لاہور (خبریں ڈیجیٹل) ایران کے سینئر صحافی محمد حسین باقری نے خبریں ڈیجیٹل سے گفتگو میں کہا کہ ایرانی عوام کا مطالبہ، مذاکرات نہیں، سزا۔ ٹرمپ پر اعتبار کرنا فضول ہے وہ صرف اپنے مفاد کے کسی کا بھی استعمال کر لیتا ہے امریکی جہازوں پر پاکستان کا جھنڈا لگا کر آبنائے ہرمز گزارنے کا بیان بھی جھوٹا ہے پاکستان کو اس پر ایکشن لینا چاہیے 80 سالوں میں کوئی مثال نہیں ملتی کہ ایک مہینے میں یو این کی 13 بیسز کو ایک ساتھ ہیٹ کیا گیا ہو آج بھی ایران پر بمباری جاری ہے اور ایران بھی ہر بار جواب دے رہا ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں ہی حزب اللہ ایران نے 98 میزائل فائر کیے تہران میں 500 جگہوں پر اٹیک ہوئے اس کے علاوہ دوسرے شہروں کو ملایا جائے تو ہزاروں عمارتیں تباہ ہوئی ہیں لیکن زندگی رواں دواں ہے مہنگائی نہیں ہوئی پٹرول ابھی بھی سستا ہے حکومت عوام کو سہولت دے رہی ہے پاکستان کا اس موجودہ دور میں انتہائی اہم کردار ہے جو وہ نبھا رہا ہے جبکہ وہ خود مشکل وقت سے گزر رہا ہے اس لمحہ میں پاکستان نے ایرانی عوام کے دل میں گھر کرلیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر نے بھی فارن پالیسی کی میٹنگ میں صرف پاکستان کا نام ہی دیا ایران کے خلاف حملوں کے لیے سرزمین دینے والے اپنے گریبان میں جھانکیں پاکستان دوست ملک ہے۔ ایرانی عوام مذاکرات نہیں چاہتے، نہ کوئی باضابطہ مذاکرات ہو رہے ہیں، البتہ بیک ڈور ڈپلومیٹک چینلز کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے لیکن جنگ کے دوران ایران مذاکرات نہیں کرے گا۔ یہ باتیں ٹرمپ سے ہی پوچھی جا سکتی ہیںکہ اس کے مذاکرات کس کے ساتھ ہو رہے ہیں، ایرانی مؤقف واضح ہے کہ ان کی ٹویٹس پر بھروسہ نہیں کیا جاتا، ان پر اندرونی و عالمی دبائو ہے جیسے انرجی کرائسز، مہنگائی اور الیکشنز، اس لیے وہ اس طرح کے بیانات دیتے ہیں۔ ایران ایک منظم ریاست ہے جہاں ہر ادارہ اپنا کام کرتا ہے، سپریم لیڈر قیادت کرتے ہیں جبکہ پاسداران انقلاب دفاع کے لیے ہیں، دونوں میں کوئی اختلاف نہیں اور سب ایک واضح پالیسی پر قائم ہیں۔ ایران کا واضح مؤقف ہے کہ پہلے جنگ بندی ہو، پھر مستقل سیز فائر، اس کے بعد ہی مذاکرات ممکن ہیں۔ ایران نے اپنے وزیر خارجہ، سپریم لیڈر کے پیغامات اور دیگر سرکاری ذرائع سے یہ شرائط پہنچائی ہیں جبکہ قطر، پاکستان، مصر اور ترکی جیسے ممالک بھی رابطہ کاری کر رہے ہیں۔ تہران، اصفہان، قم اور دیگر شہروں پر بمباری جاری ہے اور ایران بھی اس کا بھرپور جواب دے رہا ہے۔ عوام کا مؤقف واضح ہے کہ وہ مذاکرات نہیں چاہتے بلکہ سخت جواب چاہتے ہیں، جانی و مالی نقصان ہوا ہے لیکن معمولات زندگی جاری ہیں۔ پاکستان مثبت اور اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ایران اس کا مشکور ہے، تاہم ٹرمپ پر بھروسہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان مقامات کو نشانہ بناتا ہے جہاں سے اس کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں، نہ کہ ہمسایہ ممالک کو۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ جتنا وقت درکار ہو لڑ سکتا ہے اور اس کی مثال اس کی تاریخ میں موجود ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایٹم بم نہیں بنانا چاہتا، لیکن اگر حالات نے مجبور کیا تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ مکمل بندش نہیں ہے، لیکن ٹریفک بہت کم ہوگئی ہے اور محدود اجازت کے ساتھ جہاز گزر رہے ہیں۔ کچھ ممالک میں ایسے واقعات ہوئے ہیں لیکن ایران اسے بڑا مسئلہ نہیں سمجھتا۔ حالیہ دنوں میںسٹرائیکس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر تہران میں۔ جب تک حملے جاری ہیں ایران مذاکرات نہیں کرے گا۔ کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن اس حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان جگہوں کو نشانہ بناتا ہے جہاں سے اس کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ ایران نے کچھ بھارتی آئل ٹینکرز کو مخصوص شرائط کے ساتھ گزرنے کی اجازت دی ہے۔




































