ملین موسکیٹو آرمی‘ چھوڑنے کا منصوبہ

    تازہ ترین

    غربت کا وار: پاکستان، گندم، دودھ اور گوشت کا کم استعمال

    پینٹاگون میں اچانک وارننگ الارم بج گیا، ملازمین خوفزدہ، جزوی لاک ڈاؤن نافذ

    پارلیمنٹیرینز کی ترقیاتی اسکیموں کے بجٹ میں کمی کا فیصلہ

    ایران ڈیل بارے ٹرمپ کا بیان: عالمی مارکیٹ میں خام تیل 4 فیصد سستاہوگیا

    فٹبال ورلڈکپ: جنوبی کوریا نے چیک ریپبلک کو 1-2 سے دھول چٹادی

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.