تازہ تر ین

ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں اور ٹیرف کے نفاذ کے باوجود مختلف ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔
اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر، وزیرِ خارجہ اور خاتون اوّل سمیت تمام سرکاری شخصیات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب کرنا ان کیلئے اعزاز کی بات ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ پانچ ماہ قبل ہی امریکا نے اپنی آزادی کی 250 ویں سالگرہ منائی اور آج ملک ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے، جب میں نے اقتدار سنبھالا تو انہیں بیمار معیشت اور کئی سنگین مسائل ورثے میں ملے، لیکن ایک سال کے اندر ان کی حکومت نے بے مثال اصلاحات کیں اور حالات بدل دیئے۔

اُن کے مطابق بائیڈن دور میں مہنگائی بدترین سطح پر تھی، تاہم اب مہنگائی کم ہو کر 1.7 فیصد تک آ چکی ہے اور ملک برے وقت سے نکل آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امریکی سٹاک مارکیٹ ریکارڈ پر ریکارڈ بنا رہی ہے اور گیس کی قیمتیں بیشتر ریاستوں میں 2.30 ڈالر فی گیلن سے کم ہو چکی ہیں جبکہ بعض مقامات پر یہ 1.99 ڈالر فی گیلن تک ہیں، امریکی تیل کی پیداوار میں روزانہ چھ لاکھ بیرل سے زائد اضافہ ہوا ہے اور قدرتی گیس کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

’ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا ذکر‘

امریکی صدر نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوکلیئر جنگ رکوائی، پاکستان کے وزیراعظم نے کہا صدر ٹرمپ نے ساڑھے 3 کروڑ افراد کو بچایا۔

سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج امریکا کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں اور گزشتہ 9 ماہ کے دوران کوئی غیر قانونی تارکین وطن ملک میں داخل نہیں ہو سکا، غیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ غیر قانونی امیگرینٹس امریکا میں قیام کریں، جو لوگ قانونی طور پر امریکا آتے ہیں، ہم ان سے محبت کرتے ہیں اور قانونی امیگریشن کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے ایک سال کے دوران 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن ہوئی جبکہ بائیڈن کے دور میں صرف ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، گزشتہ سال کانگریس سے ٹیکس کٹوتی کی اپیل کی گئی جسے ری پبلکن ارکان نے ممکن بنایا جبکہ ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ٹپ اور اوورٹائم پر ٹیکس ختم کیا اور وہ ممالک جو امریکا سے فائدہ اٹھا رہے تھے، اب ادائیگیاں کر رہے ہیں۔

’سپریم کورٹ کا ٹیرف سے متعلق فیصلہ مایوس کن‘

خطاب کے دوران امریکی صدر نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ”افسوسناک“ قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے عالمی ٹیرف نافذ کرتے ہوئے صدارتی اختیارات سے تجاوز کیا، ان ٹیرف سے امریکا کو سیکڑوں ارب ڈالر حاصل ہوئے اور قومی سلامتی کے حوالے سے بھی فائدہ ہوا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اب وہ تجارتی قانون کی دفعہ 122 کے تحت 15 فیصد نئے عالمی ٹیرف نافذ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا ہر محاذ پر جیت رہا ہے، دشمن خوفزدہ ہیں اور ملک اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، ان کی حکومت نے ڈی ای آئی پالیسی ختم کر دی ہے۔

’سننا چاہتے ہیں ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھے گا‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں نے دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں، ایران کا نیوکلیئر پروگرام تباہ کر دیا، ایران ایسے میزائل بنا رہا تھا جو جلد امریکا پہنچ جاتے، ترجیج ہے ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو جائے، سننا چاہتے ہیں ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھے گا، ایران میں 32 ہزار مظاہرین کو حکومت نے قتل کیا۔

خطاب کے دوران انہوں نے آئس ہاکی ٹیم کی تعریف کی اور کہا کہ واشنگٹن ڈی سی کی طرح لاس اینجلس کو بھی محفوظ شہر بنایا جائے گا، انہوں نے فوج اور پولیس کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا واپس آ چکا ہے اور یہ تبدیلی تاریخ میں یاد رکھی جائے گی، انہوں نے اسے ”صدیوں کی سب سے بڑی واپسی“ قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعی امریکا کا سنہری دور ہے، ملک پہلے سے زیادہ مضبوط، امیر اور کامیاب ہے۔

خطاب سے پہلے کانگریس میں ہنگامہ، ال گرین کو ایوان سے نکال دیا گیا

امریکی صدر کے خطاب کے دوران ایوان نمائندگان میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب ڈیموکریٹ رکن کانگریس ال گرین کو ایوان سے باہر نکال دیا گیا، 78 سالہ ال گرین نے ٹرمپ کی آمد کے موقع پر ایک پلے کارڈ لہرایا جس پر بڑے حروف میں لکھا تھا کہ ”BLACK PEOPLE AREN’T APES!“ یعنی سیاہ فام لوگ بندر نہیں ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جب صدر ایوان میں داخل ہو رہے تھے تو ال گرین نے ان کی طرف اپنا سائن اٹھایا، تاہم ری پبلکن ہاؤس میجورٹی لیڈر اسٹیو اسکالیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی، بعد ازاں سکیورٹی اہلکار ال گرین کو ایوان سے باہر لے گئے۔

صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اور اراکین کانگریس عمارت میں موجود تھے، ڈونلڈ ٹرمپ کے اہل خانہ بھی کانگریس کی عمارت میں موجود رہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain