تازہ تر ین

ایچ آئی وی/ایڈز: بیماری نہیں، ایک سماجی بحران جسے سمجھنا ضروری ہے

ایچ آئی وی/ایڈز: بیماری نہیں، ایک سماجی بحران جسے سمجھنا ضروری ہے

رپورٹر کی ڈائری
مہران اجمل خان

ایچ آئی وی/ایڈز دنیا بھر میں محض ایک طبّی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ایک ہمہ جہتی سماجی بحران تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بحران انسانی صحت، معاشرتی سوچ، انسانی حقوق، طبقاتی فرق اور صحت تک رسائی جیسے بنیادی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس بیماری کا بڑھتا ہوا بوجھ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اسے صرف طبی زاویے سے نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی اور معاشی تناظر میں بھی سمجھیں۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ غربت، لاعلمی، سماجی رویوں میں سختی، صنفی عدم مساوات، غیر معیاری طبی سہولیات اور بدنامی کا خوف اس مسئلے کے بنیادی اسباب ہیں۔ اگرچہ اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) نے اس بیماری کو قابلِ علاج سطح تک لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن جب تک معاشرے میں موجود رویوں اور بدنامی کے کلچر کو ختم نہیں کیا جائے گا، تب تک مریض علاج تک پہنچ ہی نہیں پائیں گے۔
ایچ آئی وی سے جڑا “سماجی بدنما داغ” اس جنگ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ عالمی تحقیق کے مطابق بیشتر مریض اس خوف سے اپنا ٹیسٹ نہیں کرواتے کہ اگر رپورٹ مثبت آ گئی تو خاندان، محلہ اور معاشرہ انہیں قبول نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔ بدنامی کا یہ خوف صرف کمیونٹی تک محدود نہیں بلکہ بدقسمتی سے صحت کے بعض اداروں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔
متعدد رپورٹس میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں طبی عملے نے ایچ آئی وی کے مریضوں کا علاج کرنے سے ہچکچاہٹ دکھائی، بلاوجہ احتیاط برتی، یا بعض مواقع پر مریض کو داخلہ دینے سے تک انکار کیا۔ عالمی معیار کے مطابق یہ رویہ نہ صرف غیر پیشہ ورانہ ہے بلکہ مریض کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ جب ایک مریض کو طبّی مدد سے محروم کر دیا جاتا ہے تو وہ نہ صرف بیماری کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے بلکہ لاعلمی کے باعث دوسروں کو بھی متاثر کرنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان میں ایچ آئی وی کنٹرول پروگرامز کئی دہائیوں سے جاری ہیں، لیکن ان پروگراموں نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ معلومات فراہم کرنا کافی نہیں۔ 90 کی دہائی میں ہونے والی تحقیقی رپورٹس نے واضح کیا تھا کہ جب تک سماجی رویوں میں تبدیلی نہیں آتی، تب تک کسی بھی پروگرام کی کامیابی محدود رہے گی۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے لوگ جانتے ہیں کہ بیماری کیسے منتقل ہوتی ہے لیکن وہ اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کہ یہ بیماری دوسرے مریضوں کی طرح ہی علاج اور ہمدردی کی مستحق ہے۔
ایشیائی ممالک میں PLWHA یعنی “ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد” کے ساتھ امتیازی سلوک بدقسمتی سے بہت عام ہے۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے۔ کئی مریض رپورٹ کرتے ہیں کہ ان کی بیماری ظاہر ہونے کے بعد انہیں معاشرے نے مسترد کر دیا، خاندان نے دوری اختیار کر لی اور ملازمت کے مواقع محدود ہو گئے۔ اس طرزِ عمل سے مریض کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، وہ خود کو سماجی طور پر الگ تھلگ اور نفسیاتی طور پر مایوس محسوس کرتا ہے۔
ایچ آئی وی کے خلاف جنگ میں سب سے اہم کردار صحت کے کارکنوں کا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 20 سے 30 سال عمر کے 62 صحت کے پیشہ ور افراد میں سے تمام شرکاء بیماری کے پھیلاؤ کے بنیادی طریقوں سے آگاہ تھے، لیکن ان میں سے کئی نے یہ تسلیم کیا کہ وہ مریضوں کے ساتھ تعامل کے دوران غیر یقینی، خوف یا ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ یہ رویہ ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ علمی آگاہی کے ساتھ ساتھ رویوں میں عملی تربیت بھی ناگزیر ہے۔
پاکستان میں ایچ آئی وی کنٹرول کی راہ میں دیگر اہم رکاوٹیں بھی ہیں، جن میں ناکافی فنڈنگ، غیر مربوط ڈیٹا سسٹم، کمزور پالیسی سازی، لیبارٹریوں کی محدود صلاحیت اور عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کی کمی شامل ہے۔ چونکہ ایچ آئی وی کا مقابلہ صرف ادویات کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا، اس لیے حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر ایک جامع حکمتِ عملی ترتیب دینا ہوگی جس میں طبّی، سماجی، تعلیمی اور قانونی تمام پہلو شامل ہوں۔
ایچ آئی وی کے خلاف کامیابی تب ہی ممکن ہے جب ہم اس بیماری سے جڑی بدنامی کو ختم کریں۔ دنیا بھر میں اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اگر مریض کو عزت، رازداری، برابری اور سسائٹی کی قبولیت حاصل ہو تو وہ نہ صرف علاج کی طرف راغب ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ صحت کے کارکنوں کی جدید تربیت، ہاسپٹلز میں واضح “اینٹی اسٹیگما پالیسی”، تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگرام، اور میڈیا کی ذمہ دار رپورٹنگ وہ عناصر ہیں جو اس بحران کی شدت کم کر سکتے ہیں۔
ہمارے لئے یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ ایچ آئی وی کے مریض کسی گناہ یا جرم کے مرتکب نہیں ہوتے۔ وہ ہماری طرح انسان ہیں جنہیں علاج، احترام، اعتماد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے کمزور طبقات کو سہارا دیتی ہیں نہ کہ انہیں بدنامی کے بوجھ تلے دبا دیتی ہیں۔ اگر پاکستان نے ایچ آئی وی کے خلاف جنگ جیتنی ہے تو سب سے پہلے معاشرتی رویوں کی اصلاح ضروری ہے کیونکہ ایڈز سے زیادہ خطرناک بیماری “بدنامی” ہے۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain