چین 2030 تک انسانوں کو چاند پر پہنچانا چاہتا ہے اور اب اس حوالے سے نئی پیشرفت ہوئی ہے۔
چین کی جانب سے نئے راکٹ کے محفوظ ہونے کی جانچ پر مبنی اہم ٹیسٹ کو کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔
چینی ماہرین نے مینگ زو کریو کیرئیر کا اسکیپ ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کیا۔
یہ کریو کیرئیر یا اسپیس کرافٹ اس لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ چاند پر جانے والے خلا باز اس صورت میں بحفاظت زمین پر واپس لوٹ سکیں، اگر مشن لانچ میں کچھ گڑبڑ ہو جائے۔
چینی اسپیس پروگرام کے تحت جون 2024 میں گراؤنڈ لیول سیفٹی ٹیسٹ کو مکمل کیا گیا تھا مگر نئے ٹیسٹ کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ خلا باز راکٹ کے لانچ ہونے پر واپس آنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
اس ٹیسٹ میں لانگ مارچ 10 کیرئیر راکٹ کی اولین پرواز اور کنٹرول واپسی کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ چین کی جانب سے انسانوں کو چاند پر پہنچانے کے لیے کافی تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل جون 2024 میں لانگ مارچ 10 راکٹ کے propulsion سسٹم کے ابتدائی تجربات کو مکمل کیا گیا تھا۔
یہ راکٹ 93.5 میٹر بڑا ہے اور اس میں چین کے موجودہ طاقتور ترین راکٹ لانگ مارچ 5 سے 3 گنا زیادہ گنجائش موجود ہوگی۔
یہ راکٹ 70 ٹن وزن زمین کے نچلے مدار اور 27 ٹن وزن چاند کی جانب لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔
لانگ مارچ 10 راکٹ کو انسانوں کو چاند پر لے جانے والے 2 مشنز کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
چینی حکام نے اپریل 2024 میں بتایا تھا کہ چاند پر انسانوں کو 2030 تک پہنچانے کے ہدف کے حوالے سے پیشرفت ہو رہی ہے۔
اس نئے ٹیسٹ کے دوران کسی انسان کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔
مینگ زو کریو کیرئیر لانچ کے تھوڑی دیر بعد راکٹ سے الگ ہوگیا تھا اور پھر سمندر میں اترا۔




































