تازہ تر ین

رواں سال کی موسمیاتی آفات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی—اگلا سال مزید خطرناک؟ ماہرین کی سخت وارننگ

پاکستان اس وقت موسمیاتی بحران کی شدت کا سامنا کر رہا ہے، جہاں رواں سال کے سیلاب اور شدید موسمی تغیرات نے زندگیوں، زمینوں اور روزگار کو شدید متاثر کیا ہے۔ ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں میں برف باری اور بارشوں کے نتیجے میں ندی نالے اور دریا خطرناک حد تک بڑھ گئےجس کے سبب لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور ہزاروں گھر پانی میں ڈوب گئے۔ یہ محض قدرتی حادثات نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی واضح نشانیاں ہیں جو پاکستان کے لیے زندگی اور معیشت کے لیے سنگین خطرات کی وارننگ ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق اس سال سردیاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ شدید آنے کا امکان ہے خاص طور پر شمالی اور وسطی علاقوں میں درجہ حرارت کم رہے گا۔ شدید سردی کے نتیجے میں گلیشیئرز کی برف باری زیادہ ہوگی اور پانی کی سطح میں اضافے کے باعث اگلے سال مون سون کے دوران سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اگر موسم کی شدید سردی اور اضافی برف پگھلنے کے عمل کو مدنظر نہ رکھا گیا تو اگلے سال بھی کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیلاب دیکھنے کو مل سکتے ہیں جس کا اثر کسانوں، شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست پڑے گا۔ رواں سال سیلاب نے زرعی شعبے، بنیادی ڈھانچے اور انسانی بستیاں سب کچھ تہس نہس کر دیا۔ فصلیں بہہ گئیں، مویشی ضائع ہو گئے اور لاکھوں لوگ بے گھر اور لاچار ہو گئے۔ کسان، مزدور، خواتین اور بچے سب شدید خطرے میں مبتلا ہوئے۔ یہ اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی المیہ اور مستقبل کی نسلوں کے لیے واضح خطرہ ہیں۔رواں سال معمول سے تقریباً 15 فیصد زائد بارشیں ہوئیں جبکہ شمالی علاقوں میں شدید گرمی اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ ہوا۔ گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ گئے، شمالی علاقوں اور نیچے بہنے والے علاقوں میں لاکھوں لوگ متاثر ہوئے۔ زرعی پیداوار شدید متاثر ہوئی، فصلیں ضائع ہو گئیں اور کسان غیر یقینی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ شہری انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوا، ندی نالوں کے کنارے غیر قانونی آبادیاں خطرہ بن گئیں اور بنیادی خدمات پر دباؤ بڑھ گیا۔حکومت پاکستان نے فوری ریلیف اور طویل المدتی ریکاوری کے اقدامات شروع کیے۔ متاثرہ علاقوں میں رہائش، بنیادی ڈھانچے، روزگار اور خدمات کی بحالی کے لیے منصوبے بنائے گئے ہیں۔ ہاؤسنگ، معاشی استحکام اور ماحولیاتی تحفظ کے پروگرامز پر کام جاری ہے۔ بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان کی مدد میں پیش پیش ہیں اور مالی پیکیجز فراہم کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں رہائش کی تعمیر نو اور زرعی معاونت ممکن ہو سکے۔ متاثرہ علاقوں میں ریزیلیئنس کے منصوبے چلا کر رہائش، معاش، تعلیم اور بنیادی خدمات کی بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔تاہم منصوبے بنانا کافی نہیں۔ رواں سال کے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ ردِ عمل کے اقدامات اب ناکافی ہیں۔ گلیشیئرز کی حفاظت، پانی کے نظام کی بہتری، زرعی اصلاحات اور شہری منصوبہ بندی کو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ڈھالنا ناگزیر ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ مضبوط آبپاشی اور واٹر مینجمنٹ نظام قائم کرے، جنگلات کی کٹائی روکے، گرین کور کو فروغ دے، کمیونٹی بیسڈ ایمرجنسی تیاری اور ارلی وارننگ سسٹمز مضبوط کرے، پائیدار اور مضبوط رہائش تعمیر کرے، کلائمٹ سمارٹ زراعت اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں فصلوں کو فروغ دے، عوامی شعور اور مقامی شرکت کے ذریعے آفات سے بچاؤ کی پالیسی مضبوط کرے اور شفافیت اور مقامی نگرانی کو یقینی بنائے تاکہ امداد صحیح ہاتھوں تک پہنچے۔عالمی ادارے اور ماہرین موسمیات مسلسل یہ کہتے ہیں کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات انسانی زندگیوں اور معیشت پر سب سے زیادہ گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ سیلاب اور شدید سردیوں کے ملا جلا اثرات نہ صرف زرعی پیداوار بلکہ شہری علاقوں کے انفراسٹرکچر اور صحت کے شعبے کو بھی بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے پیش نظر پاکستان میں ریزیلیئنس اور ڈیزاسٹر ریڈینیس کے پروگرامز پر کام ہو رہا ہے، لیکن صرف منصوبے بنانا کافی نہیں؛ عملی اقدامات، مقامی شرکت اور طویل مدتی حکمت عملی اب ہر گزرتے سال کے لیے زندگی اور موت کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ موجودہ تباہ کاریوں، رواں سال کی موسمیاتی پیش رفت اور ماہرین کی پیش گوئی نے یہ سبق دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف اعداد و شمار یا خبریں نہیں بلکہ زندگی، معیشت اور مستقبل کی نسلوں کا بنیادی مسئلہ ہے۔ آج کے اقدامات ہی آنے والے کل کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ اگر آج سے حکمت عملی، پالیسی اور عملی اقدامات نہ کیے گئے، تو موسمیاتی تبدیلی اور آفات دوبارہ اور زیادہ شدت کے ساتھ پاکستان کے دروازے پر دستک دیں گی۔ آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں گی کہ ہم نے انہیں محفوظ مستقبل دیا یا نہیں۔اب پاکستان اور عالمی برادری کے لیے یہ واضح ہے کہ موسمیاتی ریزیلیئنس صرف ایک قومی ضرورت نہیں بلکہ انسانی بقاء کی شرط ہے۔ مقامی حکومتیں، بین الاقوامی ادارے اور شہری سب مل کر اگر آج سے عملی اقدامات کریں تو آنے والے سالوں میں بھی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، شدید سردیوں، گلیشیئرز کی پگھلتی ہوئی برف اور بارشوں کے ملا جلا اثر دوبارہ لاکھوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جس کا خمیازہ پوری دنیا کے لیے ایک انسانی اور اقتصادی بحران کی صورت میں سامنے آئے گا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain