Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان کا نیا اسپیڈ اسٹار: قیوم خان کی 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ
    • پاکستان کی معاشی پوزیشن پر موڈیز کا اعتماد بڑھ گیا، کریڈٹ ریٹنگ بی تھری کردی
    • نائٹ کلب واقعے کی تحقیقات، برائیڈن کارس پاکستان کیخلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر
    • ای سپورٹس ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب، رونالڈو کی سعودی ولی عہد سے ملاقات
    • بنگلہ دیش کی تاریخی چھلانگ، ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹی پوزیشن حاصل کرلی، پاکستان آٹھویں نمبر پر
    • دبئی کا برج عزیزی 725 میٹر بلندی کے ساتھ دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت بننے کو تیار
    • میچ کے دوران اچانک گرنے سے 25 سالہ پرتگالی فٹبالر کوئین کاسترو چل بسے
    • انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس سکواڈ میں شامل
    • بچوں کے تحفظ کیلئے پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کی درخواست دائر
    • گوگل کے بعد ایپل کی بھی پاکستان میں دفتر کھولنے کی تیاری
    • پشاور میں 6 ماہ قبل تعمیر کیا گیا پل سیلابی پانی کی نذر ہوگیا
    • لاہور میں پاکستان کا پہلا عالمی معیار کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ سینٹر قائم
    • آئی ایم ایف کی نئی شرط، پاکستان میں بجلی کے نرخ مزید بڑھانے کا مطالبہ
    • 23 سال بعد پاکستان میں پھر سجے گا ساؤتھ ایشین گیمز کا میلہ!
    • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے اہم ملاقات
    • عراق نے ایران اور سعودی عرب کو مشترکہ سکیورٹی کونسل کی پیشکش کردی
    • پاکستان کے 12 تاریخی مقامات یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل
    • پاکستان کی سفارتی جیت، اے سی سی الیکشن میں تینوں نشستوں پر کامیابی
    • نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل پیش کرنے کا اعلان
    • 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا شہباز شریف کو خط عمران خان کے علاج کی اپیل
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ایچ آئی وی/ایڈز: بیماری نہیں، ایک سماجی بحران جسے سمجھنا ضروری ہے

    By Khabrain Newsنومبر 23, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ایچ آئی وی/ایڈز: بیماری نہیں، ایک سماجی بحران جسے سمجھنا ضروری ہے

