Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کرسٹیانو رونالڈو کی ہالی ووڈ میں انٹری، پہلی اسکرپٹڈ ٹی وی سیریز "Day 1s” میں کردار
    • شام اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کا خواہاں، صدر احمد الشرع
    • پانچ سال بعد زین الدین زیدان کی فرانس کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے واپسی
    • گلین میک گرا نے وسیم اور وقار کو فاسٹ بولنگ کی عظیم ترین جوڑی قرار دے دیا
    • ریان ٹن ڈوشیٹ بھارت کے اسسٹنٹ کوچ کے عہدے سے مستعفی، کے کے آر میں واپسی
    • پاکستان میں 20 سال بعد عالمی ہاکی کا آغاز، کورین ٹیم اسلام آباد میں
    • اسرائیل نے مغربی کنارے کے مہاجر کیمپ پر قبضے کا حکم دے دیا
    • پاکستان میں سونے کی قیمت 4 لاکھ 30 ہزار روپے سے نیچے آ گئی
    • جسٹن گریوز نے پاکستان کے خلاف 5 مسلسل میڈن اوورز اور 5 وکٹوں کے ساتھ ٹیسٹ تاریخ رقم کر دی
    • فوجی حملوں میں وقفے کے دوران ایران سے مذاکرات جاری ہیں : ٹرمپ
    • امریکا جنگ: ایران کی گیس پیداوار شدید متاثر
    • 29 جولائی سے 5 اگست تک کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی
    • میری کپتانی میں ٹیسٹ رینکنگ میں بہتر ی ہوئی تو تمام فارمیٹ کا کپتان بنائیں:بابر اعظم کی شرط
    • جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری
    • سعودی عرب نے چار ہفتوں میں 49 ہزار 500 سے زائد غیر قانونی مقیم افراد کو ملک بدر کر دیا
    • ڈریسنگ روم میں قرآن کی تلاوت، کمنٹیٹر نے محمد رضوان کے ایمان کی تعریف کر دی
    • امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان رائین زنکے (ریاست مونٹانا) اور مائیکل جیمز (ریاست واشنگٹن) نے جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جہاں دفاع، تجارت اور اقتصادی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال
    • خطرناک وائرس امریکی کی 9 ریاستوں تک پھیل گیا، ہزاروں متاثر
    • کرکٹر ارشدیپ سنگھ اور اداکارہ سمرین کور نے اپنے رشتے کی تصدیق کر دی
    • سجل، ہانیہ اور اقرا سے دوستی نہیں بس سلام دُعا ہے،ماہرہ خان
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    رواں سال کی موسمیاتی آفات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی—اگلا سال مزید خطرناک؟ ماہرین کی سخت وارننگ

