دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اب صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030 تک کئی ایسی نوکریاں ہیں جو یا تو مکمل ختم ہو جائیں گی یا ان کی مانگ بہت کم رہ جائے گی۔
آج کل اے آئی نہ صرف لکھ سکتا ہے بلکہ ڈیزائن بنا سکتا ہے، ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتا ہے اور لوگوں سے بات چیت بھی کر سکتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سی نوکریاں سب سے زیادہ خطرے میں ہیں؟
آئیے دیکھتے ہیں وہ 5 نوکریاں جو 2030 تک شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔
1️⃣ ڈیٹا انٹری آپریٹر
ڈیٹا انٹری کا کام سب سے پہلے آٹومیشن کی طرف گیا ہے۔ اب کمپیوٹر سافٹ ویئر اور اے آئی چند سیکنڈز میں وہ کام کر لیتے ہیں جو پہلے گھنٹوں میں ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے اس شعبے میں نوکریوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔
2️⃣ کال سینٹر ایجنٹ
اب چیٹ بوٹس اور اے آئی وائس اسسٹنٹس صارفین کے سوالات کے جواب دینے لگے ہیں۔ کئی بڑی کمپنیاں انسانی عملے کی جگہ اے آئی سسٹمز استعمال کر رہی ہیں جو 24 گھنٹے کام کرتے ہیں اور کم غلطی کرتے ہیں۔
3️⃣ بنیادی گرافک ڈیزائنر
سادہ لوگو، سوشل میڈیا پوسٹس اور عام ڈیزائن اب اے آئی ٹولز چند لمحوں میں تیار کر دیتے ہیں۔ اس وجہ سے ابتدائی سطح کی گرافک ڈیزائن کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔
4️⃣ بینک ٹیلر
آن لائن بینکنگ اور موبائل ایپس کے بعد بینک برانچز میں جانے کا رجحان کم ہو گیا ہے۔ مستقبل میں خودکار نظام اور ڈیجیٹل لین دین بینک ٹیلرز کی ضرورت مزید کم کر سکتے ہیں۔
5️⃣ ٹریول ایجنٹ
اب لوگ خود ہی آن لائن فلائٹس اور ہوٹلز بک کر لیتے ہیں۔ اے آئی پر مبنی ٹریول ویب سائٹس بہترین آفرز اور تجاویز بھی دیتی ہیں، جس سے روایتی ٹریول ایجنٹس کی مانگ کم ہو رہی ہے۔
کیا سب نوکریاں ختم ہو جائیں گی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی صرف نوکریاں ختم نہیں کرے گا بلکہ نئی نوکریاں بھی پیدا کرے گا۔ جو لوگ نئی مہارتیں سیکھیں گے، جیسے ڈیٹا اینالیسس، اے آئی مینجمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور پروگرامنگ، ان کے لیے مستقبل میں بہتر مواقع موجود ہوں گے۔
2030 کا دور ان لوگوں کا ہوگا جو ٹیکنالوجی کے ساتھ چلنا سیکھ لیں گے۔





