    رپورٹر کی ڈائری
    مہران اجمل خان

    ایچ آئی وی/ایڈز دنیا بھر میں محض ایک طبّی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ایک ہمہ جہتی سماجی بحران تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بحران انسانی صحت، معاشرتی سوچ، انسانی حقوق، طبقاتی فرق اور صحت تک رسائی جیسے بنیادی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس بیماری کا بڑھتا ہوا بوجھ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اسے صرف طبی زاویے سے نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی اور معاشی تناظر میں بھی سمجھیں۔
    پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ غربت، لاعلمی، سماجی رویوں میں سختی، صنفی عدم مساوات، غیر معیاری طبی سہولیات اور بدنامی کا خوف اس مسئلے کے بنیادی اسباب ہیں۔ اگرچہ اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) نے اس بیماری کو قابلِ علاج سطح تک لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن جب تک معاشرے میں موجود رویوں اور بدنامی کے کلچر کو ختم نہیں کیا جائے گا، تب تک مریض علاج تک پہنچ ہی نہیں پائیں گے۔
    ایچ آئی وی سے جڑا "سماجی بدنما داغ” اس جنگ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ عالمی تحقیق کے مطابق بیشتر مریض اس خوف سے اپنا ٹیسٹ نہیں کرواتے کہ اگر رپورٹ مثبت آ گئی تو خاندان، محلہ اور معاشرہ انہیں قبول نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔ بدنامی کا یہ خوف صرف کمیونٹی تک محدود نہیں بلکہ بدقسمتی سے صحت کے بعض اداروں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔
    متعدد رپورٹس میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں طبی عملے نے ایچ آئی وی کے مریضوں کا علاج کرنے سے ہچکچاہٹ دکھائی، بلاوجہ احتیاط برتی، یا بعض مواقع پر مریض کو داخلہ دینے سے تک انکار کیا۔ عالمی معیار کے مطابق یہ رویہ نہ صرف غیر پیشہ ورانہ ہے بلکہ مریض کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ جب ایک مریض کو طبّی مدد سے محروم کر دیا جاتا ہے تو وہ نہ صرف بیماری کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے بلکہ لاعلمی کے باعث دوسروں کو بھی متاثر کرنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
    پاکستان میں ایچ آئی وی کنٹرول پروگرامز کئی دہائیوں سے جاری ہیں، لیکن ان پروگراموں نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ معلومات فراہم کرنا کافی نہیں۔ 90 کی دہائی میں ہونے والی تحقیقی رپورٹس نے واضح کیا تھا کہ جب تک سماجی رویوں میں تبدیلی نہیں آتی، تب تک کسی بھی پروگرام کی کامیابی محدود رہے گی۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے لوگ جانتے ہیں کہ بیماری کیسے منتقل ہوتی ہے لیکن وہ اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کہ یہ بیماری دوسرے مریضوں کی طرح ہی علاج اور ہمدردی کی مستحق ہے۔
    ایشیائی ممالک میں PLWHA یعنی "ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد” کے ساتھ امتیازی سلوک بدقسمتی سے بہت عام ہے۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے۔ کئی مریض رپورٹ کرتے ہیں کہ ان کی بیماری ظاہر ہونے کے بعد انہیں معاشرے نے مسترد کر دیا، خاندان نے دوری اختیار کر لی اور ملازمت کے مواقع محدود ہو گئے۔ اس طرزِ عمل سے مریض کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، وہ خود کو سماجی طور پر الگ تھلگ اور نفسیاتی طور پر مایوس محسوس کرتا ہے۔
    ایچ آئی وی کے خلاف جنگ میں سب سے اہم کردار صحت کے کارکنوں کا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 20 سے 30 سال عمر کے 62 صحت کے پیشہ ور افراد میں سے تمام شرکاء بیماری کے پھیلاؤ کے بنیادی طریقوں سے آگاہ تھے، لیکن ان میں سے کئی نے یہ تسلیم کیا کہ وہ مریضوں کے ساتھ تعامل کے دوران غیر یقینی، خوف یا ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ یہ رویہ ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ علمی آگاہی کے ساتھ ساتھ رویوں میں عملی تربیت بھی ناگزیر ہے۔
    پاکستان میں ایچ آئی وی کنٹرول کی راہ میں دیگر اہم رکاوٹیں بھی ہیں، جن میں ناکافی فنڈنگ، غیر مربوط ڈیٹا سسٹم، کمزور پالیسی سازی، لیبارٹریوں کی محدود صلاحیت اور عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کی کمی شامل ہے۔ چونکہ ایچ آئی وی کا مقابلہ صرف ادویات کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا، اس لیے حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر ایک جامع حکمتِ عملی ترتیب دینا ہوگی جس میں طبّی، سماجی، تعلیمی اور قانونی تمام پہلو شامل ہوں۔
    ایچ آئی وی کے خلاف کامیابی تب ہی ممکن ہے جب ہم اس بیماری سے جڑی بدنامی کو ختم کریں۔ دنیا بھر میں اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اگر مریض کو عزت، رازداری، برابری اور سسائٹی کی قبولیت حاصل ہو تو وہ نہ صرف علاج کی طرف راغب ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ صحت کے کارکنوں کی جدید تربیت، ہاسپٹلز میں واضح "اینٹی اسٹیگما پالیسی”، تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگرام، اور میڈیا کی ذمہ دار رپورٹنگ وہ عناصر ہیں جو اس بحران کی شدت کم کر سکتے ہیں۔
    ہمارے لئے یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ ایچ آئی وی کے مریض کسی گناہ یا جرم کے مرتکب نہیں ہوتے۔ وہ ہماری طرح انسان ہیں جنہیں علاج، احترام، اعتماد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے کمزور طبقات کو سہارا دیتی ہیں نہ کہ انہیں بدنامی کے بوجھ تلے دبا دیتی ہیں۔ اگر پاکستان نے ایچ آئی وی کے خلاف جنگ جیتنی ہے تو سب سے پہلے معاشرتی رویوں کی اصلاح ضروری ہے کیونکہ ایڈز سے زیادہ خطرناک بیماری "بدنامی” ہے۔

     

    Khabrain News

      Keep Reading

      ایچ آئی وی پھیلنے کا معاملہ، کراچی کے ہسپتال کے خلاف کارروائی کا حکم

      ڈی آر کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز 2,181، ہلاکتیں 864 تک پہنچ گئیں

      پنجاب فوڈ اتھارٹی کا لاہور میں کریک ڈاؤن، شاہدرہ، پارک ویو اور ریلوے روڈ پر 3 فوڈ یونٹس سیل

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.