    By Khabrain Newsدسمبر 4, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    پاکستان اس وقت موسمیاتی بحران کی شدت کا سامنا کر رہا ہے، جہاں رواں سال کے سیلاب اور شدید موسمی تغیرات نے زندگیوں، زمینوں اور روزگار کو شدید متاثر کیا ہے۔ ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں میں برف باری اور بارشوں کے نتیجے میں ندی نالے اور دریا خطرناک حد تک بڑھ گئےجس کے سبب لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور ہزاروں گھر پانی میں ڈوب گئے۔ یہ محض قدرتی حادثات نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی واضح نشانیاں ہیں جو پاکستان کے لیے زندگی اور معیشت کے لیے سنگین خطرات کی وارننگ ہیں۔
    ماہرین موسمیات کے مطابق اس سال سردیاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ شدید آنے کا امکان ہے خاص طور پر شمالی اور وسطی علاقوں میں درجہ حرارت کم رہے گا۔ شدید سردی کے نتیجے میں گلیشیئرز کی برف باری زیادہ ہوگی اور پانی کی سطح میں اضافے کے باعث اگلے سال مون سون کے دوران سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اگر موسم کی شدید سردی اور اضافی برف پگھلنے کے عمل کو مدنظر نہ رکھا گیا تو اگلے سال بھی کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیلاب دیکھنے کو مل سکتے ہیں جس کا اثر کسانوں، شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست پڑے گا۔ رواں سال سیلاب نے زرعی شعبے، بنیادی ڈھانچے اور انسانی بستیاں سب کچھ تہس نہس کر دیا۔ فصلیں بہہ گئیں، مویشی ضائع ہو گئے اور لاکھوں لوگ بے گھر اور لاچار ہو گئے۔ کسان، مزدور، خواتین اور بچے سب شدید خطرے میں مبتلا ہوئے۔ یہ اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی المیہ اور مستقبل کی نسلوں کے لیے واضح خطرہ ہیں۔رواں سال معمول سے تقریباً 15 فیصد زائد بارشیں ہوئیں جبکہ شمالی علاقوں میں شدید گرمی اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ ہوا۔ گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ گئے، شمالی علاقوں اور نیچے بہنے والے علاقوں میں لاکھوں لوگ متاثر ہوئے۔ زرعی پیداوار شدید متاثر ہوئی، فصلیں ضائع ہو گئیں اور کسان غیر یقینی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ شہری انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوا، ندی نالوں کے کنارے غیر قانونی آبادیاں خطرہ بن گئیں اور بنیادی خدمات پر دباؤ بڑھ گیا۔حکومت پاکستان نے فوری ریلیف اور طویل المدتی ریکاوری کے اقدامات شروع کیے۔ متاثرہ علاقوں میں رہائش، بنیادی ڈھانچے، روزگار اور خدمات کی بحالی کے لیے منصوبے بنائے گئے ہیں۔ ہاؤسنگ، معاشی استحکام اور ماحولیاتی تحفظ کے پروگرامز پر کام جاری ہے۔ بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان کی مدد میں پیش پیش ہیں اور مالی پیکیجز فراہم کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں رہائش کی تعمیر نو اور زرعی معاونت ممکن ہو سکے۔ متاثرہ علاقوں میں ریزیلیئنس کے منصوبے چلا کر رہائش، معاش، تعلیم اور بنیادی خدمات کی بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔تاہم منصوبے بنانا کافی نہیں۔ رواں سال کے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ ردِ عمل کے اقدامات اب ناکافی ہیں۔ گلیشیئرز کی حفاظت، پانی کے نظام کی بہتری، زرعی اصلاحات اور شہری منصوبہ بندی کو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ڈھالنا ناگزیر ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ مضبوط آبپاشی اور واٹر مینجمنٹ نظام قائم کرے، جنگلات کی کٹائی روکے، گرین کور کو فروغ دے، کمیونٹی بیسڈ ایمرجنسی تیاری اور ارلی وارننگ سسٹمز مضبوط کرے، پائیدار اور مضبوط رہائش تعمیر کرے، کلائمٹ سمارٹ زراعت اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں فصلوں کو فروغ دے، عوامی شعور اور مقامی شرکت کے ذریعے آفات سے بچاؤ کی پالیسی مضبوط کرے اور شفافیت اور مقامی نگرانی کو یقینی بنائے تاکہ امداد صحیح ہاتھوں تک پہنچے۔عالمی ادارے اور ماہرین موسمیات مسلسل یہ کہتے ہیں کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات انسانی زندگیوں اور معیشت پر سب سے زیادہ گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ سیلاب اور شدید سردیوں کے ملا جلا اثرات نہ صرف زرعی پیداوار بلکہ شہری علاقوں کے انفراسٹرکچر اور صحت کے شعبے کو بھی بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے پیش نظر پاکستان میں ریزیلیئنس اور ڈیزاسٹر ریڈینیس کے پروگرامز پر کام ہو رہا ہے، لیکن صرف منصوبے بنانا کافی نہیں؛ عملی اقدامات، مقامی شرکت اور طویل مدتی حکمت عملی اب ہر گزرتے سال کے لیے زندگی اور موت کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ موجودہ تباہ کاریوں، رواں سال کی موسمیاتی پیش رفت اور ماہرین کی پیش گوئی نے یہ سبق دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف اعداد و شمار یا خبریں نہیں بلکہ زندگی، معیشت اور مستقبل کی نسلوں کا بنیادی مسئلہ ہے۔ آج کے اقدامات ہی آنے والے کل کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ اگر آج سے حکمت عملی، پالیسی اور عملی اقدامات نہ کیے گئے، تو موسمیاتی تبدیلی اور آفات دوبارہ اور زیادہ شدت کے ساتھ پاکستان کے دروازے پر دستک دیں گی۔ آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں گی کہ ہم نے انہیں محفوظ مستقبل دیا یا نہیں۔اب پاکستان اور عالمی برادری کے لیے یہ واضح ہے کہ موسمیاتی ریزیلیئنس صرف ایک قومی ضرورت نہیں بلکہ انسانی بقاء کی شرط ہے۔ مقامی حکومتیں، بین الاقوامی ادارے اور شہری سب مل کر اگر آج سے عملی اقدامات کریں تو آنے والے سالوں میں بھی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، شدید سردیوں، گلیشیئرز کی پگھلتی ہوئی برف اور بارشوں کے ملا جلا اثر دوبارہ لاکھوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جس کا خمیازہ پوری دنیا کے لیے ایک انسانی اور اقتصادی بحران کی صورت میں سامنے آئے گا۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      ڈی آر کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز 2,181، ہلاکتیں 864 تک پہنچ گئیں

      پنجاب فوڈ اتھارٹی کا لاہور میں کریک ڈاؤن، شاہدرہ، پارک ویو اور ریلوے روڈ پر 3 فوڈ یونٹس سیل

      گھانا کے خلاف انگلینڈ کی مایوس کن کارکردگی کالے جادو‘ کے چرچے

      تازہ ترین

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.