تلنگانہ: بھارت کی ریاست تلنگانہ میں ’چکن شاپ آنرس ایسوسی ایشن‘ نے ریاست میں ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے چکن کی دکانیں بند کردی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پورے تلنگانہ میں تقریباً 50 ہزار سے زائد چکن کی دکانیں بند رہیں گی۔ پولٹری کمپنیوں کی جانب سے چکن کی فروخت پر منافع کا مارجن کم کرنے اور دکانداروں کو نقصان پہنچانے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق، کارپوریٹ آؤٹ لیٹس کو چھوڑ کر ریاست بھر میں چکن کی 50000 ریٹیل دکانیں بند رہیں گی۔ دکان مالکان کا کہنا ہے کہ فی کلو گرام چکن پر ملنے والا کمیشن کافی کم کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ 2 دہائیوں سے پولٹری کمپنیاں خوردہ دکانداروں کے لیے 26 روپے فی کلو گرام منافع مارجن برقرار رکھتی تھیں۔ حالانکہ حال ہی میں اس مارجن کو گھٹا کر 16 روپے فی کلو گرام کر دیا گیا ہے، جس سے دکانداروں میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر نیلوتلا شیکھر کا کہنا ہے کہ چکن کی قیمتوں میں 400-350 روپے کے اضافے سے بھی خوردہ فروشوں کو فائدہ نہیں ہوا۔
ایسوسی ایشن کے ایک نمائندے نے کہا کہ 16 روپے فی کلوگرام کے مارجن پر دکان چلانا جاری رکھنا ناممکن ہے۔ بجلی، کرایہ اور مزدوری کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ مارجن کو بڑھا کر 30 روپے فی کلوگرام کیا جائے تاکہ موجودہ معاشی حالات کا مقابلہ کیا جا سکے
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جب تک پولٹری کمپنیاں بات چیت کے لیے آگے نہیں آتیں اور ان کے مطالبات پورے کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتی ہیں، تب تک ہڑتال جاری رہے گی۔





































